Subscribe:

Sunday, January 2, 2011

پنٹاگون کی دانش مندی : ۱۴۰۰ فوجیوں کی نئی کمک

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پنٹاگون رواں سال کے دوران مزید1400 تازہ دم فوجیوں کو افغانستان بھیجنا چاہتا ہے ،تاکہ اس نئی کمک کے ذریعے اس خلاءاور کمزوری کو دور کیا جائے جو گزشتہ سال مجاہدین کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے سامنے آئی۔


لطف کی بات یہ ہے کہ امریکی دفاعی ادارے پنٹاگون نے اس نئی کمک پر جو تبصرہ کیا ہے اس نے امریکیوں کی دانش مندی کا بھرم کھول کر رکھ دیا ۔پنٹاگون نے افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے لیے ۱۴۰۰ فوجیوں کی تازہ کمک کومجاہدین کے خلاف جنگ میں رواں سال کے دوران "موثر حملوں میں اضافہ" اور "خاص فوجی حکمت عملی "سے تعبیر کیا،مگر حقیت اس کے برعکس ہے،کیونکہ گزشتہ سال امریکی فوجیوں کو افغانستان میں اس حد تک جانی اور مالی نقصان پہنچ چکاہے جس کی مثال گزشتہ نو سالوں میں امریکی حکام کو بھی نظر نہیں آتی ۔ اسی لیے ہمیں یقین ہے کہ ان ۱۴۰۰ فوجیوں کو بھیجنے کا مقصد پچھلے سال ہلاک اور معذور ہونے والے فوجیوں کی عددی خلاءکو پر کرنے کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے ۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ پنٹاگون کے دعوے میں کس قدر جان ہے ؟؟

اور چودہ سوفوجی کس طرح ایک لاکھ بیس ہزارفوجوں کی حوصلہ افزائی کریں گے ؟


پینٹاگون کا کہنا کہ وہ ان 1400تازہ دم فوجیوں کے ذریعے مجاہدین کیخلاف موثر کاروائی کرینگے ،ان کا یہ دعوی اس لئے بے معنی ہے کیونکہ گزشتہ دس سال کے دوران ایک پنٹاگون ہی کیا اس جنگ میں اُن کے دنیا بھر کے معاون ہرقسم کے اقدامات کر کے دیکھ چکے ہیں ۔یہ جنگلی اقوام مجاہدین کے کیخلاف بہترین جنگی حکمت عملی ، تباہ کن ہتھیاروں کے استعمالات ، تعذیبی کاروائیاں، سیاسی چالیں ،جاسوسوں اور ڈالروں کے جال بچھانے کے ساتھ ساتھ افغان عوام کا قتل عام،گرفتاریاں اور ان کے گھروں اور کھیتوں کو تباہ کرنے کے علاوہ ہر طرح کی تدبیر اختیار کر چکی ہیں ۔ انہوں نے ہر وہ قبیح ترین حرکت کرکے دیکھ لی جو ان کا وحشی دماغ سجھاتا چلا گیا ۔ اس جنگ کے دوران امریکیوں اور ان کے مرتد ساتھی اُن سنگین ترین جرائم کے ارتکاب سے بھی باز نہیں آئے جن کا تصور تک انسانی ذہن نہیں کر سکتا اور جن پر یقین کرنا بھی دشوار ہوجاتا ہے ۔

ایسے میں ہم کیسے یقین کریں کہ پنٹاگون کے پاس کوئی داؤ پیچ ،پینترا ایسا رہ گیا تھا جس کے ماہرین کو اب اس لیے بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ گذشتہ نو سالوں میں ہونے والے جنگی خسارے اور سامنے نظر آنے والی یقینی شکست سے امریکہ کو بچا لیں گے ۔اس لیے ہمیں یقین ہے کہ پنٹاگون کا ان نئے فوجیوں کے ارسال کا اس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں کہ اس سے وہ گزشتہ سال پہنچنے والے جانی خسارے کو پورا کریں گے ۔اس کے علاوہ اس نئی عسکری کمک کا کوئی اور مفہوم اور مطلب ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا ۔

اگر ہم حقائق کا بغور جائزہ لے تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر اللہ کی نصرت اسی طرح مجاہدین کے شامل حال رہی تو ان شاء اللہ ۱۴۰۰ فوجیوں کا یہ مختصر سا قافلہ کبھی بھی اس خسارے کو پورانہیں کرسکتا ۔ کیونکہ یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجاہدین کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں کارروائیاں ہوئیں جو اس سے پہلے نہ ہوئیں تھیں ۔ ان واقعات پر امریکی حکام اور بگرام میں موجودان کے ترجمان بھی اعتراف کرتے ہیں،بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال مرنے اور زخموں سے معذور ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 3000سے تجاوز کرچکی ہے،جبکہ دیگرموثق شواہداورمجاہدین کے معلومات کی رو سے یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔

چلیں فرض کرلیں کہ ان1400فوجیوں کے ارسال سے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے اس عددی خلاءکو پر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس خلاءاورضرورت کو کیسے پوراکیا جائے گاجو افغانستان میں ہے اور جس کا سامنا ایک لاکھ بیس ہزار امریکی فوجی روزانہ کر رہے ہیں۔۔۔۔ حواس باختہ اور جنگ سے خوف زدہ ان فوجیوں کے بارے میں پنٹاگون کا کیا خیال ہے۔۔۔۔ کیا اس خلاءکومحض چودہ سو فوجیوں کے ارسال سے پورا کیا جاسکتا ہے ۔۔۔ کیا ان چودہ سوفوجیوں میں سرخاب کا پر لگا ہے کہ وہ سال 2011 میں کمال کرکےدکھادیں گے ۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ کبھی نہیں ۔۔۔۔ بلکہ اگر یہ چودہ سو فوجی ان ایک لاکھ بیس ہزار فوجیوں میں شامل ہوجاتے ہیں تو یہ بھی جلد ہی ان جیسے ہو جائیں گے ۔۔۔۔ اس تازہ کمک کی تازگی اسی وقت رفو چکر ہو جائے گی جب یہ ان فوجیوں سے طالبان کے جنگوں کے قصے سنیں گے ۔۔۔ پھر دو چار فدائی حملوں کے بعد ہی یہ بھی ان کی طرح چیخیں مارنے لگیں گے اور دوسروں کے ساتھ خود بھی شور مچادیں گے ۔"ہمیں نکالو" ۔۔۔ "ہمیں واپس جانا ہے " اور صرف ایک ماہ کے اندر اندرافغانستان کی جہادی فضاءان کو اس طرح لپیٹ لے گی کہ پھر یہ فرق کرنا مشکل ہوگا کہ ان میں تازہ دم فوجی کون سے ہیں اور پرانے کون سے ہیں ،یعنی یہ پرانے اور نئے فوجی، افغان مجاہدین کی اعلی حوصلہ مندی کے سامنے اتنے مغلوب ہوچکے ہونگے اور ان کو اتنی ضربیں لگ چکی ہوں گی کہ ان کی وہ خاص جنگی حکمت عملی ختم ہوچکی ہوگی جس کے ساتھ بقول پنٹاگون انہیں بھیجا جا رہا ہے اور ان کے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہوگا کہ وہ کسی طرح افغانستان سے دم دباکر راہ فرار اختیار کریں ۔

ان شاء اللہ

وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ

اور ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں

[ ۲۰ : ۱۴ ]