Subscribe:

Wednesday, February 16, 2011

طالبان میں شامل ہونا چاہتا ہوں

ایک ای میل موصول ہوئی ہے
"السلام علیکم ۔۔۔۔۔ بھائی میں طالبان میں شامل ہونا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ میں کئی مرتبہ بنوں آیا ہوں لیکن میری ملاقات کسی طالبان کمانڈر سے نہیں ہوئی ۔آپ کوئی بندہ بتا دیں جس کے پاس میں جاؤں ۔۔۔ پہلے ایک ساتھی سے ملاقات رہتی تھی لیکن وہ گرفتار ہو گیا تھا ۔اور اب اس کے پاس جانے کو دل نہیں مانتا۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔آپکا بھائی ۔حافظ عبداللہ "

پیارے بھائی عبداللہ ۔۔
میں پہلے تحریر کر چکا ہوں کہ احتیاطی تدابیر کے پیش نظر مجاہدین سفارش کے بغیر کسی مجاہد کو تنظیم میں شامل نہیں کرتے
اگر آپ جہاد میں شرکت کے لیے طالبان یا القاعدہ کو تلاش کر رہے ہیں تو یہ ایک مشکل کام ہوگا ۔
آپ نے مجھ سے کہا ہے کہ میں کسی فرد کا بتا دوں ۔۔۔ میں اس سلسلے میں معذرت چاہتا ہوں ۔۔۔ البتہ اگر آپ اپنے بارے میں تفصیلات بتانے کے لیے تیار ہیں تو ممکن ہے کوئی مجاہد اجر کی خاطر خطرہ کے باوجود آپ کے پاس جانے کے لیے تیار ہو جائے ۔
آپ اپنے بارے میں تفصیلات میرے ای میل ایڈریس پر نہ بھیجیے گا ۔ پہلے آپ ایک سادہ سی ای میل کریں جس میں صرف اپنی عمر اور اپنا شہر لکھ کر ہمیں بھیجیں ۔ میں آگے آپ کی رہنمائی کروں گا ۔ ان شاء اللہ ۔

ایک دوسری ای میل میں تحریر ہے
" عرفان بھائی ۔۔۔۔۔
مجھے بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے، اور امید ہے کہ آپ میری رہنمائی کریں گے
۔۔۔ الموحدین سے میں نے کچھ کتابیں ڈاؤن لوڈ کی تھیں پھر مجھے کاغذ کی صورت میں ان کتابوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں نے انہیں ای میل کی کہ اس ایڈریس پر بھیج دیں ۔لیکن ادارے میں مجھے کچھ رجسٹریشن کے لیے کہا ۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ "

میرے بھائی ابو قدامہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دعاؤں کا شکریہ
میری سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ جب آپ کو کاغذی صورت میں کتاب کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے ادارے کو کس ایڈریس پر کتابیں بھیجنے کا کہا ۔بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ یہاں ای میل ایڈریس مراد نہیں بلکہ یہ کوئی پوسٹل ایڈریس ہے ۔آپ کے جوابات سے پہلے مزید کچھ سوالات جنم لے رہے ہیں
سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے اس بارے میں احتیاط کی تھی کہ پوسٹل ایڈریس کے ذریعے کوئی آپ کو نقصان نہ پہنچاسکے ۔مثلاً کسی مدرسے یا مسجد میں پہنچانی تھیں یا کیا معاملہ تھا ؟؟؟
دوسری بات یہ کہ آپ کو کتنی مقدار میں کتابوں کی ضرورت ہوئی اگر یہ تعداد دس بیس تک ہے تو بہترہوتا ہے کہ کمپیوٹر سے پرنٹ لے لیا جائے ۔کتابیں چھپوانا آسان نہیں ہوتا ، بہت سی کتابیں مجاہدین کمپیوٹر پرنٹر سے پرنٹ کرتے ہیں علاوہ ضروری اور مفید کتابوں کے جنہیں بڑے پیمانے پر نشر کرنا ہو۔
تیسری بات یہ کہ کیا موحدین ویب سائٹ کے علاوہ کوئی پبلی کیشنز کا ادارہ بھی ہے جہاں کتابیں پرنٹ کی جاتی ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ کتابیں پرنٹ نہیں کرواتے ۔آپ کو پہلے اس ادارے سے یہ معلومات لینی چاہیے تھیں کہ کیا یہ لوگ کتابیں انٹرنیٹ پر نشر کرنے کے علاوہ چھاپتے بھی ہیں ۔
آخری بات رجسٹریشن سے متعلق ہے ۔بھائی یہ رجسٹریشن آپ نے نہیں کرنی ۔ یہ لندن کے مفت ڈومین فراہم کرنے والے ادارہ ڈاٹ ٹی کے کی طرف سے موصول ہوئی تھی ۔ اور یہ رجسٹریشن آپ نے نہیں کروانی موحدین نے کروانی ہے ۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ڈاٹ ٹی کے کا ادارہ مفت ڈومین کی سروس تو دیتا ہے لیکن ای میل کا استعمال مفت کرنا ممکن نہیں ۔ یا پھر موحدین کی ویب سائٹ میں ای میل کی سیٹنگ کچھ خراب ہوگئی ہے ۔اس لیے انہیں ای میل کرنا ممکن نہیں ۔تکنیکی معلومات چاہتے ہوں تو کچھ تفصیلات ضرور بتایا کریں ۔ مثلاً آپ نے یہ ذکر کیا ہی نہیں کہ کس ای میل پر رابطہ کیا تھا اور یہ جواب کس کی طرف سے آیا تاکہ میں بھی انہیں ای میل کر کے چیک کرلیتا۔
والسلام



Saturday, February 5, 2011

ای میل اور تبصرے

ہمارے ایک محترم بھائی نے دریافت کیا ہے کہ :
میں مفتی ابو لبابہ کی کتاب دجال کے بار ےمیں انہیں اپنی یا غالباًمجاہدین کی رائے سے آگاہ کروں
اور انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں ممکنہ احتیاطی تدابیر کیسے اختیار کی جا سکتی ہیں
نیز محاذ میں شرکت کے علاوہ ، جہاد میں شمولیت کے ممکنہ طریقے کون سے ہیں
اور پی ٹی وی ڈرامہ انکار جو کچھ نشر کر رہا ہے اس کا سدباب کس طرح ممکن ہے
بنوں سے ایک طالب علم نے دریافت کیا ہے کہ میں تنظیم القاعدہ میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا ہوں یہ کس طرح ممکن ہے ۔ اور میں اسے جواب ضرور دوں

اے آر بھائی ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

مفتی ابو لبابہ کی کتاب دجال
مفتی ابو لبابہ کی کتاب دجال ۱ اور دجال ۲ نہ صرف یہ کہ مفید کتابیں ہیں ، بلکہ آج تو ضروری ہے کہ ہر مسلمان دجال اور قرب قیامت کے موضوعات پر تحقیقی جستجو رکھیں اور دیگر کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے رہیں ۔ البتہ اس کتاب کو پڑھنے سے بعض شبہات جنم لے سکتے ہیں ،جن کا ازالہ کرنے کے لیے مفتی صاحب کا قلم کافی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مجاہدین اس کتاب کو اپنی ویب سائٹس پر نشر کرنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ ویسے بھی مفتی ابو لبابہ کا نام کسی کتاب کو مارکیٹ کرنے کے لیے بہت کافی ہے ۔شاید ہی ادب سے دلچسپی رکھنے والا ہوکوئی ایسا ہو جسے ان کتابوں کا تعارف نہ ہوا ہو۔ دوسری طرف مجاہدین کے مکتوبات سے جو کچھ نشر ہوتا ہے ۔ اس پر ہر طرح کی پابندی کی وجہ سے کوئی جانتا ہی نہیں ۔

انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط
انٹر نیٹ کے استعمال کے بارے میں احتیاط اختیار کرنا بہتر ہے ۔لیکن ایسی احتیاط کسی کام کی نہیں جو ہمیں ضرورت کے کام سے بھی روک دے ۔امنیت کے اصولوں میں سے ہے کہ احتیاط صرف اس وقت تک کی جائے جب تک جہادی کام نہ رکتا ہو ۔ لیکن جب جہاد معطل ہونے کا اندیشہ ہو تو احتیاط چھوڑ دی جائے ۔کیونکہ جہاد ، احتیاط پر مقدم ہے ۔
انٹرنیٹ پر احتیاط اس کے استعمال پر منحصر ہے ۔ اگر آپ جہادی ویب سائٹس کبھی کبھی وزٹ کرتے ہیں ، اور بعض اوقات کچھ جہادی مواد ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو آپ کو احتیاط کی کوئی ضرورت نہیں ۔کیونکہ جہادی ویب سائٹس کو وزٹ کرنے والے سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ ہیں ۔اور ہمارے علم میں آج تک کسی کو محض ڈاؤن لوڈنگ کرنے کی بنا پر گرفتار نہیں کیا گیا ۔ظاہر ہے ان ویب سائٹس پر وزٹ کرنے والے لوگوں کی اکثریت جہاد سے لا تعلق لوگوں کی ہوتی ہے ۔مثلاً بہت سے لوگ صحافتی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وغیرہ ۔۔۔۔
البتہ جہاد سے متعلق مواد اپ لوڈ کیے جانے پر احتیاط لازمی ہے ۔ کیونکہ خفیہ ایجنسیاں اپ لوڈنگ کرنے والوں کی تلاش میں رہتی ہیں ۔ اور ہمارے علم کے مطابق اب تک صرف اپ لوڈنگ کرنے والے افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں ۔ اسی طرح جہادی مواد کا ای میل پر تبادلہ کرتے ہوئے بھی احتیاط ضروری ہے ۔
اس کے علاوہ انٹرنیٹ کا ایک استعمال اور ہے مثلا کسی مسلمان کا جہاد اور مجاہدین کے حق میں رائے دینا ۔ خواہ یہ رائے ان کو ای میل کے ذریعے دی جائے یا کسی بلاگ وغیرہ پر تبصرہ کر کے ۔اگرچہ یہ کام بھی کوئی زیادہ خطرناک نہیں لیکن بہتر ہے کہ آپ تھوڑی بہت احتیاط کر لیا کریں ۔
اب میں آتا ہوں اس طرف کہ احتیاط کے ممکنہ طریقے کیا ہیں :
اگر آپ اپنے کسی واقف کار کو ای میل پر کوئی کتاب یا دوسرا جہادی مواد بھیجیں تو اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں جہاد یا اس سے متعلق مشہور الفاظ استعمال نہ کریں ۔ ہمارا گمان ہے کہ دنیا بھر کی ای میلز کسی خود کار سسٹم کے تحت چیک ہوتی ہیں جہاں جہاد سے متعلق مشہور الفاظ پکڑ میں آنے پر آپ کی ای میل انسانی طریقے پر چیک کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔مثلا القاعدہ ، طالبان ، یا شیخ اسامہ بن لادن حفظہ اللہ وغیرہ ۔۔۔ اسی طرح مجاہدین کی کتابوں کو ان کے نام سے نہ بھیجیں جیسا کہ حطین یا INSPIRE وغیرہ ۔ یہاں یہ وضاحت کردوں کہ اگر کوئی ایسی ای میل آپ کو موصول ہو تو اس میں کوئی خطرہ نہیں ۔ اس طرح کی صورتحال میں ای میل کرنے والا خطرناک ہوتا ہے ، نہ کہ وہ جسے ای میل موصول ہوئی ہو ۔ البتہ اسے آگے بڑھانے والا بھی خطرناک قرار پائے گا۔ ای میلنگ کے لیے ہاٹ میل اور یاہو کے بجائے جی میل کا استعمال کیا کریں ۔کیونکہ گوگل اپنے یوزر کا آئی پی پبلک نہیں کرتا ۔

دوسرا مشورہ یہ ہے کہ مجاہدین کی کسی مشہور ویب سائٹ کو روز بروز وزٹ نہ کریں ۔ کبھی کبھی وزٹ کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں ۔اگر بار بار وزٹ کرنا پڑ جائے تو پراکسی سرور کا استعمال کریں ۔ پراکسی سرور کے بارے میں جاننے کے لیے گوگل پر سرچ کریں ۔ میرے لیے یہاں تفصیل بتانا ممکن نہیں مختصراً عرض کر دیتا ہوں ۔
پراکسی سرور کا استعمال دو طرح سے ممکن ہے ۔
ایک بذریعہ ویب سائٹ جو بہت آسان طریقہ ہے
اور دوسرا براؤزر میں پراکسی سرور کی سیٹنگ کرنے کا طریقہ ہے جو مشکل ہے ۔
پہلا طریقہ یہ ہے کہ کسی مشہور پراکسی سرور کی ویب سائٹ پر جائیں اور وہاں موجود "URL" کے خانے میں مطلوبہ جہادی ویب سائٹ کا ایڈریس ٹائپ کریں ۔ اب آپ جہادی ویب سائٹ پر اپنی " IP " کے بجائے اس پراکسی سرور کی " IP " سے جارہے ہیں ۔میں ایک ویب سائٹ کا پتہ بتا رہا ہوں ۔ جہاں سے آپ کو دنیا بھر کی بہت سی پراکسی سرور سروس مفت میں فراہم کرنے والی ویب سائٹس کے پتے مل جائیں گے ۔ بہتر ہوگا کہ آپ جرمنی ، روس اور چین کے کسی پراکسی سرور کا استعمال کریں اگرچہ یہ ضروری نہیں
www.proxy4free.com

دوسرا طریقہ مشکل ہے :
براؤزر کی سیٹنگ کے لیے فائر فوکس کا استعمال بہتر ہے ۔ فائر فوکس کھولیں اور گوگل پر جا کر "FOXYPROXY" ٹائپ کریں ۔اس کا ایڈآن"add-on" فائر فوکس میں انسٹال کریں ۔ اس کے بعد "www.proxy4free.com " پر جاکر پراکسی سرور کے IP ایڈریس اور پورٹس سرچ کریں ۔ انہیں " FOXY PROXY" میں ایڈ کرتے چلے جائیں ۔ پھر چیک کریں کون سا سرور اس وقت کام کر رہا ہے کیونکہ ہر پراکسی سرور ہر وقت اوپن نہیں ہوتا ۔
مثال کے طور پر میں ایک روسی پراکسی سرور کا آئی پی اور پورٹ بتا دیتا ہوں اسے چیک کریں :
----
85.21.122.66
8080
----
یہ ذہن میں رہے کہ پراکسی سرور آپ کی شناخت تو چھپا سکتے ہیں لیکن عام طور پر ان کی رفتار بہت سست ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے بڑی فائلز ڈاؤن لوڈ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ ویب سائٹ سے فائل کا لنک کاپی کر لیں ۔ اور جب ڈاؤن لوڈنگ کرنی ہو تو بے شک اپنے انٹرنیٹ سے کرلیں ۔بس یہ کوشش کریں کہ زیادہ ڈاؤن لوڈنگ کے لیے ایک ہی انٹرنیٹ استعمال نہ کریں ۔
اسی طرح بعض پراکسی سرور میں ہر قسم کی سہولت نہیں ہوتی مثلاً ای میل کرنے کی سہولت فراہم نہیں کرتے ۔البتہ بلاگ پر تبصروں کے لیے ان کا استعمال مفید ہے ۔

ان سب کے بعد باری آتی ہے اپ لوڈنگ کی ۔ اس میں حد درجہ کی احتیاط لازمی ہے ۔ جس کا ذکر ہم یہاں کرنا مناسب نہیں سمجھتے ۔کیونکہ جو لوگ اس کام میں مصروف ہیں ۔ وہ اس کے لیے نت نئے طریقے استعمال کرتے ہیں جن کا ذکر کر کے ہم خفیہ ایجنسیوں کو ہم راز بنانا نہیں چاہتے ۔

اور یہ یقین دل میں بٹھا لیں کہ احتیاط کی ابتدا اور انتہا اللہ عزوجل کے ذکر کے ساتھ ہو ۔تو بہت سے فرشتے حفاظت پر مامور کر دیے جاتے ہیں ۔
واللہ غالب علی امرہ ۔۔۔۔

جہاد میں شرکت کیسے

اس کے لیے سب سے بہتر مشورہ یہی ہوسکتا ہے کہ آپ شیخ انوار العولقی حفظہ اللہ کی کتاب کا مطالعہ کریں جو جہاد میں شرکت کے ۴۴ طریقے کے عنوان سے دستیاب ہے ۔ غالباً موحدین کی ویب سائٹ پر میں نے یہ کتاب "PDF" کی صور ت میں دیکھی تھی ۔ موحدین کی ویب سائٹ کا پتہ مجھے یاد نہیں ۔ لیکن رباط میڈیا کی ویب سائٹ کے نیچے ضرور دیا گیا ہوگا ۔
www.ribatmedia.tk

پی ٹی وی ڈرامہ برائے پروپیگنڈا
بھائی آپ نے جس ڈرامہ سیریل (انکار) کا ذکر کیا ہے ، اس کے بارے میں تلاش کرنے سے معلوم ہوا کہ اس ڈرامہ کی اصل تھیم منشیات سے انکار پر بنائی گئی ہے ۔ البتہ آپ کے توجہ دلانے پر ایک دوسرے ڈرامہ سیریل کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہوا ۔ جس کا نام ہے "فصیل جاں سے آگے "۔ جس کا اشتہار پہلے بھی دیکھ رکھا تھا ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔ ۔۔۔
یہ بات درست ہے کہ اس طرح کے پروپیگنڈوں کا سدباب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔میرے خیال میں یہ دو طرح سے ممکن ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس کے مقابلے میں مجاہدین کی کتب ، رسائل اور ویڈیو سی ڈیز زیادہ سے زیادہ تعداد میں پھیلانا اور اسے عامۃ المسلمین تک پہنچانا تاکہ انہیں حقیقت معلوم ہو سکے ۔
اور دوسرا کام مجاہدین کے کرنے کا ہے ، اور وہ یہ کہ اس طرح کے کام کرنے والوں کے خلاف کوئی واضح حکمت عملی ترتیب دینا اور ان کے خلاف عسکری نوعیت کا اقدام اٹھانا ۔ میرا ذاتی خیال تو یہاں تک ہے کہ مجاہدین کو اس ڈرامہ کی تیاری میں حصہ لینے والے ہر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے اور ان کے خلاف اتنی شدید کارروائی ہونی چاہیے کہ مجاہدین انہیں نشان عبرت بنا کر چھوڑیں ۔اور یہ بات میں اس لیے کہتا ہوں کہ بعض اوقات جنگ میں لڑنے والوں سے زیادہ شدید نوعیت کا جرم اسلام کے خلاف اکسانا اور اس کے متعلق شبہات پھیلانا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد حضور علیہ الصلوۃ واسلام نے جہاں عام معافی کا اعلان کیا تھا وہیں چودہ (۱۴) ایسے افراد کی فہرست بھی جاری کی گئی جن کے بارے میں یہاں تک کہا گیا کہ بیت اللہ کی دیواروں کے پردہ سے بھی لٹک جائیں تو قتل کر دیے جائیں ۔ (بعض روایات کی رو سے سترہ یا اٹھارہ افراد تھے ) ، سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کا اصل جرم یہ تھا کہ یہ وہ لوگ تھے جو اسلام کے خلاف گمراہی پھیلانے والوں کے سرخیل تھے ، یوں سمجھ لیجیے کہ اُس وقت کا میڈیا تھے ۔ اور یہ معاملہ بھی بلاشبہ ایسا ہی سنگین ہے ۔ اللہ کرے کے ڈرامہ "فصیل جاں سے آگے "کے بارے میں مجاہدین سنجیدہ نوٹس لیں اور اللہ کی نصرت سے اس میں شریک مجرموں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں کیونکہ یہ لوگ بھی کسی طرح بڑے بڑے مجرموں سے کم نہیں ۔اور ان کا جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے ، اور انہیں چھوٹ دینا انتہائی نقصان دہ ہوگا ۔

ہمارا اعلان
ہم یہاں تمام مسلمانوں سے درخواست کریں گے کہ اس ڈرامہ کے ہدایت کار سے لے کر ، اس کے پارٹ ٹائم اداکار تک حصہ لینے والے افراد کی فہرست تیار کریں ، ان کے بارے میں خفیہ معلومات اگر کوئی ہوں تو انہیں مجاہدین تک پہنچائیں ، تاکہ یہ کام مجاہدین کے لیے آسان ہوجائے ۔
وماذلک علی اللہ بعزیز

تنظیم القاعدہ میں شمولیت کیسے ممکن ہے
بنوں کے طالب علم نے درخواست کی ہے کہ وہ جہاد میں شرکت کرنا چاہتے ہیں اور انہیں بتایا جائے کہ تنظیم القاعدہ میں شرکت کیسے ممکن ہے ۔
میرے پیارے بھائی تبصرے کے نیچے ، جواب دینے سے بہتر سمجھا کہ علیحدہ تحریر کردوں تاکہ دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں ۔ آپ نے ویسے بھی اپنا ای میل تو دیا ہی نہیں ۔ حالانکہ آپ نے لکھا ہے کہ جواب ضرور دوں ۔
تو بات یہ ہے کہ آپ بنوں میں رہتے ہیں یہاں سے جہاد کی سرزمین کچھ زیادہ دور بھی نہیں ۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ مجاہدین کی کسی بھی تنظیم میں شمولیت آسان نہیں ۔ اس کے لیے تنظیم کے اپنے اندر سے سفارش ضروری ہوتی ہے ۔ لہٰذا پہلے آپ اپنا کوئی سفارشی تلاش کریں ، جو آپ کو طالبان یا القاعدہ تک پہنچا دے ۔ محتاط رہیں ، کہیں سفارشی کی تلاش کرتے کرتے ، مرتدین تک نہ پہنچ جائیں ۔ ان سے حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ آپ صبح شام کے اذکار کے ذریعے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی پناہ میں آجائیں ۔اپنی نیت اللہ کے لیے خالص کرلیں ۔ اپنی عبادات کے ذریعے اللہ کو راضی رکھنے کی کوشش کریں ۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہو گئے تو وہ آپ کے لیے جہاد کے دروازے کھول دیں گے اور ان شاء اللہ آپ معرکوں میں ضرور حصہ لیں گے ۔میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔یاد رکھیے صبح شام کے اذکار میں کوتاہی نہ ہونے پائے ۔
بات چیت

Friday, February 4, 2011

ای میلز اور تبصرے

محترم قارئین!
السلام علیکم
بلاگنگ کے آغاز سے ہی بہت سے لوگ ای میل اور تبصروں کےذریعے اپنی آرا ، تجاویز ، مشورے مجھے پہنچاتے رہے ہیں ۔ کئی لوگوں نے بعض سوالات بھی پوچھے لیکن علمی کم مائگی اور عدم فرصت کی بنا پر میرے لیے ممکن نہیں کہ میں ہر تبصرے اور ای میل کا تسلی بخش جواب دے سکوں ۔اگرچہ خواہش تو ضرور رہی لیکن دبی دبی ۔

ویسے بھی اللہ کے دین کا معاملہ آسان نہیں ہوتا ۔دین کے معاملے میں ضروری ہوتا ہے کہ زیر نظر مسئلہ کے بارے میں تحقیق پوری کی جائے ۔ کئی کئی کتابیں پڑھنے کے بعد ایک چھوٹے سے مسئلہ کے متعلق اہم نکات نکال کر جمع کرنا ایک دشوار کام ہے ۔مزید یہ کہ جسے اللہ کے حضور جوابدہی کا بھی خوف ہو وہ ہر لفظ لکھتے ہوئے مزید احتیاط کرتا ہے ۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ دجالی فتنوں نے جہاد اور مجاہدین کی جو تصویر کشی کر رکھی ہے اس کی وجہ سے جہاد کا موضوع نہایت نازک بن گیا ہے ۔ عامۃ المسلمین کے اذہان میں جہاد اور مجاہدین سے متعلق جو شکوک و شبہات پیدا کر دیے گئے ہیں انہیں کھرچنا اور حقیقت تک پہنچانا مزید احتیاط کا متقاضی ہے ۔

یہاں مسائل پر چھان بین کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں کوئی محقق یا عالم ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میں علوم شرعیہ سے بالکل کورا ہوں اور کسی بھی حیثیت سے اپنی رائے بیان کرنے کے لائق نہیں ۔لہٰذا چھان پھٹک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جو مسائل دریافت کیے ہیں ان موضوعات پر اب تک علماء نے جو کچھ لکھا ہے وہ تلاش کرنا اور ان علماء کی رائے بیان کرنا یا ان کتابوں تک رسائی فراہم کرنا ہے جو قدیم یا جدید علمائے دین متین نے جہاد کے ان موضوعات پر تحریر کی ہیں جن سے ہمیں آج شب و روز واسطہ درپیش ہے ۔
ہمارے نزدیک جہادی مسائل میں موجودہ زمانے کے ان علماء اور قائدین کی رائے کا احترام زیادہ ہے جنہوں نے اللہ کے راستے میں خود قربانیاں دی ہیں ،جنہوں نے اپنے گھر بار چھوڑے ، رباط کی سرزمین میں قیام کیا ، قید و تعذیب کے صعوبتیں برداشت کیں ، معرکوں میں بنفس نفیس شامل رہے ، یہاں تک کہ اللہ کے راستے میں جانوں کی قربانیوں سے بھی دریغ نہیں کیا ۔ بہ نسبت ان علمائے کرام کے جو ابھی تک جہاد اور مجاہدین سے دور ہیں ۔اور یہ فطری بات ہے ۔۔۔ اور شرعاً بھی پسندیدہ ہے کہ جوعلماء خود معرکوں میں شامل رہے ہیں ، وہ علم الواقعہ کو جاننے کی وجہ سے اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ جہاد سے متعلق معاملات میں بہتر رائے اِن کی شمار کی جائے ۔لہٰذا یہ محض اللہ کا ہم پر فضل ہے کہ کئی علماء کی شہادتوں کے بعد بھی آج سرزمین خراسان میں ہمارے درمیان علمائے اسلام کے دو بہترین علماء موجود ہیں جن سے شرعی مسائل دریافت کیے بغیر ہم کوئی قدم نہیں اٹھاتے ۔ شیخ ابو یحییٰ لیبی اور شیخ عطیۃ اللہ ۔۔۔۔ ۔۔اللہ تعالیٰ دونوں علماء کی حفاظت فرمائے ۔۔۔ آمین ۔۔۔

ان کے علاوہ یمن سے تعلق رکھنے والے شیخ انوار العولقی حفظہ جزیرۃ العرب میں مجاہدین کی رہنمائی کرنے کے لیے بنفس نفیس رباط کی سرزمین میں ہجرت کر چکے ہیں ۔بعض دوسرے چوٹی کے علماء جو دنیا کی مختلف جیلوں میں قید ہیں ان کی تحقیقات اور تحریریں دنیا بھر کی ویب سائٹس پر موجود ہیں جن سے ہم استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں ایک بڑا نام شیخ ابومحمد المقدسی فک اللہ اسرہ کا ہے جو اردن کی جیل میں قید ہیں ۔

یہ سب کچھ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین جان لیں کہ مجاہدین اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھاتے جب تک ان علماء کی رائے معلوم نہ کر لی جائے یا جب تک شریعت مطہرہ کی روشنی میں زیر نظر مسئلہ عیاں نہ ہوجائے ۔اور الحمد اللہ ہم ان تمام مسائل میں جو فقہ الجہاد سے تعلق رکھتے ہیں مجاہدین کے علماء کی رائے معلوم کر لینا ضروری سمجھتے ہیں ۔ بعض دوسرے مسائل جن کا تعلق فقہ الواقعہ سے ہے اس میں بھی اپنی حد تک تحقیق مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

لہٰذا جو لوگ اس بلاگ پر جہاد اور مجاہدین کے خلاف تبصرے کرتے ہیں ۔ ہم انہیں اس وقت تک نشر کرنا مناسب نہیں سمجھتے جب تک ان کی زہر فشانی کا مسقط جواب شریعت کی روشنی میں نہ دے دیا جائے ۔ البتہ کچھ ساتھیوں نے بعض چیزوں پر میری ناقص رائے دریافت کی ہے ، جن کا جواب دینے کے لیے بات چیت کے عنوان کے تحت تحریرات کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ آپ میں سے جو ساتھی یہ چاہتے ہوں کہ ان کو انفرادی جواب دیا جائے اور اسے بلاگ پر نشر نہ کیا جائے تو یہ بھی ممکن ہے ۔