Subscribe:

Tuesday, March 15, 2011

پاکستانی جہادی تنظیمیں



پاکستانی جہادی تنظیمیں  (حزب المجاہدین، جماعۃ الدعوۃ، جیشِ محمد ، البدر و دیگر)  ؟؟؟

یہ تحریر  ایک مجاہد ساتھی نے ارسال کی ہے
 اللہ انہیں بہترین جزا عطا فرمائیں

سوال:   میں سپاہِ صحابہ کا ایک کارکن ہوں اور آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا اِس تنظیم میں کام کرنا جائز ہے؟ نیز پاکستانی جہادی تنظیموں (حزب المجاہدین، جماعۃ الدعوۃ، جیشِ محمد ، البدر و دیگر) کے ساتھ مل کر کام کرنا  کیسا ہے؟  

جواب از
 محمد عمر الخراسانی   حفظہ اللہ:

 مذکورہ سوال دو حصوں پر مشتمل ...ہے ۔ اس سوال کا پہلا حصہ سپاہِ صحابہ میں کام سے متعلق جبکہ دوسرا حصہ پاکستانی جہادی تنظیموں سے متعلق ہے ۔ سوال کے پہلے حصے کا جواب یہ ہے کہ سپاہِ صحابہ بنیادی طور پر دفاعِ ناموسِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے مقصد کی خاطر پاکستان میں قائم کی گئی تھی اور پاکستان میں شیعیت کے کفر اور اُن کے بعضِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کو عامۃ المسلمین پر واضح کرنے کے سلسلے میں سپاہِ صحابہ کی مساعی قابلِ قدر ہیں۔ اِس امر میں شک کی قطعاً گنجائش نہیں اور سلف و خلف کے علماء کی اکثریت کا بھی یہی مؤقف ہے کہ  گستاخیٔ اہلِ بیت و صحابہ رضی اللّٰہ عنہم  موجبِ کفر ہے لیکن اپنی تمام تر کوشش و مساعی کو صرف اِسی ایک نکتے پر مرکوز رکھنا اور بلادِ اسلامیہ پر مرتد حکام ، اُن کے صلیبی و صہیونی آقاؤں کے تسلط، شعائرِ اسلام کی پامالی اور دورِ حاضر کے دیگر سُلگتے مسائل کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی قابلِ فہم طرزِ عمل نہیں ہوسکتا۔ آج دُنیا میں ’’اسلامی‘‘ کہلانے والے
۵۷ نام نہاد آزاد ممالک پر نظر دوڑایئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کہیں بھی اسلام بطورِ غالب نظام نافذ نہیں ، الٰہی احکام و قوانین کی پامالی مملکتِ خداداد کہلانے جانے والے اِس ملک میں اپنے عروج پر ہے ۔ نظامِ حکومت اللّٰہ ، اُس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بغاوت پر مبنی اور کافرانہ ہے ۔ ہماری معیشت سود کی بنیاد پر قائم ، معاشرت رسوم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی، نظام تعلیم لارڈ میکالے اور ڈارون کے گمراہ کن نظریات پر عمل پیرا، خارجہ / داخلہ پالیسیاں وسیع تر قومی مفاد یعنی ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے کفریہ نعرے کی بنیاد پر  غرض ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (الروم ۴۱) خلاصہ یہ کہ حاکمیتِ الٰہی کے قیام  کی جدوجہد میں شامل ہوجایئے ، اِس لئے کہ –أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الاعراف ۵۴)جب حکم اُس کا چلے گا  تو باقی مسائل آپ اپنی موت مرتے جائیں گے۔ دوسری بات یہ کہ شیعیت کو کافر قرار دینے کا مطالبہ کس سے کیا جاتا ہے ؟ اُسی سیاسی قیادت سے جس کی اکثریت شیعہ ، سیکولر اور لادین جمہوری نظام کو اختیار کرنے والی ہے ۔ سپاہِ صحابہ کو دفاعِ ناموسِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم اور شیعیت کو قانوناً کافر قرار دِلوانے کی جدوجہد کرتے ۲۰ برس ہوچکے ہیں ۔ بے نظیر بھٹو، نواز شریف، اور اب زرداری ۔۔۔۔ کتنی ہی بدعنوان اور لادینیت پسند حکومتیں آئیں اور گزر گئیں ، آخر یہ سعیٔ لاحاصل کب تک ؟ اور اگر شیعیت کو اللّٰہ سے باغی اِس نظام نے کافر قرار دے بھی دیا تو اِس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟  أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدہ ۵۱) مسلمانوں کے بہت سے گروہ نہایت اہم لیکن ضمنی مسائل ہی کے محور پر کام کررہے ہیں ۔ کسی نے شیعوں کو ہدف بنا رکھا ہے ، کوئی قادیانیوں کے خلاف جدوجہد کررہا ہے  تو کوئی محض دعوت و اصلاح کی بنیاد پر کام کررہا ہے ۔ یہ تمام اُمور حد درجہ اہم ہیں لیکن اِن سب کے ساتھ ساتھ ہماری نظر مذکورہ مسائل کی جڑ یعنی حاکمیتِ الٰہی اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی واپسی پر کیوں نہیں؟ کیوں نہ ہم اُس بڑے مقصد کے لئے کام کریں جس کے پورا ہونے پر ہمارے تمام مسائل – خواہ وہ دینی ہوں یا دُنیاوی ، اِس دنیا کے ہوں یا اُس دنیا کے – حل ہوجائیں گے اور ہمیں نصرتِ مہدی اور نصرتِ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شرف بھی حاصل ہوجائے گا ۔ انشاء اللّٰہ مذکورہ بالا تمام اُمور کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسے گروہ میں شامل ہوکر  اپنی توانائیاں صرف کیوں نہ کریں جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منہج اور دعوت کے مطابق کا م کررہا ہو ۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے : ’’خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے اور اُن کو کوئی بھی واپس نہیں کرپائے گا یہاں تک کہ وہ ایلیاء (بیت المقدس) میں نصب کئے جائیں گے‘‘ (رواہ احمد؛ مسند ابوہریرہ؛ حدیث ۸۵۷۷) اور ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ جب تم اُن کو دیکھ لو تو تم پر لازم ہے کہ اُن کی اتباع کرو اور اُن سے آملو خواہ تمہیں برف پر گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔  بے شک اُن میں اللّٰہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے (سنن ابن ماجہ ؛ کتاب الفتن ؛ حدیث ۴۰۸۲) نیز علی رضی اللّٰہ عنہ کا قول ہے کہ جب تم پر حق و باطل کی پہچان دُشوار ہوجائے تو یہ دیکھو کہ باطل کے تیروں کا رُخ کس جانب ہے ؟ حق کو پہچان لو ، حق والوں کو خود ہی پہچان جاؤ گے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مجموع الفتاویٰ میں امام عبداللّٰہ بن مبارک اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللّٰہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب لوگ کسی بات میں اختلاف کا شکار ہوجائیں تو یہ دیکھو کہ محاذ والوں کی رائے کیا ہے! اِس لئے کہ حق اُن کے ساتھ ہے ، اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنکبوت ۶۹) ----------------------------- بلد العجائب ’’پاکستان‘‘ میں جہاں کئی دیگر چیزیں ساری دُنیا سے نرالی ہیں ، وہیں اِس کی ایک انوکھی بات یہ بھی ہے کہ یہ شاید دُنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں جہاد کی بھی دو اقسام ہیں : قانونی جہاد اور غیر قانونی جہاد ۔ قانونی جہاد سے ہماری مراد اُن پاکستانی جہادی تنظیموں کا جہاد ہے جن کے لئے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے خود کشمیر کا دروازہ کھولا ، اُنہیں حکومتِ پاکستان کے مفادات کے لئے استعمال کیا اور اپنے مذموم مقاصد پورا کروانے کے لئے (اِس کے لئے کارگل کے محاذ کی مثال ہی کافی ہے)اِن تنظیموں سے جتنا تعاون ضروری تھا ، اُتنا تعاون بھی کیا ۔ پس اِن تنظیموں کو آزاد کشمیر  میں تربیتی معسکرات چلانے  اور دارالحکومت اسلام آباد سمیت پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں دفاتر کھولنے اور اپنی سرگرمیاں علانیہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی ۔ اِس سب کے بدلے اِن کے قائدین کو محض ایک بات کا پابند کیا گیا کہ یہ چاہے ساری دُنیا کے خلاف جہاد کی بات کریں لیکن پاکستان میں قائم نظامِ کفر کے خلاف جہاد کا سوچیں بھی مت۔ جہاد کی یہ قسم قانوناً جائز ہے اور اسے پاکستانی سرکار کی پشت پناہی بھی حاصل ہے ۔ گوکہ ملکی مفاد کی خاطر کبھی  اُن کو بھی قربانی کا بکرا بننا پڑ جاتا ہے جیساکہ آج کل بعض تنظیموں کے ساتھ عملاً ہورہا ہے  ۔ (اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ ان تنظیموں میں نچلی سطح پر  مخلص مجاہدین کی کوئی کمی نہیں چنانچہ ہم یہاں  بحیثیت مجموعی ایک تنظیم کے طور پر اُن کا ذکر کررہے ہیں ، اُن کے مخلص افراد یہاں موضوعِ بحث نہیں) طاغوتی چھتری تلے چلنے والی اِن تنظیموں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اُن کے تربیتی نظام میں (جسے آئی ایس آئی نے بڑی توجہ سے ترتیب دیا ہے ) اس بات کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے کہ جہاد کی نیت سے آنے والے مخلصین یہ نہ جان سکیں کہ شریعت میں جہاد فی سبیل اللّٰہ کے اصل اہداف و مقاصد کیا ہیں ؟ پس معسکرات میں تربیت کے دوران ، نیز تحریر و تقریر اور ترانوں و نعروں وغیرہ کے ذریعے ایک ہی مفہوم ذہن میں راسخ کیا جاتا ہے کہ جہاد سے مقصود محض کشمیر و افغانستان کی سرزمین کی آزادی اور مظلوم ماؤں بہنوں کی مدد کرنا ہے ۔ (خواہ آزادی کے حصول اور ظلم کے خاتمے کے بعد وہاں کوئی نام نہاد مسلمان اسی کفریہ نظامِ حکومت کو بعینہٖ اُسی طرح بحال رکھے) چنانچہ کفر و شرک کا خاتمہ ، کفر  پر مبنی نظام ہائے حکومت کی بربادی ، شریعت کا نفاذ اور خلافت کے قیام جیسے مقاصدِ اساسی کا قطعاً کوئی تذکرہ اُن تنظیموں کے یہاں نہیں ملتا ۔ پاکستانی فوج اور ایجنسیاں اِس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جو شخص بھی شریعت کی روشنی میں جہاد کے مقاصد کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لے گا ، وہ نہ صرف کشمیر و افغانستان کے محاذوں پر لڑتے ہوئے اُن کو اوامر کا پابند نہیں رہے گا بلکہ اُس کی بندوق کا رُخ کسی بھی وقت کسی دوسرے علاقے میں قائم نظامِ کفر کی طرف بھی پھر سکتا ہے ۔ اِسی لئے وہ مجاہدین کو جہاد کے بنیادی مقاصد سے غافل رکھنے کا پورا اہتمام کرتے ہیں ۔ انہی مقاصد جہاد کا ذہنوں میں راسخ نہ ہونا گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اِنہی مقاصد سے غافل ہونے کے سبب روس کے خلاف جہاد کے بعد مجاہدین کی تنظیموں خانہ جنگی کا شکار ہوئیں ۔ جیسا کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللّٰہ اپنی ایک ویڈیو ٹیپ بعنوان ’’پاکستانی افواج اور عوام کے نام ایک پیغام ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’یہاں میں جس چیز پر زور دوں گا ، وہ یہ ہے کہ کشمیر کی آزادی سے پہلے خود اس جہاد کو آئی ایس آئی سے آزاد کرانا ضروری ہے‘‘ جہاد کی دوسری قسم پاکستان میں غیرقانونی قرار دی گئی ہے ۔ یہ اُن فی سبیل اللّٰہ مجاہدین کا جہاد ہے (خواہ اُنہیں طالبان کا نام دیا جائے یا القاعدہ کا) جو جہاد کے معنی اور مقاصد کتاب اللّٰہ ، سُنَّتِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور تشریحاتِ سلف سے سمجھے ہیں ۔ جو نہ صرف اپنے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کی تکالیف دور کرنے ، اُن پر مسلط غاصب کفار کو پچھاڑنے اور مسلم سرزمینیں بازیاب کرانے اُٹھے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ اُن کی نگاہیں کفر و شرک کے خاتمے ، کلمۂ توحید کی سربلندی اور خلافت کے قیام کے مقاصدِ اساسی پر بھی مضبوطی سے جمی ہیں ۔ یہ مجاہدین آدھا نہیں ، پورا کلمۂ حق کہنے کے خوگر ہیں۔ اور اسی لئے وہی فوج جو جہاد کی اوّل الذکر قسم کو فروغ دیتی ہے ، اس شرعی جہاد کو لمحہ بھر برداشت نہیں کرتی ۔ اپنی پوری قوت لے کر پہاڑوں اور غاروں تک میں ان کا تعاقب کرتی ہے اور امریکہ کے ساتھ مل کر ان کا خون بہاتی ہے ۔ بلاشبہ یہ پورا منظر نامہ ان مخلصین کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو ابھی تک ’’قانونی جہاد‘‘ کرنے والی تنظیموں سے علیحدہ نہیں ہوئے ۔ اللّٰہ ہمیں جہاد فی سبیل اللّٰہ کی راہ میں استقامت اور اُسی راہ میں شہادت کی موت عطا فرمائے ۔ آمین  
 محمد عمر الخراسانی




0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ