Subscribe:

Friday, February 4, 2011

ای میلز اور تبصرے

محترم قارئین!
السلام علیکم
بلاگنگ کے آغاز سے ہی بہت سے لوگ ای میل اور تبصروں کےذریعے اپنی آرا ، تجاویز ، مشورے مجھے پہنچاتے رہے ہیں ۔ کئی لوگوں نے بعض سوالات بھی پوچھے لیکن علمی کم مائگی اور عدم فرصت کی بنا پر میرے لیے ممکن نہیں کہ میں ہر تبصرے اور ای میل کا تسلی بخش جواب دے سکوں ۔اگرچہ خواہش تو ضرور رہی لیکن دبی دبی ۔

ویسے بھی اللہ کے دین کا معاملہ آسان نہیں ہوتا ۔دین کے معاملے میں ضروری ہوتا ہے کہ زیر نظر مسئلہ کے بارے میں تحقیق پوری کی جائے ۔ کئی کئی کتابیں پڑھنے کے بعد ایک چھوٹے سے مسئلہ کے متعلق اہم نکات نکال کر جمع کرنا ایک دشوار کام ہے ۔مزید یہ کہ جسے اللہ کے حضور جوابدہی کا بھی خوف ہو وہ ہر لفظ لکھتے ہوئے مزید احتیاط کرتا ہے ۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ دجالی فتنوں نے جہاد اور مجاہدین کی جو تصویر کشی کر رکھی ہے اس کی وجہ سے جہاد کا موضوع نہایت نازک بن گیا ہے ۔ عامۃ المسلمین کے اذہان میں جہاد اور مجاہدین سے متعلق جو شکوک و شبہات پیدا کر دیے گئے ہیں انہیں کھرچنا اور حقیقت تک پہنچانا مزید احتیاط کا متقاضی ہے ۔

یہاں مسائل پر چھان بین کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں کوئی محقق یا عالم ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میں علوم شرعیہ سے بالکل کورا ہوں اور کسی بھی حیثیت سے اپنی رائے بیان کرنے کے لائق نہیں ۔لہٰذا چھان پھٹک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جو مسائل دریافت کیے ہیں ان موضوعات پر اب تک علماء نے جو کچھ لکھا ہے وہ تلاش کرنا اور ان علماء کی رائے بیان کرنا یا ان کتابوں تک رسائی فراہم کرنا ہے جو قدیم یا جدید علمائے دین متین نے جہاد کے ان موضوعات پر تحریر کی ہیں جن سے ہمیں آج شب و روز واسطہ درپیش ہے ۔
ہمارے نزدیک جہادی مسائل میں موجودہ زمانے کے ان علماء اور قائدین کی رائے کا احترام زیادہ ہے جنہوں نے اللہ کے راستے میں خود قربانیاں دی ہیں ،جنہوں نے اپنے گھر بار چھوڑے ، رباط کی سرزمین میں قیام کیا ، قید و تعذیب کے صعوبتیں برداشت کیں ، معرکوں میں بنفس نفیس شامل رہے ، یہاں تک کہ اللہ کے راستے میں جانوں کی قربانیوں سے بھی دریغ نہیں کیا ۔ بہ نسبت ان علمائے کرام کے جو ابھی تک جہاد اور مجاہدین سے دور ہیں ۔اور یہ فطری بات ہے ۔۔۔ اور شرعاً بھی پسندیدہ ہے کہ جوعلماء خود معرکوں میں شامل رہے ہیں ، وہ علم الواقعہ کو جاننے کی وجہ سے اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ جہاد سے متعلق معاملات میں بہتر رائے اِن کی شمار کی جائے ۔لہٰذا یہ محض اللہ کا ہم پر فضل ہے کہ کئی علماء کی شہادتوں کے بعد بھی آج سرزمین خراسان میں ہمارے درمیان علمائے اسلام کے دو بہترین علماء موجود ہیں جن سے شرعی مسائل دریافت کیے بغیر ہم کوئی قدم نہیں اٹھاتے ۔ شیخ ابو یحییٰ لیبی اور شیخ عطیۃ اللہ ۔۔۔۔ ۔۔اللہ تعالیٰ دونوں علماء کی حفاظت فرمائے ۔۔۔ آمین ۔۔۔

ان کے علاوہ یمن سے تعلق رکھنے والے شیخ انوار العولقی حفظہ جزیرۃ العرب میں مجاہدین کی رہنمائی کرنے کے لیے بنفس نفیس رباط کی سرزمین میں ہجرت کر چکے ہیں ۔بعض دوسرے چوٹی کے علماء جو دنیا کی مختلف جیلوں میں قید ہیں ان کی تحقیقات اور تحریریں دنیا بھر کی ویب سائٹس پر موجود ہیں جن سے ہم استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں ایک بڑا نام شیخ ابومحمد المقدسی فک اللہ اسرہ کا ہے جو اردن کی جیل میں قید ہیں ۔

یہ سب کچھ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین جان لیں کہ مجاہدین اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھاتے جب تک ان علماء کی رائے معلوم نہ کر لی جائے یا جب تک شریعت مطہرہ کی روشنی میں زیر نظر مسئلہ عیاں نہ ہوجائے ۔اور الحمد اللہ ہم ان تمام مسائل میں جو فقہ الجہاد سے تعلق رکھتے ہیں مجاہدین کے علماء کی رائے معلوم کر لینا ضروری سمجھتے ہیں ۔ بعض دوسرے مسائل جن کا تعلق فقہ الواقعہ سے ہے اس میں بھی اپنی حد تک تحقیق مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

لہٰذا جو لوگ اس بلاگ پر جہاد اور مجاہدین کے خلاف تبصرے کرتے ہیں ۔ ہم انہیں اس وقت تک نشر کرنا مناسب نہیں سمجھتے جب تک ان کی زہر فشانی کا مسقط جواب شریعت کی روشنی میں نہ دے دیا جائے ۔ البتہ کچھ ساتھیوں نے بعض چیزوں پر میری ناقص رائے دریافت کی ہے ، جن کا جواب دینے کے لیے بات چیت کے عنوان کے تحت تحریرات کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ آپ میں سے جو ساتھی یہ چاہتے ہوں کہ ان کو انفرادی جواب دیا جائے اور اسے بلاگ پر نشر نہ کیا جائے تو یہ بھی ممکن ہے ۔

4 تبصرے:

Anonymous said...

محترم عرفان صاحب میرا تعلق علمأ دیوبند سے ہے اور الحمد للہ دنیا بھر کے مجاہدین کی عزت کرتا ہوں ۔لیکن میرے ذہن میں سوال ہے
۱ : مجاہدین کی ویڈیوز میں علما دیوبند کو ہی بطور تنقید کے لیوں پیش کیا جاتا ہے جیسا کہ السحاب کی ویڈیوز میں مولانا فضل الرحمٰن کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں ۔جبکہ بریلوی اور اہلحدیث کی تصاویر نہیں دکھائی جاتی ہیں جیسے قاضی حسین احمد اور منور حسن وغیرہ ۔؟
اس سوال سے یہ مت سمجھیے گا کہ مجھے مجاہدین پر اعتراض ہے یہ صرف میرے دل میں ایک الجھن سی پیدا ہوئی ہے امید ہے بغیر برا منائے تشفی فرمایئں گے ؟؟؟
اللہ رب العزت تمام مجاہدین کو فتح نصیب فرمائیں اور پوری دنیا میں اسلامی نظام کا بول بالا کریں آمین

Anonymous said...

Irfan bhai
Gumnam bhai ka Ishkal baja hai Jawab inayat farma kar hamain bhi muntanfeed karain
JazakAllah

Anonymous said...

waqi on deobandi bhai ka ishkal sahi is ka jawad jitna jaldi ho sake dia jae

Aamir Waheed said...

فضل الرحمان جیسے آدمی کا کوئی مسلک نہیں اس کو اسا لئے نہیں دکھایا جاتا کہ وہ دیوبندی ہے اور منور حسن والی بات ٹھیک ہے۔ بھائی امام کعبہ کہ بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اھل حدیث (عام) کی نظر میں اس سے بڑا اھل حدیث کون ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ جس کی گمراہی بالکل صاف ہوگئی ہے اسے دکھا دیا جاتا ہے۔ امید ہے کہ عرفان بلوچ مجھ سے اتفاق کریں گے۔

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ