Subscribe:

Saturday, March 19, 2011

فیصل آباد میں حساس ادارے پر حملہ


عرفان بھائی میری بات کا برا نہ مانیے گا ۔ انٹرنیٹ پر کوئی بھی شخص بلاگ یا ویب سائٹ بنا کر اپنے آپ کو مجاہدین سے منسوب کرسکتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم آپ پر کس طرح ٹرسٹ کرسکتے ہیں کہ آپ کا تعلق واقعی مجاہدین سے ہے پلیز کوئی دلیل وغیرہ دے دیں ۔
آپ کی یہ بات واقعی درست ہے کہ کوئی غیر مجاہد جہادی ویب سائٹس بنا کر مجاہدین یا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر سکتا ہے ۔۔۔
یہ کوششیں دو طرح سے کی جاسکتی ہیں

اولاً ۔۔۔ مجاہدین کے خلاف جاسوسی کرنے کے لیے خفیہ ایجنسیاں ایسی ویب سائٹ بنا سکتی ہیں
دوم۔۔۔۔ عامۃ السلمین یا مجاہدین کو گمراہ کرنے کے لیے  بنائی جائیں تاکہ جہاد کو بدنام بھی کیا جائے اور لوگوں کو خالص اور شرعی جہاد سے دور رکھا جائے ۔۔۔

دوسری قسم کو پہچاننا آسان ہے ۔۔۔ خالص جہادی ویب سائٹ کو پہچاننے کا ایک طریقہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ اس کے بارے میں دیگر جہادی ویب سائٹس اور ان کے منتظمین کیا رائے رکھتے ہیں ۔۔۔  اور وہ کون کون سی ویب سائٹس ہیں جن کے ربط یعنی لنک دوسری ویب سائٹ پر موجود ہیں ۔۔۔۔
لیکن پہلی قسم کو پہچاننا آسان نہیں ہوگا ۔۔۔  کچھ عرصہ پہلے مجھے بھی ایک ویب سائٹ پر گمان ہوا تھا  کہ اسے خفیہ ایجنسیاں چلا رہی ہیں ۔۔۔۔ لیکن کچھ عرصے بعد اندازہ ہوا کہ میرا گمان ٹھیک نہیں ہے  ۔۔۔ 
اس بارے میں آپ صرف یہ احتیاط کرلیا کریں کہ اگر آپ کو کسی جہادی ویب سائٹ پر شک ہے تو اسے وزٹ کرتے ہوئے پراکسی سرور کا استعمال ضرور کر لیا کریں ۔۔۔  اور اس کے منتظم سے غیر ضروری طور پر ای میل سے  رابطہ نہ کریں ۔۔۔ اس پر رجسٹر ہونے سے گریز کریں ۔۔۔ اس پر تبصرہ نقل کرنے سے بھی بچیں وغیرہ ۔۔۔ اگرچہ یہ سب کام پراکسی سرور کے ساتھ ممکن ہیں ۔۔۔۔ 
ایک اچھا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ویب سائٹ کے منتظم سے کوئی ایسا سوال کریں جس کا جواب صرف مجاہدین ہی صحیح دے سکتے ہوں
اور احتیاطی تدابیر کے علاوہ ۔۔۔ دعائیں اور اذکار سے مدد لے لیا کریں ۔۔۔۔ اللہ کی لعنت ہو اللہ کے دشمنوں پر ۔۔۔۔
والسلام۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیصل آباد میں حساس ادارے کے اوپر ہونے والے حملے کے متعلق ایک تبصرہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ کام ٹھیک نہیں تھا کیونکہ اس میں بڑی تعداد میں سویلین لوگ مرے ہیں ۔ تبصرہ نگار نے مجھے تنبیہہ کی ہے کہ میں شیخ عطیۃ اللہ کی کتاب " شریعت کی نظر میں قتل ناحق کی حرمت اور ممانعت " کی روشنی میں اپنا اور اس بلاگ پوسٹ کا جائزہ لوں ۔ اور کیوں کہ یہ کارروائی اس کتاب کی روشنی میں ٹھیک نہیں اس لیے اسے اپنے بلاگ سے ہٹا دوں ۔ کیونکہ اس طرح کی خبر سے مجاہدین کے بارے میں غلط تاثر جاتا ہے ۔

میرے بھائی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے آپ کی نیت کا علم نہیں ۔۔۔ نہ ہی آپ نے یہ ظاہر کیا ہے کہ آپ کا تعلق مجاہدین سے ہے یا نہیں ۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی نیت اخلاص پر مبنی ہو لہٰذا میری طرف سے جواب حاضر ہے
آپ نے یہ  مشورہ تو دیا ہے کہ اس خبر کو اپنے بلاگ سے ہٹا دوں ۔۔۔۔لیکن آپ کا مشورہ میرے لیے زیادہ کارآمد اس وقت ہوتا جب  آپ یہ بھی ذکر کرتے کہ آپ کے نزدیک یہ کارروائی کس نے کی تھی ۔۔۔۔ اور اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے ۔۔۔۔ اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کارروائی مجاہدین نے نہیں کی تھی ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
میرے پاس غیب کا علم نہیں لیکن جو بات ظاہر ہے وہ یہی کہ یہ کارروائی مجاہدین نے ہی انجام دی تھی ۔۔۔۔  ایسے میں زیادہ مفید ہوتا کہ آپ مجھے اس خبر کو ہٹانے کے بجائے یہ نصیحت کرتے کہ کیوں کہ یہاں مجاہدین نے غلطی کی ہے لہٰذا میں اپنی تحریر میں تبدیلی کرکے مجاہدین کو اس غلطی پر تنبیہہ کروں اور آئندہ زیادہ احتیاط کا مشورہ دوں ۔۔۔

اب آپ یہ بتائیں کہ آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس دھماکہ میں عام مسلمان شہید ہوئے ہیں ۔۔۔ اگر آپ نے اخبارات اور ٹی وی میں دیکھا ہے تو یہ بات عجیب ہے کہ آپ نے مجاہد ہو کر دجالی میڈیا کی خبر کو کیوں قبول کر لیا ۔۔۔ کیا آپ کے پاس اس خبر کا کوئی زیادہ قابل اعتماد ماخذ ہے ۔۔۔۔ اگر ہے تو
وہ کون سا ہے یہ ضرور بتائیں تاکہ ہم مجاہدین کو بھی یہ خبر ارسال کریں کہ ان کی کارروائی کا یہ انجام ہوا ہے ۔۔۔ 

یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ آپ کی بنیادی بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے ۔۔۔۔ یعنی اگر ایسا ہی ہے جیسا آپ کہہ رہے ہیں کہ عام لوگ اس حملے میں زیادہ مارے گئے ہیں اور کافروں اور مرتدین کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تو ایسی صورت میں یقیناً ہم سب آپ سے متفق ہوں گے کہ ہاں یہ حملہ غلط تھا ۔۔۔ اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔
لیکن ہمارا گمان یہی ہے کہ مجاہدین نے ہدف کافروں اور مرتدین کو بنایا تھا ۔۔۔۔ اور جس جگہ گاڑی کھڑی کر کے دھماکہ کیا ہے ۔۔۔ اور وہاں جو تباہی آئی ہے اس نے کافروں اور مرتدین کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔۔۔ اور اگر اس حملہ میں بدقسمتی سے کوئی مسلمان بھی نشانہ بن گیا تو ان شاء اللہ وہ شہادت کا درجہ پائے گا ۔۔۔۔ بہتر ہوتا کہ آپ یہ ذکربھی  کردیتے کہ آپ نے اس کتاب کے ساتھ ساتھ "کفار پر عام تباہی کی شرعی حیثیت "بھی پڑھ رکھی ہے ۔۔۔ اور آپ مسئلہ تترس سے واقف ہیں ۔۔۔۔
اب میں آتا ہوں ایک اور پہلو کی طرف :
چلیں کچھ لمحوں کے لیے گمان کر لیں کہ مجاہدین سے یہاں غلطی سرزد ہوئی ہے ۔۔۔۔  ایسے میں ہمارے لیے تین صورتیں ممکن ہوتی ہیں ۔۔۔۔
ایسے میں کیا یہ مناسب ہے کہ اس کارروائی کا ذکر ہی نہ کیا جائے ۔۔۔ یعنی خاموش رہا جائے ۔۔۔۔
یا یہ مناسب ہے کہ اس کو ہم جھوٹ بول کر کسی دوسرے کے سر پر ڈالنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔
یا یہ بہتر ہے کہ ہم اسے مجاہدین کی کارروائی تسلیم کرلیں ۔۔۔ ساتھ ہی مجاہدین کی غلطی کو بھی ۔۔۔۔

ظاہر ہے ان تینوں میں سب سے بہتر آخری والی ہے ۔۔۔ خاموش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو عامۃ المسلمین کو پورا پورا موقعہ دیا جائے کہ وہ مجاہدین کو ہی اس کا مورد الزام ٹھہرائیں اور انہیں جہادی کے بجائے فسادی تصور کر لیں ۔۔۔ اور دوسری طرف مجاہدین بھی اس کو اپنی روایت بنا لیں گے کہ جب بھی کوئی خطرناک قسم کی غلطی سرزد ہوگی تو اصلاح کی طرف توجہ دینے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیں گے ۔۔۔
دوسری صورت کی شریعت اجازت نہیں دیتی یعنی جھوٹ بول کر دوسروں کے سر پر ڈالا جائے ۔۔۔
تیسری سب سے بہتر ہے ۔۔۔ کیونکہ مجاہدین کوئی فرشتے نہیں ۔۔۔ انسان ہیں ۔۔۔ معصوم عن الخطاء نہیں ۔۔۔ کیا ہم یہ نہیں دیکھتے کہ بحیثیت مسلمان ہم بہترین زمانے سے چودہ صدیوں کے فاصلے پر کھڑے ہیں ۔۔۔۔ ہر مسلمان کے لیے ہر طرح کی تربیت کی ضرورت ابھی باقی ہے ۔۔۔   لیکن اگر کوئی فرد مجاہدین کے متعلق یہ تصور رکھے کہ وہ فرشتے ہوں ، کبھی کوئی غلطی نہ کریں ، ان سے کبھی خطا صادر نہ ہو۔۔۔  وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ اور وہ یہ کہے کہ میں جہاد میں صرف اسی وقت شرکت کروں گا جب مجاہدین اس معیارکو پہنچ جائیں گے ، تو یہ شیطانی دھوکہ ہے اور وہ جان لے کہ یہ موقعہ کبھی نہیں آئے گا یعنی اللہ تعالیٰ ایسے گمراہ آدمی کو ہمیشہ جہاد سے دور رکھیں گے ۔۔۔۔
واللہ اعلم ۔۔

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ