Subscribe:

Friday, March 4, 2011

ذلیل ترین مخلوق

ایک صاحب کی ای میل موصول ہوئی ۔۔۔۔ شدید غصے سے بے تاب ان صاحب نے جن کا نام مختار ہے مجاہدین کے متعلق وہ زبان استعمال کی جو اخلاق باختہ لوگوں کا خاصہ ہے ۔۔۔۔ ان صاحب کا دعویٰ ہے کہ مجاہدین کتوں سے بھی بد تر ہیں۔۔۔ اپنے دعوے کی دلیل فراہم کرتے ہوئے یہ رقم طراز ہیں کہ کتے جس مالک کا کھاتے ہیں مرتے دم تک اس کے وفادار رہتے ہیں۔۔۔۔
میں نے اس مضحکہ خیز دلیل پر کافی دیر غور و غوض کے غوطے لگائے لیکن یہ اندازہ نہ لگا سکا کہ وہ اس دلیل کو مجاہدین پر کس طرح فٹ کرنا چاہتے ہیں۔ہو سکتا ہے وہ ان کافر گروہوں میں سے کسی ایک کو مجاہدین کا مالک تصور کرتے ہیں جن کے خلاف مجاہدین جنگ میں مصروف ہیں ۔
ممکن ہے ان کا مطلب یہ ہو کہ امریکہ ہمارا آقا اور مالک ہے ۔۔۔ اور کیونکہ ہم اسی کا کھاتے اور اسی کا پیتے ہیں لہٰذا ہمیں مرتے دم تک اسی کا وفادار رہنا ہوگا ۔۔۔ ہمارے لیے جائز نہیں کہ اپنے مالک و آقا امریکہ کے خلاف جنگ کریں ۔
ممکن ہے وہ یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ مجاہدین آئی ایس آئی کی پیداوار اور پروردہ ہیں ۔ لہٰذا مرتدین کی افواج ، مجاہدین کی اصل مالک ہیں اور ان کے خلاف جنگ لڑ کر مجاہدین کتوں سے بدتر پوزیشن پر آجاتے ہیں۔مجاہدین کو چاہیے کہ اپنے آپ کو مرتدین کے حوالے کردیں ۔کذا و کذا ۔۔۔
ہو سکتا ہے مختار صاحب یہ کہنا چاہتے ہوں کہ پاکستان کے کافر حکمران ہمارے مالک ہیں ، انہیں ہم پر اختیار حاصل ہے ، ہم ان کی رعیت ہیں ، اور ہمیں عقل و خرد سے عاری ہو کر جانوروں کی طرح ان کا وفادار رہنا چاہیے ۔
مختار صاحب نے کہیں اشارہ تو نہیں دیا لیکن ہو سکتا ہے وہ کہنا چاہتے ہوں کہ پاکستان ہمارا آقا اور مالک ہے اور ہم پاکستان کے بندے اور اس کے غلام ہیں ، ہمیں روٹی روزی یہی دیتا ہے ، ہمارا رزق اسی سے بندھا ہے لہٰذا مجاہدین کو اپنے اس معبود حقیقی کی قدر پہچان کر ، ہر ناطہ اور ہر رشتہ توڑ کر اسی کا ہو جانا چاہیے ۔ اپنا ہر وہ عقیدہ ، ایمان ، دین اور اسلامی رشتہ اس پر قربان کر دینا چاہیے جو اس کے مفاد کے خلاف ہو ۔اس پاک مٹی کی خاطر اپنے مذہبی اقدار کو دفن کرنا پڑے تو اس سے گریز نہ کرنا چاہیے ۔
اگرچہ مجاہدین پاکستان اور اہل پاکستان کے حقیقی خیر خواہ ہیں ، لیکن پاکستان کی کفریہ حکومت اور مرتد افواج سے بر سر جنگ ہونے کی بنا پر یہ غلط فہمی عام ہے ۔اور اسے پھیلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ ان صاحب کا مدعا یہی ہو ۔
واہ مختار صاحب واہ گویا آپ کے فلسفے کے تحت تو
مسلمانوں کا اپنے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم پر ظالموں کے خلاف اٹھنا اس بنا پر غلط قرار پاتا ہے کہ سلطان وقت کے لیے اپنی رعایا پر ہر طرح کا ظلم و ستم جائز ہے ، اور اس پر انہیں خاموشی کے ساتھ اس ظلم کو سہنا چاہیے
پاکستان کو ہمارے عقیدے اور دین پر فوقیت حاصل ہے
ایک پاکستانی کافر ہمارا بھائی ہے اور افغانستان کا مظلوم مسلمان ہمارے لیے غیر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا مشورہ آپ کے لیے یہ ہے کہ آپ نے یہ نام نہاد عقلیت جن سے مستعار لی تھی ، انہی کو واپس لوٹا دیں ،
یہ کسی مسلمان کے کام نہیں آنے والی ،
ضرورت ہے کہ خالص وحی الٰہی کی روشنی میں مسائل کو سمجھیں
مجاہدین اور پاکستانی افواج کے مابین جنگ کے مقاصد واضح ہیں
ایک گروہ اللہ کے راستے میں لڑ رہا ہے تاکہ کفر کا غلبہ توڑ کر پاکستان میں اسلامی شریعت نافذ کی جاسکے
اور دوسرا گروہ وطن اور مٹی کا نام لے کر جنگ کر رہا ہے تاکہ کفریہ نظام باقی رہے اور اسلامی شریعت کا نفاذ روکا جا سکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آپ خود ملاحظہ فرما لیں دلیل تو آپ نے صحیح دی ہے لیکن یہ مجاہدین کے بجائے کفار، منافقین اور مرتدین پر چسپاں ہوتی ہے کیونکہ معبود حقیقی تو وہی ایک ذات ہےجس کے ہم سب بندے ہیں ۔
الحمدللہ اہل ایمان اور مجاہدین اپنے آقا و مالک کو راضی رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔۔۔۔۔
جب کہ کفار و منافقین کا گروہ اپنے مالک کو بھول کر سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا ہے حالانکہ اس کی پکڑ کوئی زیادہ دور کی بات نہیں ۔سوائے ان کے لیے ، جنہیں توبہ اور ہدایت نصیب ہو جائے ۔
اسی لیے قرآن میں ارشاد ہے کہ
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ لڑتے ہیں وہ ذلیل ترین مخلوق ہیں



0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ