Subscribe:

Saturday, March 12, 2011

فیس بک اور دعوت جہاد وقتال



یہ تحریر عرفان بلوچ کی ہے۔۔۔تکنیکی خرابی کے باعث میں پوسٹ کر رہا ہوں ::: ابو جمال :::

چند روز قبل ایک مجاہد ساتھی کے ساتھ گفتگو کے بعد سے فیس بک کے استعمال کی تجویز اور اس کی ضرورت زیر غور تھی ۔ کافی غور وفکر کے بعد الحمدللہ یہ تحریر لکھنے پر دل آمادہ ہوگیا ہے ۔ امید ہے مجاہد ساتھی اس تجویز پر اپنی رائے دینا پسند کریں گے ۔

 الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين، ونذيراً للناس أجمعين، وعلى آله وصحبه الغرّ الميامين، الذين استجابوا لله ورسوله فأقاموا الدين.

جہاد و قتال کی دعوت ، دو وجوہات سے اہم اور براہ راست جہاد کا حصہ سمجھی جاتی ہے  ۔
اولاً 
قدیم زمانے سے ہی عسکریت کا مسلم عقیدہ ہے کہ لوگوں کی رائے عامہ کو جنگ کے لیے ہموار کیے بغیر نہ جنگ جیتی جا سکتی ہے نہ ہی لڑی جا سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ "قلوب و اذہان کی تسخیر " (propaganda warfare) کو جنگ کا جزو لاینفک شمار کیا جاتا  ہے ۔ اور اسلامی نقطہ نظر سے بھی یہ بات کسی حد تک درست تصور کی جا سکتی ہے ۔آج کے زمانے میں اس کی اہمیت کئی گنا زیادہ  ہے کیونکہ دجالی میڈیا نے مجاہدین کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر رکھی ہے ، اور امت مسلمہ اپنے حقیقی محسنین کو پہچاننے سے قاصر ہے ۔ایسے میں مجاہدین کے موقف کو امت مسلمہ تک پہنچانے کے لیے قلوب واذہان کی تسخیر کی جنگ نہایت اہم ہے۔
دوم
جہاد کے لیے مومنین کو تحریض دلانا ، جہاد کا حصہ اور واجب امر ہے ، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا طریقہ ہے ۔ جب بھی جہاد کا موقعہ ہوتا اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے سامنے جہاد کی فرضیت اور فضیلت بیان کرتے ۔ شہداء کے درجات کا ذکر کیا جاتا ، بلند اور اعلیٰ درجات کی جنتوں کا شوق دلایا جاتا ، جہاد کو ترک کرنے والے کے لیے وعیدیں بیان کرتے ۔اور ایسا کرنے کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُواْ مِئَتَيْنِ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّئَةٌ يَغْلِبُواْ أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُونَ
اے نبیؐ، آپ مومنوں کو جنگ پر اُبھاریں اگرآپ  میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو ایک ہزار کافروں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے  (انفال ۶۵)

فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّهِ لاَ تُكَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَاللّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنكِيلاً
پس اے نبی  آپ اللہ کی راہ میں لڑیں ، آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں  ، البتہ اہل ایما ن کو لڑنے کے لیے ترغیب دیں ، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دیں ، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ۔ (النساء ۸۴)

ان آیات کی روشنی میں علمائے جہاد کے مطابق جہاد کے لیے مومنین کو تحریض دلانا یوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی اور اب آپ کی اقتدا میں یہ سنت ہے لیکن جہاد کی بنیادی اور لازمی ضرورت ہونے کی بنا پر تمام علماء اور داعیان دین پر یہ واجب یا فرض کی حیثیت رکھتا ہے ۔

جہاد کے لیے تحریض اور قتال کی دعوت کا اسلوب کیا ہو اور ایک داعی جہاد کو کن باتوں کا لحاظ کرنا ہوگا یہ ایک انتہائی اہم اور تفصیل طلب موضوع ہے ۔ شیخ ابو مصعب سوری کی  معرکۃ الآرا تصنیف "دعوۃ المقاومۃ الاسلامیہ العالمیہ" کے دوسرے حصے کا آٹھواں باب "نظریۃ الاعلام والتحریض فی دعوۃ القاومۃ "اس موضوع پر تفصیل سے احاطہ کرتا ہے ۔ یہ سلسلہ  صفحہ نمبر ۱۴۳۷ سے ۱۴۹۹ تک پھیلا ہوا ہے ۔میری خواہش ہے کہ اگر فرصت میسر آئے تو اس موضوع پر شیخ ابو مصعب السوری  (اللہ تعالیٰ انہیں جلد قید سے رہائی دلائیں)کی تحاریر کا منتخب حصہ اردو میں ترجمہ کر کے اس بلاگ پر پوسٹ کرسکوں ۔

تاحال میں انٹرنیٹ کی دنیا کے حوالے سے چند تجاویز سامنے لانا چاہتا ہوں تاکہ مجاہدین کی ویب سائٹس کو عامۃ المسلمین تک متعارف کروایا جاسکے ۔

ہم جانتے ہیں کہ  گذشتہ کئی سال سے مجاہدین کے اعلام کے مختلف مجموعات مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں ، جن میں کتابوں اور رسائل کی نشر و طباعت کے علاوہ صوتی بیانات اور ویڈیوز نشر کرنا شامل ہیں ، جنہیں سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کی صورت میں پھیلایا جاتا رہا ہے ۔
ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے مجاہدین کو یہ توفیق دی کہ اس کی تائید سے اب اردو زبان میں کئی جہادی ویب سائٹس منظر عام پر آچکی ہیں ۔ اس سے پہلے اردو میں جہادی مواد کو انٹرنیٹ پر  تلاش کرنے کے لیے عربی اور انگریزی کی ویب سائٹس کو کھنگالا جاتا رہا تھا ۔
ادھورا کام
میں اپنے تمام مجاہد بھائیوں کو یہ چھوٹی لیکن اہم توجہ دلانا چاہتا ہوں  کہ جہاد ی مواد کی تیاری محض ادھورا کام ہے ۔  میں نے بارہا یہ بات محسوس کی ہے بعض اوقات جہادی  مواد کی تیاری کے سلسلےمیں جس درجے شوق ، جوش اور لگن کے ساتھ کام کیا جاتا ہے ، اس درجہ میں ان جہادی مواد کو پھیلانے کا کام نہیں کیا جاتا ۔ اور یہ دعوت و تحریض کے میدان میں ایک بہت بڑی خلا ہے ، جسے پر کرنے کی ضرورت ہے ۔

مثلاً جس طرح کتابیں اور ویڈیوز نشر کرنے والے ادارے اس بات کے محتاج ہیں کہ مجاہدین اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد ان کے تیار کردہ مواد کو انٹرنیٹ پر اور سی ڈیز ، ڈی وی ڈیز کی صورت میں پھیلائیں اور اسے مطلوبہ افراد یا اہداف تک یا گھر گھر پہنچائیں ۔اسی طرح ویب سائٹس کے حوالے سے بھی شاید اس کام کی ضرورت باقی ہے ۔ کیونکہ ویب سائٹس کا کام ابھی نیا ہے ۔

میں نے ویب سائٹس کی مشہوری کے حوالے سے بعض مفید معلومات اکٹھی کی ہیں ۔۔۔  جن میں سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس کا استعمال بھی شامل ہے ۔۔۔۔

ویب سائٹ کی تشہیر
ویب سائٹ کی تشہیر  کے لیے جو مختلف تکنیک استعمال کی جاتی ہیں وہ آٹھ یا دس کے قریب ہیں  ۔۔۔۔ان سب کو یہاں بیان کرنے کا موقعہ نہیں ۔۔۔ کیونکہ جہادی ویب  سائٹس کے لیے ان تمام تکنیک کو استعمال کرنا ممکن نہیں ۔۔۔ لہٰذا مجاہدین صرف چند صورتوں پر عمل کرسکتے ہیں جن میں سے ایک سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس ہیں ۔۔۔ ان  میں سب سے زیادہ مشہور فیس بک اور ٹویٹر ہیں۔۔۔پاکستان میں ابھی ٹویٹر کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔ ویسے بھی فیس بک استعمال کرنے والے افراد ٹویٹر استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں ۔۔۔ اس لیے اردو جہادی ویب سائٹس یا اس  خطے کے مسلمانوں کے لیے فیس بک کا استعمال مفید ہوگا ۔

وہ مجاہدین جو انٹرنیٹ کی دنیا سے وابستہ ہیں ۔۔۔ ان کے لیے فیس بک کا تعارف نیا نہیں ہوگا  ۔۔۔ اس لیے فیس بک کے استعمال پر تفصیل سے لکھنا وقت ضایع کرنے کے برابر ہوگا ۔۔۔۔ یہاں صرف فیس بک کو دعوت جہاد یا دوسرے الفاظ میں جہادی ویب سائٹس کی مشہوری کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دلانا ہے ۔۔۔۔

یہ ترغیب مجاہدین کے علاوہ جہادی ویب سائٹس کے منتظمین کے لیے بھی ہے ۔۔۔ کیونکہ اس کے لیے انہیں اپنی ویب سائٹ میں ایک چھوٹی سی تبدیلی کرنی ہوگی ۔۔۔۔ چنانچہ  یہ ترغیب دو حصوںمیں منقسم ہے
پہلا حصہ ویب سائٹ کے منتظمین کے لیے ہے
دوسرا حصہ ویب سائٹ کے زائرین یعنی وزٹرز کے لیے ہے

ویب سائٹ کے منتظمین اگر ویجیٹ سے واقف ہیں تو اپنی ویب سائٹ پر اس کا اضافہ کر لیں
ویجیٹ ایک ایسا سائبر آلہ ہے جس کے ذریعے ویب سائٹس کے صفحات کو فوری اور با آسانی سوشل نیٹ ورکنگ سے منسلک کیا جاسکتا ہے ۔ یوں سمجھ لیں یہ ایک چھوٹا سا لیکن انتہائی کارآمد سوفٹ وئر ہے جسے ویب سائٹ کے منتظمین دنیا بھر میں اپنی ویب سائٹ کی مشہوری کے لیے صفحات کے ساتھ منسلک کر دیتے ہیں ۔ تاکہ اگر کوئی زائر ﴿visitor   اس صفحے کی افادیت کے پیش نظر اس ویب سائٹ یا صفحے کو دوسروں کے ساتھ شریک کرنا چاہے تو اسے لمبے چوڑے اقدامات نہ کرنے پڑیں ۔ بلکہ اس کی وجہ سے محض ایک بٹن کلک کرتے ہی اس کے سامنے مختصر سا فارم  آجاتا ہے جس میں اپنا نام اور پاس ورڈ ڈال کر وہ چند سیکنڈ میں اس صفحے کو کہیں بھی شئر کر سکتا ہے ۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہوں کہ ویجیٹ کیا چیز ہے تو وکی پیڈیا کا یہ لنک ملاحظہ کریں
سب سے زیادہ مشہور ویجیٹ سروس دینے والی کمپنی ایڈ دِس ہے ۔ جس کا لنک دیا جا رہا ہے ۔

یہ ایک ویجیٹ ہے جو ایڈ دس سے حاصل کیا جاسکتا ہے
اس پر ماؤس لے جانے سے یہ بوکس کھلتا ہے  جس میں بہت سارے بٹن لگے ہیں

مثلاً فیس بک استعمال کرنے والا اسے فیس بک شئر کرنا چاہے تو فیس بک کے بٹن پر کلک کرے گا
جس پر یہ فارم کھل جائے گا


ای میل اور پاسورڈ ڈالتے ہی یہ ونڈو کھلے گی
اور آخر میںshare   پر کلک کرنا ہوگا


یعنی ویجیٹ کی وجہ سے یہ کام باآسانی چند سیکنڈ میں ہوجاتا ہے ۔

جاری ہے ۔۔۔

2 تبصرے:

تحریم said...

مندرجہ بالا وجیٹ کو کیسے بلاگ میں شامل کر سکتے ہیں کوئی کوڈ ہے؟
کیا شیئر کر سکتے ہین؟

Anonymous said...

اعدادوشمار کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پاکستانیوں کے تینتالیس لاکھ اکاؤنٹس ہیں جن میں اڑسٹھ فیصد مرد ہیں جبکہ ٹوئٹر پاکستان کی نویں مقبول ترین ویب سائٹ ہے اور باسٹھ لاکھ پاکستانی ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں جو کہ اس ویب سائٹ کے کُل صارفین کا ایک فیصد ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2011/06/110611_network_social_media_confer_zs.shtml

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ