Subscribe:

Monday, March 21, 2011

ای میل اور تبصرے



السلام علیکم بھائی آپ سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آپ لوگ میرا مطلب ہے جو اپنے کو مجاہدین کہتے ہیں ، کیا آپ آسان الفاظ میں بتا سکتے ہیں کہ آپ چاہتے کیا ہے ۔۔۔ یعنی یہ بتائیں کہ فرض کیا آپ تمام پولیس ، انٹیلی جنس ، کرنل جرنل صدر اور تمام حکومتی اہلکاروں کو حکومت کے سمیت ختم کر دیتے ہیں ۔۔۔۔ پر فائدہ ۔۔۔ ؟؟؟ وہ اور آجائیں گے ۔۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ حکومت سے لڑائی لگا کر بیٹھ جائیں ۔۔۔ اور انقلاب آجائے ۔۔۔ ذرا بتائیں تو صحیح ۔۔۔ برا نہ مانیے گا ۔۔۔ آپ چاہتے کیا ہیں ۔۔۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا ۔۔۔ یہ طالبان آخر چاہتے کیا ہیں ؟؟؟؟
بھائی ، وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ۔۔۔
آپ نے پوچھا ہے کہ میں آسان اور سادہ الفاظ میں بتاؤں کہ ہم کیا چاہتے ہیں
ہم چاہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہماری مغفرت فرما دیں ،  ہمیں اپنے راستے میں شہادت اور جنت کے اعلیٰ ترین درجات عطا کر دیں  اور ہمیں انبیاء ، صیدیقین ، شہداء اور صالحین کی رفاقت میسر آجائے ۔۔۔
حقیقت میں تو ہم اسی مقصد کے لیے اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہیں

بات یہ ہے کہ جب اللہ کا حکم آجائے تو اس سے فرار ممکن نہیں ہے ۔۔۔ یہ سوال اٹھانے کی ہمیں اجازت نہیں کہ اللہ کے حکم کو پورا کرنے سے کون سا فائدہ حاصل ہوگا ۔۔۔ نہ ہی ہمیں اپنے دین میں کہیں یہ نصیحت  ملی  ہے کہ اگر فائدہ حاصل ہوگا تو اللہ کا حکم پورا کرو ورنہ چھوڑ دو

ہمیں ڈر ہے کہ ہم جہاد چھوڑ کر کہیں اللہ کی وعیدوں کے مستحق نہ بن جائیں ۔۔۔ اس لیے یہ سوال ہمارے لیے قطعاً غیر ضروری ہے کہ دنیا میں جہاد کا کیا فائدہ ۔۔۔

اگرچہ ہماری خواہش ضرور ہوتی ہے کہ جہاد کے اثرات اور نتائج اس دنیا میں بھی ظاہر ہو جائیں
یعنی اسلام کو فتح اور غلبہ ملے اور کفر  ذلیل اور مغلوب ہو جائے
خلافت کا احیاء ممکن ہو اور اللہ کی زمین پر اللہ کی شریعت نافذ ہو جائے

امید ہے اب آپ کو سادہ الفاظ میں جواب مل گیا ہوگا جس کے لیے آپ بار بار تبصرہ اور ای میل ارسال کر رہے تھے اور میں یہ سمجھ کر کہ سوال قطعاً غیر سنجیدہ ہے اس کا جواب دینے سے گریز کر رہا تھا ۔۔۔۔


اب جواب دینے کی باری آپ کی ہے آپ بتائیں کہ جو لوگ جہاد ترک کر کے بیٹھے ہوئے ہیں وہ دین اور امت مسلمہ کی کون سی خدمت کر رہے ہیں ۔۔۔ اسلام کے غلبہ ، خلافت کے احیاء اور شریعت کے نفاذ کے لیے ان کے پاس کون سا سنجیدہ لائحہ عمل ہے

السلام علیکم
یہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے میں اللہ کے راستے میں کوئی عظیم کارنامہ انجام دینا چاہتا ہوں ۔۔۔ کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں
کنڑ خان

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ وہ کون سا عظیم کام ہے جسے انجام دینا آپ کی خواہش ہے ۔ اگر آپ فدائی حملہ کرنے کے خواہش مند ہیں تو یقیناً یہ ایک بڑی کامیابی اور عظیم سعادت کی بات ہے ۔ لیکن میں کس طرح آپ کی مدد کرسکتا ہوں یعنی آپ بتائیں کہ آپ کس طرح کی مدد چاہتے ہیں ۔



کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل کو کیونکر جائز قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ یہ دونوں حضرات صرف توہینِ رسالت کے قانون میں اصلاح کی کوشش کر رہے تھے تاکہ کوئی ان قوانین کو باہمی جھگڑوں یا غیر مسلموں کے خلاف غیر قا نونی  امتیاز کے لئے غلط استعمال سے روکا جا سکے۔ سلمان تاثیر کے ھوالے سے تو کچھ شواہد دستیاب ہیں لیکن شہباز بھٹی کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے کیونکہ اس کے لئے تو تنظیمِ اسلا می کے امیر کا بھی بیان آیا ہے کہ شہباز بھٹی بے گناہ تھا اور اس کا قتل ٹھیک نہیں ہوا کیونکہ وہ صرف توہینِ  رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اصلاحات کی کوشش کررہا تھا؟
شہباز بھٹی ایک حربی کافر تھا ۔۔۔ معاہد نہیں تھا ۔۔۔ پھر وہ کفریہ حکومت کا وفاقی وزیر بھی تھا ۔۔۔ اس کا  خون تو یقیناً مباح ہے ۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔۔۔۔
البتہ یہ بات ضرور مشتبہ ہے کہ شہباز بھٹی توہین رسالت کا مرتکب تھا یا نہیں ۔۔۔  یہ  درست ہے کہ شہباز بھٹی براہ راست توہین رسالت میں ملوث نہیں تھا لیکن یہ بات یاد رہے کہ توہین رسالت کا معاملہ انتہائی نازک اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس معاملہ میں احتیاط کا تقاضا ہے کہ قوانین میں ترمیم کے خواہش مند پہلے اپنی پوزیشن واضح کریں ۔۔۔ بہر حال شہباز بھٹی کے حربی کافر ہونے کی وجہ سے اس کے قتل پر اٹھایا جانے والا  سوال کسی حد تک غیر ضروری ہوجاتا ہے ۔۔۔ کیونکہ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اس کے دیگر جرائم کافی ہیں  ۔۔۔
تنظیم اسلامی کے امیر مترددین اور مشککین  میں سے ہیں ، اس لیے ان کے بیان سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے   ۔۔۔  کہ شہباز بھٹی  بے گناہ تھا اور اسکا قتل ٹھیک نہیں تھا ۔۔۔ 
اللہ تعالیٰ ہم سب کی حق بات کی طرف رہنمائی فرمائیں ۔۔۔ آمین ۔۔۔ 

رہی بات سلمان تاثیر کی تو اسے مجاہدین نے قتل نہیں کیا۔۔۔ جس نے کیا اللہ اس کے عمل کو قبول فرمائیں ۔۔۔

جزاک اللہ عرفان بھائی
اللہ آپکو جزائے  خیر دے
ایک اور سوال پاکستان میں موجود ملعون جمہوری نظام جو برائے نام تو اسلامی جماعت ہے  جیسا  جی یو آئی ،جماعت اسلامی  ۔ فضل الرحمان اور منور حسن کیا یہ علماء سوء نہیں ہے؟؟؟ حب المال کی لیے  دنیا وآخرت کو تباہ و برباد کردیتے  ہیں  کیا یہ سرکاری علماء نہیں ہیں ؟؟؟  ان کا شرعی حکم کیا ہے؟؟؟ کیا یہ ارتداد میں شامل نہیں ؟؟؟ پلیز ان باتوں کا جواب ضرور دیں؟؟؟؟

جمہوری نظام کے متعلق آپ کے الفاظ خلط ملط ہوگئے ہیں ۔۔
اس کے بعد آپ نے فضل الرحمان اور منور حسن کے بارے چار سوالات کیے ہیں ۔۔۔ اور یہ  تمام سوالات انتہائی خطرناک ہیں   ۔۔ ۔ ایسے سوالات پوچھ کر آپ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔۔۔ 
کیا یہ سرکاری علماء ہیں  ؟؟؟
کیا یہ علمائے سوء ہیں؟؟؟
ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟؟؟
کیا یہ مرتد ہیں ؟؟؟
شیخ ابو مصعب سوری (اللہ تعالیٰ انہیں رہائی عطا فرمائے ) دعوۃ القاومۃ الاسلامیہ العالمیہ میں لکھتے ہیں کہ علمائے سوء کے خلاف  ہتھیار سے جہاد نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔ علمائے سوء کے خلاف محض قلم سے جہاد ہوگا ۔۔۔ سوائے ان اہداف  کے جہاں انتہائی ناگزیر ہو۔۔۔
فضل الرحمان اور منور حسن علمائے سوء میں  شامل ہیں یا نہیں یہ تو یقینی نہیں لیکن ان دونوں افراد کو بھی ہم اس فہرست میں شامل کر سکتے ہیں جن کے خلاف ہتھیار سے جہاد کرنے میں نقصان عظیم کا اندیشہ ہے۔  لہٰذا ان سے اعراض کیا جائے گا اور ان کے غلط افکار کا ابطال کرنے کے لیے مجاہدین قلم سے کام لیں گے ۔۔۔۔  جب تک ان میں سے کوئی سرکاری عہدہ یا منصب قبول نہیں کرتا ۔۔۔
واللہ اعلم ۔۔۔

بہر حال میں آپ کے سوال کو  اس ویب سائٹ کے توسط سے مجاہدین کے علماء تک پہنچانے کی کوشش کروں گا

میرا نام خان ہے ۔۔۔ اور میں انڈیا سے تعلق رکھتا ہوں ، میں امید کرتا ہوں جی آپ بخیر اور محفوظ ہوں گے ۔ اور دعا بھی یہی کرتا ہو ۔ میں آپ سے جاننا چاہتا ہوں کہ مجاہدین کی کیا حکمت عملی ہے انڈیا کے بارے میں ۔ کیا آپ لوگ غافل ہیں ؟ کیا آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے ان کے ساتھ ، ایسا کچھ جو آپ امریکہ کے ساتھ کرتے ہیں ؟ کیا آپ کو انڈین پاور کے بارے میں کچھ ڈر ہے ؟
ہمیں ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگ یہاں کے مسلمانوں کو مسلمان مانتے ہی نہیں تبھی تو ان کے درد اور غم  کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ آپ کی نظروں میں فلسطین ھی مسلمان ہیں اور ان کا ہی درد ہے
بڑی مہربانی فیوچر سٹراٹجی کے بارے میں کچھ بتائیے
اللہ حافظ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجاہدین نے بھارت کو کبھی فراموش نہیں کیا ۔۔۔ امریکہ کے بعد اسی کی باری ہے ۔۔۔ آپ نے شاید تمام ویڈیوز نہیں دیکھیں ورنہ آپ ایسی بات نہ کہتے کہ مجاہدین بھارت کے معاملے میں غفلت کا شکار ہیں ۔۔۔ مجاہدین اپنی مقدور بھر کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔ دنیا بھر میں پہلے ہی بہت سے محاذ کھلے ہوئے ہیں  ، اور ان تمام محاذوں کے لیے مجاہدین کی تعداد ناکافی ہے ۔۔۔ مجاہدین کی ویڈیوز میں بھارت اور کشمیر کا ذکر اسی طرح آتا ہے کہ ۔۔۔ امریکہ کی رخصتی کے بعد مجاہدین افغانستان کے راستے بھارت یا کشمیر پہنچنا شروع کردیں گے ۔۔۔

  بھارت کے متعلق آیئندہ کی حکمت علمی کیا ہے یہ بھی انشاء اللہ جلد معلوم ہو جائے  گا ۔۔۔ فی الحال بھارت کے مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد اور شوق شہادت پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ اس کے نتیجے میں ہمیں یقین ہے کہ بھارتی مسلمانوں کے اندر تحریک مزاحمت کھڑی ہوجائے گی اور وہ اپنی سطح پر محاذ خود ہی کھول لیں گے ۔۔۔۔ جب یہ محاذ کھل جائے گا تو انہیں دنیا بھر کے مجاہدین سے مدد پہنچنی شروع ہو جائے گی ۔۔۔

اسی  سلسلے کی دوسری کڑی یہ ہے کہ بھارتی مسلمان جہاد میں شرکت کے لیے مختلف محاذوں پرنکلنا شروع کریں  تاکہ جہاد کی تربیت لینے کے بعد وہ واپس اپنے علاقوں میں جائیں اور مجاہدین کی تربیت کرسکیں  ۔۔۔
تعداد کی بالکل پرواہ نہ کریں ۔۔۔ یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے کام ہیں ۔۔۔
بس آپ یہ فکر کریں کہ عالمی جہادی تحریک کے ساتھ بھارتی مسلمانوں کا رابطہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔  ہم بھی اپنی جگہ غور کر رہے ہیں

Saturday, March 19, 2011

فیصل آباد میں حساس ادارے پر حملہ


عرفان بھائی میری بات کا برا نہ مانیے گا ۔ انٹرنیٹ پر کوئی بھی شخص بلاگ یا ویب سائٹ بنا کر اپنے آپ کو مجاہدین سے منسوب کرسکتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم آپ پر کس طرح ٹرسٹ کرسکتے ہیں کہ آپ کا تعلق واقعی مجاہدین سے ہے پلیز کوئی دلیل وغیرہ دے دیں ۔
آپ کی یہ بات واقعی درست ہے کہ کوئی غیر مجاہد جہادی ویب سائٹس بنا کر مجاہدین یا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر سکتا ہے ۔۔۔
یہ کوششیں دو طرح سے کی جاسکتی ہیں

اولاً ۔۔۔ مجاہدین کے خلاف جاسوسی کرنے کے لیے خفیہ ایجنسیاں ایسی ویب سائٹ بنا سکتی ہیں
دوم۔۔۔۔ عامۃ السلمین یا مجاہدین کو گمراہ کرنے کے لیے  بنائی جائیں تاکہ جہاد کو بدنام بھی کیا جائے اور لوگوں کو خالص اور شرعی جہاد سے دور رکھا جائے ۔۔۔

دوسری قسم کو پہچاننا آسان ہے ۔۔۔ خالص جہادی ویب سائٹ کو پہچاننے کا ایک طریقہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ اس کے بارے میں دیگر جہادی ویب سائٹس اور ان کے منتظمین کیا رائے رکھتے ہیں ۔۔۔  اور وہ کون کون سی ویب سائٹس ہیں جن کے ربط یعنی لنک دوسری ویب سائٹ پر موجود ہیں ۔۔۔۔
لیکن پہلی قسم کو پہچاننا آسان نہیں ہوگا ۔۔۔  کچھ عرصہ پہلے مجھے بھی ایک ویب سائٹ پر گمان ہوا تھا  کہ اسے خفیہ ایجنسیاں چلا رہی ہیں ۔۔۔۔ لیکن کچھ عرصے بعد اندازہ ہوا کہ میرا گمان ٹھیک نہیں ہے  ۔۔۔ 
اس بارے میں آپ صرف یہ احتیاط کرلیا کریں کہ اگر آپ کو کسی جہادی ویب سائٹ پر شک ہے تو اسے وزٹ کرتے ہوئے پراکسی سرور کا استعمال ضرور کر لیا کریں ۔۔۔  اور اس کے منتظم سے غیر ضروری طور پر ای میل سے  رابطہ نہ کریں ۔۔۔ اس پر رجسٹر ہونے سے گریز کریں ۔۔۔ اس پر تبصرہ نقل کرنے سے بھی بچیں وغیرہ ۔۔۔ اگرچہ یہ سب کام پراکسی سرور کے ساتھ ممکن ہیں ۔۔۔۔ 
ایک اچھا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ویب سائٹ کے منتظم سے کوئی ایسا سوال کریں جس کا جواب صرف مجاہدین ہی صحیح دے سکتے ہوں
اور احتیاطی تدابیر کے علاوہ ۔۔۔ دعائیں اور اذکار سے مدد لے لیا کریں ۔۔۔۔ اللہ کی لعنت ہو اللہ کے دشمنوں پر ۔۔۔۔
والسلام۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیصل آباد میں حساس ادارے کے اوپر ہونے والے حملے کے متعلق ایک تبصرہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ کام ٹھیک نہیں تھا کیونکہ اس میں بڑی تعداد میں سویلین لوگ مرے ہیں ۔ تبصرہ نگار نے مجھے تنبیہہ کی ہے کہ میں شیخ عطیۃ اللہ کی کتاب " شریعت کی نظر میں قتل ناحق کی حرمت اور ممانعت " کی روشنی میں اپنا اور اس بلاگ پوسٹ کا جائزہ لوں ۔ اور کیوں کہ یہ کارروائی اس کتاب کی روشنی میں ٹھیک نہیں اس لیے اسے اپنے بلاگ سے ہٹا دوں ۔ کیونکہ اس طرح کی خبر سے مجاہدین کے بارے میں غلط تاثر جاتا ہے ۔

میرے بھائی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے آپ کی نیت کا علم نہیں ۔۔۔ نہ ہی آپ نے یہ ظاہر کیا ہے کہ آپ کا تعلق مجاہدین سے ہے یا نہیں ۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی نیت اخلاص پر مبنی ہو لہٰذا میری طرف سے جواب حاضر ہے
آپ نے یہ  مشورہ تو دیا ہے کہ اس خبر کو اپنے بلاگ سے ہٹا دوں ۔۔۔۔لیکن آپ کا مشورہ میرے لیے زیادہ کارآمد اس وقت ہوتا جب  آپ یہ بھی ذکر کرتے کہ آپ کے نزدیک یہ کارروائی کس نے کی تھی ۔۔۔۔ اور اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے ۔۔۔۔ اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کارروائی مجاہدین نے نہیں کی تھی ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
میرے پاس غیب کا علم نہیں لیکن جو بات ظاہر ہے وہ یہی کہ یہ کارروائی مجاہدین نے ہی انجام دی تھی ۔۔۔۔  ایسے میں زیادہ مفید ہوتا کہ آپ مجھے اس خبر کو ہٹانے کے بجائے یہ نصیحت کرتے کہ کیوں کہ یہاں مجاہدین نے غلطی کی ہے لہٰذا میں اپنی تحریر میں تبدیلی کرکے مجاہدین کو اس غلطی پر تنبیہہ کروں اور آئندہ زیادہ احتیاط کا مشورہ دوں ۔۔۔

اب آپ یہ بتائیں کہ آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس دھماکہ میں عام مسلمان شہید ہوئے ہیں ۔۔۔ اگر آپ نے اخبارات اور ٹی وی میں دیکھا ہے تو یہ بات عجیب ہے کہ آپ نے مجاہد ہو کر دجالی میڈیا کی خبر کو کیوں قبول کر لیا ۔۔۔ کیا آپ کے پاس اس خبر کا کوئی زیادہ قابل اعتماد ماخذ ہے ۔۔۔۔ اگر ہے تو
وہ کون سا ہے یہ ضرور بتائیں تاکہ ہم مجاہدین کو بھی یہ خبر ارسال کریں کہ ان کی کارروائی کا یہ انجام ہوا ہے ۔۔۔ 

یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ آپ کی بنیادی بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے ۔۔۔۔ یعنی اگر ایسا ہی ہے جیسا آپ کہہ رہے ہیں کہ عام لوگ اس حملے میں زیادہ مارے گئے ہیں اور کافروں اور مرتدین کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تو ایسی صورت میں یقیناً ہم سب آپ سے متفق ہوں گے کہ ہاں یہ حملہ غلط تھا ۔۔۔ اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔
لیکن ہمارا گمان یہی ہے کہ مجاہدین نے ہدف کافروں اور مرتدین کو بنایا تھا ۔۔۔۔ اور جس جگہ گاڑی کھڑی کر کے دھماکہ کیا ہے ۔۔۔ اور وہاں جو تباہی آئی ہے اس نے کافروں اور مرتدین کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔۔۔ اور اگر اس حملہ میں بدقسمتی سے کوئی مسلمان بھی نشانہ بن گیا تو ان شاء اللہ وہ شہادت کا درجہ پائے گا ۔۔۔۔ بہتر ہوتا کہ آپ یہ ذکربھی  کردیتے کہ آپ نے اس کتاب کے ساتھ ساتھ "کفار پر عام تباہی کی شرعی حیثیت "بھی پڑھ رکھی ہے ۔۔۔ اور آپ مسئلہ تترس سے واقف ہیں ۔۔۔۔
اب میں آتا ہوں ایک اور پہلو کی طرف :
چلیں کچھ لمحوں کے لیے گمان کر لیں کہ مجاہدین سے یہاں غلطی سرزد ہوئی ہے ۔۔۔۔  ایسے میں ہمارے لیے تین صورتیں ممکن ہوتی ہیں ۔۔۔۔
ایسے میں کیا یہ مناسب ہے کہ اس کارروائی کا ذکر ہی نہ کیا جائے ۔۔۔ یعنی خاموش رہا جائے ۔۔۔۔
یا یہ مناسب ہے کہ اس کو ہم جھوٹ بول کر کسی دوسرے کے سر پر ڈالنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔
یا یہ بہتر ہے کہ ہم اسے مجاہدین کی کارروائی تسلیم کرلیں ۔۔۔ ساتھ ہی مجاہدین کی غلطی کو بھی ۔۔۔۔

ظاہر ہے ان تینوں میں سب سے بہتر آخری والی ہے ۔۔۔ خاموش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو عامۃ المسلمین کو پورا پورا موقعہ دیا جائے کہ وہ مجاہدین کو ہی اس کا مورد الزام ٹھہرائیں اور انہیں جہادی کے بجائے فسادی تصور کر لیں ۔۔۔ اور دوسری طرف مجاہدین بھی اس کو اپنی روایت بنا لیں گے کہ جب بھی کوئی خطرناک قسم کی غلطی سرزد ہوگی تو اصلاح کی طرف توجہ دینے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیں گے ۔۔۔
دوسری صورت کی شریعت اجازت نہیں دیتی یعنی جھوٹ بول کر دوسروں کے سر پر ڈالا جائے ۔۔۔
تیسری سب سے بہتر ہے ۔۔۔ کیونکہ مجاہدین کوئی فرشتے نہیں ۔۔۔ انسان ہیں ۔۔۔ معصوم عن الخطاء نہیں ۔۔۔ کیا ہم یہ نہیں دیکھتے کہ بحیثیت مسلمان ہم بہترین زمانے سے چودہ صدیوں کے فاصلے پر کھڑے ہیں ۔۔۔۔ ہر مسلمان کے لیے ہر طرح کی تربیت کی ضرورت ابھی باقی ہے ۔۔۔   لیکن اگر کوئی فرد مجاہدین کے متعلق یہ تصور رکھے کہ وہ فرشتے ہوں ، کبھی کوئی غلطی نہ کریں ، ان سے کبھی خطا صادر نہ ہو۔۔۔  وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ اور وہ یہ کہے کہ میں جہاد میں صرف اسی وقت شرکت کروں گا جب مجاہدین اس معیارکو پہنچ جائیں گے ، تو یہ شیطانی دھوکہ ہے اور وہ جان لے کہ یہ موقعہ کبھی نہیں آئے گا یعنی اللہ تعالیٰ ایسے گمراہ آدمی کو ہمیشہ جہاد سے دور رکھیں گے ۔۔۔۔
واللہ اعلم ۔۔

Wednesday, March 16, 2011

فدائی حملہ آور وں کی عمریں اور نیٹو ڈرائیور کے ساتھ نرمی کرنا


السلام علیکم
بھائی میں نے جامعہ حفصہ والے فورم پر ایک ویڈیو دیکھی درہ آدم خیل والی ۔۔۔ اس میں ایک پولیس سٹیشن کو خودکش حملے سے تباہ کیا ۔۔۔ جس بندے نے کارروائی کی اس کی عمر ۱۳ یا ۱۴ سال ہوگی ، اس کے علاوہ بھی اور پاکستان والی ویڈیوز میں اکثر ۱۳ سے ۱۷ سال تک کے لوگ حملہ کرتے ہیں ۔۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے ۔۔۔ سوال میرے ذہن میں یہ اٹھا ہے کہ کوئی زیادہ عمر والا جیسے ۳۰ یا ۳۵ سال کی عمر تک کیوں نہیں کرتا ، ہو سکتا ہے کرتا ہو لیکن اب تک میں نے جتنی ویڈیوز دیکھی ہیں ، تقریباً سب میں اس عمر کے بندے اٹیک کرتے ہیں ۔۔۔ پلیز یہ بات مجھے کلیئر کر دیں
اور دوسری بات یہ کہ اس ویڈیو میں ایک آدمی کا قتل کیا جاتا ہے اس کی گردن کاٹی جاتی ہے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی اسلامی میڈیا جب اس طرح کی ویڈیو بنائے تو اس کا قصور بھی ضرور بتائے ، ترجمے کے ساتھ ، ہو سکتا ہے وہ صرف ڈرائیور ہو جو کنٹینر لے کر جا رہا ہو ۔۔۔ اور ہو سکتا ہے اگر ایک بار اسکو وارننگ دے کر چھوڑ دیا جائے تو وہ باز آجائے ۔۔ کیوں کہ جب تلوار کے نیچے سے نکل کے جائے گا تب نیکسٹ ٹائم وہ سوچے گا ضرور ۔۔۔ فی امان اللہ ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خوش قسمت ہے وہ مسلمان جس کے نزدیک ہدایت اور حق بات کو پالینا دنیا کے خزانوں کو پالینے سے بہتر ہے ۔۔۔ اور مبارک کے لائق ہیں وہ اہل ایمان جو حق کو باطل سے علیحدہ دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور اس کے لیے کوشش کرتے ہیں ۔۔۔

جو سوالات آپ کے ذہن میں پیدا ہوئے وہ مجاہدین کے حوالے سے عام ہیں ۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے یہ سوالات پوچھ کر ہم دونوں کے لیے اجر کا بہترین موقعہ فراہم کر دیا ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے ۔۔۔۔

خود کش حملہ نہیں فدائی حملہ
میرے پیارے بھائی آپ جانتے ہیں کہ اسلام میں خود کشی حرام ہے ۔۔۔ سب سے پہلے یاد دہانی کروانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ فدائی مجاہدین کی کارروائیوں کو خود کش حملہ قرار دیں ۔۔۔ آپ سے پہلی درخواست یہ ہے کہ اس نوعیت کے حملوں کے لیے ہمیشہ فدائی ، شہیدی یا استشہادی حملے کے الفاظ استعمال کریں ۔۔۔ خود کش حملے کی اصطلاح جو آپ نے استعمال کی یہ کافروں کی بنائی ہوئی ہے ، آپ الحمدللہ مسلمان ہیں ، چنانچہ وہ الفاظ اور اصطلاحیں استعمال کریں جو اسلامی شریعت سے ماخوذ ہوں ۔۔۔۔

فدائی حملہ آوروں کی عمریں

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مجاہد کمانڈرز فدائی حملہ کرنے کے لیے اپنے مجاہدین پر زور دیتے ہیں ، اور جب کوئی اس کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے تو یہ کارروائی کی جاتی ہے ۔۔۔ حالانکہ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔۔۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی مجاہد کو بھی فدائی حملے کے لیے زور زبردستی نہیں کروائی جاتی ۔۔۔ بلکہ وہ مجاہدین جو شہادت کی تڑپ اور آرزو میں بے تاب ہوجاتے ہیں وہ اپنے کمانڈرز سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کا نام استشہادی حملہ کرنے والوں کی فہرست میں داخل کر دیا جائے ۔۔۔۔ اب صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ۔۔۔ ایک ایک کمانڈر کے پاس کئی کئی درخواستیں آجاتی ہیں ۔۔۔ کمانڈر دیگر امراء کے ساتھ مشورہ کرتا ہے ۔۔۔ اور ان درخواست گزاروں میں سے کسی ایک کو موزوں سمجھتے ہوئے کسی کارروائی کے لیے چنا جاتا ہے ۔۔۔

میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ بعض اوقات درخواست گزاروں کی یہ فہرست کئی سو سے تجاوز کرکے ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یقیناً ایسا ہونا بھی چاہیے ۔۔۔

اب آپ خود سوچیں کہ جو کام مشوروں سے انجام پاتا ہے ، اور جس کام میں کئی تجربہ کار کمانڈرز اور امراء کا مشورہ شامل ہوتا ہے ، وہ کسی حکمت سے خالی تو نہ ہوگا ۔۔۔ کیونکہ مشورہ میں اللہ تعالیٰ نے خیر رکھی ہے ۔۔۔ ظاہر ہے کہ مجاہد کمانڈرز کی خواہش ہوتی ہے کہ زیادہ تجربہ کار مجاہدین میدان کارزار میں دشمن کے خلاف قتال کرتے رہیں اور کم تجربہ کار کو فدائی حملے کے لیے روانہ کر دیا جائے ۔۔۔۔

لیکن یہ بات کہنا غلط ہوگی کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔۔ ہمارے سامنے مجاہد کمانڈر شیخ شاکراللہ رحمہ اللہ کی مثال ہے ۔۔۔ شیخ شاکر اللہ القاعدہ کے بہت پرانے ، تجربہ کار اور بڑے کمانڈر تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں شہیدی حملے کے لیے گذشتہ آٹھ سال سے درخواست کر رہا ہوں ۔۔۔ لیکن میری درخواست قبول ہی نہیں کی جاتی تھی ۔۔۔ جب بھی وہ اپنے امراء سے فدائی حملے کی بات کرتے وہ منع کردیتے ۔۔۔۔ ظاہر ہے امیر اسی لیے منع کرتے ہوں گے کہ وہ محض ایک فدائی حملے کے لیے جس میں کوئی کم تجربہ کار بھی اپنی جان قربان کرسکتا ہو ۔۔۔ شیخ شاکر اللہ کو کیوں قربان ہونے دیں ۔۔۔۔۔ لیکن ان کی یہ آرزو اس طرح پوری ہوئی کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ انہوں نے اپنے امراء سے اس خواب کا ذکر کیا اور اپنی آرزو کا بھی ۔۔۔ چنانچہ ایک طویل مدت کے انتظار کے بعد شیخ شاکر اللہ کی درخواست قبول کر لی گئی اور انہوں نے افغانستان میں ایک فدائی حملہ کیا تھا ۔۔۔۔ اگر آپ کو کہیں سے مل سکے تو یہ ویڈیو ضرور دیکھیں ۔۔۔ انگریزی ترجمے والی تو میں نے خود دیکھی ہے ۔۔۔ اردو ترجمے کا معلوم نہیں کہ دستیاب ہے کہ نہیں ۔۔۔ اس طرح کی اور مثالیں بھی موجود ہیں اگرچہ کم ہیں ۔۔۔۔


قتل والی ویڈیوز اور نیٹو کے ڈرائیور


میرے علم میں اب تک کوئی ایسی ویڈیو نہیں گزری جس میں مجاہدین نے کسی کو قتل یا ذبح کیا ہو اور اس کا قصور بیان نہ کیا ہو ۔۔ ہاں ترجمے کی ضرورت کا احساس مجھے بھی ہے ۔۔۔۔
آپ نے ڈرائیور کو چھوڑنے کا جو مشورہ دیا ہے ، مجاہدین پہلے اسی پر عمل کرتے آئے ہیں ، یعنی اس سے پہلے یہی ہوتا رہا ہے اور ایک یا دو وارننگ دی جاچکی ہوتی ہیں ۔۔۔ اور اب یہ ضروری نہیں کہ دنیا کے ہر ڈرائیور کو یہ وارننگ دی جائے ۔۔۔۔ جو بات مشہور ہے اس کا علم ان ڈرائیوروں کو اچھی طرح ہے

اب اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ ڈرائیور یا جاسوس کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ پیسوں کی لالچ میں کرتے ہیں ۔۔۔۔

مجھے ایک دوست نے مجھے بتایا تھا کہ اس کا رشتہ دار کنٹینر ڈرائیور ہے ۔۔۔ اس سے پوچھا کہ کیا کبھی مجاہدین نے روکا تو اس نے بتایا کہ ہاں ایک مرتبہ پشاور سے آگے روکا تھا ۔۔۔ اسے اتار کر کنٹینر جلا دیا اور اس کا نام اور شناختی کارڈ لکھ کر دھمکی دی تھی کہ دوبارہ نظر آئے تو مار دیں گے ۔۔۔ لیکن یہ جان کر آپ کو بھی افسوس ہوگا کہ وہ بعد میں کافی عرصے تک دوبارہ وہی کام کرتا رہا ۔۔۔ اور جب میرے دوست نے حیرانی سے پوچھا کہ پھر بھی ابھی تک اسی کام میں لگے ہو تو کہنے لگا کہ کیا کریں مجبوری ہے ایک چکر کے دو سے تین لاکھ مل جاتے ہیں ۔۔۔۔
اب آپ مجھے بتائیں کہ ان جیسوں کا علاج کیا ہونا چاہیے ۔۔۔
جب تک ڈرائیوروں کی لاشیں چوک پر نہ لٹکائی جائیں دوسرے کیسے ہوش کریں گے ۔۔۔۔
کیا انہیں معلوم نہیں کہ وہ مسلمانوں کے قتل میں کفار کے شریک کار ہیں ۔۔۔۔ جو سامان وہ لے کر جارہے ہیں اسی کے ذریعے مسلمان بستیوں اور گھروں کو راکھ کا ڈھیر بنایا جانے والا ہے ۔۔۔۔

واللہ اعلم ۔۔۔

Tuesday, March 15, 2011

پاکستانی جہادی تنظیمیں



پاکستانی جہادی تنظیمیں  (حزب المجاہدین، جماعۃ الدعوۃ، جیشِ محمد ، البدر و دیگر)  ؟؟؟

یہ تحریر  ایک مجاہد ساتھی نے ارسال کی ہے
 اللہ انہیں بہترین جزا عطا فرمائیں

سوال:   میں سپاہِ صحابہ کا ایک کارکن ہوں اور آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا اِس تنظیم میں کام کرنا جائز ہے؟ نیز پاکستانی جہادی تنظیموں (حزب المجاہدین، جماعۃ الدعوۃ، جیشِ محمد ، البدر و دیگر) کے ساتھ مل کر کام کرنا  کیسا ہے؟  

جواب از
 محمد عمر الخراسانی   حفظہ اللہ:

 مذکورہ سوال دو حصوں پر مشتمل ...ہے ۔ اس سوال کا پہلا حصہ سپاہِ صحابہ میں کام سے متعلق جبکہ دوسرا حصہ پاکستانی جہادی تنظیموں سے متعلق ہے ۔ سوال کے پہلے حصے کا جواب یہ ہے کہ سپاہِ صحابہ بنیادی طور پر دفاعِ ناموسِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے مقصد کی خاطر پاکستان میں قائم کی گئی تھی اور پاکستان میں شیعیت کے کفر اور اُن کے بعضِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کو عامۃ المسلمین پر واضح کرنے کے سلسلے میں سپاہِ صحابہ کی مساعی قابلِ قدر ہیں۔ اِس امر میں شک کی قطعاً گنجائش نہیں اور سلف و خلف کے علماء کی اکثریت کا بھی یہی مؤقف ہے کہ  گستاخیٔ اہلِ بیت و صحابہ رضی اللّٰہ عنہم  موجبِ کفر ہے لیکن اپنی تمام تر کوشش و مساعی کو صرف اِسی ایک نکتے پر مرکوز رکھنا اور بلادِ اسلامیہ پر مرتد حکام ، اُن کے صلیبی و صہیونی آقاؤں کے تسلط، شعائرِ اسلام کی پامالی اور دورِ حاضر کے دیگر سُلگتے مسائل کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی قابلِ فہم طرزِ عمل نہیں ہوسکتا۔ آج دُنیا میں ’’اسلامی‘‘ کہلانے والے
۵۷ نام نہاد آزاد ممالک پر نظر دوڑایئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کہیں بھی اسلام بطورِ غالب نظام نافذ نہیں ، الٰہی احکام و قوانین کی پامالی مملکتِ خداداد کہلانے جانے والے اِس ملک میں اپنے عروج پر ہے ۔ نظامِ حکومت اللّٰہ ، اُس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بغاوت پر مبنی اور کافرانہ ہے ۔ ہماری معیشت سود کی بنیاد پر قائم ، معاشرت رسوم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی، نظام تعلیم لارڈ میکالے اور ڈارون کے گمراہ کن نظریات پر عمل پیرا، خارجہ / داخلہ پالیسیاں وسیع تر قومی مفاد یعنی ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے کفریہ نعرے کی بنیاد پر  غرض ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (الروم ۴۱) خلاصہ یہ کہ حاکمیتِ الٰہی کے قیام  کی جدوجہد میں شامل ہوجایئے ، اِس لئے کہ –أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الاعراف ۵۴)جب حکم اُس کا چلے گا  تو باقی مسائل آپ اپنی موت مرتے جائیں گے۔ دوسری بات یہ کہ شیعیت کو کافر قرار دینے کا مطالبہ کس سے کیا جاتا ہے ؟ اُسی سیاسی قیادت سے جس کی اکثریت شیعہ ، سیکولر اور لادین جمہوری نظام کو اختیار کرنے والی ہے ۔ سپاہِ صحابہ کو دفاعِ ناموسِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم اور شیعیت کو قانوناً کافر قرار دِلوانے کی جدوجہد کرتے ۲۰ برس ہوچکے ہیں ۔ بے نظیر بھٹو، نواز شریف، اور اب زرداری ۔۔۔۔ کتنی ہی بدعنوان اور لادینیت پسند حکومتیں آئیں اور گزر گئیں ، آخر یہ سعیٔ لاحاصل کب تک ؟ اور اگر شیعیت کو اللّٰہ سے باغی اِس نظام نے کافر قرار دے بھی دیا تو اِس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟  أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدہ ۵۱) مسلمانوں کے بہت سے گروہ نہایت اہم لیکن ضمنی مسائل ہی کے محور پر کام کررہے ہیں ۔ کسی نے شیعوں کو ہدف بنا رکھا ہے ، کوئی قادیانیوں کے خلاف جدوجہد کررہا ہے  تو کوئی محض دعوت و اصلاح کی بنیاد پر کام کررہا ہے ۔ یہ تمام اُمور حد درجہ اہم ہیں لیکن اِن سب کے ساتھ ساتھ ہماری نظر مذکورہ مسائل کی جڑ یعنی حاکمیتِ الٰہی اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی واپسی پر کیوں نہیں؟ کیوں نہ ہم اُس بڑے مقصد کے لئے کام کریں جس کے پورا ہونے پر ہمارے تمام مسائل – خواہ وہ دینی ہوں یا دُنیاوی ، اِس دنیا کے ہوں یا اُس دنیا کے – حل ہوجائیں گے اور ہمیں نصرتِ مہدی اور نصرتِ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شرف بھی حاصل ہوجائے گا ۔ انشاء اللّٰہ مذکورہ بالا تمام اُمور کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسے گروہ میں شامل ہوکر  اپنی توانائیاں صرف کیوں نہ کریں جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منہج اور دعوت کے مطابق کا م کررہا ہو ۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے : ’’خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے اور اُن کو کوئی بھی واپس نہیں کرپائے گا یہاں تک کہ وہ ایلیاء (بیت المقدس) میں نصب کئے جائیں گے‘‘ (رواہ احمد؛ مسند ابوہریرہ؛ حدیث ۸۵۷۷) اور ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ جب تم اُن کو دیکھ لو تو تم پر لازم ہے کہ اُن کی اتباع کرو اور اُن سے آملو خواہ تمہیں برف پر گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔  بے شک اُن میں اللّٰہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے (سنن ابن ماجہ ؛ کتاب الفتن ؛ حدیث ۴۰۸۲) نیز علی رضی اللّٰہ عنہ کا قول ہے کہ جب تم پر حق و باطل کی پہچان دُشوار ہوجائے تو یہ دیکھو کہ باطل کے تیروں کا رُخ کس جانب ہے ؟ حق کو پہچان لو ، حق والوں کو خود ہی پہچان جاؤ گے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مجموع الفتاویٰ میں امام عبداللّٰہ بن مبارک اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللّٰہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب لوگ کسی بات میں اختلاف کا شکار ہوجائیں تو یہ دیکھو کہ محاذ والوں کی رائے کیا ہے! اِس لئے کہ حق اُن کے ساتھ ہے ، اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنکبوت ۶۹) ----------------------------- بلد العجائب ’’پاکستان‘‘ میں جہاں کئی دیگر چیزیں ساری دُنیا سے نرالی ہیں ، وہیں اِس کی ایک انوکھی بات یہ بھی ہے کہ یہ شاید دُنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں جہاد کی بھی دو اقسام ہیں : قانونی جہاد اور غیر قانونی جہاد ۔ قانونی جہاد سے ہماری مراد اُن پاکستانی جہادی تنظیموں کا جہاد ہے جن کے لئے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے خود کشمیر کا دروازہ کھولا ، اُنہیں حکومتِ پاکستان کے مفادات کے لئے استعمال کیا اور اپنے مذموم مقاصد پورا کروانے کے لئے (اِس کے لئے کارگل کے محاذ کی مثال ہی کافی ہے)اِن تنظیموں سے جتنا تعاون ضروری تھا ، اُتنا تعاون بھی کیا ۔ پس اِن تنظیموں کو آزاد کشمیر  میں تربیتی معسکرات چلانے  اور دارالحکومت اسلام آباد سمیت پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں دفاتر کھولنے اور اپنی سرگرمیاں علانیہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی ۔ اِس سب کے بدلے اِن کے قائدین کو محض ایک بات کا پابند کیا گیا کہ یہ چاہے ساری دُنیا کے خلاف جہاد کی بات کریں لیکن پاکستان میں قائم نظامِ کفر کے خلاف جہاد کا سوچیں بھی مت۔ جہاد کی یہ قسم قانوناً جائز ہے اور اسے پاکستانی سرکار کی پشت پناہی بھی حاصل ہے ۔ گوکہ ملکی مفاد کی خاطر کبھی  اُن کو بھی قربانی کا بکرا بننا پڑ جاتا ہے جیساکہ آج کل بعض تنظیموں کے ساتھ عملاً ہورہا ہے  ۔ (اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ ان تنظیموں میں نچلی سطح پر  مخلص مجاہدین کی کوئی کمی نہیں چنانچہ ہم یہاں  بحیثیت مجموعی ایک تنظیم کے طور پر اُن کا ذکر کررہے ہیں ، اُن کے مخلص افراد یہاں موضوعِ بحث نہیں) طاغوتی چھتری تلے چلنے والی اِن تنظیموں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اُن کے تربیتی نظام میں (جسے آئی ایس آئی نے بڑی توجہ سے ترتیب دیا ہے ) اس بات کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے کہ جہاد کی نیت سے آنے والے مخلصین یہ نہ جان سکیں کہ شریعت میں جہاد فی سبیل اللّٰہ کے اصل اہداف و مقاصد کیا ہیں ؟ پس معسکرات میں تربیت کے دوران ، نیز تحریر و تقریر اور ترانوں و نعروں وغیرہ کے ذریعے ایک ہی مفہوم ذہن میں راسخ کیا جاتا ہے کہ جہاد سے مقصود محض کشمیر و افغانستان کی سرزمین کی آزادی اور مظلوم ماؤں بہنوں کی مدد کرنا ہے ۔ (خواہ آزادی کے حصول اور ظلم کے خاتمے کے بعد وہاں کوئی نام نہاد مسلمان اسی کفریہ نظامِ حکومت کو بعینہٖ اُسی طرح بحال رکھے) چنانچہ کفر و شرک کا خاتمہ ، کفر  پر مبنی نظام ہائے حکومت کی بربادی ، شریعت کا نفاذ اور خلافت کے قیام جیسے مقاصدِ اساسی کا قطعاً کوئی تذکرہ اُن تنظیموں کے یہاں نہیں ملتا ۔ پاکستانی فوج اور ایجنسیاں اِس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جو شخص بھی شریعت کی روشنی میں جہاد کے مقاصد کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لے گا ، وہ نہ صرف کشمیر و افغانستان کے محاذوں پر لڑتے ہوئے اُن کو اوامر کا پابند نہیں رہے گا بلکہ اُس کی بندوق کا رُخ کسی بھی وقت کسی دوسرے علاقے میں قائم نظامِ کفر کی طرف بھی پھر سکتا ہے ۔ اِسی لئے وہ مجاہدین کو جہاد کے بنیادی مقاصد سے غافل رکھنے کا پورا اہتمام کرتے ہیں ۔ انہی مقاصد جہاد کا ذہنوں میں راسخ نہ ہونا گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اِنہی مقاصد سے غافل ہونے کے سبب روس کے خلاف جہاد کے بعد مجاہدین کی تنظیموں خانہ جنگی کا شکار ہوئیں ۔ جیسا کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللّٰہ اپنی ایک ویڈیو ٹیپ بعنوان ’’پاکستانی افواج اور عوام کے نام ایک پیغام ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’یہاں میں جس چیز پر زور دوں گا ، وہ یہ ہے کہ کشمیر کی آزادی سے پہلے خود اس جہاد کو آئی ایس آئی سے آزاد کرانا ضروری ہے‘‘ جہاد کی دوسری قسم پاکستان میں غیرقانونی قرار دی گئی ہے ۔ یہ اُن فی سبیل اللّٰہ مجاہدین کا جہاد ہے (خواہ اُنہیں طالبان کا نام دیا جائے یا القاعدہ کا) جو جہاد کے معنی اور مقاصد کتاب اللّٰہ ، سُنَّتِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور تشریحاتِ سلف سے سمجھے ہیں ۔ جو نہ صرف اپنے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کی تکالیف دور کرنے ، اُن پر مسلط غاصب کفار کو پچھاڑنے اور مسلم سرزمینیں بازیاب کرانے اُٹھے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ اُن کی نگاہیں کفر و شرک کے خاتمے ، کلمۂ توحید کی سربلندی اور خلافت کے قیام کے مقاصدِ اساسی پر بھی مضبوطی سے جمی ہیں ۔ یہ مجاہدین آدھا نہیں ، پورا کلمۂ حق کہنے کے خوگر ہیں۔ اور اسی لئے وہی فوج جو جہاد کی اوّل الذکر قسم کو فروغ دیتی ہے ، اس شرعی جہاد کو لمحہ بھر برداشت نہیں کرتی ۔ اپنی پوری قوت لے کر پہاڑوں اور غاروں تک میں ان کا تعاقب کرتی ہے اور امریکہ کے ساتھ مل کر ان کا خون بہاتی ہے ۔ بلاشبہ یہ پورا منظر نامہ ان مخلصین کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو ابھی تک ’’قانونی جہاد‘‘ کرنے والی تنظیموں سے علیحدہ نہیں ہوئے ۔ اللّٰہ ہمیں جہاد فی سبیل اللّٰہ کی راہ میں استقامت اور اُسی راہ میں شہادت کی موت عطا فرمائے ۔ آمین  
 محمد عمر الخراسانی




Monday, March 14, 2011

فیس بک اور دعوت جہاد وقتال ۔۔۔دوسرا حصہ





جہاد ویب سائٹس کی تشہیر کے لیے فیس بک کا استعمال کرنے سے خاطر خواہ نتائج مل سکتے ہیں ۔۔۔۔
یہ کام فرداً فرداً ہر زائر یعنی وزٹر بھی کر سکتا ہے اور بعض مجاہد ساتھی اگر اس کام کو معمول بنا لیں تو بہتر ہے ۔۔۔۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی فرضی  فیس بک اکاؤنٹ سے ۔۔" لوگ ان "۔۔ ہو کر ، کسی بھی جہادی ویب سائٹ یا بلاگ یا صفحے کا ربط فیس بک وال پر ثبت کریں گے ۔۔ ۔۔۔ اور اس کے نتیجے میں آپ کے جتنے بھی دوست ہیں ان تک اس صفحے کا تعارف پہنچ جائے گا ۔۔۔۔
پچھلی پوسٹ میں یہ ترغیب دلائی جاچکی ہے اور اس کا م کو کرنے کا مختصر طریقہ بھی سمجھا یا گیا تھا ۔۔۔
فی الحال اس کام کے لیے مناسب احتیاط کرنے کا مشورہ دینا چاہتا ہوں ۔۔۔
یہاں میں اپنی پچھلی پوسٹ سے ایک اقتباس دوبارہ نقل کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ مجاہدین جو انٹرنیٹ کی دنیا سے وابستہ ہیں ۔۔۔ ان کے لیے فیس بک کا تعارف نیا نہیں ہوگا  ۔۔۔ اس لیے فیس بک کے استعمال پر تفصیل سے لکھنا وقت ضایع کرنے کے برابر ہوگا ۔۔۔۔ یہاں صرف فیس بک کو دعوت جہاد یا دوسرے الفاظ میں جہادی ویب سائٹس کی مشہوری کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دلانا ہے ۔۔۔۔

۱:
اس مقصد کے لیے فیس بک پر اپنے اصلی اکاؤنٹ کو ہرگز استعمال نہ کریں  ۔۔۔۔

۲:
خاص اس مقصد کے لیے فیس بک پر فرضی نام سے ایک نیا اکاؤنٹ بنائیں ۔۔۔ اس سے  پہلے  آپ کو ایک ای میل بنانی ہوگی کیونکہ  فیس بک کا نیا اکاؤنٹ بناتے ہوئے  ایک ای میل فراہم کرنا ضروری ہے ۔۔۔

۳:
ای میل اور فیس بک اکاؤنٹ بنانے کے لیے پراکسی سرور کا استعمال ضرور کریں ۔۔۔۔ پراکسی سرور کے استعمال کے لیے ایک براؤزر مخصوص کرلیں ۔۔۔ مثلاً  فائر فوکس ۔۔۔۔  اور آئندہ تمام جہادی کاموں کے لیے صرف اسی براؤزر کا استعمال کریں ۔۔۔۔

۴:
تشہیر سے پہلے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ دوست  بنالیں ۔۔۔۔ اگر آپ نے ابتدا ہی میں تشہیر شروع کر دی تو ممکن ہے آپ کو زیادہ لوگ دوست بنانا پسند نہیں کریں ۔۔۔۔ تشہیر شروع کرنے کے بعد بھی آپ کے دوستوں کا اضافہ ممکن ہے  لیکن وہ سست روی سے ہوگا ۔۔۔۔  شروع میں اس کام میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے ۔۔۔ کوشش کریں پہلے کم از کم تیس ، چالیس دوست بن جائیں ۔۔۔

۵:
اب آپ جہادی ویب سائٹس کے لنک فراہم کرنا شروع کردیں ۔۔۔۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس جہادی ویب سائٹ پر ویجیٹ موجود ہو وہاں کلک کر کے فیس بک اکاؤنٹ داخل کریں ۔۔۔ چند سیکنڈ میں وہ صفحہ خود بخود آپ کے دوستوں کے درمیان گردش کر رہا ہوگا ۔۔۔۔  جس جہادی ویب سائٹ پر ویجیٹ موجود نہ ہو اسے شئیر کرنے کے لیے آپ کو پہلے فیس بک کا صفحہ کھولیں پھر  جہادی ویب سائٹ کا ویب ایڈریس کاپی کر کے اسے اپنی وال میں پوسٹ کردیں  ۔۔۔۔ یہ کام دو سے تین منٹ لے سکتا ہے ۔۔۔

۶:
دوست بنانے اور تشہیری کام کے لیے بھی  ضرور کسی پراکسی سرور کااستعمال کریں ۔۔۔۔  دنیا میں بیشتر پراکسی سرور فیس بک سروس کو سپورٹ کرتے ہیں ۔۔۔۔ لہٰذا اگر ٹور سوفٹ وئیر کام نہ کرے تو  پراکسی فار فری کی ویب سائٹ پر جائیں اور کسی پراکسی ویب سائٹ سروس کو استعمال کرکے دیکھیں ۔۔۔۔۔ فائر فوکس کے ساتھ ۔۔۔۔

۷:
تشہیر شروع کرنے کے بعد بھی دوست بنانے کا عمل جاری رکھیں ۔۔۔اگرچہ وہ سست روی سے ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔یہ بات یاد رہے کہ فیس بک ایک سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ہے ۔۔۔ جو چیز بھی  آپ اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کرتے ہیں  ضروری نہیں کہ یہ صرف  انہی تک محدود رہے ۔۔۔۔ بلکہ یہ شئیرنگ ان کے وال پر بھی پوسٹ ہوجاتی ہے ۔۔۔ اور اس طرح ناظرین کی تعداد ضرب ہوکر کئی گنا تک پہنچ جاتی ہے ۔۔۔۔۔  اگر آپ فیس بک سے کسی حد تک واقف ہیں تو یہ بات سمجھنا آپ کے لیے دشوار نہیں ہوگی ۔۔۔۔ اللہ سے اجر کی نیت اور اخلاص کی دعا کے ساتھ اس کام کو کریں ۔۔۔

آئیندہ کسی وقت کے لیےادھار:
بلاگزپر  تبصروں  کے ذریعے جہادی ویب سائٹس کی تشہیر کرنا

واللہ غالب علی امرہ ۔۔۔ولکن اکثر الناس لا یعلمون ۔۔۔
آپ کی دعاؤں کا طلب گار
عرفان بلوچ
والسلام

Saturday, March 12, 2011

فیس بک اور دعوت جہاد وقتال



یہ تحریر عرفان بلوچ کی ہے۔۔۔تکنیکی خرابی کے باعث میں پوسٹ کر رہا ہوں ::: ابو جمال :::

چند روز قبل ایک مجاہد ساتھی کے ساتھ گفتگو کے بعد سے فیس بک کے استعمال کی تجویز اور اس کی ضرورت زیر غور تھی ۔ کافی غور وفکر کے بعد الحمدللہ یہ تحریر لکھنے پر دل آمادہ ہوگیا ہے ۔ امید ہے مجاہد ساتھی اس تجویز پر اپنی رائے دینا پسند کریں گے ۔

 الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين، ونذيراً للناس أجمعين، وعلى آله وصحبه الغرّ الميامين، الذين استجابوا لله ورسوله فأقاموا الدين.

جہاد و قتال کی دعوت ، دو وجوہات سے اہم اور براہ راست جہاد کا حصہ سمجھی جاتی ہے  ۔
اولاً 
قدیم زمانے سے ہی عسکریت کا مسلم عقیدہ ہے کہ لوگوں کی رائے عامہ کو جنگ کے لیے ہموار کیے بغیر نہ جنگ جیتی جا سکتی ہے نہ ہی لڑی جا سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ "قلوب و اذہان کی تسخیر " (propaganda warfare) کو جنگ کا جزو لاینفک شمار کیا جاتا  ہے ۔ اور اسلامی نقطہ نظر سے بھی یہ بات کسی حد تک درست تصور کی جا سکتی ہے ۔آج کے زمانے میں اس کی اہمیت کئی گنا زیادہ  ہے کیونکہ دجالی میڈیا نے مجاہدین کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر رکھی ہے ، اور امت مسلمہ اپنے حقیقی محسنین کو پہچاننے سے قاصر ہے ۔ایسے میں مجاہدین کے موقف کو امت مسلمہ تک پہنچانے کے لیے قلوب واذہان کی تسخیر کی جنگ نہایت اہم ہے۔
دوم
جہاد کے لیے مومنین کو تحریض دلانا ، جہاد کا حصہ اور واجب امر ہے ، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا طریقہ ہے ۔ جب بھی جہاد کا موقعہ ہوتا اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے سامنے جہاد کی فرضیت اور فضیلت بیان کرتے ۔ شہداء کے درجات کا ذکر کیا جاتا ، بلند اور اعلیٰ درجات کی جنتوں کا شوق دلایا جاتا ، جہاد کو ترک کرنے والے کے لیے وعیدیں بیان کرتے ۔اور ایسا کرنے کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُواْ مِئَتَيْنِ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّئَةٌ يَغْلِبُواْ أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُونَ
اے نبیؐ، آپ مومنوں کو جنگ پر اُبھاریں اگرآپ  میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو ایک ہزار کافروں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے  (انفال ۶۵)

فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّهِ لاَ تُكَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَاللّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنكِيلاً
پس اے نبی  آپ اللہ کی راہ میں لڑیں ، آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں  ، البتہ اہل ایما ن کو لڑنے کے لیے ترغیب دیں ، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دیں ، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ۔ (النساء ۸۴)

ان آیات کی روشنی میں علمائے جہاد کے مطابق جہاد کے لیے مومنین کو تحریض دلانا یوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی اور اب آپ کی اقتدا میں یہ سنت ہے لیکن جہاد کی بنیادی اور لازمی ضرورت ہونے کی بنا پر تمام علماء اور داعیان دین پر یہ واجب یا فرض کی حیثیت رکھتا ہے ۔

جہاد کے لیے تحریض اور قتال کی دعوت کا اسلوب کیا ہو اور ایک داعی جہاد کو کن باتوں کا لحاظ کرنا ہوگا یہ ایک انتہائی اہم اور تفصیل طلب موضوع ہے ۔ شیخ ابو مصعب سوری کی  معرکۃ الآرا تصنیف "دعوۃ المقاومۃ الاسلامیہ العالمیہ" کے دوسرے حصے کا آٹھواں باب "نظریۃ الاعلام والتحریض فی دعوۃ القاومۃ "اس موضوع پر تفصیل سے احاطہ کرتا ہے ۔ یہ سلسلہ  صفحہ نمبر ۱۴۳۷ سے ۱۴۹۹ تک پھیلا ہوا ہے ۔میری خواہش ہے کہ اگر فرصت میسر آئے تو اس موضوع پر شیخ ابو مصعب السوری  (اللہ تعالیٰ انہیں جلد قید سے رہائی دلائیں)کی تحاریر کا منتخب حصہ اردو میں ترجمہ کر کے اس بلاگ پر پوسٹ کرسکوں ۔

تاحال میں انٹرنیٹ کی دنیا کے حوالے سے چند تجاویز سامنے لانا چاہتا ہوں تاکہ مجاہدین کی ویب سائٹس کو عامۃ المسلمین تک متعارف کروایا جاسکے ۔

ہم جانتے ہیں کہ  گذشتہ کئی سال سے مجاہدین کے اعلام کے مختلف مجموعات مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں ، جن میں کتابوں اور رسائل کی نشر و طباعت کے علاوہ صوتی بیانات اور ویڈیوز نشر کرنا شامل ہیں ، جنہیں سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کی صورت میں پھیلایا جاتا رہا ہے ۔
ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے مجاہدین کو یہ توفیق دی کہ اس کی تائید سے اب اردو زبان میں کئی جہادی ویب سائٹس منظر عام پر آچکی ہیں ۔ اس سے پہلے اردو میں جہادی مواد کو انٹرنیٹ پر  تلاش کرنے کے لیے عربی اور انگریزی کی ویب سائٹس کو کھنگالا جاتا رہا تھا ۔
ادھورا کام
میں اپنے تمام مجاہد بھائیوں کو یہ چھوٹی لیکن اہم توجہ دلانا چاہتا ہوں  کہ جہاد ی مواد کی تیاری محض ادھورا کام ہے ۔  میں نے بارہا یہ بات محسوس کی ہے بعض اوقات جہادی  مواد کی تیاری کے سلسلےمیں جس درجے شوق ، جوش اور لگن کے ساتھ کام کیا جاتا ہے ، اس درجہ میں ان جہادی مواد کو پھیلانے کا کام نہیں کیا جاتا ۔ اور یہ دعوت و تحریض کے میدان میں ایک بہت بڑی خلا ہے ، جسے پر کرنے کی ضرورت ہے ۔

مثلاً جس طرح کتابیں اور ویڈیوز نشر کرنے والے ادارے اس بات کے محتاج ہیں کہ مجاہدین اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد ان کے تیار کردہ مواد کو انٹرنیٹ پر اور سی ڈیز ، ڈی وی ڈیز کی صورت میں پھیلائیں اور اسے مطلوبہ افراد یا اہداف تک یا گھر گھر پہنچائیں ۔اسی طرح ویب سائٹس کے حوالے سے بھی شاید اس کام کی ضرورت باقی ہے ۔ کیونکہ ویب سائٹس کا کام ابھی نیا ہے ۔

میں نے ویب سائٹس کی مشہوری کے حوالے سے بعض مفید معلومات اکٹھی کی ہیں ۔۔۔  جن میں سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس کا استعمال بھی شامل ہے ۔۔۔۔

ویب سائٹ کی تشہیر
ویب سائٹ کی تشہیر  کے لیے جو مختلف تکنیک استعمال کی جاتی ہیں وہ آٹھ یا دس کے قریب ہیں  ۔۔۔۔ان سب کو یہاں بیان کرنے کا موقعہ نہیں ۔۔۔ کیونکہ جہادی ویب  سائٹس کے لیے ان تمام تکنیک کو استعمال کرنا ممکن نہیں ۔۔۔ لہٰذا مجاہدین صرف چند صورتوں پر عمل کرسکتے ہیں جن میں سے ایک سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس ہیں ۔۔۔ ان  میں سب سے زیادہ مشہور فیس بک اور ٹویٹر ہیں۔۔۔پاکستان میں ابھی ٹویٹر کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔ ویسے بھی فیس بک استعمال کرنے والے افراد ٹویٹر استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں ۔۔۔ اس لیے اردو جہادی ویب سائٹس یا اس  خطے کے مسلمانوں کے لیے فیس بک کا استعمال مفید ہوگا ۔

وہ مجاہدین جو انٹرنیٹ کی دنیا سے وابستہ ہیں ۔۔۔ ان کے لیے فیس بک کا تعارف نیا نہیں ہوگا  ۔۔۔ اس لیے فیس بک کے استعمال پر تفصیل سے لکھنا وقت ضایع کرنے کے برابر ہوگا ۔۔۔۔ یہاں صرف فیس بک کو دعوت جہاد یا دوسرے الفاظ میں جہادی ویب سائٹس کی مشہوری کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دلانا ہے ۔۔۔۔

یہ ترغیب مجاہدین کے علاوہ جہادی ویب سائٹس کے منتظمین کے لیے بھی ہے ۔۔۔ کیونکہ اس کے لیے انہیں اپنی ویب سائٹ میں ایک چھوٹی سی تبدیلی کرنی ہوگی ۔۔۔۔ چنانچہ  یہ ترغیب دو حصوںمیں منقسم ہے
پہلا حصہ ویب سائٹ کے منتظمین کے لیے ہے
دوسرا حصہ ویب سائٹ کے زائرین یعنی وزٹرز کے لیے ہے

ویب سائٹ کے منتظمین اگر ویجیٹ سے واقف ہیں تو اپنی ویب سائٹ پر اس کا اضافہ کر لیں
ویجیٹ ایک ایسا سائبر آلہ ہے جس کے ذریعے ویب سائٹس کے صفحات کو فوری اور با آسانی سوشل نیٹ ورکنگ سے منسلک کیا جاسکتا ہے ۔ یوں سمجھ لیں یہ ایک چھوٹا سا لیکن انتہائی کارآمد سوفٹ وئر ہے جسے ویب سائٹ کے منتظمین دنیا بھر میں اپنی ویب سائٹ کی مشہوری کے لیے صفحات کے ساتھ منسلک کر دیتے ہیں ۔ تاکہ اگر کوئی زائر ﴿visitor   اس صفحے کی افادیت کے پیش نظر اس ویب سائٹ یا صفحے کو دوسروں کے ساتھ شریک کرنا چاہے تو اسے لمبے چوڑے اقدامات نہ کرنے پڑیں ۔ بلکہ اس کی وجہ سے محض ایک بٹن کلک کرتے ہی اس کے سامنے مختصر سا فارم  آجاتا ہے جس میں اپنا نام اور پاس ورڈ ڈال کر وہ چند سیکنڈ میں اس صفحے کو کہیں بھی شئر کر سکتا ہے ۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہوں کہ ویجیٹ کیا چیز ہے تو وکی پیڈیا کا یہ لنک ملاحظہ کریں
سب سے زیادہ مشہور ویجیٹ سروس دینے والی کمپنی ایڈ دِس ہے ۔ جس کا لنک دیا جا رہا ہے ۔

یہ ایک ویجیٹ ہے جو ایڈ دس سے حاصل کیا جاسکتا ہے
اس پر ماؤس لے جانے سے یہ بوکس کھلتا ہے  جس میں بہت سارے بٹن لگے ہیں

مثلاً فیس بک استعمال کرنے والا اسے فیس بک شئر کرنا چاہے تو فیس بک کے بٹن پر کلک کرے گا
جس پر یہ فارم کھل جائے گا


ای میل اور پاسورڈ ڈالتے ہی یہ ونڈو کھلے گی
اور آخر میںshare   پر کلک کرنا ہوگا


یعنی ویجیٹ کی وجہ سے یہ کام باآسانی چند سیکنڈ میں ہوجاتا ہے ۔

جاری ہے ۔۔۔