Subscribe:

Saturday, February 5, 2011

ای میل اور تبصرے

ہمارے ایک محترم بھائی نے دریافت کیا ہے کہ :
میں مفتی ابو لبابہ کی کتاب دجال کے بار ےمیں انہیں اپنی یا غالباًمجاہدین کی رائے سے آگاہ کروں
اور انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں ممکنہ احتیاطی تدابیر کیسے اختیار کی جا سکتی ہیں
نیز محاذ میں شرکت کے علاوہ ، جہاد میں شمولیت کے ممکنہ طریقے کون سے ہیں
اور پی ٹی وی ڈرامہ انکار جو کچھ نشر کر رہا ہے اس کا سدباب کس طرح ممکن ہے
بنوں سے ایک طالب علم نے دریافت کیا ہے کہ میں تنظیم القاعدہ میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا ہوں یہ کس طرح ممکن ہے ۔ اور میں اسے جواب ضرور دوں

اے آر بھائی ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

مفتی ابو لبابہ کی کتاب دجال
مفتی ابو لبابہ کی کتاب دجال ۱ اور دجال ۲ نہ صرف یہ کہ مفید کتابیں ہیں ، بلکہ آج تو ضروری ہے کہ ہر مسلمان دجال اور قرب قیامت کے موضوعات پر تحقیقی جستجو رکھیں اور دیگر کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے رہیں ۔ البتہ اس کتاب کو پڑھنے سے بعض شبہات جنم لے سکتے ہیں ،جن کا ازالہ کرنے کے لیے مفتی صاحب کا قلم کافی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مجاہدین اس کتاب کو اپنی ویب سائٹس پر نشر کرنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ ویسے بھی مفتی ابو لبابہ کا نام کسی کتاب کو مارکیٹ کرنے کے لیے بہت کافی ہے ۔شاید ہی ادب سے دلچسپی رکھنے والا ہوکوئی ایسا ہو جسے ان کتابوں کا تعارف نہ ہوا ہو۔ دوسری طرف مجاہدین کے مکتوبات سے جو کچھ نشر ہوتا ہے ۔ اس پر ہر طرح کی پابندی کی وجہ سے کوئی جانتا ہی نہیں ۔

انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط
انٹر نیٹ کے استعمال کے بارے میں احتیاط اختیار کرنا بہتر ہے ۔لیکن ایسی احتیاط کسی کام کی نہیں جو ہمیں ضرورت کے کام سے بھی روک دے ۔امنیت کے اصولوں میں سے ہے کہ احتیاط صرف اس وقت تک کی جائے جب تک جہادی کام نہ رکتا ہو ۔ لیکن جب جہاد معطل ہونے کا اندیشہ ہو تو احتیاط چھوڑ دی جائے ۔کیونکہ جہاد ، احتیاط پر مقدم ہے ۔
انٹرنیٹ پر احتیاط اس کے استعمال پر منحصر ہے ۔ اگر آپ جہادی ویب سائٹس کبھی کبھی وزٹ کرتے ہیں ، اور بعض اوقات کچھ جہادی مواد ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو آپ کو احتیاط کی کوئی ضرورت نہیں ۔کیونکہ جہادی ویب سائٹس کو وزٹ کرنے والے سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ ہیں ۔اور ہمارے علم میں آج تک کسی کو محض ڈاؤن لوڈنگ کرنے کی بنا پر گرفتار نہیں کیا گیا ۔ظاہر ہے ان ویب سائٹس پر وزٹ کرنے والے لوگوں کی اکثریت جہاد سے لا تعلق لوگوں کی ہوتی ہے ۔مثلاً بہت سے لوگ صحافتی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وغیرہ ۔۔۔۔
البتہ جہاد سے متعلق مواد اپ لوڈ کیے جانے پر احتیاط لازمی ہے ۔ کیونکہ خفیہ ایجنسیاں اپ لوڈنگ کرنے والوں کی تلاش میں رہتی ہیں ۔ اور ہمارے علم کے مطابق اب تک صرف اپ لوڈنگ کرنے والے افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں ۔ اسی طرح جہادی مواد کا ای میل پر تبادلہ کرتے ہوئے بھی احتیاط ضروری ہے ۔
اس کے علاوہ انٹرنیٹ کا ایک استعمال اور ہے مثلا کسی مسلمان کا جہاد اور مجاہدین کے حق میں رائے دینا ۔ خواہ یہ رائے ان کو ای میل کے ذریعے دی جائے یا کسی بلاگ وغیرہ پر تبصرہ کر کے ۔اگرچہ یہ کام بھی کوئی زیادہ خطرناک نہیں لیکن بہتر ہے کہ آپ تھوڑی بہت احتیاط کر لیا کریں ۔
اب میں آتا ہوں اس طرف کہ احتیاط کے ممکنہ طریقے کیا ہیں :
اگر آپ اپنے کسی واقف کار کو ای میل پر کوئی کتاب یا دوسرا جہادی مواد بھیجیں تو اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں جہاد یا اس سے متعلق مشہور الفاظ استعمال نہ کریں ۔ ہمارا گمان ہے کہ دنیا بھر کی ای میلز کسی خود کار سسٹم کے تحت چیک ہوتی ہیں جہاں جہاد سے متعلق مشہور الفاظ پکڑ میں آنے پر آپ کی ای میل انسانی طریقے پر چیک کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔مثلا القاعدہ ، طالبان ، یا شیخ اسامہ بن لادن حفظہ اللہ وغیرہ ۔۔۔ اسی طرح مجاہدین کی کتابوں کو ان کے نام سے نہ بھیجیں جیسا کہ حطین یا INSPIRE وغیرہ ۔ یہاں یہ وضاحت کردوں کہ اگر کوئی ایسی ای میل آپ کو موصول ہو تو اس میں کوئی خطرہ نہیں ۔ اس طرح کی صورتحال میں ای میل کرنے والا خطرناک ہوتا ہے ، نہ کہ وہ جسے ای میل موصول ہوئی ہو ۔ البتہ اسے آگے بڑھانے والا بھی خطرناک قرار پائے گا۔ ای میلنگ کے لیے ہاٹ میل اور یاہو کے بجائے جی میل کا استعمال کیا کریں ۔کیونکہ گوگل اپنے یوزر کا آئی پی پبلک نہیں کرتا ۔

دوسرا مشورہ یہ ہے کہ مجاہدین کی کسی مشہور ویب سائٹ کو روز بروز وزٹ نہ کریں ۔ کبھی کبھی وزٹ کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں ۔اگر بار بار وزٹ کرنا پڑ جائے تو پراکسی سرور کا استعمال کریں ۔ پراکسی سرور کے بارے میں جاننے کے لیے گوگل پر سرچ کریں ۔ میرے لیے یہاں تفصیل بتانا ممکن نہیں مختصراً عرض کر دیتا ہوں ۔
پراکسی سرور کا استعمال دو طرح سے ممکن ہے ۔
ایک بذریعہ ویب سائٹ جو بہت آسان طریقہ ہے
اور دوسرا براؤزر میں پراکسی سرور کی سیٹنگ کرنے کا طریقہ ہے جو مشکل ہے ۔
پہلا طریقہ یہ ہے کہ کسی مشہور پراکسی سرور کی ویب سائٹ پر جائیں اور وہاں موجود "URL" کے خانے میں مطلوبہ جہادی ویب سائٹ کا ایڈریس ٹائپ کریں ۔ اب آپ جہادی ویب سائٹ پر اپنی " IP " کے بجائے اس پراکسی سرور کی " IP " سے جارہے ہیں ۔میں ایک ویب سائٹ کا پتہ بتا رہا ہوں ۔ جہاں سے آپ کو دنیا بھر کی بہت سی پراکسی سرور سروس مفت میں فراہم کرنے والی ویب سائٹس کے پتے مل جائیں گے ۔ بہتر ہوگا کہ آپ جرمنی ، روس اور چین کے کسی پراکسی سرور کا استعمال کریں اگرچہ یہ ضروری نہیں
www.proxy4free.com

دوسرا طریقہ مشکل ہے :
براؤزر کی سیٹنگ کے لیے فائر فوکس کا استعمال بہتر ہے ۔ فائر فوکس کھولیں اور گوگل پر جا کر "FOXYPROXY" ٹائپ کریں ۔اس کا ایڈآن"add-on" فائر فوکس میں انسٹال کریں ۔ اس کے بعد "www.proxy4free.com " پر جاکر پراکسی سرور کے IP ایڈریس اور پورٹس سرچ کریں ۔ انہیں " FOXY PROXY" میں ایڈ کرتے چلے جائیں ۔ پھر چیک کریں کون سا سرور اس وقت کام کر رہا ہے کیونکہ ہر پراکسی سرور ہر وقت اوپن نہیں ہوتا ۔
مثال کے طور پر میں ایک روسی پراکسی سرور کا آئی پی اور پورٹ بتا دیتا ہوں اسے چیک کریں :
----
85.21.122.66
8080
----
یہ ذہن میں رہے کہ پراکسی سرور آپ کی شناخت تو چھپا سکتے ہیں لیکن عام طور پر ان کی رفتار بہت سست ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے بڑی فائلز ڈاؤن لوڈ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ ویب سائٹ سے فائل کا لنک کاپی کر لیں ۔ اور جب ڈاؤن لوڈنگ کرنی ہو تو بے شک اپنے انٹرنیٹ سے کرلیں ۔بس یہ کوشش کریں کہ زیادہ ڈاؤن لوڈنگ کے لیے ایک ہی انٹرنیٹ استعمال نہ کریں ۔
اسی طرح بعض پراکسی سرور میں ہر قسم کی سہولت نہیں ہوتی مثلاً ای میل کرنے کی سہولت فراہم نہیں کرتے ۔البتہ بلاگ پر تبصروں کے لیے ان کا استعمال مفید ہے ۔

ان سب کے بعد باری آتی ہے اپ لوڈنگ کی ۔ اس میں حد درجہ کی احتیاط لازمی ہے ۔ جس کا ذکر ہم یہاں کرنا مناسب نہیں سمجھتے ۔کیونکہ جو لوگ اس کام میں مصروف ہیں ۔ وہ اس کے لیے نت نئے طریقے استعمال کرتے ہیں جن کا ذکر کر کے ہم خفیہ ایجنسیوں کو ہم راز بنانا نہیں چاہتے ۔

اور یہ یقین دل میں بٹھا لیں کہ احتیاط کی ابتدا اور انتہا اللہ عزوجل کے ذکر کے ساتھ ہو ۔تو بہت سے فرشتے حفاظت پر مامور کر دیے جاتے ہیں ۔
واللہ غالب علی امرہ ۔۔۔۔

جہاد میں شرکت کیسے

اس کے لیے سب سے بہتر مشورہ یہی ہوسکتا ہے کہ آپ شیخ انوار العولقی حفظہ اللہ کی کتاب کا مطالعہ کریں جو جہاد میں شرکت کے ۴۴ طریقے کے عنوان سے دستیاب ہے ۔ غالباً موحدین کی ویب سائٹ پر میں نے یہ کتاب "PDF" کی صور ت میں دیکھی تھی ۔ موحدین کی ویب سائٹ کا پتہ مجھے یاد نہیں ۔ لیکن رباط میڈیا کی ویب سائٹ کے نیچے ضرور دیا گیا ہوگا ۔
www.ribatmedia.tk

پی ٹی وی ڈرامہ برائے پروپیگنڈا
بھائی آپ نے جس ڈرامہ سیریل (انکار) کا ذکر کیا ہے ، اس کے بارے میں تلاش کرنے سے معلوم ہوا کہ اس ڈرامہ کی اصل تھیم منشیات سے انکار پر بنائی گئی ہے ۔ البتہ آپ کے توجہ دلانے پر ایک دوسرے ڈرامہ سیریل کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہوا ۔ جس کا نام ہے "فصیل جاں سے آگے "۔ جس کا اشتہار پہلے بھی دیکھ رکھا تھا ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔ ۔۔۔
یہ بات درست ہے کہ اس طرح کے پروپیگنڈوں کا سدباب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔میرے خیال میں یہ دو طرح سے ممکن ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس کے مقابلے میں مجاہدین کی کتب ، رسائل اور ویڈیو سی ڈیز زیادہ سے زیادہ تعداد میں پھیلانا اور اسے عامۃ المسلمین تک پہنچانا تاکہ انہیں حقیقت معلوم ہو سکے ۔
اور دوسرا کام مجاہدین کے کرنے کا ہے ، اور وہ یہ کہ اس طرح کے کام کرنے والوں کے خلاف کوئی واضح حکمت عملی ترتیب دینا اور ان کے خلاف عسکری نوعیت کا اقدام اٹھانا ۔ میرا ذاتی خیال تو یہاں تک ہے کہ مجاہدین کو اس ڈرامہ کی تیاری میں حصہ لینے والے ہر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے اور ان کے خلاف اتنی شدید کارروائی ہونی چاہیے کہ مجاہدین انہیں نشان عبرت بنا کر چھوڑیں ۔اور یہ بات میں اس لیے کہتا ہوں کہ بعض اوقات جنگ میں لڑنے والوں سے زیادہ شدید نوعیت کا جرم اسلام کے خلاف اکسانا اور اس کے متعلق شبہات پھیلانا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد حضور علیہ الصلوۃ واسلام نے جہاں عام معافی کا اعلان کیا تھا وہیں چودہ (۱۴) ایسے افراد کی فہرست بھی جاری کی گئی جن کے بارے میں یہاں تک کہا گیا کہ بیت اللہ کی دیواروں کے پردہ سے بھی لٹک جائیں تو قتل کر دیے جائیں ۔ (بعض روایات کی رو سے سترہ یا اٹھارہ افراد تھے ) ، سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کا اصل جرم یہ تھا کہ یہ وہ لوگ تھے جو اسلام کے خلاف گمراہی پھیلانے والوں کے سرخیل تھے ، یوں سمجھ لیجیے کہ اُس وقت کا میڈیا تھے ۔ اور یہ معاملہ بھی بلاشبہ ایسا ہی سنگین ہے ۔ اللہ کرے کے ڈرامہ "فصیل جاں سے آگے "کے بارے میں مجاہدین سنجیدہ نوٹس لیں اور اللہ کی نصرت سے اس میں شریک مجرموں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں کیونکہ یہ لوگ بھی کسی طرح بڑے بڑے مجرموں سے کم نہیں ۔اور ان کا جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے ، اور انہیں چھوٹ دینا انتہائی نقصان دہ ہوگا ۔

ہمارا اعلان
ہم یہاں تمام مسلمانوں سے درخواست کریں گے کہ اس ڈرامہ کے ہدایت کار سے لے کر ، اس کے پارٹ ٹائم اداکار تک حصہ لینے والے افراد کی فہرست تیار کریں ، ان کے بارے میں خفیہ معلومات اگر کوئی ہوں تو انہیں مجاہدین تک پہنچائیں ، تاکہ یہ کام مجاہدین کے لیے آسان ہوجائے ۔
وماذلک علی اللہ بعزیز

تنظیم القاعدہ میں شمولیت کیسے ممکن ہے
بنوں کے طالب علم نے درخواست کی ہے کہ وہ جہاد میں شرکت کرنا چاہتے ہیں اور انہیں بتایا جائے کہ تنظیم القاعدہ میں شرکت کیسے ممکن ہے ۔
میرے پیارے بھائی تبصرے کے نیچے ، جواب دینے سے بہتر سمجھا کہ علیحدہ تحریر کردوں تاکہ دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں ۔ آپ نے ویسے بھی اپنا ای میل تو دیا ہی نہیں ۔ حالانکہ آپ نے لکھا ہے کہ جواب ضرور دوں ۔
تو بات یہ ہے کہ آپ بنوں میں رہتے ہیں یہاں سے جہاد کی سرزمین کچھ زیادہ دور بھی نہیں ۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ مجاہدین کی کسی بھی تنظیم میں شمولیت آسان نہیں ۔ اس کے لیے تنظیم کے اپنے اندر سے سفارش ضروری ہوتی ہے ۔ لہٰذا پہلے آپ اپنا کوئی سفارشی تلاش کریں ، جو آپ کو طالبان یا القاعدہ تک پہنچا دے ۔ محتاط رہیں ، کہیں سفارشی کی تلاش کرتے کرتے ، مرتدین تک نہ پہنچ جائیں ۔ ان سے حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ آپ صبح شام کے اذکار کے ذریعے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی پناہ میں آجائیں ۔اپنی نیت اللہ کے لیے خالص کرلیں ۔ اپنی عبادات کے ذریعے اللہ کو راضی رکھنے کی کوشش کریں ۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہو گئے تو وہ آپ کے لیے جہاد کے دروازے کھول دیں گے اور ان شاء اللہ آپ معرکوں میں ضرور حصہ لیں گے ۔میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔یاد رکھیے صبح شام کے اذکار میں کوتاہی نہ ہونے پائے ۔
بات چیت

3 تبصرے:

Behna Ji said...

Assalamoalykum respected irfan bhaee

aap nay kha k:


اور یہ یقین دل میں بٹھا لیں کہ احتیاط کی ابتدا اور انتہا اللہ عزوجل کے ذکر کے ساتھ ہو ۔تو بہت سے فرشتے حفاظت پر مامور کر دیے جاتے ہیں

is hwalay say mujhay yaad aya aik dfa maulana masood azhar sahab ki taqreer main unhon ny surah yaseen ki ye ayat btaee thi jis say dushman ki aankhon main dhool jhonki jaa sakti hay owr aap unky shar say mehfooz reh sakty hain inshaALLAH.ye unka indian jail main zati tajraba tha.owr mera bhi airport pr immoral screening camera say bachny ka zati tajrab hay ye ayat Alhumdulillah.

وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ

اور ہم نے ان کے سامنے ایک دیواربنادی ہے اور ان کے پیچھے بھی ایک دیوارہے پھر ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے کہ وہ دیکھ نہیں سکتے

ابو جمال said...

بہن اگر آپ کو صرف تبصرہ کرنے کے لیے بلاگر کا پروفائل بنانا پڑا ہے تو اس کی ضرورت نہ تھی

آپ اس بلاگ پر گمنام تبصرہ بھی کر سکتی ہیں اور چاہیں تو نام اور یو آر ایل کا آپشن بھی استعمال کرسکتی ہیں جس میں یو آر ایل کے خانے کو بھرنا ضروری نہیں

umme tamiyah said...

ALLAH ap sb apni rehmat farmaye ,mujahideen dron attacks kay markaz ko tabah karnay ki planning kiun nhe kartay ?itni jano ka nuqsan bardasht kar rhay han ...imarat e islami ki tarhe yhan bhe apnay ekaqay qaym krain.

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ