Subscribe:

Saturday, September 11, 2010

گیارہ ستمبر کے نتیجے میں عالم اسلام اور عالمی کفر پر مرتب ہونے والے اثرات

[ ۔۔۔گذشتہ سے پیوستہ]

: حصہ دوم :
گیارہ ستمبر کے نتیجے میں عالم اسلام اور عالمی کفر پر مرتب ہونے والے اثرات


ان مبارک حملوں کا فائدہ اسلام کو ہوا یا کفر کو؟
اس حصے میں ہم جاننے کے کوشش کریں گے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے نتیجے میں عالم اسلام کو کیا کیا فائدے حاصل ہوئے اور امریکہ اور عالمی کفریہ نظام کو اس کے نتیجے میں کیسے کیسے عظیم نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔اس سے پہلے کہ ہم ان سوالات کے جوابات تلاش کریں ضروری ہے کہ ہم نفع اور نقصان کے معیار ات کا تعین کر لیں ۔کیونکہ مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لیے ہر معیار اور کسوٹی کا ماخذ کتاب مبین اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہے
,نہ کہ وہ جسے مغرب مقرر کرے ۔اللہ رب العزت قرآن مجید میں نفع و نقصان کی حقیقت اس طرح بیان کرتے ہیں :

فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ
[آل عمران ۱۸۵]

"جو کوئی دوزخ کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا پس حقیقت میں تو وہی کامیاب ہے
اور دنیا کی زندگی دھوکہ کے سامان کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے "

پس یہ طے ہے کہ مومنین کے لیے نفع اور "فائدہ " وہ ہے جس میں آخرت کی فلاح ہو۔جبکہ کفار کے نزدیک دنیا کی زندگی اور اسکا سازوسامان اور چکا چوند "فائدہ" یا "کامیابی " کا معیار ہے ۔اس کے برعکس دنیوی زندگی کا نقصان کافروں کے لیے "خسارہ "ہے اور مومنین کے لیے خسارہ یا "نقصان " وہ ہے جس میں آخرت برباد ہوتی ہو۔

اہل ایمان اور کفار دونوں کے لیے نفع اور نقصان کی تعریفیں متعین کرنے کے بعد اب ہم آتے ہیں زیر بحث سوال کی جانب یعنی گیارہ ستمبر کے حملوں کا فائدہ کس نے سمیٹا اسلام نے یا کفر نے ؟

مجاہدین کا موقف:

اہل ایمان اور مجاہدین بالخصوص ان مبارک حملوں کو سر انجام دینے والے اور اس کی منصوبہ بندی سے تکمیل تک کے مراحل میں شریک مجاہدین کا اس سوال کے جواب میں نہایت دوٹوک اور غیر مبہم موقف یہ ہے ۔ الحمدللہ یہ حملے مجاہدین اور اہل ایمان کے لیے ،نہایت مبارک ، ایمان میں اضافہ کا سبب اور دینی ، عسکری اور سیاسی اعتبار سے بہت فائدہ مند جبکہ کفار ، بالخصوص امریکہ کے لیے معاشی ، سیاسی ، عسکری اور نفسیاتی حوالے سے سخت نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں ۔اسی طرح یہ حملے عرصہ سے مسلمانوں پر مسلط عالمی کفریہ نظام پر ایک کاری ضرب لگاتے ہوئے حق و باطل کی ایک فیصلہ کن جنگ کا پیش خیمہ بنے ہیں۔اگر اہل ایمان ثابت قدم رہیں اور صبر کا دامن نہ چھوڑیں تو اللہ کی نصرت سے بعید نہیں کہ اس جنگ کا فیصلہ اہل ایمان کے حق میں ہو اور یوں عالمی کفریہ نظام کی تباہی و بربادی کے ذریعے اس سے نجات حاصل ہو جائے اور عالم اسلام کو اسلامی خطوں میں شریعت اسلامی کی بہاریں دیکھنا نصیب ہوجائے ۔ جس کی ہلکی سی جھلک دس برس بعد ظاہر ہو چکی ہے ۔

سرور جو حق و باطل کی کارگاہ میں ہے
تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے

پس یہاں ہم نے مجاہدین کے موقف کے حق میں اعدادوشمار ، اور دیگر دلائل جمع کرنے کی کوشش کی ہے آئیے ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کوشش کو قبول فرمائے اور اسے متلاشیان حق کی راہ نمائی کا وسیلہ بنائے ۔ آمین ۔

امریکہ کو پہنچنے والے مالی نقصانات :

آئیے سب سے پہلے ہم ان مبارک حملوں کے نتیجے میں امریکہ کو براہ راست پہنچنے والے مالی و اقتصادی نقصانات کا جائزہ لیں ، کیونکہ یہ وہ نقصانات ہیں جن کا اعتراف خود امریکی تجزیہ نگار اور حکومتی ادارے کر چکے ہیں :

[ + ] اقتصادی منڈیوں کا خسارہ
نیویارک اسٹاک ایکسچینج اور امریکین اسٹاک ایکسچینج اور ناسڈاک اسٹاک مارکیٹ ۱۱ ستمبر سے لیکر ۱۶ ستمبر تک مکمل طور پر بند رہیں ۔جب یہ اسٹاک مارکیٹیں دوبارہ کھلیں تو اس وقت تک مجموعی طور پر وال سٹریٹ مارکیٹ کے حصص
7.1% فیصد گر چکے تھے ۔ جبکہ مزید ایک ہفتے میں "ڈائوجونز انڈسٹریل ایوریج"(Dow Jones Industrial Average) میں14.3% فیصد کی کمی کے ساتھ 1369پوائنٹس کی کمی واقع ہو چکی تھی ۔ اسٹاک مارکیٹوں میں اس کمی سے صرف پندرہ دنوں میں امریکی معیشت کو ۱۴۰۰ ارب(1.4 trillion) ڈالر کا نقصان پہنچ چکا تھا ۔ خود امریکی معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ اسٹاک مارکیٹ کی ۲۳۰ سالہ تاریخ کا بد ترین خسارہ تھا ۔

[ + ] یومیہ آمدنی کا خسارہ
حملے کے بعد ایک ہفتے تک اس خوفناک تباہی اور خوف کے نتیجے میں کسی امریکی نے کوئی کام نہیں کیا اور تمام تجارتی اور کاروباری مراکز بند رہے بعد میں بھی ان کے کام کرنے کی کارکردگی متاثر رہی ۔ امریکی قوم کی یومیہ آمدنی ۲۰ ارب ڈالر ہے ،اس طرح ان سات دنوں کا نقصان ۱۴۰ ارب ڈالر بنتا ہے

[ + ] تباہ شدہ عمارتوں کا نقصان
عمارتوں کی تعمیر پر مجموعی لاگت تقریباً تیس ارب ڈالر آئی تھی ۔ جبکہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے صفائی اور بحالی کا مجموعی خرچ بھی تیس ارب ڈالر تک پہنچتا ہے ۔ یہ اعداد وشمار وہ ہیں جو نیویارک کے مشیر برائے معاشیات و بحران رینڈل بیل نے اپنی کتاب
“Strateg 360” میں پیش کیے ہیں ۔رینڈل نے عمارتوں کے ان مالی نقصانات کا بھی ذکر کیا ہے جو دفاتر کے کرائوں کی مد میں پہنچا ہے ۔ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں تین کروڑ انیس لاکھ مربع فیٹ کا رقبہ دفاتر کے طور پر استعمال ہو رہا تھا ۔اس کے علاوہ چار جہازوں کی قیمت اور پنٹاگون کی عمارت کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہے ۔

[ + ] ہوابازی کی صنعت اور سیاحت کی صنعت کی تباہی اور بے روزگاری
ان مبارک حملوں کے نتیجے میں خوفزدہ امریکیوں نے فوری طور پر اپنے تمام ہوائی سفر منسوخ کر دیے ، اور اگلے چند ماہ تک امریکی اکثریت نے ہوائی سفر کو متروک رکھا۔ جس کی وجہ سے ائر لائین کی صنعت کو بہت گہرے مالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ صرف اگلے چند ہفتوں میں ائر لائین کمپنیوں کے ایک لاکھ ستر ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ جب کہ ہوائی سفر کو ترک کر دینے کے وجہ سے سیاحت کی صنعت بھی بہت بری طرح متاثر ہوئی اور صرف انٹر کانٹی نانٹل ہوٹل نے اپنے ساٹھ ہزار ملازمین فارغ کر دیے ۔ نیویارک سٹی میں ۴۳۰،۰۰۰ [چار لاکھ تیس ہزار ] لوگ اپنی ملازمتوں سے بر طرف کر دیے گئے ۔اس کے علاوہ دہاڑی پر کام کرنے والے مزدور جن کی مجموعی کمائی تقریباً تین ارب ڈالر روزانہ تھی کسی بھی قسم کی کمائی سے اگلے چند ماہ تک محروم رہے ۔

[ + ] نفسیاتی بیمار
امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیویارک اور واشنگٹن کے مبارک حملوں کے نتیجے میں ۷۰ فیصد امریکی نفسیاتی دباؤ اور دیگر بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔ اگر یہ تعداد صحیح ہے تو صرف ان نفسیاتی مریضوں کے علاج معالجے پر خرچ ہونے والے اخراجات کا صحیح اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں ہے ۔


ان نقصانات کی مزید تفصیل جاننے کے لیے وکی پیڈیا کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں:
http://en.wikipedia.org/wiki/Economic_effects_arising_from_the_September_11_attacks


یہ اعداد و شمار وہ ہیں جو معرکہ کےصرف چند ہفتوں بعد ہی ظاہر ہو گئے تھے ۔اس مبارک معرکہ کےنتیجہ میں امریکہ کو پہنچنے والے مالی نقاصانات نہایت پیچیدہ اور سلسلہ در سلسلہ پھیلے ہوئے ہیں اور ان کا صحیح اندازہ لگانا اتنا آسان کام نہیں ہے ۔پس حمد و شکر کے لائق وہ عظیم و برتر رب ہے جس نے یہ فتح اپنے مومن بندوں پر اتاری ۔ اگر محتاط اندازہ لگایا جائے تو صرف اگلے تین سے چار ماہ میں حاصل ہونے والا خسارہ کسی بھی طرح ۱۸۰۰ ارب ڈالر سے کم نہیں تھا جو پاکستان جیسے ملک کے پچاس سال کے بجٹ سے زیادہ ہے ۔اس طرح اقتصادی اعتبار سے ہی یہ انتہائی کامیاب اور شاندار حملے تھے جنہوں نے کفار پر گہرا زخم لگایا ۔ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ان انیس فدائی بھائیوں پر جنہوں نے اس شاندار معرکہ میں حصہ لیا ، رحمتیں نچھاور کرے اور انہیں زمرہ شہدا میں شامل کرے اور انہیں جنت کے بہترین درجات عطا فرمائے ۔آمین

یاد رہے کہ یہ تمام نقصانات ، اس اقتصادی بحران کے علاوہ ہیں جو عراق و افغانستان میں جاری نو سال کی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی سب سے عظیم طاقت کو ماہ بہ ماہ اور سال بہ سال اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔اگر آپ تحقیقی جستجو رکھتے ہیں تو انٹرنیٹ پر امریکی معیشت کے خسارے کے موضوعات تلاش کیجیے ، اور حیرت سے سر دھنیے ۔وللہ الحمد والمنۃ ۔ان طویل المدتی معاشی اثرات کو بیان کرنے کے لیے علیحدہ کتاب لکھی جاسکتی ہے ، یہاں اجمالاً چند اشاریے آپ کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں تاکہ جو لوگ تحقیق سے گریز کرتے ہوں وہ بھی کلیجوں میں ٹھنڈک اتارنے سے محروم نہ رہیں ۔
[] امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار
GDP کی شرح نمو سال ۲۰۰۰ میں چار فیصد تھی جبکہ ۲۰۰۱ میں وہ کم ہو کر صرف ۱ فیصد تک آ گئی اور پھر ۲۰۰۲ میں ۲ فیصد رہی ۔
[] ۲۰۰۳ میں امریکہ کی قومی آمدنی میں کمی واقع ہوئی جس کا تخمینہ ۵۰۰ ارب ڈالر لگایا گیا تھا ۔
[] اسی طرح امریکی بجٹ نے خسارے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے جو ۲۰۰۲، ۲۰۰۳ اور ۲۰۰۴ میں بالترتیب ۱۵۷ ارب ڈالر، ۳۷۷ ارب ڈالر، اور ۲۵۵ ارب ڈالر رہے جبکہ ۲۰۰۸ کے صرف ابتدائی دس ماہ کے اختتام پر امریکہ بہادر کا خسارہ ۱۲۷۰ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا ۔
[] امریکہ کا قومی قرض جو کہ ۲۰۰۱ میں صرف ۵۷۶۹ ارب ڈالر تھا ، مالی سال ۲۰۰۹-۲۰۱۰ کے اختتام پر ۱۲۸۶۷ ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی معیشت کے تجزیہ نگار بارہا اس حقیقت کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس اقتصادی بحران کا اصل سبب گیارہ ستمبر کے مبارک حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے معاشی اثرات ہیں جنہیں وہ
(Long-Term Economic Effects) کانام دیتے ہیں ۔


دور رس نتائج اور اثرات:

یہ تو تھے امریکہ کو براہ راست پہنچنے والے مادی نقصانات ۔ اب ہم بات کرتے ہیں ان دور رس نتائج اور اثرات پر جو اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہیں ۔

۱ - ] امریکی ہیبت اور طاقت کا رعب زائل ہوگیا
ان انیس فداکاروں نے امریکی جڑواں میناروں پر جو ضرب کاری لگائی اس نے امریکہ کی عسکری طاقت اور ٹیکنالوجی کی ہیبت کاوہ بت گرا دیا جسے دنیا بھر میں پوجا جاتا رہا تھا ۔سچ تو یہ ہے کہ اس قدر خوفناک ضرب کا امریکی قوم نے تصور تک نہ کیا تھا کیونکہ اس سے پہلے تک امریکہ کو ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت کا ایک ناقابل تسخیر دیو سمجھا جاتا تھا ۔پس امت کےان ابطال کا بے سروسامانی کے عالم میں اٹھنا اور اپنے مقابلے کی عظیم طاقت سے ٹکرا جانا اور اسی کی اپنی سر زمین پر اس کو اتنی بڑی زک پہنچانا اس بات کی دلیل تھی کہ کلمہ توحید اور جذبہ جہاد کے سامنے ٹیکنالوجی کی مہارت اور عسکری ہیبت و عظمت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ اس حملے کا نتیجہ یہ نکلا کہ امت کے بے شمار نوجوانوں کے دلوں سے امریکہ اور اس کے حواریوں کی ہیبت اور عسکری طاقت کا خوف زائل ہو گیا ۔یہ خوف اور ہیبت راہ جہاد میں ان کے لیے ایک بہت بڑی رکاوٹ تھی جس کے دور ہونے کے بعد راہ جہاد اختیار کرنا ان کے لیے آسان ہوگیا۔

اور یہ وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے دل و دماغ کی جنگ لڑنے والوں کے ایک گروہ نے اذہان کو منتشر کرنے کے لیے سازشی نظریہ جنم دے کر اس مبارک حملہ کو امریکی یا یہودی سازش قرار دیا تاکہ مجاہدین سے یہ کریڈٹ چھین کر امت کو یہ باور کروایا جائے کہ یہ ساری کارروائی امریکی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔اور اس نظریہ کو فروغ دینے کے لیے جھوٹی جھوٹی کہانیاں گھڑی گئیں ۔ حال یہ ہے کہ قائدین جہاد کے بار بار کے اعترافات کے باوجود نو سال گزر جانے پر بھی اب تک بہت سے اذہان اسی تشکیک میں مبتلا ہیں کہ یہ کارروائی مجاہدین کے بس کی بات نہیں تھی۔ ہم اس بلاگ کے تیسرے حصے میں اس سازشی نظریہ پر ایک تفصیلی بحث کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
اس سازشی نظریہ کا ابطال جہاں مجاہدین کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہیں بہت سے تحقیقی اداروں نے بھی اس کا خوب حق ادا کیا ہے ۔ملاحظہ کیجیے :
http://www.debunking911.com/

۲ - ] امریکہ مجاہدین کے طے شدہ پلان کے مطابق جنگ کی دلدل میں پھنس کر اور غیر محفوظ ہو گیا
یہ اللہ کی نصرت تھی کہ امریکہ نے جنگ کو دشمن کے علاقے میں لڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کا اپنا گھر محفوظ رہے ۔ جبکہ یہ بعینہ وہی رد عمل کا جس کی خواہش مجاہدین کر رہے تھے ۔ شائد امریکی عظمت کے میناروں پر پڑنے والی ضرب کی شدت کا اثر اتنا تھا کہ زخم خوردہ سپر پاور یہ سوچنے ہی سے قاصر ہو گیا کہ اس جنگی کارروائی کے اثرات کیا ہوں گے ؟ اب تک بیس ہزار امریکی فوجی عراق ،افغانستان ، یمن اور صومالیہ میں پھیلی جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں ، جبکہ زخمیوں ، اپاہجوں اور ذہنی مریضوں کا کوئی شمار نہیں۔پہاڑوں اور صحراؤں میں لڑی جانے والی اس جنگ میں امریکہ اب تک ۱۰ کھرب ڈالر جھونک چکا ہے ، جس نے اس کو حالیہ معاشی بحران تک پہنچانے میں اصل کردار ادا کیا ہے ۔اور آج نو سال گزرنے پر بھی اسے اپنی فتح کی کوئی واضح صورت نظر نہیں آتی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جنگ کی تازہ صورتحال خصوصاً افغانستان میں اس کی یقینی شکست کی طرف نشاندہی کر رہی ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو شکست کی ذلت سے بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔دوسری طرف "وار آن ٹیرر "اور "ہوم لینڈ سیکیورٹی" کے خدشات ظاہر کر کے دفاعی بجٹ مختص کرنے کے باوجود یہ سوال پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے کیا جانے لگا ہے کہ کیا ریاست ہائے متحدہ امریکہ مجاہدین کے حملوں سے محفوظ ہو گئی ؟ جبکہ سوال کا جواب یقیناً نفی میں ہے ۔مجاہدین کی جانب سے امریکہ اور اس کے حواریوں پر ہونے والے حملے اور حملوں کی متعدد کوششیں کرنا اس کا واضح اور بین ثبوت ہیں ۔آئیے ایسے بعض حملوں پر نظر ڈالتےچلیں :
[] ۱۱ مارچ ۲۰۰۴ کو سپین کے شہر میڈرڈ میں ریل گاڑیوں میں ہونے والے بم دھماکوںمیں ۱۹۱ افراد ہلاک ہوئے ۔جس کی ذمہ داری 'ابو حفص المصری بریگیڈ 'نے قبول کی ۔جبکہ ایک ماہ بعد ۳ اپریل کو سپینش سپیشل پولیس کے کئی اہلکار چند عرب مجاہدین کو گرفتار کرنے کی کوشش میں ایک فدائی حملے میں ہلاک ہوئے ۔
[] ۷ جولائی ۲۰۰۵ کو برطانوی دارلحکومت لندن میں زیر زمین ریل گاڑیوں ، اسٹیشنزاور ایک بس پر ۴ فدائی حملے ہوئے جن میں ۵۶ ہلاکتیں ہوئیں ۔ان حملوں کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی اور حملوں میں شریک فدائین کی ویڈیو وصیتیں السحاب میڈیا کی جانب سے نشر کی گئیں۔
[] اگست ۲۰۰۶ میں برطانوی پولیس نے ۲۵ سے زائد افراد کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا جو لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ سے امریکہ اور کینیڈا جانے والی ۱۰ پروازوں کو دوران پرواز مائع بارودی مواد سے اڑانے کا منصوبہ بنا چکے تھے ۔اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا تو امریکہ اور برطانیہ پربیک وقت گہرے اثرات مرتب ہوتے ۔

[] اس کے علاوہ امریکہ میں مقیم مسلمان شہریوں نے بھی مختلف واقعات میں امریکہ کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار اس طرح کیا کہ اپنی ذاتی پستول یا مشین گن سے امریکیوں کو نشانہ بنایا ۔۲۰۰۷ اور ۲۰۰۸ میں ایسے دومختلف واقعات رونما ہوئے ، جن میں ایک بوسنیائی اور ایک افغان باشندہ نے فائرنگ کر کے متعدد امریکیوں کو ہلاک کر دیا ۔ ٹرالی اسکوائر میں ہونے والی فائرنگ کے واقعہ کی تفصیلات وکی پیڈیا کے درج ذیل لنک پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
http://en.wikipedia.org/wiki/Trolley_Square_shooting
[] ۱۷ ستمبر ۲۰۰۸ کو پانچ فدائی مجاہدین کی ایک جماعت نے یمن کے شہر صنعاء میں واقع امریکی سفارت خانے پر حملے کیا اور سفارت خانے کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی جہاں مجاہدین اور مرتدین کے درمیان ایک خونریز معرکہ ہوا جس میں درجنوں اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے جبکہ پانچوں مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا ۔یہ امریکی سفارت خانے پر ہونے والا اسی سال دوسرا حملہ تھا۔ اس سے چھ ماہ پہلے مارچ ۲۰۰۸ میں مجاہدین نے اس سفارت خانے پر مارٹر برسا کر سے حملہ کیا تھا ۔
[] ۶ نومبر ۲۰۰۹ کو میجر حسن نضال فک اللہ اسرہ نے امریکی بیس فورٹ ہڈ میں افغانستان روانگی کے لیے تیار امریکی فوجیوں پر دوران تربیت دو مشین گنوں سے فائرنگ کر دی جس سے ۱۳ فوجی ہلاک اور ۳۱ زخمی ہو گئے ۔یہ نائن الیون کے بعد امریکی سرزمین پر لگنے والا سب سے گہرا گھاؤتھا ۔ میجر حسن نضال کےمشہور یمنی مجاہد عالم دین شیخ انوار العولقی سے روابط تھے ۔جس کے بعد امریکہ نے شیخ انوار کے سر کی قیمت مقرر کر دی ۔اور انہیں شہید کرنے کے لیےجنوری ۲۰۱۰ میں یمن کے قبائل میں ڈرون طیاروں سے میزائل برسائے ۔
[] ۲۰۰۹ میں عین کرسمس کے موقع پر ایمسٹرڈیم سے امریکی شہر ڈیٹرائیٹ جانے والی ایک پرواز سے ایک نائیجیرین مجاہد عمر فاروق المطلب کو گرفتار کیا گیا ۔جنہوں نے جہاز کو بارود سے اڑانے کی کوشش کی تھی ۔لیکن بارود کا کیمیکل ناقص ہونے کے سبب دھماکہ صحیح طرح نہ ہوسکا اور یہ کارروائی کامیاب نہ ہوسکی ۔لیکن اس نے گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے ۔یاد رہے کہ ایسے بارود فدائی مجاہد عموماً خود گھروں میں خفیہ تیار کرتے ہیں جس میں بارود ناقص ہونے کا امکان بہت ہوتاہے ۔
[] ۲ مئی ۲۰۱۰ کو امریکی شہر نیویارک کےمعروف ترین علاقے ٹائم اسکوائر میں ایک مشکوک گاڑی دیکھے جانے کے بعد پولیس نے علاقے کو فوراً خالی کروا کر گاڑی کی تلاشی لی تو اس سے بھاری مقدار میں بارود برآمد ہوا جو پھٹنے کے قریب تھا ۔اگر وہ پھٹ جاتا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیر دیتا ۔چند روز بعد ایک پاکستانی امریکی شہری فیصل شہزاد کو گرفتار کیا گیا جس نے اس کارروائی کو انجام دینے کی کوشش کی تھی ۔بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان نے فیصل شہزاد کی ویڈیو بھی جاری کی جو انگریزی میں کہہ رہے تھے کہ " میں ٹائم اسکوائر کا حملہ مظلوم مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے کر رہا ہوں ، جہاد اسلام کا نمایاں رکن ہے اور جہاد ہی کے ذریعے مسلمانوں کو عزت مل سکتی ہے اور افغانستان کے جہاد نےمسلمانوں کو عزت کا یہ راستہ دکھایا ہے "

ان حملوں اور ان کوششوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ کو ان کی سرزمین پر نشانہ بنانا آج بھی مجاہدین کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ اگرچہ بعض حملے بوجوہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکے لیکن اس تفصیل سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ مجاہدین کے پاس اب بھی دشمن کو اس کے گھر اور گھر کے باہر نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے اور مجاہدین مستقل اس کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ اگر اللہ کی نصرت ساتھ ہو تو امریکہ پر آج بھی ۹/۱۱ جیسے یا اس سے بھی تباہ کن حملے ہو سکتے ہیں۔


۳ - ] کفر اور اسلام کی تقسیم
گیارہ ستمبر کے حملوں کے فوراً بعد بش نے جو تقریر کی اس میں پوری دنیا اور بالخصوص عالم اسلام کو مخاطب کر کے کہا کہ اب ہر کوئی اپنے بارے میں فیصلہ کرلے آیا وہ " ہمارے ساتھ ہے " یا "دہشت گردوں کے ساتھ"۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وہ عالم کفر کا ساتھ دے گا یا مجاہدین اسلام کا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ منافقین جوعرصے سے اپنے دل میں کفر چھپائے بیٹھے تھے اور دین اسلام سے زیادہ دنیا کی زندگی کو پسند کرتے تھے ان کا نفاق ظاہر ہوگیا ۔چنانچہ گیارہ ستمبر کے بعد دنیا واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور اس تقسیم نے مسلم معاشروں میں حکمران طبقوں اور افواج کے کفر اور ارتداد کو واضح کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ مجاہدین کے حلقوں میں گیارہ ستمبر کو "یوم تفریق " کا نام دیا جانے لگا۔
مسند احمد ، مستدرک حاکم اور ابی داود میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث بیان ہوئی جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

"۔۔۔۔۔لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں گے ، ایک خیمہ ایمان والوں کا جس میں بالکل نفاق نہیں ہوگا
اور دوسرا خیمہ نفاق والوں کا جس میں ذرہ برابر ایمان نہیں ہوگا ، جب یہ تقسیم ہو جائے تو بس دجال کا انتظار کرنا کہ آج آئے یا کل آئے "

اس معرکہ کے بعد حکمرانوں نے برملا کفریہ افعال کا ارتکاب کیا ۔نام نہاد مسلم افواج نے کفار کے اشاروں پر مسلمانوں کا قتل عام کر کے کھل کھلا دین سے ارتداد اختیار کیا ۔ان مرتد افواج نے اس دس سالہ جنگ میں جو کارنامے انجام دیے اس نے انہیں زرپرستی ، وطن پرستی اور نفس پرستی میں کمال درجہ پر پہنچا دیا ۔ شریعت کی مخالفت میں یہ سب ایک ہوگئے اور ان سب کی گندگی اور غلاظت ابل کر باہر آگئی ۔جبکہ دوسری طرف اسلام سے سچی محبت کرنے والوں نے مجاہدین اسلام کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ۔ اور اللہ کی رضا کے طالب ، جنت کے خریدار ،اسلام اور اہل اسلام کے لیے قربانیاں دینے والے مجاہدین اوروں سے ممیز ہوگئے اور جانیں بچا کر رکھنے والے ان سے الگ ہو گئے یہاں تک کہ مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ کون ان میں سے ہے اور کون غیروں میں سے ہے ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کفر و اسلام کے درمیان یہ خط اسی معرکہ گیارہ ستمبر نے کھینچا تھا اور صرف چند برسوں میں ہمیں دوست اور دشمن کی پہچان کروا دی ورنہ یہ پہچان شائد مسلمانوں میں پیدا نہ ہو سکتی ۔

مَّا كَانَ اللّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ فَآمِنُواْ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
[آل عمران : ۱۷۹]
الله مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر اب تم ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے اورالله کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے لیکن الله اپنے رسولوں میں جسے چاہے چن لیتا ہے سو تم الله اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

فائدہ:
یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جماعت کو اس حال میں دیکھنا پسند نہیں کرتے کہ ان کے درمیان سچے اہل ایمان اور منافق خلط ملط رہیں۔مومن اور منافق میں تمیز کرنے کے لیے اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ غیب سے مسلمانوں کو دلوں کا حال بتا دے کہ فلاں مومن ہے اور فلاں منافق ، بلکہ اللہ کے حکم سے امتحان کے ایسے مواقع پیش آتے ہیں جن کے تجربے سے مومن اور منافق کا حال کھل جاتا ہے ۔

۴ - ] عالمی کفر کے مقابلے پر عالمی جہادی بیداری کی تحریک
مجاہدین نے ان حملوں سے پہلے خصوصا عرب دنیا میں مسلمانوں کے اندر خفیہ رائے شماری کروائی تھی تاکہ مخلص مسلمانوں میں جہادی بیداری کے آثار کا اندازہ لگایا جائے اور کسی مناسب موقعہ تک اس کارروائی کو ملتوی کیا جائے ۔الحمدللہ اس اعتبار سے گیارہ ستمبر کے حملے کے نتائج مجاہدین کی توقع کے عین مطابق تھے ۔ ان حملوں نے امت پر یہ واضح کردیا کہ کفر کے غلبے سے نجات اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کا نفاذ صرف جہاد فی سبیل اللہ ہی کے ذریعے ممکن ہے اور یہی رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ۔اس کے علاوہ تمام وہ طریقے جنہیں "پر امن جمہوری جدو جہد " کا نام دیا جائے یا بغیر جہاد کے دعوت و تبلیغ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔ اس حملہ نے مسلمانوں کو "جہاد فی سبیل اللہ " کی دین میں اہمیت اوراس کا مقام یاد دلا دیا ۔

یہ ان حملوں ہی کی برکات تھیں کہ اس کے بعد ہزار ہا نوجوان قافلہ جہاد میں شامل ہوئے ۔ کفر کے عالمگیر تسلط اور سخت ترین رکاوٹوں اور حالات کی ناموافقت کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں مجاہدین کا تیار ہونا اور ہزاروں شہادتوں اور ہزاروں گرفتاریوں کے بعد بھی مستقل شریک جہاد رہنا ایک انتہائی حیرت انگیز امر ہے جو اللہ کی نصرت کی واضح دلیل ہے ۔ اگر چہ یہ تعداد اب بھی عددی اعتبار سے عالمی کفر کے مقابلے میں کچھ نہیں، لیکن ان مجاہدین کی پیش قدمی دیکھ کر مخلص مسلمانوں کو یقین ہوتا جا رہا ہے کہ صدیوں کی غلامی اور طاغوتی طاقتوں کے پنجے سے رہائی صرف جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ مسلمان دیکھ چکے ہیں کہ کفار کی عددی برتری ، ان کا اسلحہ اور ٹیکنالوجی ، اور ان کی نام نہاد مادی اور اقتصادی برتری بھی مجاہدین کے بڑھتے قدم نہیں روک سکی ہے۔عالمی منظرنامہ پر اس صورتحال کو ہم "عالمی جہادی تحریک "یا "عالمی جہادی بیداری" کا عنوان دیتے ہیں۔ آج تقریباً ہر اسلامی خطے میں عالمی جہادی تحریک کے اثرات نظر آتے ہیں جبکہ بعض خطوں میں یہ تحریکیں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہیں اور بعض مقامات پر امارت اسلامیہ کی ابتدائی بنیادیں بھی رکھی جاچکی ہیں ۔ اور اللہ ہی کے لیے ہیں تمام تعریفیں ۔۔۔۔۔۔

۵ - ] جہاد کے شرعی مقاصد کی تکمیل
ان حملوں کے منصوبہ ساز مجاہدین یہ مقصد خاص بھی رکھتے تھے کہ وہ جہادی تحریکیں جو طاغوت کے زیر سایہ قتال کر رہی ہیں اور اس وقت تک کسی سرزمین جہاد پر قتال کے لیے تیار اور آمادہ نہیں ہوتیں جب تک کہ انہیں طاغوتی آلہ کاروں کی پشت پناہی یا اجازت حاصل نہ ہو ان کی غلطی کو واضح کیا جائے ۔ اسی طرح تمام عالم اسلام میں ایسے مجاہدین کو یہ سمجھایا جائے کہ وطنی عصبیت کی بنیاد پر اور طاغوت کے حواریوں کے زیر سایہ کیا جانے والا قتال اسلام اور مسلمانوں کے کسی کام کانہیں ۔ اور جہاد فی سبیل اللہ صرف وہی ہے جو خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اور دین اسلام کے غلبے کے لیے کیا جائے ۔ ان کی اس دعوت و فکر کو دیکھ کر طاغوت کے پجاریوں نے عالمی جہادی تحریک کو اغوا کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان موحد مجاہدین کو ان کی سازشوں سے محفوظ رکھا ۔ بلکہ اس ربانی دعوت کا اثر یہ نکلا کہ بہت سے نوجوانوں نے اُن کے زیر سایہ چلنے والی جہادی تحریکیوں سے اپنا دامن چھڑا کر عالمی جہاد میں شمولیت اختیار کر لی۔
چنانچہ اس کے بعد جہاد کے مقاصد یعنی "اعلائے کلمۃ اللہ "اور "خلافت علیٰ منہاج النبوۃ "کے قیام کے موضوعات علمی مباحث کے عنوانات بن گئےاور لاکھوں مسلمانوں پر ان کے قیام کا نبوی منہج واضح ہوگیا ۔مجاہدین ان حملوں سے پہلے ان موضوعات پر کلام کرتے آئے ہیں لیکن یہ مباحث اتنے بڑے پیمانے پر امت کے درمیان جگہ نہ بنا سکے تھے۔ ان حملوں کے بعد جب دنیا کفر و اسلام کے دو پاٹوں میں بٹ گئی اور منافقین نے کھلم کھلا کفر کا ساتھ دینا شروع کیا تو جہاد کے شرعی مقاصد کو سمجھنا مخلص اہل ایمان کے لیے آسان ہو گیا ۔

۶ - ] ۱۱ ستمبر کے مبارک حملوں کے بعد اسلام کی بے پناہ مقبولیت

گیارہ ستمبر کے مبارک حملوں نے امریکہ میں جو تباہی مچائی اس نے امریکیوں کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور غصہ بھر دیا ۔لیکن سبحان اللہ یہی وہ گھڑی تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دل اسلام کے لیے کھول دیے ۔ لاکھوں امریکیوں کے اندر اسلام اور اہل اسلام کے متعلق حقیقت جاننے کے لیے تحقیقی رجحان پیدا ہوا ۔ قرآن مجید کےانگریزی تراجم کو گیارہ ستمبر کے بعد سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں سر فہرست شمار کیا گیا ۔لوگوں نے تحقیق ذہن کے ساتھ اسلام اور قرآن مجید کا مطالعہ کیا جس کے بعد ایک محتاط اندازے کے مطابق سال ۲۰۰۱ کے آخری تین ماہ یعنی اکتوبر ، نومبر اور دسمبر میں چونتیس ہزار ۳۴،۰۰۰ امریکیوں نے اسلام قبول کیا ۔یہ کسی ایک سال میں امریکہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد تھی جس کی مثال اس سے پہلے کی تاریخ میں کبھی نہیں ملتی ۔سال ۲۰۰۱ کے بعد بھی امریکہ اور یورپ میں اسلام قبول کرنے والوں کی سالانہ تعداد گیارہ ستمبر کے مبارک معرکوں سے پہلے کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے ۔

اس حوالے سے بعض مفید معلومات درج ذیل لنک میں پڑھی جا سکتی ہیں:
http://www.riseofislam.com/islam_in_america_02.html

اگر آپ گوگل پر گیارہ ستمبر کے بعد اسلام لانے والے نومسلموں کے واقعات اور انٹرویو تلاش کریں تو معلوم ہو گا کہ امریکہ میں نومسلموں کی اکثریت اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہے کہ انہیں اسلام کی ہدایت معرکہ گیارہ ستمبر کے بعد ملی ہے ۔
اینجیلا کولنس ، جو حملے کے وقت فوکس نیوز کی رپورٹر تھیں کہتی ہیں کہ :"میرے خاندان کے بہت سے لوگ اس حملے میں مارے گئے ۔لیکن میرا دل اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ۔کیونکہ حملے کے بعد میں نے اسلام کا مطالعہ یہ سوچ کر شروع کیا تاکہ جان سکوں کہ میڈیا میں پیش کیے جانے والے اسلام اور حقیقی اسلام میں کیا فرق ہے ؟اس مطالعہ کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میں پوری زندگی سچ کی تلاش میں بھٹکتی رہی ہوں،اور جس سچ کی مجھے پیاس تھی وہ مجھے مل گیا ہے ۔اسلام کی ہدایت نے میری پیاسی روح تک کو سیراب کر دیا ۔"
http://www.turntoislam.com/forum/showthread.php?t=1947

ایرن نکولس کہتے ہیں کہ "اس وقت میری عمر صرف ۱۷ سال تھی اور اسلام کے خلاف نفرت اور تشدد کی جو لہر نائن الیون سے میرے دل میں پیدا ہوئی اس نے مجھے مجبور کیا کہ میں اسلام کا مطالعہ کروں ۔اور اس مطالعہ کے بعد میں اسلام لانے پرمجبور ہو گیا "
http://canadianmuhaajir.wordpress.com/2007/08/04/convert-finds-peace-in-islam-after-911/

امریکہ میں مختلف مساجد کی ائمہ کہتے ہیں کہ ۱۱ ستمبر کے بعد امریکی اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے جوق در جوق مسجدوں کا رخ کرتے اور ہم سے ملاقاتیں کرتے رہے ۔بعض اوقات لوگوں کی تعداد اتنی بڑھ جاتی کہ ہمیں بڑی بڑی کانفرنسیں بھی منعقد کرنی پڑتیں ۔


ان اعداد و شمار اور دلائل کو دیکھنے کے بعد ہمیں اپنے اس سوال کا جواب واضح طور پر مل جاتا ہے کہ ان معرکوں کا فائدہ اسلام کو ہوا یا کفر کو؟

اہل ایمان کا دو ٹوک موقف یہ ہے کہ گیارہ ستمبر کا معرکہ اسلام اور اہل اسلام کے حق میں نہایت مبارک اور ایمان و اسلام میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔ اور اس کا انکار علمی و عقلی شہادت کی بنیاد پر ممکن نہیں ۔

لیکن یہ دنیا ایسے لوگوں سے بھری ہوئی ہے جن کا مطمع نظر دنیاوی خواہشات اور منفعت کا حصول ہے ۔ جس نے ان کا نور بصارت سلب کر لیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نفع و نقصان محض دنیا کا نفع و نقصان ہے اس لیے اس سوال کا صحیح جواب وہ کبھی نہ پاسکیں گے ۔
سوائے وہ جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہدایت دینا چاہیں ۔


مَن يَهْدِ اللّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي وَمَن يُضْلِلْ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ 7:178

جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

مَن يُضْلِلِ اللّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ 7:186

جس کو اللہ گمراہ کر دے اُسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ، اور اللہ اِنہیں چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی ہی میں بھٹکتے پھریں

[ جاری ہے ]

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ