Subscribe:

Monday, March 21, 2011

ای میل اور تبصرے



السلام علیکم بھائی آپ سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آپ لوگ میرا مطلب ہے جو اپنے کو مجاہدین کہتے ہیں ، کیا آپ آسان الفاظ میں بتا سکتے ہیں کہ آپ چاہتے کیا ہے ۔۔۔ یعنی یہ بتائیں کہ فرض کیا آپ تمام پولیس ، انٹیلی جنس ، کرنل جرنل صدر اور تمام حکومتی اہلکاروں کو حکومت کے سمیت ختم کر دیتے ہیں ۔۔۔۔ پر فائدہ ۔۔۔ ؟؟؟ وہ اور آجائیں گے ۔۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ حکومت سے لڑائی لگا کر بیٹھ جائیں ۔۔۔ اور انقلاب آجائے ۔۔۔ ذرا بتائیں تو صحیح ۔۔۔ برا نہ مانیے گا ۔۔۔ آپ چاہتے کیا ہیں ۔۔۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا ۔۔۔ یہ طالبان آخر چاہتے کیا ہیں ؟؟؟؟
بھائی ، وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ۔۔۔
آپ نے پوچھا ہے کہ میں آسان اور سادہ الفاظ میں بتاؤں کہ ہم کیا چاہتے ہیں
ہم چاہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہماری مغفرت فرما دیں ،  ہمیں اپنے راستے میں شہادت اور جنت کے اعلیٰ ترین درجات عطا کر دیں  اور ہمیں انبیاء ، صیدیقین ، شہداء اور صالحین کی رفاقت میسر آجائے ۔۔۔
حقیقت میں تو ہم اسی مقصد کے لیے اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہیں

بات یہ ہے کہ جب اللہ کا حکم آجائے تو اس سے فرار ممکن نہیں ہے ۔۔۔ یہ سوال اٹھانے کی ہمیں اجازت نہیں کہ اللہ کے حکم کو پورا کرنے سے کون سا فائدہ حاصل ہوگا ۔۔۔ نہ ہی ہمیں اپنے دین میں کہیں یہ نصیحت  ملی  ہے کہ اگر فائدہ حاصل ہوگا تو اللہ کا حکم پورا کرو ورنہ چھوڑ دو

ہمیں ڈر ہے کہ ہم جہاد چھوڑ کر کہیں اللہ کی وعیدوں کے مستحق نہ بن جائیں ۔۔۔ اس لیے یہ سوال ہمارے لیے قطعاً غیر ضروری ہے کہ دنیا میں جہاد کا کیا فائدہ ۔۔۔

اگرچہ ہماری خواہش ضرور ہوتی ہے کہ جہاد کے اثرات اور نتائج اس دنیا میں بھی ظاہر ہو جائیں
یعنی اسلام کو فتح اور غلبہ ملے اور کفر  ذلیل اور مغلوب ہو جائے
خلافت کا احیاء ممکن ہو اور اللہ کی زمین پر اللہ کی شریعت نافذ ہو جائے

امید ہے اب آپ کو سادہ الفاظ میں جواب مل گیا ہوگا جس کے لیے آپ بار بار تبصرہ اور ای میل ارسال کر رہے تھے اور میں یہ سمجھ کر کہ سوال قطعاً غیر سنجیدہ ہے اس کا جواب دینے سے گریز کر رہا تھا ۔۔۔۔


اب جواب دینے کی باری آپ کی ہے آپ بتائیں کہ جو لوگ جہاد ترک کر کے بیٹھے ہوئے ہیں وہ دین اور امت مسلمہ کی کون سی خدمت کر رہے ہیں ۔۔۔ اسلام کے غلبہ ، خلافت کے احیاء اور شریعت کے نفاذ کے لیے ان کے پاس کون سا سنجیدہ لائحہ عمل ہے

السلام علیکم
یہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے میں اللہ کے راستے میں کوئی عظیم کارنامہ انجام دینا چاہتا ہوں ۔۔۔ کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں
کنڑ خان

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ وہ کون سا عظیم کام ہے جسے انجام دینا آپ کی خواہش ہے ۔ اگر آپ فدائی حملہ کرنے کے خواہش مند ہیں تو یقیناً یہ ایک بڑی کامیابی اور عظیم سعادت کی بات ہے ۔ لیکن میں کس طرح آپ کی مدد کرسکتا ہوں یعنی آپ بتائیں کہ آپ کس طرح کی مدد چاہتے ہیں ۔



کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل کو کیونکر جائز قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ یہ دونوں حضرات صرف توہینِ رسالت کے قانون میں اصلاح کی کوشش کر رہے تھے تاکہ کوئی ان قوانین کو باہمی جھگڑوں یا غیر مسلموں کے خلاف غیر قا نونی  امتیاز کے لئے غلط استعمال سے روکا جا سکے۔ سلمان تاثیر کے ھوالے سے تو کچھ شواہد دستیاب ہیں لیکن شہباز بھٹی کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے کیونکہ اس کے لئے تو تنظیمِ اسلا می کے امیر کا بھی بیان آیا ہے کہ شہباز بھٹی بے گناہ تھا اور اس کا قتل ٹھیک نہیں ہوا کیونکہ وہ صرف توہینِ  رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اصلاحات کی کوشش کررہا تھا؟
شہباز بھٹی ایک حربی کافر تھا ۔۔۔ معاہد نہیں تھا ۔۔۔ پھر وہ کفریہ حکومت کا وفاقی وزیر بھی تھا ۔۔۔ اس کا  خون تو یقیناً مباح ہے ۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔۔۔۔
البتہ یہ بات ضرور مشتبہ ہے کہ شہباز بھٹی توہین رسالت کا مرتکب تھا یا نہیں ۔۔۔  یہ  درست ہے کہ شہباز بھٹی براہ راست توہین رسالت میں ملوث نہیں تھا لیکن یہ بات یاد رہے کہ توہین رسالت کا معاملہ انتہائی نازک اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس معاملہ میں احتیاط کا تقاضا ہے کہ قوانین میں ترمیم کے خواہش مند پہلے اپنی پوزیشن واضح کریں ۔۔۔ بہر حال شہباز بھٹی کے حربی کافر ہونے کی وجہ سے اس کے قتل پر اٹھایا جانے والا  سوال کسی حد تک غیر ضروری ہوجاتا ہے ۔۔۔ کیونکہ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اس کے دیگر جرائم کافی ہیں  ۔۔۔
تنظیم اسلامی کے امیر مترددین اور مشککین  میں سے ہیں ، اس لیے ان کے بیان سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے   ۔۔۔  کہ شہباز بھٹی  بے گناہ تھا اور اسکا قتل ٹھیک نہیں تھا ۔۔۔ 
اللہ تعالیٰ ہم سب کی حق بات کی طرف رہنمائی فرمائیں ۔۔۔ آمین ۔۔۔ 

رہی بات سلمان تاثیر کی تو اسے مجاہدین نے قتل نہیں کیا۔۔۔ جس نے کیا اللہ اس کے عمل کو قبول فرمائیں ۔۔۔

جزاک اللہ عرفان بھائی
اللہ آپکو جزائے  خیر دے
ایک اور سوال پاکستان میں موجود ملعون جمہوری نظام جو برائے نام تو اسلامی جماعت ہے  جیسا  جی یو آئی ،جماعت اسلامی  ۔ فضل الرحمان اور منور حسن کیا یہ علماء سوء نہیں ہے؟؟؟ حب المال کی لیے  دنیا وآخرت کو تباہ و برباد کردیتے  ہیں  کیا یہ سرکاری علماء نہیں ہیں ؟؟؟  ان کا شرعی حکم کیا ہے؟؟؟ کیا یہ ارتداد میں شامل نہیں ؟؟؟ پلیز ان باتوں کا جواب ضرور دیں؟؟؟؟

جمہوری نظام کے متعلق آپ کے الفاظ خلط ملط ہوگئے ہیں ۔۔
اس کے بعد آپ نے فضل الرحمان اور منور حسن کے بارے چار سوالات کیے ہیں ۔۔۔ اور یہ  تمام سوالات انتہائی خطرناک ہیں   ۔۔ ۔ ایسے سوالات پوچھ کر آپ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔۔۔ 
کیا یہ سرکاری علماء ہیں  ؟؟؟
کیا یہ علمائے سوء ہیں؟؟؟
ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟؟؟
کیا یہ مرتد ہیں ؟؟؟
شیخ ابو مصعب سوری (اللہ تعالیٰ انہیں رہائی عطا فرمائے ) دعوۃ القاومۃ الاسلامیہ العالمیہ میں لکھتے ہیں کہ علمائے سوء کے خلاف  ہتھیار سے جہاد نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔ علمائے سوء کے خلاف محض قلم سے جہاد ہوگا ۔۔۔ سوائے ان اہداف  کے جہاں انتہائی ناگزیر ہو۔۔۔
فضل الرحمان اور منور حسن علمائے سوء میں  شامل ہیں یا نہیں یہ تو یقینی نہیں لیکن ان دونوں افراد کو بھی ہم اس فہرست میں شامل کر سکتے ہیں جن کے خلاف ہتھیار سے جہاد کرنے میں نقصان عظیم کا اندیشہ ہے۔  لہٰذا ان سے اعراض کیا جائے گا اور ان کے غلط افکار کا ابطال کرنے کے لیے مجاہدین قلم سے کام لیں گے ۔۔۔۔  جب تک ان میں سے کوئی سرکاری عہدہ یا منصب قبول نہیں کرتا ۔۔۔
واللہ اعلم ۔۔۔

بہر حال میں آپ کے سوال کو  اس ویب سائٹ کے توسط سے مجاہدین کے علماء تک پہنچانے کی کوشش کروں گا

میرا نام خان ہے ۔۔۔ اور میں انڈیا سے تعلق رکھتا ہوں ، میں امید کرتا ہوں جی آپ بخیر اور محفوظ ہوں گے ۔ اور دعا بھی یہی کرتا ہو ۔ میں آپ سے جاننا چاہتا ہوں کہ مجاہدین کی کیا حکمت عملی ہے انڈیا کے بارے میں ۔ کیا آپ لوگ غافل ہیں ؟ کیا آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے ان کے ساتھ ، ایسا کچھ جو آپ امریکہ کے ساتھ کرتے ہیں ؟ کیا آپ کو انڈین پاور کے بارے میں کچھ ڈر ہے ؟
ہمیں ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگ یہاں کے مسلمانوں کو مسلمان مانتے ہی نہیں تبھی تو ان کے درد اور غم  کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ آپ کی نظروں میں فلسطین ھی مسلمان ہیں اور ان کا ہی درد ہے
بڑی مہربانی فیوچر سٹراٹجی کے بارے میں کچھ بتائیے
اللہ حافظ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجاہدین نے بھارت کو کبھی فراموش نہیں کیا ۔۔۔ امریکہ کے بعد اسی کی باری ہے ۔۔۔ آپ نے شاید تمام ویڈیوز نہیں دیکھیں ورنہ آپ ایسی بات نہ کہتے کہ مجاہدین بھارت کے معاملے میں غفلت کا شکار ہیں ۔۔۔ مجاہدین اپنی مقدور بھر کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔ دنیا بھر میں پہلے ہی بہت سے محاذ کھلے ہوئے ہیں  ، اور ان تمام محاذوں کے لیے مجاہدین کی تعداد ناکافی ہے ۔۔۔ مجاہدین کی ویڈیوز میں بھارت اور کشمیر کا ذکر اسی طرح آتا ہے کہ ۔۔۔ امریکہ کی رخصتی کے بعد مجاہدین افغانستان کے راستے بھارت یا کشمیر پہنچنا شروع کردیں گے ۔۔۔

  بھارت کے متعلق آیئندہ کی حکمت علمی کیا ہے یہ بھی انشاء اللہ جلد معلوم ہو جائے  گا ۔۔۔ فی الحال بھارت کے مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد اور شوق شہادت پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ اس کے نتیجے میں ہمیں یقین ہے کہ بھارتی مسلمانوں کے اندر تحریک مزاحمت کھڑی ہوجائے گی اور وہ اپنی سطح پر محاذ خود ہی کھول لیں گے ۔۔۔۔ جب یہ محاذ کھل جائے گا تو انہیں دنیا بھر کے مجاہدین سے مدد پہنچنی شروع ہو جائے گی ۔۔۔

اسی  سلسلے کی دوسری کڑی یہ ہے کہ بھارتی مسلمان جہاد میں شرکت کے لیے مختلف محاذوں پرنکلنا شروع کریں  تاکہ جہاد کی تربیت لینے کے بعد وہ واپس اپنے علاقوں میں جائیں اور مجاہدین کی تربیت کرسکیں  ۔۔۔
تعداد کی بالکل پرواہ نہ کریں ۔۔۔ یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے کام ہیں ۔۔۔
بس آپ یہ فکر کریں کہ عالمی جہادی تحریک کے ساتھ بھارتی مسلمانوں کا رابطہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔  ہم بھی اپنی جگہ غور کر رہے ہیں

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ