Subscribe:

Tuesday, March 6, 2012

زنجبار میں یمنی فوج کا بھاری نقصان


زنجبار ۔ یمن
 ۶  مارچ    ۲۰۱۲

اللہ اکبر !!! اللہ اکبر !!!

یمن کے جنوبی صوبے ابین کے علاقے زنجبار میں مجاہدین نے مرتد یمنی افواج کے خلاف ایک بہت بڑی کارروائی سر انجام دی ہے ۔ اللہ کی نصرت سے ہمارے یمنی مجاہد بھائیوں نے اس معرکہ میں مرتدین کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کر دیااور زندہ بچ جانے والے درجنوں فوجیوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے ۔

فوجی حکام اور مقامی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے فوج کے بھاری نقصان کی تصدیق کر دی ہے ۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ایک سے سات (۱۰۷) ہے جو اخباری ذرائع سے معلوم ہو  سکی ہے ۔ ان اخباری ذرائع نے اس خوں ریز لڑائی میں بتیس (۳۲) مجاہدین کے شہید ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔اللہ پاک ہمارےتمام شہداء کی میزبانی فرمائیں ۔۔۔۔آمین۔۔۔

[        یہ خبر بلاگ پر پوسٹ ہونے سے قبل الجزیرہ نے تعداد میں اضافہ کرتے ہوئےمزید  بتایا کہ یمنی فوج کے بڑے افسران نے اب تک مختلف علاقوں سے ایک سو پچاسی (۱۸۵)  سپاہیوں کی لاشیں ملنے کی تصدیق کردی ہے                 ]
الحمدللہ کثیرا !!!!

ہمارے یہ مجاہد ساتھی معرکہ کے بعد قریبی شہر جعار پہنچے جہاں اس شاندار فتح پر عامۃ المسلمین نے ان کا  تکبیر کے نعروں سے والہانہ استقبال کیا ۔ یاد رہے کہ جعار ابین کا وہ شہر ہے جہاں گذشتہ ایک سال سے مجاہدین کا مکمل قبضہ ہے ۔یہ شہر زنجبار سے پندرہ کلو میٹر شمال  میں واقع ہے ۔  مجاہدین نے میگا فون کے ذریعے جعار میں ،  زنجبار کی فتح کے اعلانات نشر کیے اور گرفتار فوجیوں کو یہاں کی سڑکوں پر پریڈ مارچ کروایا گیا ۔




یمنی فوجیوں کی بغاوت اور مجاہدین کے لیے جاسوسی

یمنی صحافی ، حاکم مسمری نے الجزیرہ ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اپنے بااعتماد ذرائع سے معلوم ہوا  ہے اور ان کے پاس اس کےواضح  ثبوت موجود ہیں کہ بڑےعہدوں پر تعینات بعض یمنی فوج کے  حکام نے القاعدہ کی ذیلی تنظیم ، انصارلشریعہ کے مجاہدین کو اہم خفیہ معلمومات فراہم  کی تھیں کہ اس فوجی اڈے پر کہاں اور کس وقت حملہ کرنا ہے ۔

دیکھیے یو ٹیوب لنک
Yemeni journalist Hakim al Masmari says Yemeni officials tipped fighters off

یمن میں مجاہدین کی قوت
یمن میں مجاہدین کی قوت اور اعلیٰ عسکری صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ،مجاہدین نے منصور ہادی کی تقریب حلف برداری کے موقعہ پر بھی صدارتی محل کے باہر حملہ کیا تھا ۔

علی  عبداللہ صالح کے تینتیس (۳۳) سالہ اقتدار کے خاتمہ کےبعد  ۲۳ فروری ۲۰۱۲ کو  عبد ربہ منصور ہادی نےصدر کے عہدہ کا حلف اٹھایا اور  باقاعدہ طور پر زمام کار سنبھالی ۔ اس روز صدارتی محل کے باہر  اس نے القاعدہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے عندیہ دیتے ہوئے یمنی عوام سے اپیل کی کہ آپ لوگ  القاعدہ کے خلاف جنگ میں یمن کی حکومت کا ساتھ دیں۔ عین اس وقت جب صدارتی محل کے باہر  یہ تقریب جاری تھی ہمارے ایک استشہادی بھائی نے سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود اللہ کی نصرت سے ایک کامیاب  شہیدی کارروائی کر کے چھبیس (۲۶) مرتد فوجیوں کے لیے تابوت کا آرڈر بک کروا دیا  ۔

وللہ الحمد المنۃ !!!

کاش کہ پاکستانی مرتد افواج اس سے کچھ سبق سیکھنے کی کوشش کریں       ۔۔۔

Thursday, March 1, 2012

حور کدھر چلی گئی


 یحییٰ سنیور شہید

میں یہاں ہوں ٹینکوں ‘ گولوں اور توپوں کے نرغے میں۔خوشی اور ضمیر کی طمانیت کے انوکھے احساس سے سرشار ! سردی کی شدت اور بھوک کی تنگی کے باوجود اس کیفیت کو محسوس کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب کام یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ محنت کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾  اٰل عمران
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردے نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں ‘اپنے پروردگار کے مقرب ہیں‘ انہیں رزق بھی ملتا ہے

قرآنِ مجید کی یہ آیت وہ  الفاظ ہیں جوآپ کی جیب سے اس وقت بر آمد ہوئے جب زندگی آپ کودوسرے جہاں لے جا رہی تھی۔ آپ کے ایک ہم سفر محمد امین نے‘ جن کے سینے پر سر رکھے ہوئے آپ نے اس دنیا سے کوچ کیا‘ بتایا: یحییٰ نے سرزمینِ جہاد پر بسر کی گئی آخری رات میں یہ آیت اپنے ہاتھ سے لکھی تھی ۔ آپ کے روئیں روئیں سے شہادت کی طرف پیش قدمی کرنے کے آثار پھوٹتے دکھائی دیتے تھے۔گردن تک وہن کی بیماری میں دھنسی امت کو جگانے کے لیے‘آپ نے اپنا خون پسینہ بہا دینے اور جان قربان کر ڈالنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ وہ امت جو انسانیت کی رہنمائی کے لیے میدانِ عمل میں لائی گئی تھی مگر آج اس نے ہر جبار کے سامنے ذلت وعاجزی سے سر جھکانا اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ہمیں یاد ہے جب آپ نے قسم کھا کر کہا کہ

میں شہید ہوجاؤں گا‘ دوستوں نے آپ سے کہا: ‘‘ اپنے تئیں پاک باز مت بنئے ۔ تو آپ کہنے لگے معاذ اللہ میں اپنی صفائی پیش نہیں کر رہا ‘ میں تو بس اپنے دل کی آواز آپ کو سنا رہا ہوں۔

وہ حور کدھر چلی گئی ؟

عرفہ کے دن جب روسی فوجیں آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے‘غازیوں پر یلغار کرنے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں‘ کلیجے منہ کو آرہے تھے ‘ایسے میں بھی آپ اٹھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ سحری کی تیاری کر نے لگے‘ میدانِ کارزار میں عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے کے لیے۔ وہ روزہ‘ جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ہے کہ وہ دو سال (ایک گزشتہ اور ایک آئندہ)کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ پھر عرفہ کے اُس روزے کے کیا کہنے جو بارش کی مانند برستے گولوں کی بوچھاڑ میں رکھا گیا ہو ‘بے شک اس کا اجر عظیم ہے  !صحیح حدیث میں ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

﴿﴿مَنْ صَامَ یَوْمًا فِي سَبِیْلِ اﷲِ بَاعَدَ اﷲُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَ النَّارِ بِذَلِکَ الْیَوْمِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا﴾﴾ ﴿سنن النسائي، باب ثواب من صام یوماً في سبیل اﷲ﴾

جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکل کرایک دن کا روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے بدلے ‘جہنم اور اس کے درمیان ستر ستر سال کا فاصلہ کر دیں گے

 سحری سے جلدی جلدی فارغ ہو جانے پر بھائیوں نے حیرت کا اظہار کیا تو آپ کہنے لگے :  میں نہانے جا رہا ہوں۔ ساتھ میں آپ نے وضاحت کی اللہ عزّوجل کی قسم ! مجھے غسل کی کوئی شرعی ضرورت پیش نہیں آئی۔ تاہم میں اس حورکے استقبال کے لیے نہانا ضروری سمجھتا ہوں جو آج مجھے خواب میں ملنے آئی تھی۔ میں نے کبھی خواب میں کسی عورت کو نہیں دیکھا۔ آج جو حُسن خواب میں مجھے نظر آیا اسے دیکھ کر مجھے اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ یہ زمین کی کوئی مخلوق نہیں‘بلکہ ( جنت کی )حور ہے !  پھر دن بھر معرکہ گرم رہا ‘یہاں تک کہ ختم بھی ہو گیا لیکن شہادت ندارد! ساتھی مزاحاً کہنے لگے:  وہ حور کدھر چلی گئی ؟ مگر آپ اس کے آنے پرمُصر رہے۔ مجھے ساتھیوں نے بتایا کہ یحییٰ جاجی کی چوٹی پر تین عرب بھائیوں  کی قبروں پر کھڑے رہے ‘ پھرانھیں مخاطب کر کے کہنے لگے: بس تھوڑی دیر میں‘ میں بھی تمہاری طرف چلا آؤں گا۔


اس جیسی پاکیزہ اور بھینی خوشبو میں نے کبھی نہیں سونگھی

 ۷ محرم کو وعدہ وفا ہونے کا دن آ پہنچا۔ شہادت کا وہ تمغہ‘ جس کے حصول کی تڑپ نے آپ کواپنا اسیر بنا رکھا تھا‘آپ کا منتظر تھا۔ کفار کے ایک دستے نے جاجی کے پھاٹک پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دیے اورآپ اپنا سود ا ئے نقدجیت گئے۔

یحییٰ! آپ کا پاکیزہ لہو زمین کو سیراب کر گیا۔ جو کوئی آپ کے جسم کو چھوتا‘ آپ کے خون کا کوئی قطرہ اس کے کپڑوں پر لگتا تو خوشبو اُس کو بھی مہکا دیتی۔ یہاں تک کہ جنازے میں شریک ہر فرد کہہ اٹھا :’’اللہ سبحانہ ‘ وتعالیٰ کی قسم ! ہم نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ اچھی خوشبو نہیں سونگھی‘‘۔ ابو الحسن مقدسی نے مجھے بتایا :’’ میں نے اور ابو معاذ نے پانچ سو میٹر کی مسافت سے شہید کی خوشبو محسوس کی جب کہ انھیں ان کی آخری آرام گاہ میں لے جایا جا رہا تھا۔ ہمیں امید ہے ان کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ ہوگی‘‘۔ ڈاکٹر احمد کہنے لگے :’’ مجھے بہت سے شہداء کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ مگر مجھے اس جیسی پاکیزہ اور بھینی خوشبو کبھی سونگھنے کو نہیں ملی !‘‘ڈاکٹر ابو محمد نے بتایا :’’ جس ہسپتال میں یحییٰ کو داخل کیا گیا تھا‘ مجھے ان کی شہادت کے تین روز بعد وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ان کا کمرہ اب تک خوشبو سے رچا ہوا تھا ‘‘۔ا بو حمزہ کہنے لگے :’’ جنازے سے واپسی پر میری اہلیہ نے مجھے دیکھتے ہی حیرت کا اظہار کیا اور کہنے لگی :’’آپ نے کون سا عطر لگا رکھا ہے؟‘‘

 وردگ کی وادی سے آپ کو بہت محبت تھی ۔ اس کے چپے چپے کو آپ چھان چکے تھے۔ وہاں موجود مجاہدین کے تمام مراکز آپ کے علم میں تھے اورآپ ان تک بڑے ذوق و شوق سے ضروریات پہنچانے کا کام انجام دیتے تھے۔ اسی لیے آپ نے اپنے نام کے ساتھ عبدالرحمن عبد الکبیر ’وردکی‘ تخلص لگا رکھا تھا۔درحقیقت آپ نے اپنے لیے عظمتوں کی راہ چن لی اور ایک لمبی مسافت عبور کر کے اپنے ربّ کے پاس پہنچ گئے ‘ سچی عزت کی جگہ !

یحییٰ !آپ ہمارے درمیان زیادہ عرصہ نہیں رہے۔ مگر اپنی بیس سالہ عمر میں عزت و سر بلندی کے بڑے بڑے معرکے سر کر گئے۔ ہم اپنے کریم ربّ سے دعا گو ہیں کہ آپ ملاء اعلیٰ میں ‘اپنے ربّ کے عرش کے پاس حقیقی خوشی اور سرور سے فیض یاب ہو جائیں اوراے کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت نصیب فرمائیں‘انبیاء کی معیت میں ہمیں اکٹھا فرما دیں اور بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کچھ بھی بعید نہیں۔ اللہ کریم آپ کے والدین اور بہن بھائیوں کو صبرِ جمیل اور اجر ِ عظیم سے نوازیں‘اور قیامت کے دن شہید کو ان کی شفاعت کرنے والا بنادیں‘آمین۔ اختتام میں ہم اپنے مالک کی یہ آیات پھر دہراتے ہیں :

انبیاء  کے رستے کے راہی یہ نہیں دیکھتے کہ وہ پھولوں پر چل رہے ہیں یا کانٹوں پر!

شہید یحییٰ سنیور کا آخری خط کچھ اس طرح سے تھا: مسلمان مردِ مجاہد اپنا ہدف اچھی طرح پہچانتا ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ اپنی منزل کی طرف‘ پوری یک سُوئی سے گامزن رہتا ہے‘وہ کشتیاں جلا کر آگے کی طرف پیش قدمی کرتا  ہے‘ تنگیاں اور سختیاں اس کے قدم نہیں ڈگمگا تیں ۔ و ہ ان آزمائشوں میں بھی راحت و خوشی  اور کیف و سرور پاتا ہے۔ کیونکہ اس کا ہر سانس فی سبیل اللہ ہو تا ہے۔بقول ایک شاعر ؛ انبیاء کے رستے کے راہی یہ نہیں دیکھتے کہ وہ پھولوں پر چل رہے ہیں یا کانٹوں پر ۔
ہمارے اس قول کی سچائی کے لیے شہید کے آخری خط کا یہ اقتباس کا فی ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کے نام تحریر کیا۔ ذرا اپنے گوشِ ہوش سے سُنیے‘ شہید کیا کہہ رہا ہے :
میں یہاں ہوں ٹینکوں ‘ گولوں اور توپوں کے نر غے میں۔خوشی اور طمانیت کے انوکھے احساس سے سرشار ہوں۔ سردی کی شدت اور بھوک کی تنگی کے باوجود کیفیت یہ ہے کہ اپنے کو اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب کام یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں شریک محسوس کر رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ محنت کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے۔در حقیقت جہاد ہی وہ راستہ ہے جو رحمن کو سب سے محبوب ہے اور جو امت کو اس کی شان و شوکت اور سر بلندی واپس دلا سکتا ہے۔

ماخوذ  :   جنہیں جنتوں کی تلاش تھی

Tuesday, February 28, 2012

شہداء سے معذرت کے ساتھ ۔۔۔


شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ

ترجمہ ام ہاشم

تذکرہ شہداء ، نئی نسل کے کردار کی ضامن ہے

قوموں کی تاریخیں اُن جری نوجوانوں کے خون سے رقم ہوتی ہیں جو زمانے کا رخ موڑ دینے کا عزم اور حوصلہ رکھتے ہیں۔افغانستان کے کوہساروں میں رقم ہونے والی تاریخ ایسے ہی بلندحوصلہ نوجوانوں کی داستان ہے۔ آج احیائے اسلام کے لیے تن من دھن وقف کرنے کی رِیت قائم کرنے کا سہرا اُن کے سر ہے جنھوں نے اپنے خون ‘ ہڈیوں اور گوشت سے اس عمارت کی از سرِ نو تعمیر کی ہے۔ امت کے دورِ زوال میں ایسے نوجوانوں کا وجود معجزے کا درجہ رکھتا ہے۔ اور یہ معجزہ امت کی نشاۃ ثانیہ کی نوید ہے۔قومیں اپنی تاریخ کو رقم کرنا فرض گردانتی ہیں تاکہ آنے والی نسلیں ان اقدار کی پاسبان ہوں جن کی خاطر ان کے بہادر سپوتوں نے جان کے نذرانے پیش کیے۔
نئی نسلوں کے کردار کی بہترین تعمیر ان کے رہنماؤں اور ابطال کی زندگیوں کی داستان سنائے بغیر ممکن نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت سے ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے اور صحابہء کرام رضی اللہ عنہم کا طرز ِعمل اسی روش کی پابندی سکھاتا ہے:

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّـهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ         (الانعام:۹۰)
یہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی سو آپ بھی انہیں کے طریق پر چلئے 

یہ زندہ کردار ہمارے ماحول سے جتنا قریب ہوں گے اور ہمارے زمانے سے ان کا تعلق جتنا گہرا ہو گا اسی قدر دلوں پر ان کے اثرات بھی گہرے ہوں گے ۔ یہ زندہ کردار پوری قوت سے اپنی عظمت کی داستان بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: " ان میں سے ہر نوجوان تمہارے ہی معاشرے کا ایک فرد تھا ‘تمہاے ہی جیسے ماحول میں اس کی پرورش ہوئی پھر بالآخر یہی تم سے بازی لے کر منزل پر جا پہنچا۔ آخر تمھیں اس کے نقش پاکی پیروی کرنے میں کیا امر مانع ہے" ؟

شہداء سے معذرت کے ساتھ !!!

ہم جب بھی افغانستان کے کسی شہید کی وصیت کا مطالعہ کرنے چلتے ہیں ایک مشکل آڑے آجاتی ہے !ان میں سے اکثر شہداء کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ"ان کے بارے میں ایک لفظ بھی تحریر کرنے سے گریز کیا جائے "۔ سعد رشود نے اپنی وصیت میں بڑے شد و مد کے ساتھ تاکید کی کہ" میں مجلہ’ الجہاد‘ اور ’بنیانِ مرصوص ‘کو ہر گز اجازت نہیں دیتاکہ وہ میرے بارے میں ایک لفظ بھی تحریر کریں "۔ ابو دجانہ کی وصیت بھی یہ تھی کہ " ان کے بارے میں کچھ بھی تحریر نہ کیا جائے"۔

ابو مسلم صنعانی نے وصیت کی کہ "جوکوئی ان کے بارے میں کچھ تحریر کرے گا وہ قیامت کے دن اس کا جواب طلب کریں گے "۔جب بھی ایسی کوئی تحریر میری نظر سے گزرتی ہے میں خود سے سوال کرتا ہوں:" کیا ہمارے ان پیارے شہداء کو اس بات کا حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں کو ‘اپنے بارے میں کلمہء خیر کہنے سے باز رکھیں؟ یہ شہداء اُمّت کی تاریخ کا روشن باب ہیں‘ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اُمّت کی تاریخ کے کسی باب کو اس وجہ سے حذف کرنے کی جسارت کرے کہ اس میں اُس کا تذکرہ یا اُس کی تصویر موجود ہے۔

دراصل ان شہداء نے اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کی ہے‘ اپنے لہو کی روشنائی سے اُمّت کی تاریخ رقم کی ہے۔ اس نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو آنے والی نسلوں کو ان روشن نمونوں کے تذکروں سے محروم کر کے لا حق ہو سکتا ہے۔
یہ تذکرہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کا ہو یا خلفائے راشدین المہدیین اور دیگر صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یا پھر سعد  ؓ    مصعب ؓ   حمزہ ؓ   قعقاع ؓ   عاصم ؓ  مقدادؓ  نعمان ؓ   عِکرمہ  ؓ   خالدؓ  ابو عبیدہ ؓ جیسے جوانوں کا___ اپنی جوانیاں اللہ کے لئے لٹا دینے والوں کا یہ تذکرہ ہمیشہ سے اپنے اندر بہتے میٹھے آبشار کی سی حیات آفریں لذت رکھتا ہے۔
ان صالحین کا تذکرہ کوئی جائیداد نہیں ہے جس کی وراثت کا حق صرف ان کے لواحقین ہی کو ہو ۔یہ کوئی ایسا مال بھی نہیں ہے جسے محض کسی خیراتی ادارے کی ملکیت میں دے دیا جائے کہ وہ اس کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں ۔ یہ تذکرہ تو ایک زندہ تاریخ ہے جو ان کی ملکیت سے نکل کر اُمت کی میراث قرار پا چکی ہے جس سے آنے والی نسلیں عظمت و سر بلندی کی منزلوں کے سراغ پائیں گی۔

ان میں سے ہر کوئی ریاکاری کے ڈر سے اپنے بارے میں کچھ تحریر نہ کرنے کی تاکید کر رہا ہے‘ تاکہ اس کی خلوصِ نیت اور مقصد کے ساتھ للہیت کسی بھی بیرونی آمیزش سے مبرا رہے۔ مگر کیا ان لوگوں کے اس اندیشے کے پیشِ نظر روشنی و نور کے اس کارواں کو اندھیاروں کے سپرد کرنا جائز قرار پائے گا؟ہرگز نہیں!

میرے لیے کس قدر دشوار ہے کہ ثانوی اسکول سے فارغ التحصیل اس نوجوان کے بارے میں کچھ تحریر کرنے سے باز رہوں جس کے ساتھ بیٹھ کر مجھے ہمیشہ یوں معلوم ہوتا گویا میں علم و عمل کے ایک پیکر سے محو گفتگو ہوں۔اب ابو مسلم صنعانی  ؒ بھی اسی نوعیت کی ایک وصیت کے ساتھ نمودار ہوتے ہوئے  گویا ہم سے کہتے ہیں کہ ہم ملت ِاسلامیہ کی تاریخ کا ایک تاب ناک اور روشن باب اکھاڑ پھینکیں ۔وہ اُجلا باب جس کے ایک ایک لفظ سے مقصد کے لیے جان دینے کا سبق ملتا ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ شہداء  کا تذکرہ کرنا تو درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی عین تعمیل ہے:

فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ  (النساء : ۸۴ )

پس آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے‘ آپ سوائے اپنی جان کے کسی کے ذمے دار نہیں اور مسلمانوں کو ﴿جہاد کی﴾ ترغیب دے دیجئے۔

ہمارے شہداء شاید بھول گئے...

 کاش ہمارے یہ شہداء جانتے کہ ان کے تذکرے ‘خود ان کے لئے کس قدر خیر من اللہ کے ضامن بن  سکتے  ہیں اور کتنا اجر اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی قبروں میں ان کے قصوں کے بسبب پہنچانا ہے تو وہ ایسی وصیتوں سے باز رہتے۔


کتنے ہی مردہ دل ہیں جنھیں ان شہداء کے قصّوں نے نئی زندگی مرحمت کی ہے۔ کتنے ہی جوان ہیں جنھیں کسی شہید کی روشن سیرت کا تذکرہ راہِ جہاد پر لے آیا۔ اور کتنے ہی گنہ گار ہیں جنھیں ان سچی کہانیوں نے اپنے ربّ کی چوکھٹ پر لا کھڑا کیا ۔ خوب کہا ہے کسی نے کہ شہیدوں کی باتیں نسلوں کو زندگی دیتی ہیں اور قیدیوں کی خاطر جاں نثاری کے شوق کو بھڑکاتی ہیں۔ ہمارے بھائی شاید بھول گئے کہ:

مَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَه، اَجْرُهَا، وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَه ، مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَيْئٌ

جس نے اسلام میں دوسروں کے لیے ایک نمونہ قائم کیا اس کے لیے نہ صرف اپنے عمل میں سے اجر ہے بلکہ ہر اس شخص کے عمل میں بھی اس کے لیے اجر لکھا جاتا ہے جو اس کی پیروی کرے ، بغیر اس کے کہ پیروی کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی کی جائے ۔

﴿رواہ مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ أو کلمۃ طیبۃ، وأنھا حجاب من النار﴾


 کتنے ہی نوجوان تھے جو عبدالوھاب حامدی شہید کی وصیت سے راہ جہاد کے مسافر بنے۔جب میں نے ابو مسلم صنعانی کی وصیت سنی تو میں نے اپنے دل میں فیصلہ کر لیا کہ ان کے بارے میں ضرور لکھوں گا او رجب قیامت کے دن ہم اکٹھے ہوں گے تو میں اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کروں گا : پروردگار تیرا یہ بندہ ابو مسلم صنعانی چاہتا تھا کہ اس کے بارے میں کچھ تحریر نہ کر کے لوگوں کو نیکی و بھلائی کے سرچشمے سے محروم کر دیا جائے۔یہ چاہتا تھا کہ اہلِ ایمان کو جہاد کی تلقین کرنے اور معروف کا حکم دینے سے روک دیا جائے صرف اس لیے کہ ایسے ہر اقدام میں اس کا تذکرہ شامل ہے ۔

  >>--کتاب سے ماخوذ -- <<  
جنہیں جنتوں کی تلاش تھی
صفحہ نمبر ۴۳ سے ۶۴

Saturday, February 25, 2012

عربی نشید ویڈیو اردو ترجمے کے ساتھ

 
پیش خدمت ہے 

عربی نشید ویڈیو

ماضٍ كَالسيف كالريح كالموج غزارة

اردو ترجمہ کے ساتھ


 

ڈاؤن لوڈ لنکس

High Quality 83 MB

password

ghazwaehindUrduBlog

part 2



دعاؤں کے طلب گار
غزوہ ہند بلاگ