Subscribe:

Saturday, March 5, 2011

دارالاسلام

پیارے عرفان بھائی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ نے دارالاسلام کے حوالے سے دو باتیں لکھی ہیں ، ممکن ہے کہ مجھے سمجھنے میں غلطی ہو رہی ہو لیکن میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ سے وضاحت لے کر اپنی غلطی سے براءت کروں:

(۱) آپ نے کہا ہے کہ:

علماء نے دارالاسلام کی جو تعریف مقرر کی ہے اس کی رو سے اس وقت روئے زمین کا کوئی بھی ملک دار الاسلام کہلانے کا حقدار نہیں ہے علاوہ ان چند خطوں کے جہاں مجاہدین کے زیر قبضہ امارت اسلامیہ اپنی ابتدائی شکل میں جلوہ گر ہوچکی ہے ۔(مثلاً ، امارت اسلامیہ افغانستان ، امارت اسلامیہ قوقاز، امارت اسلامیہ جزائر مغرب ، امارت اسلامیہ بلاد الرافدین وغیرہ )

جب کہ آپ دوسری جگہ فرماتے ہیں:

کیونکہ علماء کے نزدیک ہر وہ خطہ زمین جو ایک مرتبہ دارالاسلام بن جائے وہ قیامت تک دارالاسلام رہے گا خواہ کفار اس زمین پر قابض ہوجائیں اور خواہ کفار کا یہ قبضہ کئی صدیوں تک طاری رہے

کیا اس سے مراد موجودہ صورت ہے ؟ برائے مہربانی تفصیل سے وضاحت فرمائیں ؟
(۲) کیا آپ اس موضوع پر لکھی کسی کتاب کی رہنمائی کرسکتے ہیں؟

میں آپ کا بے حد مشکور ہوں گا ۔

-------------------------

میرے بھائی

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کو میری تحریر کو سمجھنے میں جو دشواری پیش آئی اس کے لیے معذرت ، میں نے دوسرے حصے میں نے جو کچھ تحریر کیا ہے اس میں مجھ ہی سے ایک چوک ہو گئی ہے یوں سمجھ لیں کہ اس کی بہتر وضاحت کی جا سکتی تھی ۔

تفصیلی تو نہیں لیکن مختصر وضاحت کردیتا ہوں:

دارالاسلام کی بنیادی شرائط:

دار الاسلام کی جو مختصر ترین تعریف علماء نے کی ہے ، اس کی رو سے دار الاسلام کی دو بنیادی شرائط ہیں، بہت ہی سادہ اور آسان ، بقیہ اضافی خصوصیات تو ہوسکتی ہیں ، شرائط نہیں ۔

پہلی شرط : حاکم مسلمان ہو
دوسری شرط: قوانین خالصتاً اسلامی شریعت پر مبنی ہوں

یعنی کفریہ قوانین اور اسلامی قوانین کا ملغوبہ نہ ہو ، بلکہ خالص شرعی قوانین جاری و ساری ہوں

[حوالہ کے لیے دیکھیں:

دعوۃ المقاومۃ الاسلامیۃ العالمیۃ : شیخ ابو مصعب السوری :صفحہ نمبر ۹۸۳]

اس تعریف کی رو سے میری تحریر کے پہلے حصے میں غلطی نہیں بلکہ دوسرے حصے میں ہے ۔

دوسرے حصے میں جو کچھ کہا گیا تھا اس کے لیے دار الاسلام کے الفاظ صحیح نہیں تھے میرے لیے بہتر تھا کہ میں بلاد اسلامیہ کے الفاظ استعمال کرتا ۔ آپ کے استفسار پر اس مسئلہ کی تھوڑی مزید وضاحت کر رہا ہوں :
جو علاقے ایک مرتبہ مسلمانوں کے زیر تسلط رہے ہوں اور اب وہاں کفار قابض ہوں وہ ہمیشہ مسلم مقبوضہ علاقے تصور کیے جائیں گے ۔ یعنی بلاد اسلامیہ میں شمار ہوں گے ۔کفار کا ان علاقوں پر قبضہ جتنا بھی طویل ہوجائے وہ ان مسلم اراضی سے مسلمانوں کو اُن کے حق سے دستبردار نہیں کر سکتا ۔اور یہ مسئلہ بھی جہاد کے ان مسائل میں سے ہے جو دفاعی جہاد یا فرض عین کے ذیل میں آتے ہیں ۔

اس سے پہلے کہ میں اس کی وضاحت کروں یہ ضروری ہے کہ آپ دفاعی جہاد کے مسائل سے واقف ہوں ۔ لیکن کیونکہ یہ مسائل مشہور ہیں اس لیے انہیں تفصیل سے دہرانے کی ضرورت نہیں ۔ یہاں دفاعی جہاد کی صرف ایک صورت پر یاددہانی کروانا چاہتا ہوں اور وہ ہے مسلم سرزمینوں کے دفاع کا مسئلہ ۔یعنی مسلم سرزمینوں پر کفار حملہ آور ہوں تو ان کے دفاع کے لیے جہاد فرداً فرداً ہر مسلمان پر فرض عین ہوجاتا ہے ۔دفاعی جہاد میں کفار کے حملوں کی چار ممکنہ صورتیں بیان کی جاتی ہیں جن میں سے ایک مشہور صورت یہ بھی ہے کہ اگر کفار ایک چپہ بھر مسلم سرزمین پر بھی قابض ہوجائیں تو اس کو کفار کے قبضے سے چھڑانا مسلمانوں پر فرض عین ہو جائے گا ۔اور اس وقت تک فرض عین رہے گا جب تک اس زمین کو کفار کے قبضے سے چھڑا نہ لیا جائے ۔

[اس مسئلہ کو تفصیل سے جاننا چاہتے ہوں تو اس کے لیے کتابیں بھری پڑی ہیں ۔ میں چند ان کتابوں کے نام لکھ رہا ہوں جن میں یہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ دیا گیا ہے ۔

ایمان کے بعد اہم ترین فرض عین :عبداللہ عزام ؒ اردو، انگریزی ، عربی

مشاری الاشواق الی مصاری العشاق : امام ابن نحاس ؒ ۔۔۔( باب اول) انگریزی ، عربی

دعوۃ المقاومۃ الاسلامیۃ العالمیۃ : شیخ ابو مصعب السوری :صفحہ نمبر۱۳۸ تا ۱۹۰ عربی

اب آتا ہوں اس طرف جہاں میری ایک چوک سے غلط فہمی پیدا ہوئی تھی ۔میری تحریر کا مدعا یہ تھا کہ

اگر بلاد اسلامیہ پر کفار کا قبضہ طویل یا مستقل ہو جائے اور مسلمانوں کی کئی نسلیں بیت جائیں تو بھی جہاد کی فرضیت ساقط نہیں ہوجائے گی ، بلکہ اب نئے زمانے کے مسلمانوں پر ان مقبوضہ مسلم اراضی کو کفار کے قبضے سے بازیاب کرانا فرض عین ہوگا ۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔اور اس فرض کی معطلی پر قیامت تک مسلمان گناہ گار ہوتے رہیں گے ۔

(یہاں میں نے غلطی سے یہ لکھ دیا تھا کہ یہ زمین قیامت تک دارالاسلام ہی شمار ہوگی )

آپ کا سوال غالباً یہ ہے کہ اس مسئلہ کی تفصیل کس کتاب میں مل سکتی ہے :

میں عرض کرنا چاہوں گا کہ تاریخ اسلام میں اس قسم کے واقعات پہلے کبھی پیش نہیں آئے تھے جس کی وجہ سے مجھے امید ہے کہ اس پر علمائے سلف اور فقہاء کی رائے تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہوگا ۔ اسی طرح موجودہ جہادی بیداری سے پہلے امت مسلمہ مجموعی حیثیت سے جہاد سے دور اور دین سے شدید غفلت کا شکار رہی ہے لہٰذا اُس زمانے کے علماء نے بھی بنیادی مسائل جیسے توحید و شرک اور سنت و بدعات وغیرہ پر زیادہ توجہ دی ہے ۔البتہ آج کے زمانے میں عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ نے اس مسئلہ پر گفتگو کی ہے ان کی کم از کم دو کتابوں میں مجھے یہ مسئلہ نظر آیا ہے ۔جن میں سے ایک کا ذکر پہلے کر چکا ہوں یعنی "ایمان کے بعد اہم ترین فرض حملہ آور کافر کا دفاع "۔دوسری کتاب غالباً ۔۔۔۔ "دیکھنا قافلہ چھوٹ نہ جائے "میں بھی انہوں نے اس مسئلہ کا تفصیلی تو نہیں لیکن سرسری طور پر ذکر کیا ہے ۔

اس مسئلہ کی رو سے شیخ عبداللہ عزام شہید ؒنے اپنی کتاب میں کم از کم پچاس سے زائد مقبوضہ مسلم علاقوں کا ذکر کیا ہے جن میں آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی ہسپانیہ ، اندلس کا نام بھی شامل ہے ۔ جی ہاں ان کا فتویٰ ہے کہ آج دنیا بھر کے مسلمانوں پر ہسپانیہ کو کفار کے تسلط سے آزاد کروانا فرض عین ہے ۔ آپ کے علم میں یہ بات ضرور ہوگی کہ شیخ عبداللہ عزام شہید نے اپنے ان فتاویٰ کو دنیا بھر کے علماء بالخصوص عرب علماء کے سامنے پیش کیا تھا لیکن ہمارے علم کے مطابق ان کی آراء پر کسی نے اختلاف نہیں کیا بلکہ اکثر جید علماء کی تائید حاصل ہوئی ۔تفصیل کے لیے دیکھیے عبداللہ عزام ؒ کی کتاب ایمان کے بعد اہم ترین فرض عین ۔(عربی، انگریزی ، اردو میں دستیاب ہے)

اور یہ عقلاً اور شرعاً زیادہ قرین الصواب ہے ،کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دفاعی جہاد کی فرضیت مسلمانوں کی کمزوری کے سبب دائرے کی صورت میں پھیلتی ہے ۔ چنانچہ جس طرح یہ فرض دائرے کی صورت میں پھیلتا ہوا قریب کے مسلمانوں پر عائد ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح گذشتہ نسل سے آئندہ نسل اور پچھلے سے اگلے زمانے تک بھی مسلمانوں پر عائد ہوتا چلا جاتا ہے ۔آنے والے دور کے مسلمان یہ عذر پیش نہیں کر سکتے کہ یہ علاقے ہم سے اگلے زمانے کے مسلمانوں کی کمزوریوں سے چھینے گئے تھے چنانچہ ہم پر سے فرض ساقط ہوگیا ۔البتہ شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس طرح فریضہ جہاد معطل کرنے پر علماء ، داعیان دین اور صاحب حیثیت عام مسلمانوں کی نسبت زیادہ گناہ گار ہیں اسی طرح اس جہاد کی معطلی پر اگلے مسلمان پچھلوں کے مقابلے میں زیادہ گناہ گار ہوں گے ۔

اس ساری تفصیل سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے وہ اس طرح ہے

پاکستان دار الاسلام نہیں بلکہ دارالحرب ہے ۔

(اصلاً ایسے کسی خطے کو دار الحرب نہیں کہا جاتا بلکہ دار المرکب کہا جاتا ہے ۔۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے ، یعنی جنگ کے وہ حربے اختیار نہیں کیے جاسکتے جو دارالکفر میں اختیار کیے جاسکتے ہیں )

ہندوستا ن کے دار الحرب ہونے کا پرانا فتویٰ تو موجود ہی ہے جو شیخ محمود الحسن رحمۃ اللہ علیہ نے جاری کیا تھا ۔

جو بات میں اپنے بھارتی مسلمان بھائی سے کہنا چاہتا تھا وہ یہ تھی کہ :

ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی اصلاً بلاد اسلامیہ ہیں ، لیکن دونوں دارالحرب ہیں ، کیونکہ دونوں پر کفار کا تسلط ہے اور دونوں میں شریعت معطل ہے ، لہٰذا یہاں کے مسلمانوں پر ان علاقوں کو کفار سے بازیاب کرانا اور شریعت بالفعل نافذ کرنا فرض عین ہے ۔اور الحمدللہ مجھے اس بارے میں ایک فی صد بھی شک نہیں اور پوری طرح شرح صدر حاصل ہے ۔

البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی مسلمان فریضہ جہاد کی معطلی پر ہندوستانی مسلمان سے زیادہ گناہ گار ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

2 تبصرے:

Shaykh Abu Safan Alsalafi said...

(اصلاً ایسے کسی خطے کو دار الحرب نہیں کہا جاتا بلکہ دار المرکب کہا جاتا ہے ۔۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے ، یعنی جنگ کے وہ حربے اختیار نہیں کیے جاسکتے جو دارالکفر میں اختیار کیے جاسکتے ہیں )
-------------------------------------
اس بات کی وضاحت کے لءے کیا آپ کسی کتاب کا حوالہ دے سکتے ہیں

عدیل خان said...

اسلام علیکم
عرفان بھائی آپ نے جو دار الحرب پر جو باتیں لکھی ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہیں کہ پاکستان دار الحرب ہیں لیکن دار الحرب میں تو کافروں کو قتل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور انکا مال بھی میرے خیال میں حلال ہوجاتا ہیں کیا ہم پاکستان میں کافر کو قتل کرے یا انکا مال لے لے تو ہم پر گناہ ہوگا کہ نہیں ضرور جواب دینا
عدیل خان
اسلام آباد۔

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ