Subscribe:

Saturday, September 11, 2010

معرکہ گیارہ ستمبر اہداف و مقاصد


: حصہ اول :
معرکہ گیارہ ستمبر اہداف و مقاصد

اسلام کا اصل تصادم مغربی تہذیب سے ہے
امت مسلمہ کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ گذشتہ کئی صدیوں میں اسلام کا اصل مقابلہ اپنی مد مقابل مغربی تہذیب سے رہا ہے ۔مغرب اور اہل مغرب نے اسلام اور اہل اسلام پر ایک ہمہ جہتی یلغار کر رکھی ہے ۔ تقریباً پانچ سو سال سے علمی ، ثقافتی ، سیاسی ، عسکری ، اقتصادی غرض ہر شعبہ میں مغربی تہذیب کا اہل اسلام سے تصادم رہا اورمجموعی طور پر مسلمانوں کی کمزوریوں اور غفلت کے سبب مغرب کو اہل اسلام پر غلبہ حاصل رہا ۔ مغرب کے ہمہ گیر تسلط کو دیکھ کر مسلمان ان سے اتنے مرعوب ہوتے چلے گئے کہ یہ سوچنا بھی جرم تصور ہونے لگا کہ کسی میدان میں ان سے مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب کو اہل اسلام پر سیاسی غلبہ پانا آسان ہوگیا تھا اور مسلمان کہیں بھی ان کے مقابلے میں اپنی سیاسی اور معاشی آزادی برقرار نہ رکھ سکے ۔ اسکے بعد جہاں مسلمانوں کو بظاہر سیاسی آزادی حاصل بھی ہوئی تو وہ ذہنی اور اخلاقی طور پر مغرب کے غلام ہی رہے ۔ جہاں سیاسی یا ذہنی غلامی سے کام نہ چلتا وہاں مغرب نے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام بھی جاری رکھا ۔ اس مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب کے تصادم ، اور مسلمانوں پر مغرب کی غلامی کے اسباب بیان کرنے کے لیے ایک زخیم کتاب کی وسعت درکار ہے ۔میں نے یہ تذکرہ تمہید کے طور پر کیا ہے تاکہ معرکہ ۱۱ ستمبر کے اسباب اور اس کے اہداف و مقاصد کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے ۔
مغربی تہذیب امریکہ کے سہارے پرقائم ہے
دوسری طرف ماوراء النہر اور وسط ایشیائی ریاستوں پر' عظیم سوویت یونین' کی پروردہ کمیونسٹ حکومتیں مسلط تھیں ، جو امریکہ کے بعد دوسری عظیم طاقت تصور کی جاتی رہی تھی ۔۱۹۸۸ میں جہاد افغانستان کے خاتمہ پر جہاں عظیم سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا اور وہ سمٹ کر روس رہ گیا وہیں افغانستان کے حالات میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور یہ تبدیلیاں عالمی منظر نامے پر بھی اثرات مرتب کرتی رہیں ۔ یہاں تک کہ جب طالبان کی قیادت میں امارت اسلامیہ وجود میں آئی تو 'جدید مغربی تہذیب ' یعنی 'عالمی کفریہ نظام ' کو پہلی مرتبہ سنگین خطرات کا احساس ہوا اور اس نے کھل کر امارت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی شروع کردی ۔ یہ حقیقت یاد رہے کہ موجودہ عالمی کفریہ نظام اور اسلام کے مقابل مغربی تہذیب دنیا بھر میں امریکہ کے سہارے کھڑی ہوئی ہے ۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ جہاں بھی مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی امریکہ کی سرپرستی اس میں شامل رہی ہے۔امریکہ کو مجاہدین سے خطرہ اسی لیے لاحق ہوا تھا کیونکہ اس دوران فلپین ، ملایا ، کشمیر ، بوسنیا ، شیشان ، فلسطین ، عراق ، صومالیہ ، الجزائر ، سوڈان ، مصر ، انڈونیشیا سمیت دیگر بہت سے اسلامی خطوں میں مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت گری بپا کی جاچکی تھی اور اس تمام ظلم و ستم کے پیچھے امریکہ کا بلاواسطہ یا بالواسطہ ہاتھ ضرور ہوتا ۔ لیکن اس ظلم و بربریت کا سامنے امت پر خوف اور مایوسی کی ایسی فضا طاری تھی کہ عام مسلمانوں میں ان مظالم کا جواب دینے کی ہمت اور جرات نہ تھی۔
امریکہ کے خلاف اعلان جہاد [۱۹۹۶]
چنانچہ مجاہد قائد شیخ اسامہ بن لادن حفظہ اللہ نے ۱۹۹۶ میں امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان نشر کیا ۔اس اعلان میں واضح کیا گیا تھا کہ امریکہ کے خلاف جہاد پوری امت مسلمہ پر فرض عین ہو چکا ہے ۔اس اعلان میں شیخ اسامہ نے امریکہ کو خبردار کیا کہ سرزمین مقدس حجاز سے اپنی فوجوں کو نکال لے ورنہ اس کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا ۔ اس کے دو سال بعد ۱۹۹۸ میں آپ کی جانب سے ایک اور اعلان جاری کیا گیا جس میں امریکہ کو اسرائیل کی پشت پناہی سے باز آنے اور فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام سے باز رہنے کی پیش کش کی گئی تھی ۔ اس بیان میں بھی شیخ اسامہ نے مسلمانوں کو امریکہ کے خلاف جہاد پر ابھارا اور اس کی فرضیت اور اہمیت یاد دلائی ۔ ان دونوں بیانات کے بعد بھی شیخ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف سے جہاد کے لیے گھروں سے نکلنے کی دعوت مسلسل جاری رہی ۔ آپ کے ۱۹۹۶ سے ۲۰۰۰ تک کے اُن خطبات کو اکٹھا کیا جائے جو رکارڈ پر موجود ہیں تو معلوم ہو گا کہ شیخ اسامہ نے امریکہ کے خلاف جہاد کی دو بنیادی وجوہات بیان کیں ایک یہ کہ دنیا بھر میں اور خصوصا فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام میں امریکہ کی سر پرستی براہ راست شامل ہے اور دوسری یہ کہ مقدس سرزمین حجاز میں امریکی فوجی اڈوں کا مستقل قیام عمل میں لایا جاچکا ہے ۔ جوصریحاً شریعت کے اس حکم کے خلاف ہے جس میں جزیرۃ العرب میں دین اسلام کے پیروکاروں کے سوا کسی دوسرے دین کے ماننے والوں کا مستقل قیام ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ اس حکم کی اہمیت ایک یہ بھی ہے کہ یہ حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں تاکیداً ارشاد فرمایا تھا ۔ کجا یہ کہ پوری فوجی شان و شوکت کے ساتھ اسلام کی دشمن سپاہ کو اڈے فراہم کر دیے جائیں ۔ شیخ اسامہ کی اس درد انگیز صدا نے بہت سے نوجوانوں میں قربانی اور مزاحمت کی نئی روح پھونک دی اور ان کے دلوں میں شہادت کی تڑپ پیدا کر دی۔ شیخ اسامہ نے اپنے ان خطبات میں امت کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ مبذول کروائی اورمسلمانوں کو امریکہ اور مغرب کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی ابتدا کرنے کی دعوت دی ۔مقدس مقامات کے دفاع کے حوالے سے شیخ اسامہ نے فرمایا :" آخر کب تک مسلمان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نصرت اور اس کے گھر کے دفاع سے غافل ہو کر بیٹھے رہیں گے ؟ دنیا بھر کے اہل ایمان آخر کب اٹھیں گے ؟ ۔۔۔ کب صلیبی و صہیونی فسادیوں کی نجاست سے اس مقدس زمین کو پاک کریں گے ؟ یہ تو اللہ رب العالمین کا حکم ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـذَا ۔۔۔۔ [التوبہ ۲۸] ' اے ایمان والو ، مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں ، پس وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں '۔ اور کیا مسلمان بھول گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں ایسا ہی حکم صادر فرمایا تھا ۔ایک حدیث میں مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :' ہائے جمعرات کا دن ، ہائے افسوس جمعرات کا دن ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اتنا روئے کہ آپ کے آنسوؤں سے کنکریاں تر ہو گئی ، آپ نے فرمایا کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تھی اور اس عالم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ وصیت فرمائی 'اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب ۔ ' مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دو ' [بخاری : کتاب الجہاد و السیر] ۔قیامت کے دن جب ان احکامات کے بارے میں پوچھا جائے گا تو ہم کیا جواب دیں گے ؟ یوم حساب میں اللہ کا سامنا کرنے کے لیے ہم نے کیا تیاری کی ہے ؟ کیا ہم یہ بہانا بنائیں گے کہ ہم مستضعفین تھے ؟ ۔۔۔ بے بس تھے ؟ اللہ تو ہمارے دلوں تک کے احوال سے باخبر ہے ۔ پس یہ امت آج تباہی اور بربادی کی تاریک اور گہری کھائی کے کنارے کھڑی ہے "
اسی طرح شیخ اسامہ نے ایک اور مقام پر جہاد کی طرف بلاتے ہوئے فرمایا:
" یہ ذلت جو آج ہم پر مسلط ہے اور کفر جو بلاد اسلامیہ پر قبضہ کر کے ہر سمت اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے اس کی گرفت توڑنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے سوائے جہاد کے ، گولیوں کے ، اور شہیدی حملوں کے ۔۔۔ان کے بغیر ذلت کی جڑیں نہیں اکھیڑی جاسکتیں ۔غیرت مند لوگ کبھی ظالم نافرمان کے لیے قیادت نہیں چھوڑا کرتے ، اور خون بہائے بغیر پیشانیوں سے ذلت کے داغ نہیں مٹائے جاسکتے "
اس بارے میں عالم اسلام کے چند نامور علماء نے کلمہ حق بلند کرنا فرض سمجھ کر جہاد کی فرضیت پر فتاویٰ جاری کیے جن سے شیخ اسامہ کی دعوت کو بہت فائدہ پہنچا ۔ان نامور علماء میں سے جزیرۃ العرب سے تعلق رکھنے والے عالم ربانی شیخ حمود بن عقلاء الشعیبی رحمہ اللہ ، شیخ عبد اللہ بن جبرین ، شیخ سلمان العلوان ، شیخ حسن ایوب ، شیخ محمد بن محمد ، شیخ سلمان ابو غیث اور شیخ سلمان التنیان حفظہم اللہ شامل ہیں ۔ان علماء سے فتاویٰ لینے کے بعد بہت سے نوجوانوں نے فلک پوش چوٹیوں اور سنگلاخ پہاڑوں کی زمین افغانستان کا رخ کیا اور مجاہدین کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے تاکہ عراق ،افغانستان اور دوسرے مسلم خطوں میں بہنے والے لہو کا بدلہ چکایا جائے ۔
تنظیم القاعدہ کی بنیاد [۱۹۹۸]
ادھر امارت اسلامیہ کے سائے میں افغانستان کی زمین ، سرزمین ہجرت اور مرکز جہاد میں تبدیل ہو چکی تھی ، اس سرزمین نے اپنی طرف لپک کر آنے والے فرزندان توحید کا آگے بڑھ کر استقبال کیا۔ ان کے لیے تربیتی مراکز کھولے اور معسکرات قائم ہونے لگے اور امارت اسلامیہ نے ان کی ہر طرح حفاظت کی تاکہ یہ دشمن کے خلاف کھل کر تیاری کر سکیں ۔یہاں مجاہدین نے امریکہ اور اہل مغرب کے خلاف جنگ کی حکمت عملی تیار کی ۔ فیصلہ کیا گیا کہ عالمی کفر کا مقابلہ عالمی جہاد سے ہی ممکن ہے چنانچہ عالمگیر جنگ کے خلاف عالمی جہادی تحریک کا آغاز کرنے کے لیے دو بڑی جہادی جماعتوں میں اتحاد عمل میں لایا گیا ۔اس وقت تک افغانستان میں دنیا بھر سے مجاہدین کی ایک قابل ذکر تعداد اکٹھی ہوچکی تھی چنانچہ دو بڑی جہادی تحریکوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی بنیاد رکھی گئی ۔علماء اور قائدین کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں تنظیم القاعدہ اور جماعت الجہاد کی وحدت ۱۹۹۸ میں خوست کے مقام پر ہوئی اور "عالمی اتحاد برائے قتال یہود و نصاریٰ " کا قیام عمل میں لایا گیا۔ نئی جماعت کا نام "تنظیم قاعدۃ الجہاد" رکھا گیا اور اس کی امارت کی ذمہ داری شیخ اسامہ بن لادن حفظہ اللہ پر ڈال دی گئی ۔ دراصل مجاہدین کویہ یقین ہو گیاتھا کہ دنیا پر امریکہ کے یک قطبی تسلط کے خاتمے کے لیے مجاہدین کو بھی اپنی صفوں میں وحدت پیدا کرنی ہوگی ۔ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللہ نے اس اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا :"عالمی اتحاد برائے قتال یہود و نصاریٰ کا قیام ہی مجاہدین کے خلاف کفار کی عالم گیر یلغار کا درست جواب تھا ۔کیونکہ مجاہدین کے خلاف یہ جنگ محض چند علاقوں تک محدود نہ رہی تھی بلکہ اب تو یہ ایک عالم گیر معرکہ بن گیا تھا جس کے ایک طرف مجاہدین تھے تو دوسری جانب ان کے بالمقابل امریکہ ، اسرائیل اور مسلمانوں پر مسلط کٹھ پتلی حکمرانوں کا اتحاد تھا ۔چنانچہ مقابلے کی حکمت عملی تبدیل کرنا بھی ناگزیر ہوچکا تھا اور 'عالمی اتحاد برائے قتال یہود و نصاریٰ کا' قیام ہی ہماری نئی حکمت عملی تھی"۔
الحمدللہ القاعدہ نے یہ حکمت عملی آج بھی جاری رکھی ہوئی ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض اسلامی خطوں میں مزاحمتی تحریکیں اب اسی نام کے ساتھ مصروف جہاد ہیں ۔اورجہاں دیگر تحریکیں بھی موجود ہیں وہاں شوری ٰ اتحاد مجاہدین کے نام سے وحدت عمل میں لائی گئی ہے ۔ اس پر تفصیلی بحث انشاءاللہ آئندہ کسی وقت کےلیے ادھار چھوڑتا ہوں۔
افریقہ اور جزیرۃ العرب میں واقع امریکی اڈوں پر حملے [۱۹۹۸ ]
امریکہ خوب اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ یہ ستم رسیدہ قوم ہر قسم کے احساس و شعور سے عاری ہے ، یہ نہ ہی اس سے قصاص لے گی اور نہ ہی ان مظالم کا جواب دے سکی گی۔لیکن عالمی کفر کو اصل خطرہ اس کے مجاہد بیٹوں سے تھا اور انہیں ختم کرنے کے لیے وہ اپنے پر تول رہا تھا ۔لیکن اسے خود بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ فرزندان توحید اس کے ناپاک ارادوں سے پہلے ہی اس پر کسی بڑے حملے کے قابل ہو جائیں گے ۔امریکہ کو ابتدائی ہزیمت اور نفسیاتی جھٹکے اس وقت لگے جب مجاہدین نے کینیا اور تنزانیہ میں واقع امریکی سفارت خانوں پر جو درپردہ اسرائیلی اور امریکی جاسوسی اداروں کے بڑے مراکز تھے یکے بعد دیگرے حملہ کر کے تباہ کر دیا ۔ اس موقع پر شیخ اسامہ بن لادن حفظہ اللہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
"یہ نوجوان کل تک افغانستان کے کسی ایسے ہی معسکر میں زیر تربیت تھے پس جب اللہ نے ان کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے تو انہوں نے اٹھ کر اس نام نہاد 'سپر طاقت 'کی شوکت و ہیبت کو توڑ ڈالا۔ہمارے لیے یہ بات اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے کہ نیروبی اور دارالسلام میں امریکی سفارت خانوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کتنی تھی ۔بلکہ اصل اہمیت کا حامل تو وہ قوی پیغام ہے جو دھماکوں کی زور دار لہروں نے 'وائٹ ہاوس' اور پوری امریکی قوم تک پہنچایا ہے۔یہ پیغام ہے کہ اہل ایمان اپنے دین کے معاملے میں مزید ذلت برداشت کرنے کے لیے تیارنہیں "
اس کے کچھ عرصے بعد اللہ کی نصرت سے مجاہدین نے یمن میں موجود دنیا کے سب سے طاقت ور بحری بیڑے یو ایس ایس کول کو بھی نشانہ بنایا ، جس نے امریکہ کو شدید نفسیاتی کوفت میں مبتلا کر دیا ۔اسی طرح ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایک عظیم الشان فدائی حملہ ہوا جس میں سینکڑوں فوجی مردار ہوئے اور سفارت خانہ کی عمارت تباہ ہو گئی ۔ ان چار پانچ سالوں میں امریکہ کے خلاف ہونے والے یہ چند بڑے حملے ہیں ۔یہ تمام حملے مادی اعتبار سے زیادہ معنوی اور نفسیاتی اعتبار سے اس کے لیے سنگین تھے ۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اب تک امریکہ اپنی ہی سرزمین پر بڑی ہزیمت سے محفوظ رہا تھا ۔
امریکہ پر ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی :
جو مجاہدین افغانستان میں جمع ہو چکے تھے انہیں امریکہ کے خلاف دعوت جہاد دی گئی تھی چنانچہ انہیں معسکرات میں ایک طویل اور صبر آزما جنگ کے لیے تیار کرنے کی تربیت دی جارہی تھی ۔ ساتھ ساتھ امریکہ پر ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی بھی جاری تھی ۔ تاکہ اس کے ذریعے امریکہ کو معرکوں کے لیے موزوں میدان یعنی افغانستان میں دھکیلا جاسکے اور اس طرح اسے ایک طویل جنگ میں الجھا کر کمزور کر دیا جائے ۔مجاہدین کے پیش نظر یہ بھی تھا کہ نوجوانوں میں جذبہ شہادت بیدار کرنے اور جہاد کے لیے گھروں سے نکالنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ امریکہ کے خلاف میدان جنگ سجایا جائے ورنہ یہ امت سوتی رہے گی اور عالم اسلام پر مغرب کا تسلط ہمیشہ برقرار رہے گا ۔یہ حالات بدلنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ امت میں جہادی بیداری عام ہو جائے ، اور وہ ہر جگہ ظالموں سے بدلہ لینے کے لیے تیار ہو جائیں ۔
خالد شیخ محمد
[اللہ تعالی انہیں جلد رہائی دلائے ] جو ۱۱ ستمبر کے معرکہ کے اصل محرک سمجھے جاتے ہیں ، انہوں نے ایسا ایک منصوبہ عمل ۱۹۹۶ میں پہلی مرتبہ شیخ اسامہ کے سامنے پیش کیا تھا۔ لیکن شیخ اسامہ اس وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ سوڈان سے نئے نئے سرزمین افغانستان دوبارہ منتقل ہوئے تھے ۔اس لیے حالات کی ناموافقت کی وجہ سے اس وقت اس حملے پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا ۔ ۱۹۹۸ میں افریقہ میں ہونے والے دھماکوں کے بعد حالات قدرے بہتر ہوگئے تو دوبارہ منصوبہ بندی شروع ہوئی ۔ امریکی خفیہ اداروں نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے دسمبر ۱۹۹۸ میں صدر بل کلنٹن کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں خدشہ ظاہر کر دیا گیا تھا کہ القاعدہ امریکہ پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہےاورممکنہ صورتوں میں سے امریکی طیاروں کے اغوا کا منصوبہ بھی شامل تھا ۔
خالد شیخ محمد نے ۱۹۹۹ کے اوائل میں شیخ اسامہ حفظہ اللہ اور اس وقت کے عسکری کماندان ابو حفص المصری شہید رحمہ اللہ سے دوبارہ ملاقاتیں کیں ۔ خالد شیخ محمد نے ابتدا میں تجویز دی تھی کہ جیٹ طیاروں کو اغوا کیاجائے اور امریکہ کے نیوکلیر پلانٹس پر حملہ کیا جائے۔ لیکن شیخ اسامہ نے ان کی اس تجویز کو رد کر دیا ، کیونکہ اس کی قابل عمل صورت نظر نہ آتی تھی اور اندازے غلط ہونے پر بہت بڑی تباہی پھیلنے کا خطرہ موجود تھا ۔ اسی طرح بیک وقت ۱۲ جہازوں کو اغوا کرکے اپنے مطالبات منوانے کی تجویز بھی اپنی جگہ نہ بنا سکی ۔ بالآخر چار کمرشل جہازوں کو اغوا کر کے امریکہ کی بعض خصوصی عمارتوں کو ہدف بنانے کی تجویز قبول کر لی گئی ۔
غزوہ نیویارک و واشنگٹن :
اس حملے سے متعلق شرعی فتاویٰ حاصل کرنے کا ابتدائی کام ابو حفص المصری نے مکمل کر کے شیخ اسامہ کے حوالے کیا ۔ جس میں امریکی عمارتوں کو نشانہ بنانے اور اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی ہلاکت کے متعلق شرعی فتاوی شامل تھے ۔ اس کام کے لیے بیس فداکاروں کی تجویز دی گئی تھی جنہوں نے منصوبے کے مطابق ۴ مختلف ہوائی جہازوں کو ایک ہی وقت میں اغوا کرنا تھا اور ۴ مختلف مقررہ اہداف سے ٹکرانا تھا ۔ ہر جہاز میں پانچ شہیدی حملہ آوروں نے شامل ہونا تھا ، جن میں سے ایک ہواباز اور بقیہ چار نے جہاز کے اغوا کیے جانے میں مدد دینی تھی اور اپنے فدائی ہواباز ساتھی کو اتنا موقعہ فراہم کرنا تھا کہ وہ طے شدہ وقت سے پہلے پہلے جہاز کو ہدف سے ٹکرادیں ۔
بیسویں فدائی حملہ آور رمزی بن شیبہ آخری وقت میں اس مجموعے میں شامل نہ ہوسکے لہٰذا کارروائی میں کل انیس فدا کاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا ۔ رمزی نے زیاد الجراح والے مجموعے میں شامل ہونا تھا ، جسے امریکی صدرمقام واشگٹن ڈی سی میں تباہی مچانی تھی لیکن یہ طیارہ ہدف تک نہ پہنچ سکا تھا اور پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہو گیا تھا ۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ مسافروں اور عملے کے یرغمالیوں نے یہ جان کر کہ اس سے پہلے اغوا ہونے والے جہاز عمارتوں سے ٹکرا دیے گئے ہیں اورشہیدی نہتے ہیں اور ان کے پاس صرف پھل یا پیپر کاٹنے والے تیز دھار آلے موجود ہیں ان سے دست بدست لڑائی شروع کردی ہو جس کے نتیجےمیں جہاز کا انتظام واپس جاتا دیکھ کر زیاد الجراح نے جو اس مجموعے کے فدائی ہواباز تھے ، جہاز کو گرا دینا بہتر سمجھا ہو ۔ واللہ اعلم
جن انیس شہیدی مجاہدین نے اس حملے میں حصہ لیا ان میں سے چار شہیدی ہوابازوں کے نام یہ ہیں :
انجنئیر محمد عطاء ، زیاد الجراح، مروان الشحی اور ہانی ہنجور ۔۔ رحمہم اللہ
دیگر پندرہ شہیدی اغوا کارجنہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس عظیم سعادت کے لیے منتخب کیا تھا وہ یہ ہیں :
احمد بن عبداللہ النعمی ، سطام السقامی ، ماجد بن موقد، خالد المحضار ،فائز بن احمد ، سالم الحازمی ، نواف الحازمی ، احمد الحزنوی الغامدی ، حمزہ الغامدی ، عکرمہ احمد الغامدی ، معتز سعید الغامدی ، وائل الشہری ، ولید الشہری ، مھند الشہری ، ابو العباس عبدالعزیز الزہرانی ۔۔ رحمہم اللہ ۔
ان انیس فدائین میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا جبکہ دو ارب امارات ، اور ایک ایک لبنان اور مصر سے تعلق رکھتے تھے ، جبکہ حملے کے ماسٹر مائینڈ خالد شیخ محمد ہیں جو بلوچی پاکستانی ہیں ، لیکن کویت میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں ۔خالد المحضار اور نواف الحازمی ، شیخ اسامہ کے انتہائی قابل بھروسہ اور دیرینہ ساتھیوں میں سے تھے ابتدا میں شیخ اسامہ نے انہیں بھی ہوابازوں میں شامل رکھا تھا لیکن ، اگست ۲۰۰۰ میں سان ڈیاگو میں ابتدائی فضائی تربیت ٹھیک طرح مکمل نہ کرسکنے کی وجہ سے انہیں اغوا کاروں میں شامل کر لیا گیا ۔
اس معرکے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے آپ وکی پیڈیا کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔
http://en.wikipedia.org/wiki/September_11_attacks
شیخ اسامہ ذاتی طور پر منصوبہ کے ہر ہر مرحلے کی نگرانی کرتے رہے ۔ہوابازوں کے مجموعے کی تیاریوں پر نگاہ رکھنے کے لیے آپ حملوں کے منتظم شیخ ابو عبیدہ ، شیخ رمزی بن شیبہ اور لاجسٹک اعانت کے ذمہ دار شیخ ظاہر زکریا الھوساوی سے مسلسل رابطے میں رہتے ۔شیخ اسامہ کی ترغیب پر فدائین کی ایک بڑی فہرست تیار ہو چکی تھی لیکن اس حملے کے لیے کل انیس فداکار منتخب کیے گئے جنہیں شیخ اسامہ نے خود منتخب کیا تھا ۔ یہ شہیدی حملہ آور بلاشبہ آج کی امت کے معمار بن گئے ہیں ۔یہ وہ ابطال ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل کر رکھ دیا ۔جب ساری امت بیٹھ کر کسی خوابی جنت کا نظارہ کر رہی تھی اس وقت یہ معمار امریکہ پر حملے کے پر تول چکے تھے اور تیزی سے اپنے ہدف کی جانب بڑھ رہے تھے ۔جب شکوک و شبہات نے دلوں میں گھر کر لیا تھا اور جہاد کو ناقابل عمل قرار دیا جاچکا تھا یہ ابطال امریکہ کے اندر گھس کر اس پر حملہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔
دیوانے کی بڑ :
۱۹۹۶ میں جب امریکہ کے خلاف اعلان جہاد کیا گیا تو اسباب کے پجاریوں نے اسے دیوانے کی بڑ قرار دیاتھا ۔مجاہدین نے افغانستان کے پہاڑوں میں ٹھکانہ بنا کر جب امریکہ کو ہدف بنانا شروع کیا تھا تو مادی اعتبار سے کوئی قابل ذکر کارروائی عمل میں نہ آسکی تھی اگرچہ معنوی اعتبار سے چند قابل ذکر حملے ہوئے جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ۔ یہ حملے اسے پیغام دے چکے تھے کہ مجاہدین اسلام اس سے فیصلہ کن معرکہ کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔ بالآخر ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو مجاہدین اس کے گھر میں گھس کر اس کی ناک کو خاک آلود کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔گیارہ ستمبر کے مبارک حملے نے دنیا کی واحد سپر پاور کی چولیں ہلا کر رکھ دیں ۔اور مجاہدین دنیا بھر میں ان کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا بدلہ لینے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئے ۔اس حملے نے امریکہ کو عظیم مادی ، اقتصادی ، عسکری اور نفسیاتی شکست سے دوچار کر دیا ۔ اس پر تفصیل انشا ء للہ اگلی تحریر اور بلاگ میں شامل ہے ۔
تیاری کہاں اور کیسے کی گئی :
یہاں ہم اس حملے کی تیاری اور اس میں شرکت کرنے والے مخلص مجاہدین کی کوششوں کا مختصر جائزہ لیں گے ۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے امریکہ کے جاسوسی اور حفاظتی نظام سے متعلق ایک مافوق الفطرت نقشہ کھینچ رکھا تھا ، لیکن یہ مجاہد بھائی اس سےقطعاً مرعوب نہ ہوئے ۔ ان ہوابازوں نے پورے اطمینان اور سکون سے امریکہ کے اندر بیٹھ کر اپنی تیاریاں جاری رکھیں۔امریکہ ہی میں فضائی ہواباز کمپنیوں کے تربیتی مراکز میں داخلہ لیا اور اپنی فضائی تربیت کئی ماہ میں اس طرح پوری کی کہیں بھی منصوبے کی بھنک نہ پڑ سکی ۔ادھر اغواکار وں کی عسکری تربیت قندھار کے معسکرات میں جاری تھی ۔ ان کی تربیت شیخ ابو تراب اردنی نے کی تھی جو ہر قسم کے فنون سپہ گری میں ماہر تھے ۔ ان فدائین کو مارشل آرٹ کے چند مفید گر سکھائے گئے جس میں تیز دھار چاقووں کی مدد سے سیکیورٹی کی دستوں پر قابو پانے کی خصوصی تربیت بھی شامل تھی ۔ اس کے علاوہ انہیں انگریزی زبان میں گفتگو کرنے کا ہنر بھی سکھایا گیا ۔امریکہ میں سفر اور قیام کرنے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کر لیے گئے تھے ۔جب یہ تیاری مکمل ہوگئی تو روانگی سے قبل بیشتر شہداء کی وصیتیں فلم بند کیں گئیں جنہیں القاعدہ کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ 'السحاب ' نے پہلی مرتبہ دو سال بعد ۲۰۰۳ میں پیش کیا ۔
ان شہداء کو کچھ عرصے تک کراچی اور انڈونیشیا میں مغربی طرز زندگی کے مطابق رہنا سکھایا گیا ۔ تاکہ امریکہ میں قیام کے دوران یہ مغربی طرز زندگی کے اندر گھل مل جائیں ۔۲۰۰۶ میں القاعدہ کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ 'السحاب ' کی جانب سے ایک خصوصی دستاویزی فلم '
علم للعمل 'کے نام سے عربی اور انگریزی زبانوں میں جاری کی گئی جس میں پہلی مرتبہ ان تیاریوں کے مناظر کو پیش کیا گیا تھا ۔اس سے پہلے ۲۰۰۳ میں السحاب کی جانب سے ان فدائین کی وصیتوں کی ویڈیوز جاری کی جاچکی تھیں ۔لیکن اس تازہ ویڈیو میں شیخ اسامہ کے اس وقت کے کلمات بھی پیش کیے گئے جو حملے کی تیاریوں کے وقت فلم بند کیے تھے لیکن اب تک پیش نہیں کیے گئے تھے ۔
اگر ہم ان شہیدی جوانوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ ان شہداء کی عظیم فدا کاری اُن جہلاء کے منہ بند کروانے کے لیے کافی ہے جو یہ خرافات پھیلاتے آرہے ہیں کہ شہیدی حملے زندگی سے تنگ ، ناکام اور بے روز گار لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔ تقریباً ان تمام ابطال کو پر تعیش زندگی گزارنے کے سارے اسباب مہیا تھے ، دنیا اپنے سارے دروازے ان پر کھول چکی تھی لیکن انہوں نے دنیا بیچ کر آخرت خریدنے کا فیصلہ کیا ۔آدم یحییٰ غدن عزام امریکی حفظہ اللہ ان بھائیوں کے محاسن بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :"امریکہ پر حملوں میں حصہ لینے والے تمام ہی بھائی بہت پرعزم ، بلند ہمت، دینی حمیت کے جذبے سے سرشار ، اسلام اور اہل اسلام کے غم میں تڑپنے والے تھے ان میں یہ اعلیٰ اوصاف موجود تھے تب ہی تو وہ اس مشکل مہم کے لیے چنے گئے تھے ۔بلاشبہ یہ ایسے لوگ نہ تھے جو ناکام زندگی گزارنے کے بعد کسی راہ فرار کی تلاش میں ہوں ۔ذرا ان ہوابازوں پر ایک نگاہ تو ڈالیے ۔۔۔۔ شہید انجینئر محمد عطاء ، شہید مروان الشحی ، شہید زیاد الجراح اور شہید ہانی ہنجور۔ یہ چاروں شہداء مغربی ممالک میں رہ چکے تھے ۔ انہوں نے وہیں تعلیم حاصل کی تھی ۔ دنیا ان کی پہنچ میں تھی ، اگر یہ اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہتے ۔لیکن ان کا ضمیر کیسے گوارا کر لیتا کہ یہ خود تو دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں جبکہ ان کی امت آگ میں جلتی رہے ۔"
گیارہ ستمبر کا حملہ دفاعی رد عمل تھا
یہ تفصیلات جاننے سے واضح ہوجاتا ہے کہ مجاہدین کا اصل ہدف اسلام کے مدمقابل جدید مغربی تہذیب ہے جس کا سرخیل امریکہ ہے ۔اور اس کو ہدف اس لیے بنایا گیا تاکہ دنیا بھر میں بہنے والے مسلمان لہو کا بدلہ لیا جائے ۔ اور اس کارروائی کے ذریعے امریکہ اور اہل اسلام کے مابین فیصلہ کن جنگ شروع کر دی جائے ۔جو لوگ ان حملوں کو دہشت گردی کے واقعات قرار دیتے ہیں وہ درحقیقت ان اسباب سے صرف نظر کرتے ہیں جنہوں نے دنیا کو ۱۱ستمبر کا دن دکھایا ۔ اس کے حوالے سے تفصیل ان شاء اللہ تیسرے حصے اور بلاگ میں آئے گی یہاں ہم شیخ اسامہ کے چند کلمات پر اکتفا کرتے ہیں جس میں انہوں نے امریکہ کے خلاف اس جہادی اقدام کا جواز فراہم کرتے ہوئے کہا :
" اس حملے کو دہشت گردانہ کہنا کسی طور درست نہیں ۔۔۔۔حقیقت میں یہ ایک مدافعانہ کارروائی تھی ۔۔۔۔۔ہمیں [امریکی سر پرستی میں]عراق ، فلسطین ، شیشان ، فلپین ، صومالیہ اور دنیا کے کونے کونے میں روندا جارہا تھا ، لہذا یہ امت کے نوجوانوں کا امریکہ کے خلاف ایک قابل فہم رد عمل تھا "
ایک اور غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے شیخ اسامہ نے کہا کہ :
"یہ کہنا درست نہیں کہ یہ جنگ امریکہ اور القاعدہ کے مابین ایک جنگ ہے ، در حقیقت یہ جنگ عالمی کفر اور اہل اسلام کے مابین ہے ، ایک طرف امریکہ اور اس کے حواری ہیں جو عالمی کفر کے نگہبان ہیں اور دوسری طرف اسلام کا دفاع کرنے والے مخلص مجاہدین اور ان کے ساتھی ہیں، خواہ وہ کسی قوم ، قبیلے اور جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، اسلام کا دفاع ہم سب کے لیے یکساں طور پر سنگین مسئلہ ہے ، القاعدہ تو محض ایک تنظیم ہے جو مسلمانوں کو اس فریضہ کی ادائگی کے لیے تحریض دلاتی اور اس کی بجاآوری کے لیے ایک اجتماعی پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے "

[ جاری ہے ۔۔۔]

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ