Subscribe:

Thursday, March 3, 2011

ہندوستانی بھائی کی ای میل

ابو غریب بھائی نے لکھا ہے :
عرفان بھائی
السلام علیکم
اللہ سے امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے (اللہ آپ سب کی حفاظت فرمائے )
میری عمر ۔۔۔۔۔ سال ہے ، میں نے ۔۔۔۔۔ کے شعبہ میں انجینئرنگ کی ہے ، دو سال ۔۔۔۔۔ میں بھی زیر تعلیم رہا ہوں۔
میرا تعلق بھارت (انڈیا) سے ہے ، انڈیا میں۔۔۔۔۔۔ شہر سے ، میں نے آپ کا بلاگ دیکھا اس میں آپ نے ای میل کے جوابات دیے ہیں یہ سوچ کر آپ کو ای میل کر رہاہوں ۔ میں نے موحدین کی ویب سائٹ سے بہت سی کتابیں ڈاؤن لوڈ کیں اور انہیں پڑھ چکا ہوں ۔
اب میرا بہت دل چاہتا ہے کہ میں اس دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کرجاؤں ، آپ کو یہ جان کر یقینا حیرانی ہوگی اور مجھ پر یقین کرنا بھی مشکل ہوگا۔۔ لیکن میں اللہ پر امید لگا کر آپ کو یہ ای میل کر رہا ہوں اگر آپ اس سلسلے میں کچھ کر سکتے ہیں تو اللہ کے لیے مجھ پر یہ احسان کر دیں۔
اور بھی بہت سی باتیں ہیں آپ کو بتانے کی لیکن میں ابھی مناسب نہیں سمجھتا ، آپ کی ای میل کا انتظار کروں گا
ہند میں آپ کے مستضعفین بھائی
جو راہ نہیں پارہے
(خالص اللہ کے لیے دین کے رشتے سے ہماری مدد کریں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے بھائی ابو غریب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جواب تاخیر سے دینے پر معذرت ۔۔۔۔
آپ کا جذبہ اور دینی فہم قابل تحسین ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے لیے ہدایت میں اضافہ فرمائیں اور بہترین اعمال کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آپ نے ہند کو دار الحرب قرار دے کر دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے کی جو خواہش ظاہر کی ہے ، اس کو سمجھنے میں مجھے دقت ہو رہی ہے ، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ پاکستان کو دارالاسلام سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔
پاکستان دارالاسلام ہے کہ نہیں اس کی شرعی وضاحت تو علماء بیان کریں گے ۔ لیکن ہجرت کا خیال بہترین اور قابل تحسین ہے اس لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ ہجرت پر مختصر الفاظ نقل کردوں ۔
ہجرت دو قسم کی ہے :
پہلی قسم :
دارالکفر یا دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف
فی زمانہ اس ہجرت کی نوعیت میں فرق آگیا ہے ۔کیونکہ علماء نے دارالاسلام کی جو تعریف مقرر کی ہے اس کی رو سے اس وقت روئے زمین کا کوئی بھی ملک دارالاسلام کہلانے کا حقدار نہیں ہے علاوہ ان چند خطوں کے جہاں مجاہدین کے زیر قبضہ امارت اسلامیہ اپنی ابتدائی شکل میں جلوہ گر ہوچکی ہے ۔(مثلاً ، امارت اسلامیہ افغانستان ، امارت اسلامیہ قوقاز، امارت اسلامیہ جزائر مغرب ، امارت اسلامیہ بلاد الرافدین وغیرہ ) لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں پر یہ ہجرت فرض نہیں کیوں کہ امارت اسلامیہ اس درجہ کمزور ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی ۔ البتہ انہی بستیوں کے ان مسلمانوں پر فرض ہوگی جو کافر ممالک میں عیاشیاں کر رہے ہیں۔
بعض علمائے جہاد سے میں نے یہ سنا ہے کہ کافروں کے در میان رہائش اختیار کرنے پر جو وعیدیں ہیں ان سے بری ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے درمیان رہائش اختیار کی جائے ۔اس لیے آ ج کے زمانے میں کافر ممالک سے مسلمان ممالک کی طرف ہجرت اس ہجرت کا بدل تصور کی جاسکتی ہے ۔یعنی امریکہ ، کینیڈا خاص کر مغربی ممالک میں رہائش سے بہتر ہے کہ انڈونیشیا ، بنگلہ دیش وغیرہ میں رہائش اختیار کی جائے ۔
دوسری قسم:
دنیا بھر میں کہیں سے بھی رباط کی سرزمین کی طرف
یعنی جہاد کے لیے مسلمانوں کا گھروں سے نکلنا اور معرکوں کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنا ، یہ ہجرت مستقل اور عارضی دونوں صورتوں میں کی جاسکتی ہے ۔ اور فی زمانہ یہ ہجرت ہر مسلمان پر فرض ہے ، کیوں کہ آج جہاد ہر مسلمان پر فرض عین ہو چکا ہے ۔ اس کے لیے پس و پیش کرنا اور بہانے بنانا جہاد سے فرار ڈھونڈنے کے مترادف ہوگی ۔سوائے ان مجاہدین کے جنہیں جہادی امور کی انجام دہی کے لیے رباط سے دور رکھا گیا ہے ۔
اب آپ یہ بتائیے کہ آپ کس قسم کی ہجرت کرنا چاہے ہیں ۔ اگر آپ جہاد کے لیے ہجرت کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے مجاہدین مدد فراہم کر سکتے ہیں ۔

یہاں یہ ضروری اضافہ بھی کردوں کہ شرعاً جو حیثیت پاکستان کی ہے وہی حیثیت ہند کی ہے ، کیونکہ ہندوستان اصلاً دارالاسلام ہے اور اس پر کفار نے قبضہ کر رکھا ہے ، اور کفار سے اس قبضہ کو چھڑانا دنیا بھر کے مسلمانوں پر فرض ہے ۔
ایسا کیوں ہے ؟
اس لیے کیونکہ علماء کے نزدیک ہر وہ خطہ زمین جو ایک مرتبہ دارالاسلام بن جائے وہ قیامت تک دارالاسلام رہے گا خواہ کفار اس زمین پر قابض ہوجائیں اور خواہ کفار کا یہ قبضہ کئی صدیوں تک طاری رہے ۔ میرے پاس تفصیل اور وضاحت کے لیے فرصت نہیں بہتر ہوگا کہ آپ اس موضوع پر کچھ کتابوں کا مطالعہ کر لیں ۔
اس اعتبار سے پاکستان اور ہندوستان اصل میں دارلاسلام ہیں جن پر کفار کا قبضہ ہے ، یہاں مرتدین قابض ہیں وہاں ہندو مشرکین ، ان دونوں خطوں کو کفار کے قبضے سے چھڑانا اور اسلامی شریعت کا نفاذ اولاً یہاں کے مسلمانوں پر اور پھر دائرے کے صورت میں پھیلتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں پر فرض ہے ۔
واللہ اعلم ۔۔۔

4 تبصرے:

Anonymous said...
This comment has been removed by a blog administrator.
عرفان بلوچ said...

میرا خیال ہے کہ میں نے اتنی کچی گولیاں نہیں کھیلیں

Anonymous said...

ہاہاہاہاہاہا لو عرفان بھائی اب تو آپ کے رشتے بھی آنا شروع ہو گئے

ابو جمال said...

عرفان بھائی بلاگ پوسٹ کمنٹس کو ایڈٹ کرنے کا اختیار نہیں دیتا صرف اس کو ہٹایا جا سکتا ہے اس لیے آپ کے کہنے پر محترمہ کا ای میل ہٹا رہا ہوں


Assalam alaikum!
Dear Irfan Balouch i read you posts in this and previous blog of yours please give me your phone number or email ID online.
I Love you so much and i want to marry with mujahid please chat with me on xxxxxxxxxxx@yahoo.com.
ap jesa kahaingay mein wesay hi life guzarnay k liye tayyar hun apkay sath ap mujhsay baat karain mein apko apna phone number bhi denay ko tayyar hun agar ap kahain to.. or agar ap mujhsay milna cahtay hain to me live in karachi ap mujhsay mil saktay hain but please eik baar mujhsay online baat karlain ya mujhay email kardain takay mujain itminan naseeb hojayega.
i am waiting for your reply.

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ