Subscribe:

Tuesday, April 12, 2011

مال غنیمت کی تقسیم پر سوال



تمام تر شکر اور حمد اس کے لیے جس نے اناج پیدا فرمایا اور روزینے مقرر کئے اور نیک اعمال پر اجر عطا فرمایا۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمدﷺ پر جو واضح معجزات کے ساتھ تشریف لائے۔
اسلام علیکم ورحمۃ  اللہ وبرکاتہ
عرفان بھائی اللہ تعالیٰ سے آپکی سلامتی کی دعا گوہوں کہ اللہ آپکو ہر جگہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ آپ سے ایک بار رابطہ کرلوں لیکن کچھ مصروفیات یا غفلت کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔مجھے ایک سوال پوچھنا تھا آپ سے کہ آپ لوگ (مجاہدین) مال غنیمت کس طرح تقسیم کرتے ہیں۔ یہ مال غنیمت کس کو ملتا ہے  مجاہدین آپس میں بانٹ لیتے ہیں یا اور غرباء،فقراء یا مساکین کو بھی دیتے ہیں۔
بھائی سوال تو اس قابل نہیں ہے کہ پوچھا جائے لیکن میرے ذہن میں کافی گردش کررہا تھا اس لئے سوچا پوچھ ہی لوں۔امید ہے جواب سے نوازے گے۔
ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر جگہ مجاہدین کو کامیابیاں عطا فرمائے اور اہل حق کو کفارومشرکین پر غالب فرمائے تاکہ خبیث و طیب الگ الگ ہوجائے۔
وسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ذبیح اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ذبیح بھائی ۔۔۔ ۔ مجاہدین امت کی دعاؤں کے سب زیادہ مستحق ہیں ۔۔۔۔آپ کی  ڈھیر ساری دعاؤں کا شکریہ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ  جو خیر آپ نے ہمارے لیے اللہ سے مانگا ۔۔۔۔ اللہ آپ کو اس سے بڑھ کر عطا فرمادے ۔۔۔
مال غنیمت کی تقسیم کا عمل مختلف صورتحال میں مختلف ہوتا ہے ۔۔۔۔لیکن اس کی جو بھی صورت ہو ۔۔۔۔ الحمدللہ مجاہدین مال غنیمت کی تقسیم شرعی قاعدے کے مطابق ہی انجام دیتے ہیں ۔۔۔
زیادہ تر تقسیم اس طرح ہوتی ہے کہ پانچواں حصہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے جب کہ باقی چار حصے کارروائی میں حصہ لینے والے مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔۔۔۔
دوسری صورت یہ ہے کہ تمام مال مجاہدین کے بیت المال میں جمع ہوجاتا ہے ۔۔۔یعنی ممکن ہو کوئی شرط ایسی موجود ہو جس  کے سبب یہ غنیمت نہیں بلکہ فے سمجھا جائے ۔۔۔۔ یا ہوسکتا ہے کہ کوئی کارروائی خاص طور پر کفار کے اموال چھیننے کے لیے کی جاتی ہو اور مجاہدین اپنی نیتیں صاف رکھنے کے لیےمال سے  دستبردار ہونے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔حکمت کا تقاضہ نہ ہوتا تو میں ایک مثال بھی دینے کو تیار تھا ۔۔۔۔
تیسری صورت یہ بھی ممکن ہے کہ تمام مال کارروائی میں حصہ لینے والے مجاہدین کے درمیان تقسیم ہو جائے ۔۔۔
جی ہاں حیران نہ ہوں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال موجود ہیں : وہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کا کوئی مختصر گروہ انفرادی حیثیت سے دارالکفر میں گھس جائے اور اس علاقے میں اس کی مدد کرنے والا کوئی مجاہد نہ ہو ، اور وہ مال غنیمت کے ساتھ پلٹے تو اس مال سے پانچواں حصہ نہیں نکالا جائے گا بلکہ یہ سارا مال انہی  کا ہوگا ۔ اس انفرادی عمل کو انجام دینے والوں کی تعداد نو سے کم ہو تو یہی حکم ہوگا ۔۔۔ تعداد نو ہو جانے پر یہ سریہ کہلائے گا اور پانچواں حصہ نکالنا ہوگا ۔۔۔۔۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں انسپائر کا چوتھا شمارہ
اگر یہ کام  امیر کی اجازت سے کیا جائے گا تو خمس نکالا جائے گا ۔۔۔ اس بات کا امکان کم ہے کہ جو مجاہدین تنظیم کا حصہ ہیں وہ امیر کی اجازت کے بغیر یہ کام کریں گے ۔۔۔۔ لیکن شریعت میں اس کی اجازت موجود ہے کہ امیر کی اجازت کے بغیر دار الحرب میں گھس جائیں اور  کفار کے اموال لوٹ کر لے آئیں ۔۔۔۔  خواہ قوت سے ، چوری کر کے ، یا دھوکہ دے کر ۔۔۔۔ان تمام صورتوں کی شریعت میں اجازت موجود ہے ۔۔۔  تفصیل دیکھیے انسپائر کے چوتھے شمارے میں ۔۔۔


مجاہدین کے بیت المال کے مستحقین
غنیمت کا پانچواں حصہ  یا فے کے اموال کو مجاہدین کے بیت المال میں جمع کیا جاتا ہے اور یہ مال زیادہ تر مجاہدین کی اجتماعی ضرورتوں پر خرچ کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ اگر کوئی یہ خیال کرے کہ غنیمت کے اموال  پر فقراء اور مساکین کا بھی حق ہے ، تو اگرچہ یہ خیال درست ہے ، لیکن خود سوچیے کہ اس وقت مجاہدین سے بڑھ کر اس مال کا مستحق کون ہوگا ۔۔۔کیا مجاہدین میں فقیر اور مساکین نہیں ؟؟؟؟۔۔۔عام معاشرے کے افراد سے زیادہ مسکین اور فقیر بھی مجاہدین کی صفوں میں موجود ہیں ۔۔۔۔  لیکن یہ اتنے خود دار ہیں کہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے ۔۔۔۔ کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ضرورت کا احساس بھی دوسروں کو  نہ ہونے پائے ۔۔۔۔بسا اوقات کسی ضرورت مند مجاہدکی بیت المال سے مدد کی جاتی ہے تو وہ یہ جان کر کہ اس کی ضرورت بیت المال سے پوری کی جارہی ہے ، اس کو قبول کرنے سے کتراتا ہے ۔۔۔ اور پھر امیر کے اصرار پر قبول کرتا ہے ۔۔۔۔

بالفرض اگر اس  بیت المال کو مجاہدین کے لیے مخصوص کرنے کے بجائے ،  امت کا بیت المال تصور کیا جائے  تو ایسی صورت میں بھی مجاہدین اس کے حق سے محروم نہیں ہو سکتے کیونکہ بیت المال کے مستحقین وہی ہیں جو سورۃ البقرۃ میں زکوٰۃ کے مستحقین کی ذیل میں آتے ہیں ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے کل آٹھ مستحقین گنوائے ہیں ، جن میں سے ایک خود مجاہدین فی سبیل اللہ بھی ہیں ۔۔۔۔ اس لیے بیت المال کے اموال کو امت کے فقراء اور مساکین کو نظر انداز کر کے صرف مجاہدین کی ضرورتوں پر بھی پورا کیا جائے تو یہ شریعت سے متصادم نہیں ۔۔۔۔ بلکہ بعض علماء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ جب جہاد فرض عین ہو تو مسلمانوں کی قحط زدہ بستی کی مدد کرنے سے بہتر ہے کہ دفاعی جہاد کا فریضہ انجام دینے والے مجاہدین کو اموال دیے جائیں ۔۔۔۔خواہ قحط زدہ علاقوں میں بھوک اور افلاس کے ہاتھوں مسلمانوں کی ہلاکت کا  خطرہ ہو ۔۔۔۔ یہ رائے ہے ہمارے علماء کی ۔۔۔  بہرحال اصلاً یہ حقیقی صورتحال پر منحصر ہے ۔۔۔ یعنی فی الواقعہ مجاہدین کو اموال کی ضرورت باقی ہو ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔واللہ اعلم ۔۔۔

آج کی حقیقی صورتحال کیا ہے اس کے بارے میں  شیخ انوار العولقی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ فی زمانہ چار وجوہات سے مجاہدین مسلمانوں کی زکوٰۃ کے  سب سے بڑھ کر مستحق ہوتے ہیں ۔۔۔۔
۱) یہ فقراء ہیں  ۲) یہ مساکین ہیں   ۳) یہ مسافر ہیں  اور ۴) یہ اللہ کے راستے کے مسافر ہیں ۔۔۔۔

اگرچہ یہ فتویٰ زکوۃ کے متعلق ہے ۔۔۔ لیکن یہاں عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فقیر اور مسکین تو خود مجاہدین بھی ہیں ۔۔۔جب زکوٰۃ کے اموال کے سب سے بڑھ کر مستحق مجاہدین ہیں تو غنیمت کے اموال کا حقدار بھی ان سے زیادہ کون ہو سکتا ہے ۔۔۔ ؟؟؟؟
والسلام

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ