Subscribe:

Saturday, September 11, 2010

معرکہ گیارہ ستمبر اہداف و مقاصد


: حصہ اول :
معرکہ گیارہ ستمبر اہداف و مقاصد

اسلام کا اصل تصادم مغربی تہذیب سے ہے
امت مسلمہ کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ گذشتہ کئی صدیوں میں اسلام کا اصل مقابلہ اپنی مد مقابل مغربی تہذیب سے رہا ہے ۔مغرب اور اہل مغرب نے اسلام اور اہل اسلام پر ایک ہمہ جہتی یلغار کر رکھی ہے ۔ تقریباً پانچ سو سال سے علمی ، ثقافتی ، سیاسی ، عسکری ، اقتصادی غرض ہر شعبہ میں مغربی تہذیب کا اہل اسلام سے تصادم رہا اورمجموعی طور پر مسلمانوں کی کمزوریوں اور غفلت کے سبب مغرب کو اہل اسلام پر غلبہ حاصل رہا ۔ مغرب کے ہمہ گیر تسلط کو دیکھ کر مسلمان ان سے اتنے مرعوب ہوتے چلے گئے کہ یہ سوچنا بھی جرم تصور ہونے لگا کہ کسی میدان میں ان سے مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب کو اہل اسلام پر سیاسی غلبہ پانا آسان ہوگیا تھا اور مسلمان کہیں بھی ان کے مقابلے میں اپنی سیاسی اور معاشی آزادی برقرار نہ رکھ سکے ۔ اسکے بعد جہاں مسلمانوں کو بظاہر سیاسی آزادی حاصل بھی ہوئی تو وہ ذہنی اور اخلاقی طور پر مغرب کے غلام ہی رہے ۔ جہاں سیاسی یا ذہنی غلامی سے کام نہ چلتا وہاں مغرب نے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام بھی جاری رکھا ۔ اس مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب کے تصادم ، اور مسلمانوں پر مغرب کی غلامی کے اسباب بیان کرنے کے لیے ایک زخیم کتاب کی وسعت درکار ہے ۔میں نے یہ تذکرہ تمہید کے طور پر کیا ہے تاکہ معرکہ ۱۱ ستمبر کے اسباب اور اس کے اہداف و مقاصد کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے ۔
مغربی تہذیب امریکہ کے سہارے پرقائم ہے
دوسری طرف ماوراء النہر اور وسط ایشیائی ریاستوں پر' عظیم سوویت یونین' کی پروردہ کمیونسٹ حکومتیں مسلط تھیں ، جو امریکہ کے بعد دوسری عظیم طاقت تصور کی جاتی رہی تھی ۔۱۹۸۸ میں جہاد افغانستان کے خاتمہ پر جہاں عظیم سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا اور وہ سمٹ کر روس رہ گیا وہیں افغانستان کے حالات میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور یہ تبدیلیاں عالمی منظر نامے پر بھی اثرات مرتب کرتی رہیں ۔ یہاں تک کہ جب طالبان کی قیادت میں امارت اسلامیہ وجود میں آئی تو 'جدید مغربی تہذیب ' یعنی 'عالمی کفریہ نظام ' کو پہلی مرتبہ سنگین خطرات کا احساس ہوا اور اس نے کھل کر امارت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی شروع کردی ۔ یہ حقیقت یاد رہے کہ موجودہ عالمی کفریہ نظام اور اسلام کے مقابل مغربی تہذیب دنیا بھر میں امریکہ کے سہارے کھڑی ہوئی ہے ۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ جہاں بھی مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی امریکہ کی سرپرستی اس میں شامل رہی ہے۔امریکہ کو مجاہدین سے خطرہ اسی لیے لاحق ہوا تھا کیونکہ اس دوران فلپین ، ملایا ، کشمیر ، بوسنیا ، شیشان ، فلسطین ، عراق ، صومالیہ ، الجزائر ، سوڈان ، مصر ، انڈونیشیا سمیت دیگر بہت سے اسلامی خطوں میں مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت گری بپا کی جاچکی تھی اور اس تمام ظلم و ستم کے پیچھے امریکہ کا بلاواسطہ یا بالواسطہ ہاتھ ضرور ہوتا ۔ لیکن اس ظلم و بربریت کا سامنے امت پر خوف اور مایوسی کی ایسی فضا طاری تھی کہ عام مسلمانوں میں ان مظالم کا جواب دینے کی ہمت اور جرات نہ تھی۔
امریکہ کے خلاف اعلان جہاد [۱۹۹۶]
چنانچہ مجاہد قائد شیخ اسامہ بن لادن حفظہ اللہ نے ۱۹۹۶ میں امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان نشر کیا ۔اس اعلان میں واضح کیا گیا تھا کہ امریکہ کے خلاف جہاد پوری امت مسلمہ پر فرض عین ہو چکا ہے ۔اس اعلان میں شیخ اسامہ نے امریکہ کو خبردار کیا کہ سرزمین مقدس حجاز سے اپنی فوجوں کو نکال لے ورنہ اس کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا ۔ اس کے دو سال بعد ۱۹۹۸ میں آپ کی جانب سے ایک اور اعلان جاری کیا گیا جس میں امریکہ کو اسرائیل کی پشت پناہی سے باز آنے اور فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام سے باز رہنے کی پیش کش کی گئی تھی ۔ اس بیان میں بھی شیخ اسامہ نے مسلمانوں کو امریکہ کے خلاف جہاد پر ابھارا اور اس کی فرضیت اور اہمیت یاد دلائی ۔ ان دونوں بیانات کے بعد بھی شیخ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف سے جہاد کے لیے گھروں سے نکلنے کی دعوت مسلسل جاری رہی ۔ آپ کے ۱۹۹۶ سے ۲۰۰۰ تک کے اُن خطبات کو اکٹھا کیا جائے جو رکارڈ پر موجود ہیں تو معلوم ہو گا کہ شیخ اسامہ نے امریکہ کے خلاف جہاد کی دو بنیادی وجوہات بیان کیں ایک یہ کہ دنیا بھر میں اور خصوصا فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام میں امریکہ کی سر پرستی براہ راست شامل ہے اور دوسری یہ کہ مقدس سرزمین حجاز میں امریکی فوجی اڈوں کا مستقل قیام عمل میں لایا جاچکا ہے ۔ جوصریحاً شریعت کے اس حکم کے خلاف ہے جس میں جزیرۃ العرب میں دین اسلام کے پیروکاروں کے سوا کسی دوسرے دین کے ماننے والوں کا مستقل قیام ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ اس حکم کی اہمیت ایک یہ بھی ہے کہ یہ حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں تاکیداً ارشاد فرمایا تھا ۔ کجا یہ کہ پوری فوجی شان و شوکت کے ساتھ اسلام کی دشمن سپاہ کو اڈے فراہم کر دیے جائیں ۔ شیخ اسامہ کی اس درد انگیز صدا نے بہت سے نوجوانوں میں قربانی اور مزاحمت کی نئی روح پھونک دی اور ان کے دلوں میں شہادت کی تڑپ پیدا کر دی۔ شیخ اسامہ نے اپنے ان خطبات میں امت کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ مبذول کروائی اورمسلمانوں کو امریکہ اور مغرب کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی ابتدا کرنے کی دعوت دی ۔مقدس مقامات کے دفاع کے حوالے سے شیخ اسامہ نے فرمایا :" آخر کب تک مسلمان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نصرت اور اس کے گھر کے دفاع سے غافل ہو کر بیٹھے رہیں گے ؟ دنیا بھر کے اہل ایمان آخر کب اٹھیں گے ؟ ۔۔۔ کب صلیبی و صہیونی فسادیوں کی نجاست سے اس مقدس زمین کو پاک کریں گے ؟ یہ تو اللہ رب العالمین کا حکم ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـذَا ۔۔۔۔ [التوبہ ۲۸] ' اے ایمان والو ، مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں ، پس وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں '۔ اور کیا مسلمان بھول گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں ایسا ہی حکم صادر فرمایا تھا ۔ایک حدیث میں مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :' ہائے جمعرات کا دن ، ہائے افسوس جمعرات کا دن ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اتنا روئے کہ آپ کے آنسوؤں سے کنکریاں تر ہو گئی ، آپ نے فرمایا کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تھی اور اس عالم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ وصیت فرمائی 'اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب ۔ ' مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دو ' [بخاری : کتاب الجہاد و السیر] ۔قیامت کے دن جب ان احکامات کے بارے میں پوچھا جائے گا تو ہم کیا جواب دیں گے ؟ یوم حساب میں اللہ کا سامنا کرنے کے لیے ہم نے کیا تیاری کی ہے ؟ کیا ہم یہ بہانا بنائیں گے کہ ہم مستضعفین تھے ؟ ۔۔۔ بے بس تھے ؟ اللہ تو ہمارے دلوں تک کے احوال سے باخبر ہے ۔ پس یہ امت آج تباہی اور بربادی کی تاریک اور گہری کھائی کے کنارے کھڑی ہے "
اسی طرح شیخ اسامہ نے ایک اور مقام پر جہاد کی طرف بلاتے ہوئے فرمایا:
" یہ ذلت جو آج ہم پر مسلط ہے اور کفر جو بلاد اسلامیہ پر قبضہ کر کے ہر سمت اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے اس کی گرفت توڑنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے سوائے جہاد کے ، گولیوں کے ، اور شہیدی حملوں کے ۔۔۔ان کے بغیر ذلت کی جڑیں نہیں اکھیڑی جاسکتیں ۔غیرت مند لوگ کبھی ظالم نافرمان کے لیے قیادت نہیں چھوڑا کرتے ، اور خون بہائے بغیر پیشانیوں سے ذلت کے داغ نہیں مٹائے جاسکتے "
اس بارے میں عالم اسلام کے چند نامور علماء نے کلمہ حق بلند کرنا فرض سمجھ کر جہاد کی فرضیت پر فتاویٰ جاری کیے جن سے شیخ اسامہ کی دعوت کو بہت فائدہ پہنچا ۔ان نامور علماء میں سے جزیرۃ العرب سے تعلق رکھنے والے عالم ربانی شیخ حمود بن عقلاء الشعیبی رحمہ اللہ ، شیخ عبد اللہ بن جبرین ، شیخ سلمان العلوان ، شیخ حسن ایوب ، شیخ محمد بن محمد ، شیخ سلمان ابو غیث اور شیخ سلمان التنیان حفظہم اللہ شامل ہیں ۔ان علماء سے فتاویٰ لینے کے بعد بہت سے نوجوانوں نے فلک پوش چوٹیوں اور سنگلاخ پہاڑوں کی زمین افغانستان کا رخ کیا اور مجاہدین کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے تاکہ عراق ،افغانستان اور دوسرے مسلم خطوں میں بہنے والے لہو کا بدلہ چکایا جائے ۔
تنظیم القاعدہ کی بنیاد [۱۹۹۸]
ادھر امارت اسلامیہ کے سائے میں افغانستان کی زمین ، سرزمین ہجرت اور مرکز جہاد میں تبدیل ہو چکی تھی ، اس سرزمین نے اپنی طرف لپک کر آنے والے فرزندان توحید کا آگے بڑھ کر استقبال کیا۔ ان کے لیے تربیتی مراکز کھولے اور معسکرات قائم ہونے لگے اور امارت اسلامیہ نے ان کی ہر طرح حفاظت کی تاکہ یہ دشمن کے خلاف کھل کر تیاری کر سکیں ۔یہاں مجاہدین نے امریکہ اور اہل مغرب کے خلاف جنگ کی حکمت عملی تیار کی ۔ فیصلہ کیا گیا کہ عالمی کفر کا مقابلہ عالمی جہاد سے ہی ممکن ہے چنانچہ عالمگیر جنگ کے خلاف عالمی جہادی تحریک کا آغاز کرنے کے لیے دو بڑی جہادی جماعتوں میں اتحاد عمل میں لایا گیا ۔اس وقت تک افغانستان میں دنیا بھر سے مجاہدین کی ایک قابل ذکر تعداد اکٹھی ہوچکی تھی چنانچہ دو بڑی جہادی تحریکوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی بنیاد رکھی گئی ۔علماء اور قائدین کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں تنظیم القاعدہ اور جماعت الجہاد کی وحدت ۱۹۹۸ میں خوست کے مقام پر ہوئی اور "عالمی اتحاد برائے قتال یہود و نصاریٰ " کا قیام عمل میں لایا گیا۔ نئی جماعت کا نام "تنظیم قاعدۃ الجہاد" رکھا گیا اور اس کی امارت کی ذمہ داری شیخ اسامہ بن لادن حفظہ اللہ پر ڈال دی گئی ۔ دراصل مجاہدین کویہ یقین ہو گیاتھا کہ دنیا پر امریکہ کے یک قطبی تسلط کے خاتمے کے لیے مجاہدین کو بھی اپنی صفوں میں وحدت پیدا کرنی ہوگی ۔ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللہ نے اس اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا :"عالمی اتحاد برائے قتال یہود و نصاریٰ کا قیام ہی مجاہدین کے خلاف کفار کی عالم گیر یلغار کا درست جواب تھا ۔کیونکہ مجاہدین کے خلاف یہ جنگ محض چند علاقوں تک محدود نہ رہی تھی بلکہ اب تو یہ ایک عالم گیر معرکہ بن گیا تھا جس کے ایک طرف مجاہدین تھے تو دوسری جانب ان کے بالمقابل امریکہ ، اسرائیل اور مسلمانوں پر مسلط کٹھ پتلی حکمرانوں کا اتحاد تھا ۔چنانچہ مقابلے کی حکمت عملی تبدیل کرنا بھی ناگزیر ہوچکا تھا اور 'عالمی اتحاد برائے قتال یہود و نصاریٰ کا' قیام ہی ہماری نئی حکمت عملی تھی"۔
الحمدللہ القاعدہ نے یہ حکمت عملی آج بھی جاری رکھی ہوئی ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض اسلامی خطوں میں مزاحمتی تحریکیں اب اسی نام کے ساتھ مصروف جہاد ہیں ۔اورجہاں دیگر تحریکیں بھی موجود ہیں وہاں شوری ٰ اتحاد مجاہدین کے نام سے وحدت عمل میں لائی گئی ہے ۔ اس پر تفصیلی بحث انشاءاللہ آئندہ کسی وقت کےلیے ادھار چھوڑتا ہوں۔
افریقہ اور جزیرۃ العرب میں واقع امریکی اڈوں پر حملے [۱۹۹۸ ]
امریکہ خوب اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ یہ ستم رسیدہ قوم ہر قسم کے احساس و شعور سے عاری ہے ، یہ نہ ہی اس سے قصاص لے گی اور نہ ہی ان مظالم کا جواب دے سکی گی۔لیکن عالمی کفر کو اصل خطرہ اس کے مجاہد بیٹوں سے تھا اور انہیں ختم کرنے کے لیے وہ اپنے پر تول رہا تھا ۔لیکن اسے خود بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ فرزندان توحید اس کے ناپاک ارادوں سے پہلے ہی اس پر کسی بڑے حملے کے قابل ہو جائیں گے ۔امریکہ کو ابتدائی ہزیمت اور نفسیاتی جھٹکے اس وقت لگے جب مجاہدین نے کینیا اور تنزانیہ میں واقع امریکی سفارت خانوں پر جو درپردہ اسرائیلی اور امریکی جاسوسی اداروں کے بڑے مراکز تھے یکے بعد دیگرے حملہ کر کے تباہ کر دیا ۔ اس موقع پر شیخ اسامہ بن لادن حفظہ اللہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
"یہ نوجوان کل تک افغانستان کے کسی ایسے ہی معسکر میں زیر تربیت تھے پس جب اللہ نے ان کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے تو انہوں نے اٹھ کر اس نام نہاد 'سپر طاقت 'کی شوکت و ہیبت کو توڑ ڈالا۔ہمارے لیے یہ بات اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے کہ نیروبی اور دارالسلام میں امریکی سفارت خانوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کتنی تھی ۔بلکہ اصل اہمیت کا حامل تو وہ قوی پیغام ہے جو دھماکوں کی زور دار لہروں نے 'وائٹ ہاوس' اور پوری امریکی قوم تک پہنچایا ہے۔یہ پیغام ہے کہ اہل ایمان اپنے دین کے معاملے میں مزید ذلت برداشت کرنے کے لیے تیارنہیں "
اس کے کچھ عرصے بعد اللہ کی نصرت سے مجاہدین نے یمن میں موجود دنیا کے سب سے طاقت ور بحری بیڑے یو ایس ایس کول کو بھی نشانہ بنایا ، جس نے امریکہ کو شدید نفسیاتی کوفت میں مبتلا کر دیا ۔اسی طرح ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایک عظیم الشان فدائی حملہ ہوا جس میں سینکڑوں فوجی مردار ہوئے اور سفارت خانہ کی عمارت تباہ ہو گئی ۔ ان چار پانچ سالوں میں امریکہ کے خلاف ہونے والے یہ چند بڑے حملے ہیں ۔یہ تمام حملے مادی اعتبار سے زیادہ معنوی اور نفسیاتی اعتبار سے اس کے لیے سنگین تھے ۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اب تک امریکہ اپنی ہی سرزمین پر بڑی ہزیمت سے محفوظ رہا تھا ۔
امریکہ پر ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی :
جو مجاہدین افغانستان میں جمع ہو چکے تھے انہیں امریکہ کے خلاف دعوت جہاد دی گئی تھی چنانچہ انہیں معسکرات میں ایک طویل اور صبر آزما جنگ کے لیے تیار کرنے کی تربیت دی جارہی تھی ۔ ساتھ ساتھ امریکہ پر ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی بھی جاری تھی ۔ تاکہ اس کے ذریعے امریکہ کو معرکوں کے لیے موزوں میدان یعنی افغانستان میں دھکیلا جاسکے اور اس طرح اسے ایک طویل جنگ میں الجھا کر کمزور کر دیا جائے ۔مجاہدین کے پیش نظر یہ بھی تھا کہ نوجوانوں میں جذبہ شہادت بیدار کرنے اور جہاد کے لیے گھروں سے نکالنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ امریکہ کے خلاف میدان جنگ سجایا جائے ورنہ یہ امت سوتی رہے گی اور عالم اسلام پر مغرب کا تسلط ہمیشہ برقرار رہے گا ۔یہ حالات بدلنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ امت میں جہادی بیداری عام ہو جائے ، اور وہ ہر جگہ ظالموں سے بدلہ لینے کے لیے تیار ہو جائیں ۔
خالد شیخ محمد
[اللہ تعالی انہیں جلد رہائی دلائے ] جو ۱۱ ستمبر کے معرکہ کے اصل محرک سمجھے جاتے ہیں ، انہوں نے ایسا ایک منصوبہ عمل ۱۹۹۶ میں پہلی مرتبہ شیخ اسامہ کے سامنے پیش کیا تھا۔ لیکن شیخ اسامہ اس وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ سوڈان سے نئے نئے سرزمین افغانستان دوبارہ منتقل ہوئے تھے ۔اس لیے حالات کی ناموافقت کی وجہ سے اس وقت اس حملے پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا ۔ ۱۹۹۸ میں افریقہ میں ہونے والے دھماکوں کے بعد حالات قدرے بہتر ہوگئے تو دوبارہ منصوبہ بندی شروع ہوئی ۔ امریکی خفیہ اداروں نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے دسمبر ۱۹۹۸ میں صدر بل کلنٹن کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں خدشہ ظاہر کر دیا گیا تھا کہ القاعدہ امریکہ پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہےاورممکنہ صورتوں میں سے امریکی طیاروں کے اغوا کا منصوبہ بھی شامل تھا ۔
خالد شیخ محمد نے ۱۹۹۹ کے اوائل میں شیخ اسامہ حفظہ اللہ اور اس وقت کے عسکری کماندان ابو حفص المصری شہید رحمہ اللہ سے دوبارہ ملاقاتیں کیں ۔ خالد شیخ محمد نے ابتدا میں تجویز دی تھی کہ جیٹ طیاروں کو اغوا کیاجائے اور امریکہ کے نیوکلیر پلانٹس پر حملہ کیا جائے۔ لیکن شیخ اسامہ نے ان کی اس تجویز کو رد کر دیا ، کیونکہ اس کی قابل عمل صورت نظر نہ آتی تھی اور اندازے غلط ہونے پر بہت بڑی تباہی پھیلنے کا خطرہ موجود تھا ۔ اسی طرح بیک وقت ۱۲ جہازوں کو اغوا کرکے اپنے مطالبات منوانے کی تجویز بھی اپنی جگہ نہ بنا سکی ۔ بالآخر چار کمرشل جہازوں کو اغوا کر کے امریکہ کی بعض خصوصی عمارتوں کو ہدف بنانے کی تجویز قبول کر لی گئی ۔
غزوہ نیویارک و واشنگٹن :
اس حملے سے متعلق شرعی فتاویٰ حاصل کرنے کا ابتدائی کام ابو حفص المصری نے مکمل کر کے شیخ اسامہ کے حوالے کیا ۔ جس میں امریکی عمارتوں کو نشانہ بنانے اور اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی ہلاکت کے متعلق شرعی فتاوی شامل تھے ۔ اس کام کے لیے بیس فداکاروں کی تجویز دی گئی تھی جنہوں نے منصوبے کے مطابق ۴ مختلف ہوائی جہازوں کو ایک ہی وقت میں اغوا کرنا تھا اور ۴ مختلف مقررہ اہداف سے ٹکرانا تھا ۔ ہر جہاز میں پانچ شہیدی حملہ آوروں نے شامل ہونا تھا ، جن میں سے ایک ہواباز اور بقیہ چار نے جہاز کے اغوا کیے جانے میں مدد دینی تھی اور اپنے فدائی ہواباز ساتھی کو اتنا موقعہ فراہم کرنا تھا کہ وہ طے شدہ وقت سے پہلے پہلے جہاز کو ہدف سے ٹکرادیں ۔
بیسویں فدائی حملہ آور رمزی بن شیبہ آخری وقت میں اس مجموعے میں شامل نہ ہوسکے لہٰذا کارروائی میں کل انیس فدا کاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا ۔ رمزی نے زیاد الجراح والے مجموعے میں شامل ہونا تھا ، جسے امریکی صدرمقام واشگٹن ڈی سی میں تباہی مچانی تھی لیکن یہ طیارہ ہدف تک نہ پہنچ سکا تھا اور پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہو گیا تھا ۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ مسافروں اور عملے کے یرغمالیوں نے یہ جان کر کہ اس سے پہلے اغوا ہونے والے جہاز عمارتوں سے ٹکرا دیے گئے ہیں اورشہیدی نہتے ہیں اور ان کے پاس صرف پھل یا پیپر کاٹنے والے تیز دھار آلے موجود ہیں ان سے دست بدست لڑائی شروع کردی ہو جس کے نتیجےمیں جہاز کا انتظام واپس جاتا دیکھ کر زیاد الجراح نے جو اس مجموعے کے فدائی ہواباز تھے ، جہاز کو گرا دینا بہتر سمجھا ہو ۔ واللہ اعلم
جن انیس شہیدی مجاہدین نے اس حملے میں حصہ لیا ان میں سے چار شہیدی ہوابازوں کے نام یہ ہیں :
انجنئیر محمد عطاء ، زیاد الجراح، مروان الشحی اور ہانی ہنجور ۔۔ رحمہم اللہ
دیگر پندرہ شہیدی اغوا کارجنہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس عظیم سعادت کے لیے منتخب کیا تھا وہ یہ ہیں :
احمد بن عبداللہ النعمی ، سطام السقامی ، ماجد بن موقد، خالد المحضار ،فائز بن احمد ، سالم الحازمی ، نواف الحازمی ، احمد الحزنوی الغامدی ، حمزہ الغامدی ، عکرمہ احمد الغامدی ، معتز سعید الغامدی ، وائل الشہری ، ولید الشہری ، مھند الشہری ، ابو العباس عبدالعزیز الزہرانی ۔۔ رحمہم اللہ ۔
ان انیس فدائین میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا جبکہ دو ارب امارات ، اور ایک ایک لبنان اور مصر سے تعلق رکھتے تھے ، جبکہ حملے کے ماسٹر مائینڈ خالد شیخ محمد ہیں جو بلوچی پاکستانی ہیں ، لیکن کویت میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں ۔خالد المحضار اور نواف الحازمی ، شیخ اسامہ کے انتہائی قابل بھروسہ اور دیرینہ ساتھیوں میں سے تھے ابتدا میں شیخ اسامہ نے انہیں بھی ہوابازوں میں شامل رکھا تھا لیکن ، اگست ۲۰۰۰ میں سان ڈیاگو میں ابتدائی فضائی تربیت ٹھیک طرح مکمل نہ کرسکنے کی وجہ سے انہیں اغوا کاروں میں شامل کر لیا گیا ۔
اس معرکے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے آپ وکی پیڈیا کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔
http://en.wikipedia.org/wiki/September_11_attacks
شیخ اسامہ ذاتی طور پر منصوبہ کے ہر ہر مرحلے کی نگرانی کرتے رہے ۔ہوابازوں کے مجموعے کی تیاریوں پر نگاہ رکھنے کے لیے آپ حملوں کے منتظم شیخ ابو عبیدہ ، شیخ رمزی بن شیبہ اور لاجسٹک اعانت کے ذمہ دار شیخ ظاہر زکریا الھوساوی سے مسلسل رابطے میں رہتے ۔شیخ اسامہ کی ترغیب پر فدائین کی ایک بڑی فہرست تیار ہو چکی تھی لیکن اس حملے کے لیے کل انیس فداکار منتخب کیے گئے جنہیں شیخ اسامہ نے خود منتخب کیا تھا ۔ یہ شہیدی حملہ آور بلاشبہ آج کی امت کے معمار بن گئے ہیں ۔یہ وہ ابطال ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل کر رکھ دیا ۔جب ساری امت بیٹھ کر کسی خوابی جنت کا نظارہ کر رہی تھی اس وقت یہ معمار امریکہ پر حملے کے پر تول چکے تھے اور تیزی سے اپنے ہدف کی جانب بڑھ رہے تھے ۔جب شکوک و شبہات نے دلوں میں گھر کر لیا تھا اور جہاد کو ناقابل عمل قرار دیا جاچکا تھا یہ ابطال امریکہ کے اندر گھس کر اس پر حملہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔
دیوانے کی بڑ :
۱۹۹۶ میں جب امریکہ کے خلاف اعلان جہاد کیا گیا تو اسباب کے پجاریوں نے اسے دیوانے کی بڑ قرار دیاتھا ۔مجاہدین نے افغانستان کے پہاڑوں میں ٹھکانہ بنا کر جب امریکہ کو ہدف بنانا شروع کیا تھا تو مادی اعتبار سے کوئی قابل ذکر کارروائی عمل میں نہ آسکی تھی اگرچہ معنوی اعتبار سے چند قابل ذکر حملے ہوئے جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ۔ یہ حملے اسے پیغام دے چکے تھے کہ مجاہدین اسلام اس سے فیصلہ کن معرکہ کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔ بالآخر ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو مجاہدین اس کے گھر میں گھس کر اس کی ناک کو خاک آلود کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔گیارہ ستمبر کے مبارک حملے نے دنیا کی واحد سپر پاور کی چولیں ہلا کر رکھ دیں ۔اور مجاہدین دنیا بھر میں ان کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا بدلہ لینے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئے ۔اس حملے نے امریکہ کو عظیم مادی ، اقتصادی ، عسکری اور نفسیاتی شکست سے دوچار کر دیا ۔ اس پر تفصیل انشا ء للہ اگلی تحریر اور بلاگ میں شامل ہے ۔
تیاری کہاں اور کیسے کی گئی :
یہاں ہم اس حملے کی تیاری اور اس میں شرکت کرنے والے مخلص مجاہدین کی کوششوں کا مختصر جائزہ لیں گے ۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے امریکہ کے جاسوسی اور حفاظتی نظام سے متعلق ایک مافوق الفطرت نقشہ کھینچ رکھا تھا ، لیکن یہ مجاہد بھائی اس سےقطعاً مرعوب نہ ہوئے ۔ ان ہوابازوں نے پورے اطمینان اور سکون سے امریکہ کے اندر بیٹھ کر اپنی تیاریاں جاری رکھیں۔امریکہ ہی میں فضائی ہواباز کمپنیوں کے تربیتی مراکز میں داخلہ لیا اور اپنی فضائی تربیت کئی ماہ میں اس طرح پوری کی کہیں بھی منصوبے کی بھنک نہ پڑ سکی ۔ادھر اغواکار وں کی عسکری تربیت قندھار کے معسکرات میں جاری تھی ۔ ان کی تربیت شیخ ابو تراب اردنی نے کی تھی جو ہر قسم کے فنون سپہ گری میں ماہر تھے ۔ ان فدائین کو مارشل آرٹ کے چند مفید گر سکھائے گئے جس میں تیز دھار چاقووں کی مدد سے سیکیورٹی کی دستوں پر قابو پانے کی خصوصی تربیت بھی شامل تھی ۔ اس کے علاوہ انہیں انگریزی زبان میں گفتگو کرنے کا ہنر بھی سکھایا گیا ۔امریکہ میں سفر اور قیام کرنے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کر لیے گئے تھے ۔جب یہ تیاری مکمل ہوگئی تو روانگی سے قبل بیشتر شہداء کی وصیتیں فلم بند کیں گئیں جنہیں القاعدہ کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ 'السحاب ' نے پہلی مرتبہ دو سال بعد ۲۰۰۳ میں پیش کیا ۔
ان شہداء کو کچھ عرصے تک کراچی اور انڈونیشیا میں مغربی طرز زندگی کے مطابق رہنا سکھایا گیا ۔ تاکہ امریکہ میں قیام کے دوران یہ مغربی طرز زندگی کے اندر گھل مل جائیں ۔۲۰۰۶ میں القاعدہ کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ 'السحاب ' کی جانب سے ایک خصوصی دستاویزی فلم '
علم للعمل 'کے نام سے عربی اور انگریزی زبانوں میں جاری کی گئی جس میں پہلی مرتبہ ان تیاریوں کے مناظر کو پیش کیا گیا تھا ۔اس سے پہلے ۲۰۰۳ میں السحاب کی جانب سے ان فدائین کی وصیتوں کی ویڈیوز جاری کی جاچکی تھیں ۔لیکن اس تازہ ویڈیو میں شیخ اسامہ کے اس وقت کے کلمات بھی پیش کیے گئے جو حملے کی تیاریوں کے وقت فلم بند کیے تھے لیکن اب تک پیش نہیں کیے گئے تھے ۔
اگر ہم ان شہیدی جوانوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ ان شہداء کی عظیم فدا کاری اُن جہلاء کے منہ بند کروانے کے لیے کافی ہے جو یہ خرافات پھیلاتے آرہے ہیں کہ شہیدی حملے زندگی سے تنگ ، ناکام اور بے روز گار لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔ تقریباً ان تمام ابطال کو پر تعیش زندگی گزارنے کے سارے اسباب مہیا تھے ، دنیا اپنے سارے دروازے ان پر کھول چکی تھی لیکن انہوں نے دنیا بیچ کر آخرت خریدنے کا فیصلہ کیا ۔آدم یحییٰ غدن عزام امریکی حفظہ اللہ ان بھائیوں کے محاسن بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :"امریکہ پر حملوں میں حصہ لینے والے تمام ہی بھائی بہت پرعزم ، بلند ہمت، دینی حمیت کے جذبے سے سرشار ، اسلام اور اہل اسلام کے غم میں تڑپنے والے تھے ان میں یہ اعلیٰ اوصاف موجود تھے تب ہی تو وہ اس مشکل مہم کے لیے چنے گئے تھے ۔بلاشبہ یہ ایسے لوگ نہ تھے جو ناکام زندگی گزارنے کے بعد کسی راہ فرار کی تلاش میں ہوں ۔ذرا ان ہوابازوں پر ایک نگاہ تو ڈالیے ۔۔۔۔ شہید انجینئر محمد عطاء ، شہید مروان الشحی ، شہید زیاد الجراح اور شہید ہانی ہنجور۔ یہ چاروں شہداء مغربی ممالک میں رہ چکے تھے ۔ انہوں نے وہیں تعلیم حاصل کی تھی ۔ دنیا ان کی پہنچ میں تھی ، اگر یہ اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہتے ۔لیکن ان کا ضمیر کیسے گوارا کر لیتا کہ یہ خود تو دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں جبکہ ان کی امت آگ میں جلتی رہے ۔"
گیارہ ستمبر کا حملہ دفاعی رد عمل تھا
یہ تفصیلات جاننے سے واضح ہوجاتا ہے کہ مجاہدین کا اصل ہدف اسلام کے مدمقابل جدید مغربی تہذیب ہے جس کا سرخیل امریکہ ہے ۔اور اس کو ہدف اس لیے بنایا گیا تاکہ دنیا بھر میں بہنے والے مسلمان لہو کا بدلہ لیا جائے ۔ اور اس کارروائی کے ذریعے امریکہ اور اہل اسلام کے مابین فیصلہ کن جنگ شروع کر دی جائے ۔جو لوگ ان حملوں کو دہشت گردی کے واقعات قرار دیتے ہیں وہ درحقیقت ان اسباب سے صرف نظر کرتے ہیں جنہوں نے دنیا کو ۱۱ستمبر کا دن دکھایا ۔ اس کے حوالے سے تفصیل ان شاء اللہ تیسرے حصے اور بلاگ میں آئے گی یہاں ہم شیخ اسامہ کے چند کلمات پر اکتفا کرتے ہیں جس میں انہوں نے امریکہ کے خلاف اس جہادی اقدام کا جواز فراہم کرتے ہوئے کہا :
" اس حملے کو دہشت گردانہ کہنا کسی طور درست نہیں ۔۔۔۔حقیقت میں یہ ایک مدافعانہ کارروائی تھی ۔۔۔۔۔ہمیں [امریکی سر پرستی میں]عراق ، فلسطین ، شیشان ، فلپین ، صومالیہ اور دنیا کے کونے کونے میں روندا جارہا تھا ، لہذا یہ امت کے نوجوانوں کا امریکہ کے خلاف ایک قابل فہم رد عمل تھا "
ایک اور غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے شیخ اسامہ نے کہا کہ :
"یہ کہنا درست نہیں کہ یہ جنگ امریکہ اور القاعدہ کے مابین ایک جنگ ہے ، در حقیقت یہ جنگ عالمی کفر اور اہل اسلام کے مابین ہے ، ایک طرف امریکہ اور اس کے حواری ہیں جو عالمی کفر کے نگہبان ہیں اور دوسری طرف اسلام کا دفاع کرنے والے مخلص مجاہدین اور ان کے ساتھی ہیں، خواہ وہ کسی قوم ، قبیلے اور جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، اسلام کا دفاع ہم سب کے لیے یکساں طور پر سنگین مسئلہ ہے ، القاعدہ تو محض ایک تنظیم ہے جو مسلمانوں کو اس فریضہ کی ادائگی کے لیے تحریض دلاتی اور اس کی بجاآوری کے لیے ایک اجتماعی پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے "

[ جاری ہے ۔۔۔]

گیارہ ستمبر کے نتیجے میں عالم اسلام اور عالمی کفر پر مرتب ہونے والے اثرات

[ ۔۔۔گذشتہ سے پیوستہ]

: حصہ دوم :
گیارہ ستمبر کے نتیجے میں عالم اسلام اور عالمی کفر پر مرتب ہونے والے اثرات


ان مبارک حملوں کا فائدہ اسلام کو ہوا یا کفر کو؟
اس حصے میں ہم جاننے کے کوشش کریں گے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے نتیجے میں عالم اسلام کو کیا کیا فائدے حاصل ہوئے اور امریکہ اور عالمی کفریہ نظام کو اس کے نتیجے میں کیسے کیسے عظیم نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔اس سے پہلے کہ ہم ان سوالات کے جوابات تلاش کریں ضروری ہے کہ ہم نفع اور نقصان کے معیار ات کا تعین کر لیں ۔کیونکہ مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لیے ہر معیار اور کسوٹی کا ماخذ کتاب مبین اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہے
,نہ کہ وہ جسے مغرب مقرر کرے ۔اللہ رب العزت قرآن مجید میں نفع و نقصان کی حقیقت اس طرح بیان کرتے ہیں :

فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ
[آل عمران ۱۸۵]

"جو کوئی دوزخ کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا پس حقیقت میں تو وہی کامیاب ہے
اور دنیا کی زندگی دھوکہ کے سامان کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے "

پس یہ طے ہے کہ مومنین کے لیے نفع اور "فائدہ " وہ ہے جس میں آخرت کی فلاح ہو۔جبکہ کفار کے نزدیک دنیا کی زندگی اور اسکا سازوسامان اور چکا چوند "فائدہ" یا "کامیابی " کا معیار ہے ۔اس کے برعکس دنیوی زندگی کا نقصان کافروں کے لیے "خسارہ "ہے اور مومنین کے لیے خسارہ یا "نقصان " وہ ہے جس میں آخرت برباد ہوتی ہو۔

اہل ایمان اور کفار دونوں کے لیے نفع اور نقصان کی تعریفیں متعین کرنے کے بعد اب ہم آتے ہیں زیر بحث سوال کی جانب یعنی گیارہ ستمبر کے حملوں کا فائدہ کس نے سمیٹا اسلام نے یا کفر نے ؟

مجاہدین کا موقف:

اہل ایمان اور مجاہدین بالخصوص ان مبارک حملوں کو سر انجام دینے والے اور اس کی منصوبہ بندی سے تکمیل تک کے مراحل میں شریک مجاہدین کا اس سوال کے جواب میں نہایت دوٹوک اور غیر مبہم موقف یہ ہے ۔ الحمدللہ یہ حملے مجاہدین اور اہل ایمان کے لیے ،نہایت مبارک ، ایمان میں اضافہ کا سبب اور دینی ، عسکری اور سیاسی اعتبار سے بہت فائدہ مند جبکہ کفار ، بالخصوص امریکہ کے لیے معاشی ، سیاسی ، عسکری اور نفسیاتی حوالے سے سخت نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں ۔اسی طرح یہ حملے عرصہ سے مسلمانوں پر مسلط عالمی کفریہ نظام پر ایک کاری ضرب لگاتے ہوئے حق و باطل کی ایک فیصلہ کن جنگ کا پیش خیمہ بنے ہیں۔اگر اہل ایمان ثابت قدم رہیں اور صبر کا دامن نہ چھوڑیں تو اللہ کی نصرت سے بعید نہیں کہ اس جنگ کا فیصلہ اہل ایمان کے حق میں ہو اور یوں عالمی کفریہ نظام کی تباہی و بربادی کے ذریعے اس سے نجات حاصل ہو جائے اور عالم اسلام کو اسلامی خطوں میں شریعت اسلامی کی بہاریں دیکھنا نصیب ہوجائے ۔ جس کی ہلکی سی جھلک دس برس بعد ظاہر ہو چکی ہے ۔

سرور جو حق و باطل کی کارگاہ میں ہے
تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے

پس یہاں ہم نے مجاہدین کے موقف کے حق میں اعدادوشمار ، اور دیگر دلائل جمع کرنے کی کوشش کی ہے آئیے ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کوشش کو قبول فرمائے اور اسے متلاشیان حق کی راہ نمائی کا وسیلہ بنائے ۔ آمین ۔

امریکہ کو پہنچنے والے مالی نقصانات :

آئیے سب سے پہلے ہم ان مبارک حملوں کے نتیجے میں امریکہ کو براہ راست پہنچنے والے مالی و اقتصادی نقصانات کا جائزہ لیں ، کیونکہ یہ وہ نقصانات ہیں جن کا اعتراف خود امریکی تجزیہ نگار اور حکومتی ادارے کر چکے ہیں :

[ + ] اقتصادی منڈیوں کا خسارہ
نیویارک اسٹاک ایکسچینج اور امریکین اسٹاک ایکسچینج اور ناسڈاک اسٹاک مارکیٹ ۱۱ ستمبر سے لیکر ۱۶ ستمبر تک مکمل طور پر بند رہیں ۔جب یہ اسٹاک مارکیٹیں دوبارہ کھلیں تو اس وقت تک مجموعی طور پر وال سٹریٹ مارکیٹ کے حصص
7.1% فیصد گر چکے تھے ۔ جبکہ مزید ایک ہفتے میں "ڈائوجونز انڈسٹریل ایوریج"(Dow Jones Industrial Average) میں14.3% فیصد کی کمی کے ساتھ 1369پوائنٹس کی کمی واقع ہو چکی تھی ۔ اسٹاک مارکیٹوں میں اس کمی سے صرف پندرہ دنوں میں امریکی معیشت کو ۱۴۰۰ ارب(1.4 trillion) ڈالر کا نقصان پہنچ چکا تھا ۔ خود امریکی معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ اسٹاک مارکیٹ کی ۲۳۰ سالہ تاریخ کا بد ترین خسارہ تھا ۔

[ + ] یومیہ آمدنی کا خسارہ
حملے کے بعد ایک ہفتے تک اس خوفناک تباہی اور خوف کے نتیجے میں کسی امریکی نے کوئی کام نہیں کیا اور تمام تجارتی اور کاروباری مراکز بند رہے بعد میں بھی ان کے کام کرنے کی کارکردگی متاثر رہی ۔ امریکی قوم کی یومیہ آمدنی ۲۰ ارب ڈالر ہے ،اس طرح ان سات دنوں کا نقصان ۱۴۰ ارب ڈالر بنتا ہے

[ + ] تباہ شدہ عمارتوں کا نقصان
عمارتوں کی تعمیر پر مجموعی لاگت تقریباً تیس ارب ڈالر آئی تھی ۔ جبکہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے صفائی اور بحالی کا مجموعی خرچ بھی تیس ارب ڈالر تک پہنچتا ہے ۔ یہ اعداد وشمار وہ ہیں جو نیویارک کے مشیر برائے معاشیات و بحران رینڈل بیل نے اپنی کتاب
“Strateg 360” میں پیش کیے ہیں ۔رینڈل نے عمارتوں کے ان مالی نقصانات کا بھی ذکر کیا ہے جو دفاتر کے کرائوں کی مد میں پہنچا ہے ۔ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں تین کروڑ انیس لاکھ مربع فیٹ کا رقبہ دفاتر کے طور پر استعمال ہو رہا تھا ۔اس کے علاوہ چار جہازوں کی قیمت اور پنٹاگون کی عمارت کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہے ۔

[ + ] ہوابازی کی صنعت اور سیاحت کی صنعت کی تباہی اور بے روزگاری
ان مبارک حملوں کے نتیجے میں خوفزدہ امریکیوں نے فوری طور پر اپنے تمام ہوائی سفر منسوخ کر دیے ، اور اگلے چند ماہ تک امریکی اکثریت نے ہوائی سفر کو متروک رکھا۔ جس کی وجہ سے ائر لائین کی صنعت کو بہت گہرے مالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ صرف اگلے چند ہفتوں میں ائر لائین کمپنیوں کے ایک لاکھ ستر ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ جب کہ ہوائی سفر کو ترک کر دینے کے وجہ سے سیاحت کی صنعت بھی بہت بری طرح متاثر ہوئی اور صرف انٹر کانٹی نانٹل ہوٹل نے اپنے ساٹھ ہزار ملازمین فارغ کر دیے ۔ نیویارک سٹی میں ۴۳۰،۰۰۰ [چار لاکھ تیس ہزار ] لوگ اپنی ملازمتوں سے بر طرف کر دیے گئے ۔اس کے علاوہ دہاڑی پر کام کرنے والے مزدور جن کی مجموعی کمائی تقریباً تین ارب ڈالر روزانہ تھی کسی بھی قسم کی کمائی سے اگلے چند ماہ تک محروم رہے ۔

[ + ] نفسیاتی بیمار
امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیویارک اور واشنگٹن کے مبارک حملوں کے نتیجے میں ۷۰ فیصد امریکی نفسیاتی دباؤ اور دیگر بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔ اگر یہ تعداد صحیح ہے تو صرف ان نفسیاتی مریضوں کے علاج معالجے پر خرچ ہونے والے اخراجات کا صحیح اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں ہے ۔


ان نقصانات کی مزید تفصیل جاننے کے لیے وکی پیڈیا کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں:
http://en.wikipedia.org/wiki/Economic_effects_arising_from_the_September_11_attacks


یہ اعداد و شمار وہ ہیں جو معرکہ کےصرف چند ہفتوں بعد ہی ظاہر ہو گئے تھے ۔اس مبارک معرکہ کےنتیجہ میں امریکہ کو پہنچنے والے مالی نقاصانات نہایت پیچیدہ اور سلسلہ در سلسلہ پھیلے ہوئے ہیں اور ان کا صحیح اندازہ لگانا اتنا آسان کام نہیں ہے ۔پس حمد و شکر کے لائق وہ عظیم و برتر رب ہے جس نے یہ فتح اپنے مومن بندوں پر اتاری ۔ اگر محتاط اندازہ لگایا جائے تو صرف اگلے تین سے چار ماہ میں حاصل ہونے والا خسارہ کسی بھی طرح ۱۸۰۰ ارب ڈالر سے کم نہیں تھا جو پاکستان جیسے ملک کے پچاس سال کے بجٹ سے زیادہ ہے ۔اس طرح اقتصادی اعتبار سے ہی یہ انتہائی کامیاب اور شاندار حملے تھے جنہوں نے کفار پر گہرا زخم لگایا ۔ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ان انیس فدائی بھائیوں پر جنہوں نے اس شاندار معرکہ میں حصہ لیا ، رحمتیں نچھاور کرے اور انہیں زمرہ شہدا میں شامل کرے اور انہیں جنت کے بہترین درجات عطا فرمائے ۔آمین

یاد رہے کہ یہ تمام نقصانات ، اس اقتصادی بحران کے علاوہ ہیں جو عراق و افغانستان میں جاری نو سال کی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی سب سے عظیم طاقت کو ماہ بہ ماہ اور سال بہ سال اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔اگر آپ تحقیقی جستجو رکھتے ہیں تو انٹرنیٹ پر امریکی معیشت کے خسارے کے موضوعات تلاش کیجیے ، اور حیرت سے سر دھنیے ۔وللہ الحمد والمنۃ ۔ان طویل المدتی معاشی اثرات کو بیان کرنے کے لیے علیحدہ کتاب لکھی جاسکتی ہے ، یہاں اجمالاً چند اشاریے آپ کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں تاکہ جو لوگ تحقیق سے گریز کرتے ہوں وہ بھی کلیجوں میں ٹھنڈک اتارنے سے محروم نہ رہیں ۔
[] امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار
GDP کی شرح نمو سال ۲۰۰۰ میں چار فیصد تھی جبکہ ۲۰۰۱ میں وہ کم ہو کر صرف ۱ فیصد تک آ گئی اور پھر ۲۰۰۲ میں ۲ فیصد رہی ۔
[] ۲۰۰۳ میں امریکہ کی قومی آمدنی میں کمی واقع ہوئی جس کا تخمینہ ۵۰۰ ارب ڈالر لگایا گیا تھا ۔
[] اسی طرح امریکی بجٹ نے خسارے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے جو ۲۰۰۲، ۲۰۰۳ اور ۲۰۰۴ میں بالترتیب ۱۵۷ ارب ڈالر، ۳۷۷ ارب ڈالر، اور ۲۵۵ ارب ڈالر رہے جبکہ ۲۰۰۸ کے صرف ابتدائی دس ماہ کے اختتام پر امریکہ بہادر کا خسارہ ۱۲۷۰ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا ۔
[] امریکہ کا قومی قرض جو کہ ۲۰۰۱ میں صرف ۵۷۶۹ ارب ڈالر تھا ، مالی سال ۲۰۰۹-۲۰۱۰ کے اختتام پر ۱۲۸۶۷ ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی معیشت کے تجزیہ نگار بارہا اس حقیقت کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس اقتصادی بحران کا اصل سبب گیارہ ستمبر کے مبارک حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے معاشی اثرات ہیں جنہیں وہ
(Long-Term Economic Effects) کانام دیتے ہیں ۔


دور رس نتائج اور اثرات:

یہ تو تھے امریکہ کو براہ راست پہنچنے والے مادی نقصانات ۔ اب ہم بات کرتے ہیں ان دور رس نتائج اور اثرات پر جو اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہیں ۔

۱ - ] امریکی ہیبت اور طاقت کا رعب زائل ہوگیا
ان انیس فداکاروں نے امریکی جڑواں میناروں پر جو ضرب کاری لگائی اس نے امریکہ کی عسکری طاقت اور ٹیکنالوجی کی ہیبت کاوہ بت گرا دیا جسے دنیا بھر میں پوجا جاتا رہا تھا ۔سچ تو یہ ہے کہ اس قدر خوفناک ضرب کا امریکی قوم نے تصور تک نہ کیا تھا کیونکہ اس سے پہلے تک امریکہ کو ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت کا ایک ناقابل تسخیر دیو سمجھا جاتا تھا ۔پس امت کےان ابطال کا بے سروسامانی کے عالم میں اٹھنا اور اپنے مقابلے کی عظیم طاقت سے ٹکرا جانا اور اسی کی اپنی سر زمین پر اس کو اتنی بڑی زک پہنچانا اس بات کی دلیل تھی کہ کلمہ توحید اور جذبہ جہاد کے سامنے ٹیکنالوجی کی مہارت اور عسکری ہیبت و عظمت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ اس حملے کا نتیجہ یہ نکلا کہ امت کے بے شمار نوجوانوں کے دلوں سے امریکہ اور اس کے حواریوں کی ہیبت اور عسکری طاقت کا خوف زائل ہو گیا ۔یہ خوف اور ہیبت راہ جہاد میں ان کے لیے ایک بہت بڑی رکاوٹ تھی جس کے دور ہونے کے بعد راہ جہاد اختیار کرنا ان کے لیے آسان ہوگیا۔

اور یہ وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے دل و دماغ کی جنگ لڑنے والوں کے ایک گروہ نے اذہان کو منتشر کرنے کے لیے سازشی نظریہ جنم دے کر اس مبارک حملہ کو امریکی یا یہودی سازش قرار دیا تاکہ مجاہدین سے یہ کریڈٹ چھین کر امت کو یہ باور کروایا جائے کہ یہ ساری کارروائی امریکی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔اور اس نظریہ کو فروغ دینے کے لیے جھوٹی جھوٹی کہانیاں گھڑی گئیں ۔ حال یہ ہے کہ قائدین جہاد کے بار بار کے اعترافات کے باوجود نو سال گزر جانے پر بھی اب تک بہت سے اذہان اسی تشکیک میں مبتلا ہیں کہ یہ کارروائی مجاہدین کے بس کی بات نہیں تھی۔ ہم اس بلاگ کے تیسرے حصے میں اس سازشی نظریہ پر ایک تفصیلی بحث کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
اس سازشی نظریہ کا ابطال جہاں مجاہدین کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہیں بہت سے تحقیقی اداروں نے بھی اس کا خوب حق ادا کیا ہے ۔ملاحظہ کیجیے :
http://www.debunking911.com/

۲ - ] امریکہ مجاہدین کے طے شدہ پلان کے مطابق جنگ کی دلدل میں پھنس کر اور غیر محفوظ ہو گیا
یہ اللہ کی نصرت تھی کہ امریکہ نے جنگ کو دشمن کے علاقے میں لڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کا اپنا گھر محفوظ رہے ۔ جبکہ یہ بعینہ وہی رد عمل کا جس کی خواہش مجاہدین کر رہے تھے ۔ شائد امریکی عظمت کے میناروں پر پڑنے والی ضرب کی شدت کا اثر اتنا تھا کہ زخم خوردہ سپر پاور یہ سوچنے ہی سے قاصر ہو گیا کہ اس جنگی کارروائی کے اثرات کیا ہوں گے ؟ اب تک بیس ہزار امریکی فوجی عراق ،افغانستان ، یمن اور صومالیہ میں پھیلی جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں ، جبکہ زخمیوں ، اپاہجوں اور ذہنی مریضوں کا کوئی شمار نہیں۔پہاڑوں اور صحراؤں میں لڑی جانے والی اس جنگ میں امریکہ اب تک ۱۰ کھرب ڈالر جھونک چکا ہے ، جس نے اس کو حالیہ معاشی بحران تک پہنچانے میں اصل کردار ادا کیا ہے ۔اور آج نو سال گزرنے پر بھی اسے اپنی فتح کی کوئی واضح صورت نظر نہیں آتی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جنگ کی تازہ صورتحال خصوصاً افغانستان میں اس کی یقینی شکست کی طرف نشاندہی کر رہی ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو شکست کی ذلت سے بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔دوسری طرف "وار آن ٹیرر "اور "ہوم لینڈ سیکیورٹی" کے خدشات ظاہر کر کے دفاعی بجٹ مختص کرنے کے باوجود یہ سوال پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے کیا جانے لگا ہے کہ کیا ریاست ہائے متحدہ امریکہ مجاہدین کے حملوں سے محفوظ ہو گئی ؟ جبکہ سوال کا جواب یقیناً نفی میں ہے ۔مجاہدین کی جانب سے امریکہ اور اس کے حواریوں پر ہونے والے حملے اور حملوں کی متعدد کوششیں کرنا اس کا واضح اور بین ثبوت ہیں ۔آئیے ایسے بعض حملوں پر نظر ڈالتےچلیں :
[] ۱۱ مارچ ۲۰۰۴ کو سپین کے شہر میڈرڈ میں ریل گاڑیوں میں ہونے والے بم دھماکوںمیں ۱۹۱ افراد ہلاک ہوئے ۔جس کی ذمہ داری 'ابو حفص المصری بریگیڈ 'نے قبول کی ۔جبکہ ایک ماہ بعد ۳ اپریل کو سپینش سپیشل پولیس کے کئی اہلکار چند عرب مجاہدین کو گرفتار کرنے کی کوشش میں ایک فدائی حملے میں ہلاک ہوئے ۔
[] ۷ جولائی ۲۰۰۵ کو برطانوی دارلحکومت لندن میں زیر زمین ریل گاڑیوں ، اسٹیشنزاور ایک بس پر ۴ فدائی حملے ہوئے جن میں ۵۶ ہلاکتیں ہوئیں ۔ان حملوں کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی اور حملوں میں شریک فدائین کی ویڈیو وصیتیں السحاب میڈیا کی جانب سے نشر کی گئیں۔
[] اگست ۲۰۰۶ میں برطانوی پولیس نے ۲۵ سے زائد افراد کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا جو لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ سے امریکہ اور کینیڈا جانے والی ۱۰ پروازوں کو دوران پرواز مائع بارودی مواد سے اڑانے کا منصوبہ بنا چکے تھے ۔اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا تو امریکہ اور برطانیہ پربیک وقت گہرے اثرات مرتب ہوتے ۔

[] اس کے علاوہ امریکہ میں مقیم مسلمان شہریوں نے بھی مختلف واقعات میں امریکہ کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار اس طرح کیا کہ اپنی ذاتی پستول یا مشین گن سے امریکیوں کو نشانہ بنایا ۔۲۰۰۷ اور ۲۰۰۸ میں ایسے دومختلف واقعات رونما ہوئے ، جن میں ایک بوسنیائی اور ایک افغان باشندہ نے فائرنگ کر کے متعدد امریکیوں کو ہلاک کر دیا ۔ ٹرالی اسکوائر میں ہونے والی فائرنگ کے واقعہ کی تفصیلات وکی پیڈیا کے درج ذیل لنک پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
http://en.wikipedia.org/wiki/Trolley_Square_shooting
[] ۱۷ ستمبر ۲۰۰۸ کو پانچ فدائی مجاہدین کی ایک جماعت نے یمن کے شہر صنعاء میں واقع امریکی سفارت خانے پر حملے کیا اور سفارت خانے کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی جہاں مجاہدین اور مرتدین کے درمیان ایک خونریز معرکہ ہوا جس میں درجنوں اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے جبکہ پانچوں مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا ۔یہ امریکی سفارت خانے پر ہونے والا اسی سال دوسرا حملہ تھا۔ اس سے چھ ماہ پہلے مارچ ۲۰۰۸ میں مجاہدین نے اس سفارت خانے پر مارٹر برسا کر سے حملہ کیا تھا ۔
[] ۶ نومبر ۲۰۰۹ کو میجر حسن نضال فک اللہ اسرہ نے امریکی بیس فورٹ ہڈ میں افغانستان روانگی کے لیے تیار امریکی فوجیوں پر دوران تربیت دو مشین گنوں سے فائرنگ کر دی جس سے ۱۳ فوجی ہلاک اور ۳۱ زخمی ہو گئے ۔یہ نائن الیون کے بعد امریکی سرزمین پر لگنے والا سب سے گہرا گھاؤتھا ۔ میجر حسن نضال کےمشہور یمنی مجاہد عالم دین شیخ انوار العولقی سے روابط تھے ۔جس کے بعد امریکہ نے شیخ انوار کے سر کی قیمت مقرر کر دی ۔اور انہیں شہید کرنے کے لیےجنوری ۲۰۱۰ میں یمن کے قبائل میں ڈرون طیاروں سے میزائل برسائے ۔
[] ۲۰۰۹ میں عین کرسمس کے موقع پر ایمسٹرڈیم سے امریکی شہر ڈیٹرائیٹ جانے والی ایک پرواز سے ایک نائیجیرین مجاہد عمر فاروق المطلب کو گرفتار کیا گیا ۔جنہوں نے جہاز کو بارود سے اڑانے کی کوشش کی تھی ۔لیکن بارود کا کیمیکل ناقص ہونے کے سبب دھماکہ صحیح طرح نہ ہوسکا اور یہ کارروائی کامیاب نہ ہوسکی ۔لیکن اس نے گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے ۔یاد رہے کہ ایسے بارود فدائی مجاہد عموماً خود گھروں میں خفیہ تیار کرتے ہیں جس میں بارود ناقص ہونے کا امکان بہت ہوتاہے ۔
[] ۲ مئی ۲۰۱۰ کو امریکی شہر نیویارک کےمعروف ترین علاقے ٹائم اسکوائر میں ایک مشکوک گاڑی دیکھے جانے کے بعد پولیس نے علاقے کو فوراً خالی کروا کر گاڑی کی تلاشی لی تو اس سے بھاری مقدار میں بارود برآمد ہوا جو پھٹنے کے قریب تھا ۔اگر وہ پھٹ جاتا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیر دیتا ۔چند روز بعد ایک پاکستانی امریکی شہری فیصل شہزاد کو گرفتار کیا گیا جس نے اس کارروائی کو انجام دینے کی کوشش کی تھی ۔بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان نے فیصل شہزاد کی ویڈیو بھی جاری کی جو انگریزی میں کہہ رہے تھے کہ " میں ٹائم اسکوائر کا حملہ مظلوم مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے کر رہا ہوں ، جہاد اسلام کا نمایاں رکن ہے اور جہاد ہی کے ذریعے مسلمانوں کو عزت مل سکتی ہے اور افغانستان کے جہاد نےمسلمانوں کو عزت کا یہ راستہ دکھایا ہے "

ان حملوں اور ان کوششوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ کو ان کی سرزمین پر نشانہ بنانا آج بھی مجاہدین کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ اگرچہ بعض حملے بوجوہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکے لیکن اس تفصیل سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ مجاہدین کے پاس اب بھی دشمن کو اس کے گھر اور گھر کے باہر نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے اور مجاہدین مستقل اس کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ اگر اللہ کی نصرت ساتھ ہو تو امریکہ پر آج بھی ۹/۱۱ جیسے یا اس سے بھی تباہ کن حملے ہو سکتے ہیں۔


۳ - ] کفر اور اسلام کی تقسیم
گیارہ ستمبر کے حملوں کے فوراً بعد بش نے جو تقریر کی اس میں پوری دنیا اور بالخصوص عالم اسلام کو مخاطب کر کے کہا کہ اب ہر کوئی اپنے بارے میں فیصلہ کرلے آیا وہ " ہمارے ساتھ ہے " یا "دہشت گردوں کے ساتھ"۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وہ عالم کفر کا ساتھ دے گا یا مجاہدین اسلام کا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ منافقین جوعرصے سے اپنے دل میں کفر چھپائے بیٹھے تھے اور دین اسلام سے زیادہ دنیا کی زندگی کو پسند کرتے تھے ان کا نفاق ظاہر ہوگیا ۔چنانچہ گیارہ ستمبر کے بعد دنیا واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور اس تقسیم نے مسلم معاشروں میں حکمران طبقوں اور افواج کے کفر اور ارتداد کو واضح کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ مجاہدین کے حلقوں میں گیارہ ستمبر کو "یوم تفریق " کا نام دیا جانے لگا۔
مسند احمد ، مستدرک حاکم اور ابی داود میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث بیان ہوئی جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

"۔۔۔۔۔لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں گے ، ایک خیمہ ایمان والوں کا جس میں بالکل نفاق نہیں ہوگا
اور دوسرا خیمہ نفاق والوں کا جس میں ذرہ برابر ایمان نہیں ہوگا ، جب یہ تقسیم ہو جائے تو بس دجال کا انتظار کرنا کہ آج آئے یا کل آئے "

اس معرکہ کے بعد حکمرانوں نے برملا کفریہ افعال کا ارتکاب کیا ۔نام نہاد مسلم افواج نے کفار کے اشاروں پر مسلمانوں کا قتل عام کر کے کھل کھلا دین سے ارتداد اختیار کیا ۔ان مرتد افواج نے اس دس سالہ جنگ میں جو کارنامے انجام دیے اس نے انہیں زرپرستی ، وطن پرستی اور نفس پرستی میں کمال درجہ پر پہنچا دیا ۔ شریعت کی مخالفت میں یہ سب ایک ہوگئے اور ان سب کی گندگی اور غلاظت ابل کر باہر آگئی ۔جبکہ دوسری طرف اسلام سے سچی محبت کرنے والوں نے مجاہدین اسلام کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ۔ اور اللہ کی رضا کے طالب ، جنت کے خریدار ،اسلام اور اہل اسلام کے لیے قربانیاں دینے والے مجاہدین اوروں سے ممیز ہوگئے اور جانیں بچا کر رکھنے والے ان سے الگ ہو گئے یہاں تک کہ مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ کون ان میں سے ہے اور کون غیروں میں سے ہے ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کفر و اسلام کے درمیان یہ خط اسی معرکہ گیارہ ستمبر نے کھینچا تھا اور صرف چند برسوں میں ہمیں دوست اور دشمن کی پہچان کروا دی ورنہ یہ پہچان شائد مسلمانوں میں پیدا نہ ہو سکتی ۔

مَّا كَانَ اللّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ فَآمِنُواْ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
[آل عمران : ۱۷۹]
الله مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر اب تم ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے اورالله کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے لیکن الله اپنے رسولوں میں جسے چاہے چن لیتا ہے سو تم الله اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

فائدہ:
یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جماعت کو اس حال میں دیکھنا پسند نہیں کرتے کہ ان کے درمیان سچے اہل ایمان اور منافق خلط ملط رہیں۔مومن اور منافق میں تمیز کرنے کے لیے اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ غیب سے مسلمانوں کو دلوں کا حال بتا دے کہ فلاں مومن ہے اور فلاں منافق ، بلکہ اللہ کے حکم سے امتحان کے ایسے مواقع پیش آتے ہیں جن کے تجربے سے مومن اور منافق کا حال کھل جاتا ہے ۔

۴ - ] عالمی کفر کے مقابلے پر عالمی جہادی بیداری کی تحریک
مجاہدین نے ان حملوں سے پہلے خصوصا عرب دنیا میں مسلمانوں کے اندر خفیہ رائے شماری کروائی تھی تاکہ مخلص مسلمانوں میں جہادی بیداری کے آثار کا اندازہ لگایا جائے اور کسی مناسب موقعہ تک اس کارروائی کو ملتوی کیا جائے ۔الحمدللہ اس اعتبار سے گیارہ ستمبر کے حملے کے نتائج مجاہدین کی توقع کے عین مطابق تھے ۔ ان حملوں نے امت پر یہ واضح کردیا کہ کفر کے غلبے سے نجات اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کا نفاذ صرف جہاد فی سبیل اللہ ہی کے ذریعے ممکن ہے اور یہی رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ۔اس کے علاوہ تمام وہ طریقے جنہیں "پر امن جمہوری جدو جہد " کا نام دیا جائے یا بغیر جہاد کے دعوت و تبلیغ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔ اس حملہ نے مسلمانوں کو "جہاد فی سبیل اللہ " کی دین میں اہمیت اوراس کا مقام یاد دلا دیا ۔

یہ ان حملوں ہی کی برکات تھیں کہ اس کے بعد ہزار ہا نوجوان قافلہ جہاد میں شامل ہوئے ۔ کفر کے عالمگیر تسلط اور سخت ترین رکاوٹوں اور حالات کی ناموافقت کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں مجاہدین کا تیار ہونا اور ہزاروں شہادتوں اور ہزاروں گرفتاریوں کے بعد بھی مستقل شریک جہاد رہنا ایک انتہائی حیرت انگیز امر ہے جو اللہ کی نصرت کی واضح دلیل ہے ۔ اگر چہ یہ تعداد اب بھی عددی اعتبار سے عالمی کفر کے مقابلے میں کچھ نہیں، لیکن ان مجاہدین کی پیش قدمی دیکھ کر مخلص مسلمانوں کو یقین ہوتا جا رہا ہے کہ صدیوں کی غلامی اور طاغوتی طاقتوں کے پنجے سے رہائی صرف جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ مسلمان دیکھ چکے ہیں کہ کفار کی عددی برتری ، ان کا اسلحہ اور ٹیکنالوجی ، اور ان کی نام نہاد مادی اور اقتصادی برتری بھی مجاہدین کے بڑھتے قدم نہیں روک سکی ہے۔عالمی منظرنامہ پر اس صورتحال کو ہم "عالمی جہادی تحریک "یا "عالمی جہادی بیداری" کا عنوان دیتے ہیں۔ آج تقریباً ہر اسلامی خطے میں عالمی جہادی تحریک کے اثرات نظر آتے ہیں جبکہ بعض خطوں میں یہ تحریکیں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہیں اور بعض مقامات پر امارت اسلامیہ کی ابتدائی بنیادیں بھی رکھی جاچکی ہیں ۔ اور اللہ ہی کے لیے ہیں تمام تعریفیں ۔۔۔۔۔۔

۵ - ] جہاد کے شرعی مقاصد کی تکمیل
ان حملوں کے منصوبہ ساز مجاہدین یہ مقصد خاص بھی رکھتے تھے کہ وہ جہادی تحریکیں جو طاغوت کے زیر سایہ قتال کر رہی ہیں اور اس وقت تک کسی سرزمین جہاد پر قتال کے لیے تیار اور آمادہ نہیں ہوتیں جب تک کہ انہیں طاغوتی آلہ کاروں کی پشت پناہی یا اجازت حاصل نہ ہو ان کی غلطی کو واضح کیا جائے ۔ اسی طرح تمام عالم اسلام میں ایسے مجاہدین کو یہ سمجھایا جائے کہ وطنی عصبیت کی بنیاد پر اور طاغوت کے حواریوں کے زیر سایہ کیا جانے والا قتال اسلام اور مسلمانوں کے کسی کام کانہیں ۔ اور جہاد فی سبیل اللہ صرف وہی ہے جو خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اور دین اسلام کے غلبے کے لیے کیا جائے ۔ ان کی اس دعوت و فکر کو دیکھ کر طاغوت کے پجاریوں نے عالمی جہادی تحریک کو اغوا کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان موحد مجاہدین کو ان کی سازشوں سے محفوظ رکھا ۔ بلکہ اس ربانی دعوت کا اثر یہ نکلا کہ بہت سے نوجوانوں نے اُن کے زیر سایہ چلنے والی جہادی تحریکیوں سے اپنا دامن چھڑا کر عالمی جہاد میں شمولیت اختیار کر لی۔
چنانچہ اس کے بعد جہاد کے مقاصد یعنی "اعلائے کلمۃ اللہ "اور "خلافت علیٰ منہاج النبوۃ "کے قیام کے موضوعات علمی مباحث کے عنوانات بن گئےاور لاکھوں مسلمانوں پر ان کے قیام کا نبوی منہج واضح ہوگیا ۔مجاہدین ان حملوں سے پہلے ان موضوعات پر کلام کرتے آئے ہیں لیکن یہ مباحث اتنے بڑے پیمانے پر امت کے درمیان جگہ نہ بنا سکے تھے۔ ان حملوں کے بعد جب دنیا کفر و اسلام کے دو پاٹوں میں بٹ گئی اور منافقین نے کھلم کھلا کفر کا ساتھ دینا شروع کیا تو جہاد کے شرعی مقاصد کو سمجھنا مخلص اہل ایمان کے لیے آسان ہو گیا ۔

۶ - ] ۱۱ ستمبر کے مبارک حملوں کے بعد اسلام کی بے پناہ مقبولیت

گیارہ ستمبر کے مبارک حملوں نے امریکہ میں جو تباہی مچائی اس نے امریکیوں کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور غصہ بھر دیا ۔لیکن سبحان اللہ یہی وہ گھڑی تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دل اسلام کے لیے کھول دیے ۔ لاکھوں امریکیوں کے اندر اسلام اور اہل اسلام کے متعلق حقیقت جاننے کے لیے تحقیقی رجحان پیدا ہوا ۔ قرآن مجید کےانگریزی تراجم کو گیارہ ستمبر کے بعد سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں سر فہرست شمار کیا گیا ۔لوگوں نے تحقیق ذہن کے ساتھ اسلام اور قرآن مجید کا مطالعہ کیا جس کے بعد ایک محتاط اندازے کے مطابق سال ۲۰۰۱ کے آخری تین ماہ یعنی اکتوبر ، نومبر اور دسمبر میں چونتیس ہزار ۳۴،۰۰۰ امریکیوں نے اسلام قبول کیا ۔یہ کسی ایک سال میں امریکہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد تھی جس کی مثال اس سے پہلے کی تاریخ میں کبھی نہیں ملتی ۔سال ۲۰۰۱ کے بعد بھی امریکہ اور یورپ میں اسلام قبول کرنے والوں کی سالانہ تعداد گیارہ ستمبر کے مبارک معرکوں سے پہلے کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے ۔

اس حوالے سے بعض مفید معلومات درج ذیل لنک میں پڑھی جا سکتی ہیں:
http://www.riseofislam.com/islam_in_america_02.html

اگر آپ گوگل پر گیارہ ستمبر کے بعد اسلام لانے والے نومسلموں کے واقعات اور انٹرویو تلاش کریں تو معلوم ہو گا کہ امریکہ میں نومسلموں کی اکثریت اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہے کہ انہیں اسلام کی ہدایت معرکہ گیارہ ستمبر کے بعد ملی ہے ۔
اینجیلا کولنس ، جو حملے کے وقت فوکس نیوز کی رپورٹر تھیں کہتی ہیں کہ :"میرے خاندان کے بہت سے لوگ اس حملے میں مارے گئے ۔لیکن میرا دل اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ۔کیونکہ حملے کے بعد میں نے اسلام کا مطالعہ یہ سوچ کر شروع کیا تاکہ جان سکوں کہ میڈیا میں پیش کیے جانے والے اسلام اور حقیقی اسلام میں کیا فرق ہے ؟اس مطالعہ کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میں پوری زندگی سچ کی تلاش میں بھٹکتی رہی ہوں،اور جس سچ کی مجھے پیاس تھی وہ مجھے مل گیا ہے ۔اسلام کی ہدایت نے میری پیاسی روح تک کو سیراب کر دیا ۔"
http://www.turntoislam.com/forum/showthread.php?t=1947

ایرن نکولس کہتے ہیں کہ "اس وقت میری عمر صرف ۱۷ سال تھی اور اسلام کے خلاف نفرت اور تشدد کی جو لہر نائن الیون سے میرے دل میں پیدا ہوئی اس نے مجھے مجبور کیا کہ میں اسلام کا مطالعہ کروں ۔اور اس مطالعہ کے بعد میں اسلام لانے پرمجبور ہو گیا "
http://canadianmuhaajir.wordpress.com/2007/08/04/convert-finds-peace-in-islam-after-911/

امریکہ میں مختلف مساجد کی ائمہ کہتے ہیں کہ ۱۱ ستمبر کے بعد امریکی اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے جوق در جوق مسجدوں کا رخ کرتے اور ہم سے ملاقاتیں کرتے رہے ۔بعض اوقات لوگوں کی تعداد اتنی بڑھ جاتی کہ ہمیں بڑی بڑی کانفرنسیں بھی منعقد کرنی پڑتیں ۔


ان اعداد و شمار اور دلائل کو دیکھنے کے بعد ہمیں اپنے اس سوال کا جواب واضح طور پر مل جاتا ہے کہ ان معرکوں کا فائدہ اسلام کو ہوا یا کفر کو؟

اہل ایمان کا دو ٹوک موقف یہ ہے کہ گیارہ ستمبر کا معرکہ اسلام اور اہل اسلام کے حق میں نہایت مبارک اور ایمان و اسلام میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔ اور اس کا انکار علمی و عقلی شہادت کی بنیاد پر ممکن نہیں ۔

لیکن یہ دنیا ایسے لوگوں سے بھری ہوئی ہے جن کا مطمع نظر دنیاوی خواہشات اور منفعت کا حصول ہے ۔ جس نے ان کا نور بصارت سلب کر لیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نفع و نقصان محض دنیا کا نفع و نقصان ہے اس لیے اس سوال کا صحیح جواب وہ کبھی نہ پاسکیں گے ۔
سوائے وہ جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہدایت دینا چاہیں ۔


مَن يَهْدِ اللّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي وَمَن يُضْلِلْ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ 7:178

جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

مَن يُضْلِلِ اللّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ 7:186

جس کو اللہ گمراہ کر دے اُسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ، اور اللہ اِنہیں چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی ہی میں بھٹکتے پھریں

[ جاری ہے ]