Subscribe:

Wednesday, March 16, 2011

فدائی حملہ آور وں کی عمریں اور نیٹو ڈرائیور کے ساتھ نرمی کرنا


السلام علیکم
بھائی میں نے جامعہ حفصہ والے فورم پر ایک ویڈیو دیکھی درہ آدم خیل والی ۔۔۔ اس میں ایک پولیس سٹیشن کو خودکش حملے سے تباہ کیا ۔۔۔ جس بندے نے کارروائی کی اس کی عمر ۱۳ یا ۱۴ سال ہوگی ، اس کے علاوہ بھی اور پاکستان والی ویڈیوز میں اکثر ۱۳ سے ۱۷ سال تک کے لوگ حملہ کرتے ہیں ۔۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے ۔۔۔ سوال میرے ذہن میں یہ اٹھا ہے کہ کوئی زیادہ عمر والا جیسے ۳۰ یا ۳۵ سال کی عمر تک کیوں نہیں کرتا ، ہو سکتا ہے کرتا ہو لیکن اب تک میں نے جتنی ویڈیوز دیکھی ہیں ، تقریباً سب میں اس عمر کے بندے اٹیک کرتے ہیں ۔۔۔ پلیز یہ بات مجھے کلیئر کر دیں
اور دوسری بات یہ کہ اس ویڈیو میں ایک آدمی کا قتل کیا جاتا ہے اس کی گردن کاٹی جاتی ہے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی اسلامی میڈیا جب اس طرح کی ویڈیو بنائے تو اس کا قصور بھی ضرور بتائے ، ترجمے کے ساتھ ، ہو سکتا ہے وہ صرف ڈرائیور ہو جو کنٹینر لے کر جا رہا ہو ۔۔۔ اور ہو سکتا ہے اگر ایک بار اسکو وارننگ دے کر چھوڑ دیا جائے تو وہ باز آجائے ۔۔ کیوں کہ جب تلوار کے نیچے سے نکل کے جائے گا تب نیکسٹ ٹائم وہ سوچے گا ضرور ۔۔۔ فی امان اللہ ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خوش قسمت ہے وہ مسلمان جس کے نزدیک ہدایت اور حق بات کو پالینا دنیا کے خزانوں کو پالینے سے بہتر ہے ۔۔۔ اور مبارک کے لائق ہیں وہ اہل ایمان جو حق کو باطل سے علیحدہ دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور اس کے لیے کوشش کرتے ہیں ۔۔۔

جو سوالات آپ کے ذہن میں پیدا ہوئے وہ مجاہدین کے حوالے سے عام ہیں ۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے یہ سوالات پوچھ کر ہم دونوں کے لیے اجر کا بہترین موقعہ فراہم کر دیا ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے ۔۔۔۔

خود کش حملہ نہیں فدائی حملہ
میرے پیارے بھائی آپ جانتے ہیں کہ اسلام میں خود کشی حرام ہے ۔۔۔ سب سے پہلے یاد دہانی کروانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ فدائی مجاہدین کی کارروائیوں کو خود کش حملہ قرار دیں ۔۔۔ آپ سے پہلی درخواست یہ ہے کہ اس نوعیت کے حملوں کے لیے ہمیشہ فدائی ، شہیدی یا استشہادی حملے کے الفاظ استعمال کریں ۔۔۔ خود کش حملے کی اصطلاح جو آپ نے استعمال کی یہ کافروں کی بنائی ہوئی ہے ، آپ الحمدللہ مسلمان ہیں ، چنانچہ وہ الفاظ اور اصطلاحیں استعمال کریں جو اسلامی شریعت سے ماخوذ ہوں ۔۔۔۔

فدائی حملہ آوروں کی عمریں

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مجاہد کمانڈرز فدائی حملہ کرنے کے لیے اپنے مجاہدین پر زور دیتے ہیں ، اور جب کوئی اس کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے تو یہ کارروائی کی جاتی ہے ۔۔۔ حالانکہ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔۔۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی مجاہد کو بھی فدائی حملے کے لیے زور زبردستی نہیں کروائی جاتی ۔۔۔ بلکہ وہ مجاہدین جو شہادت کی تڑپ اور آرزو میں بے تاب ہوجاتے ہیں وہ اپنے کمانڈرز سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کا نام استشہادی حملہ کرنے والوں کی فہرست میں داخل کر دیا جائے ۔۔۔۔ اب صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ۔۔۔ ایک ایک کمانڈر کے پاس کئی کئی درخواستیں آجاتی ہیں ۔۔۔ کمانڈر دیگر امراء کے ساتھ مشورہ کرتا ہے ۔۔۔ اور ان درخواست گزاروں میں سے کسی ایک کو موزوں سمجھتے ہوئے کسی کارروائی کے لیے چنا جاتا ہے ۔۔۔

میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ بعض اوقات درخواست گزاروں کی یہ فہرست کئی سو سے تجاوز کرکے ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یقیناً ایسا ہونا بھی چاہیے ۔۔۔

اب آپ خود سوچیں کہ جو کام مشوروں سے انجام پاتا ہے ، اور جس کام میں کئی تجربہ کار کمانڈرز اور امراء کا مشورہ شامل ہوتا ہے ، وہ کسی حکمت سے خالی تو نہ ہوگا ۔۔۔ کیونکہ مشورہ میں اللہ تعالیٰ نے خیر رکھی ہے ۔۔۔ ظاہر ہے کہ مجاہد کمانڈرز کی خواہش ہوتی ہے کہ زیادہ تجربہ کار مجاہدین میدان کارزار میں دشمن کے خلاف قتال کرتے رہیں اور کم تجربہ کار کو فدائی حملے کے لیے روانہ کر دیا جائے ۔۔۔۔

لیکن یہ بات کہنا غلط ہوگی کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔۔ ہمارے سامنے مجاہد کمانڈر شیخ شاکراللہ رحمہ اللہ کی مثال ہے ۔۔۔ شیخ شاکر اللہ القاعدہ کے بہت پرانے ، تجربہ کار اور بڑے کمانڈر تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں شہیدی حملے کے لیے گذشتہ آٹھ سال سے درخواست کر رہا ہوں ۔۔۔ لیکن میری درخواست قبول ہی نہیں کی جاتی تھی ۔۔۔ جب بھی وہ اپنے امراء سے فدائی حملے کی بات کرتے وہ منع کردیتے ۔۔۔۔ ظاہر ہے امیر اسی لیے منع کرتے ہوں گے کہ وہ محض ایک فدائی حملے کے لیے جس میں کوئی کم تجربہ کار بھی اپنی جان قربان کرسکتا ہو ۔۔۔ شیخ شاکر اللہ کو کیوں قربان ہونے دیں ۔۔۔۔۔ لیکن ان کی یہ آرزو اس طرح پوری ہوئی کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ انہوں نے اپنے امراء سے اس خواب کا ذکر کیا اور اپنی آرزو کا بھی ۔۔۔ چنانچہ ایک طویل مدت کے انتظار کے بعد شیخ شاکر اللہ کی درخواست قبول کر لی گئی اور انہوں نے افغانستان میں ایک فدائی حملہ کیا تھا ۔۔۔۔ اگر آپ کو کہیں سے مل سکے تو یہ ویڈیو ضرور دیکھیں ۔۔۔ انگریزی ترجمے والی تو میں نے خود دیکھی ہے ۔۔۔ اردو ترجمے کا معلوم نہیں کہ دستیاب ہے کہ نہیں ۔۔۔ اس طرح کی اور مثالیں بھی موجود ہیں اگرچہ کم ہیں ۔۔۔۔


قتل والی ویڈیوز اور نیٹو کے ڈرائیور


میرے علم میں اب تک کوئی ایسی ویڈیو نہیں گزری جس میں مجاہدین نے کسی کو قتل یا ذبح کیا ہو اور اس کا قصور بیان نہ کیا ہو ۔۔ ہاں ترجمے کی ضرورت کا احساس مجھے بھی ہے ۔۔۔۔
آپ نے ڈرائیور کو چھوڑنے کا جو مشورہ دیا ہے ، مجاہدین پہلے اسی پر عمل کرتے آئے ہیں ، یعنی اس سے پہلے یہی ہوتا رہا ہے اور ایک یا دو وارننگ دی جاچکی ہوتی ہیں ۔۔۔ اور اب یہ ضروری نہیں کہ دنیا کے ہر ڈرائیور کو یہ وارننگ دی جائے ۔۔۔۔ جو بات مشہور ہے اس کا علم ان ڈرائیوروں کو اچھی طرح ہے

اب اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ ڈرائیور یا جاسوس کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ پیسوں کی لالچ میں کرتے ہیں ۔۔۔۔

مجھے ایک دوست نے مجھے بتایا تھا کہ اس کا رشتہ دار کنٹینر ڈرائیور ہے ۔۔۔ اس سے پوچھا کہ کیا کبھی مجاہدین نے روکا تو اس نے بتایا کہ ہاں ایک مرتبہ پشاور سے آگے روکا تھا ۔۔۔ اسے اتار کر کنٹینر جلا دیا اور اس کا نام اور شناختی کارڈ لکھ کر دھمکی دی تھی کہ دوبارہ نظر آئے تو مار دیں گے ۔۔۔ لیکن یہ جان کر آپ کو بھی افسوس ہوگا کہ وہ بعد میں کافی عرصے تک دوبارہ وہی کام کرتا رہا ۔۔۔ اور جب میرے دوست نے حیرانی سے پوچھا کہ پھر بھی ابھی تک اسی کام میں لگے ہو تو کہنے لگا کہ کیا کریں مجبوری ہے ایک چکر کے دو سے تین لاکھ مل جاتے ہیں ۔۔۔۔
اب آپ مجھے بتائیں کہ ان جیسوں کا علاج کیا ہونا چاہیے ۔۔۔
جب تک ڈرائیوروں کی لاشیں چوک پر نہ لٹکائی جائیں دوسرے کیسے ہوش کریں گے ۔۔۔۔
کیا انہیں معلوم نہیں کہ وہ مسلمانوں کے قتل میں کفار کے شریک کار ہیں ۔۔۔۔ جو سامان وہ لے کر جارہے ہیں اسی کے ذریعے مسلمان بستیوں اور گھروں کو راکھ کا ڈھیر بنایا جانے والا ہے ۔۔۔۔

واللہ اعلم ۔۔۔

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ