Subscribe:

Thursday, May 12, 2011

''اشتہاری مجرموں'' کی فہرستیں مرتب کیجئے!




''اشتہاری مجرموں'' کی فہرستیں مرتب کیجئے!
شیخ عبداللّٰہ عزام شہید رحمہ اللّٰہ
ترجمہ و ترتیب : قاری عبدالہادی

چند سال قبل تک ''اشتہاری مجرم'' کی اصطلاح سن کر ذہن میں کسی چور، ڈاکو یا بدمعاش کا نقشہ ابھرتا تھا ۔ گیارہ ستمبر کے بعد جہاں دنیا میں دیگر بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں، وہیں ''اصطلاحات'' کی دنیا میں بھی ایک انقلاب برپا ہوا ہے۔۔۔  بہت سی جدید اصطلاحات میدان میں اتاری گئی ہیں اور بہت سی قدیم اصطلاحات کے معنی یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔ ''اشتہاری مجرم '' کی اصطلاح بھی گیارہ ستمبر کے بعد اپنا پرانا معنی کھو بیٹھی ہے۔ آج اگر کسی اشتہاری مجرم کی گرفتاری کا ذکر آئے، کسی اشتہاری مجرم کے مارے جانے کی سرخی چھپے تو دل کے اندر سے ایک ٹیس سی اٹھتی ہے۔ آج بالعموم وہی شخص اشتہاری مجرم کہلاتا ہے جو '' رَبُّنَا اللّٰہ'' کہے اور اس پر جم جائے، جو ''اَحَد اَحَد'' پکارے اور اس پر ڈٹ جائے، جو ہر غیر اللہ کی حاکمیت ماننے سے انکاری ہو۔ آج اگر سر کی قیمت لگتی ہے تو انہی کی، عقوبت خانے آباد ہیں تو انہی سے! حق گو علماء ہوں یا غیرت مند داعیانِ دین، مجاہدین فی سبیل اللہ ہوں یا پابندِ شرع عامۃ  المسلمین…سب ہی آج ''اشتہاری مجرم'' ہیں!
زیرِ نظر تحریر امت ِ مسلمہ کے خلاف منصوبہ بندی میں مصروف اور امت سے خیانت کے مرتکب اصل ''اشتہاری مجرموں'' کی سمت ہماری تو جہ مبذول کراتی ہے اور ان کی فہرستیں مرتب کرنے اور انہیں چن چن کر نشانہ بنانے پر ابھارتی ہے۔ کفر کا نظام، خواہ وہ عالمی ہو یا مقامی، منصوبہ سازی اور قیادت کے لئے کچھ ''افراد'' ہی کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ افراد ہی وہ آئمہ ء کفر ہیں جو کفر کے نظام کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کفر کے ان اماموں میں کفریہ ممالک کے سربراہ ، نظامِ کفر کے اساسی بین الاقوامی اداروں مثلاًاقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قائدین، یورپی ممالک کے سفراء، یہود و نصاریٰ کی بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اہم عہدیدار، کفار و مرتدین کی اعلیٰ فوجی قیادت، خفیہ اداروں کے سربراہ اور کلیدی افسران، اعلیٰ سطحی حکومتی عہدیداران، سیکولر سیاسی جماعتوں کے نمایاں قائدین، بیوروکریسی کے اہم مناصب پر فائز ذمہ داران، پولیس و دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہم افراد، ذرائع ابلاغ کے ذریعے کفر و الحاد اور بے حیائی و فحاشی کو فروغ دینے اور جہاد و اہلِ جہادکو نقصان پہنچانے کی منظم مہم کے سرغنہ صحافی، جیل خانوں میں مجاہدین کو اذیت دینے والے تفتیش کاراور ایسے ہی دیگر موذی طبقات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شامل ہیں۔ ان تمام شخصیات کا احاطہ کرنا شاید کسی ایک مجموعے یا جہادی جماعت کی استطاعت سے باہر ہو، لہٰذا زیادہ مؤثر صورت یہی ہے کہ امرائے جہاد سے رہنمائی اور علمائے کرام سے فتاویٰ لینے کے بعد ایسے افراد کی فہرست مرتب کر لی جائے اور اسے تمام ممکنہ ذرائع سے نشر کیا جائے تاکہ امت نہ صرف اپنے اکابر مجرمین کو پہچان لے بلکہ مجاہدین کے مختلف مجموعات کے لئے بھی اپنی کارروائیوں کی ترجیحات متعین کرنا آسان ہو جائے۔
اس تحریر کے مصنف کا نام کسی تفصیلی تعارف کا محتاج نہیں۔ شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے وہ مجاہد عالمِ دین تھے جن سے اللہ رب العزت نے عصرِ حاضر میں فریضہ ء جہاد کی تجدید کی خدمت لی۔ آپ کی تحریرات اور خطبات نے لاکھوں نوجوانانِ امت کے سینوں میں حبِ جہاد کا شعلہ بھڑکایا اور ان کے ذہنوں میں فرضیت ِ جہاد کا شرعی حکم راسخ کیا۔ زیرِ نظر تحریر میں آپ نے امت ِ مسلمہ کو صحابی ٔ رسول حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی ایک گمشدہ سنت یاد دلائی ہے۔ '' قوائم محمد بن مسلمۃ''کے عنوان سے لکھی گئی یہ تحریر ہمیں آئمہء کفر وفساد کو نشانہ بنانے کا وہ قیمتی درس یاد دلاتی ہے جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے خودمحمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ اللہ رب العزت ہمیں اس سنت کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
(مدیر حطین )



الحمد للّٰہ وحدہ، والصلٰوة والسلام علٰی من لا نب بعدہ، وبعد:

یہودی سردار ابو رافع کا قتل
صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ یہ حدیث منقول ہے کہ:
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند انصاری صحابہ   کو ابو رافع کے طرف بھیجا تاکہ وہ اس کو قتل کردیں۔ چنانچہ ایک انصاری اس کے قلعے میں داخل ہوگئے اور آپ بیان کرتے ہیں کہ میں گھوڑوں کے اصطبل میں چھپ گیا اور قلعے کا دروازہ بند ہوگیا۔ اس کے بعد ایک چوکیدار اپنا گدھا تلاش کرنے باہر نکلا، میں بھی ان لوگوں کے ساتھ باہر نکل آیا اور میں یہ دِکھلا رہا تھا کہ میں بھی ان کے ساتھ گدھا تلاش کر رہا ہوں۔ جب ان کو گدھا مل گیا تو میں ان کے ساتھ قلعے میں چلا آیا اور انھوں نے قلعے کا دروازہ بند کرکے اس کی کنجیاں سوراخ میں رکھ دیں جسے میں دیکھ رہا تھا۔ اور جب وہ سب سوگئے تو میں نے کنجیاں لے کر قلعے کا دروازہ کھولا، ابو رافع کی طرف گیا اور اسے آواز دی: اے ابو رافع! اس نے مجھے جواب دیا تو میں آواز کی طرف لپکااور اس پر وار کیا۔ وہ چیخنے لگا تو میں باہر نکل آیا۔ اس کے بعد میں پھر اسی طرف گیا گویا میں فریاد رس ہوں اور میں نے آواز بدل کر کہا: اے ابورافع! اس نے کہا: تو کون ہے؟ تیری ماں کی خرابی ہو۔ میں نے کہا: کیا بات ہے؟ تو اس نے کہا: مجھے اور کچھ معلوم نہیں، بس اس آدمی نے مجھ پر تلوار کا وار کیا ہے۔ (اتنا سن کر) میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھ دی اور اس پر اتنا زور دیا کہ وہ اس کی ہڈیوں میں اتر گئی اور اس کے بعد میں باہر نکل آیا۔ میں خوفزدہ تھا، جوں توں کرکے اترنے کے لئے سیڑھیوں کے پاس پہنچا مگر گرپڑا اور میرا پیر ٹوٹ گیا، اور پھر میں نے اس حالت میں اپنے دوستوں کے پاس پہنچ کر کہا: میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک (ابو رافع کے مرنے پر)رونے والوں کی آواز نہ سن لوں۔ چنانچہ میں اس وقت تک باہر نہیں گیا جب تک میں نے اہلِ حجاز کے تاجر ابورافع پر رونے والیوں کی آواز نہ سن لی۔ یہ آواز سننے کے بعدمیں کھڑا ہو گیا مگر مجھ میں چلنے کی قوت باقی نہ رہی تھی۔(بہر حال میں نے کسی نہ کسی طرح ہمت جمع کی اور) آخر کارہم سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پہنچ کر پورا واقعہ بیان کیا''۔
(فتح البار، کتاب الجہاد والسیر، باب قتل المشرک النائم)
 ایک دوسری روایت کے مطابق ابو رافع کو قتل کرنے والے صحابی  حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ تھے۔ یاد رہے کہ ابو رافع رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا سخت دشمن تھااور لوگوں کو آپ ﷺ کے خلاف ابھارا کرتا تھا۔

''طاغوتِ یہود'' کعب بن اشرف کا قتل
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
''کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے گا؟… کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہے۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! انھوں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں (آپ کے متعلق) جو (چاہوں) کہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہہ لو۔ چنانچہ وہ کعب بن اشرف کے پاس گئے اور   اپنے اور حضور ﷺ کے درمیان ایک فرضی معاملہ بیان کرتے ہوئے کہا : یہ آدمی ہم سے صدقہ وصول کرتا ہے اور ہمیں مشقت میں ڈال رکھا ہے۔ کعب نے یہ سنا تو کہنے لگا: اللہ کی قسم! ابھی اور لوگ بھی اس سے تنگ ہوں گے۔ محمدبن مسلمہ نے کہا: اب تو ہم اس کی اتباع کرچکے ہیں اور ہم اسے اس کے معاملے کا انجام دیکھے بغیر چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔ مزید کہا: مہربانی کر کے مجھے کچھ قرض دے دو۔ کعب نے کہا: تم میرے پاس کیا چیز گروی رکھواؤ گے؟ ابن مسلمہ نے کہا: جو تم چاہو! کعب نے کہا: تم اپنی عورتیں میرے پاس گروی رکھوا دو۔ ابن مسلمہ نے کہا: تم تو عرب کے خوبصورت ترین آدمی ہو، کیا ہم تمہارے پاس اپنی عورتیں گروی رکھیں؟ کعب نے کہا: اچھا پھر اپنی اولاد گروی رکھوا دو۔ ابن مسلمہ نے کہا: (یہ بھی نہیں قبول کیونکہ کل) ہمارے بیٹوں کو طعنہ دیا جائے گاکہ وہ دو وسق کھجور کے بدلے گروی رکھے گئے تھے، البتہ ہم اپنا اسلحہ تیرے پاس گروی رکھ سکتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ ابن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس حارث، ابی عبس بن جبر اور عباد بن بشر کو لے کر دوبارہ آئیں گے۔ پس یہ لوگ اس کے پاس گئے اور رات کے وقت اسے (گھر سے) باہربلایا۔ وہ باہر نکلنے لگا تو اس کی بیوی نے کہا: مجھے تو یہ آواز خون کی آوازمحسوس ہو تی ہے۔ کعب نے کہا: (فکر نہ کرو)یہ محمد بن مسلمہ ، اس کا رضاعی بھائی اور ابونائلہ ہیں۔ معزز آدمی کواگر رات کے وقت بھی نیزہ بازی کی طرف بلایا جائے تو وہ یہ دعوت قبول کرلیتا ہے۔ محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ رکھا تھاکہ جب وہ آئے گا تو میں (کسی بہانے سے)اس کے سر کی طرف ہاتھ بڑھاؤں گا۔ پس جب میں اسے اچھی طرح اپنے قبضے میں لے لوں تو تم حملہ کر دینا۔ کعب جب ان کے پاس پہنچا تو اس نے چادر اوڑھ رکھی تھی۔ ان حضرات نے کہا: ہم تجھ سے خوشبو کی مہک محسوس کر رہے ہیں۔ اس نے کہا: ہاں! میری بیوی فلاں ہے جو کہ عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ معطر عورت ہے۔ ابن مسلمہ نے کہا: تم مجھے یہ خوشبو سونگھنے کی اجازت دو گے؟ اس نے کہا: سونگھو! پھر دوبارہ کہا کہ کیا تم مجھے دوبارہ سونگھنے کی اجازت دو گے؟ اس مرتبہ انھوں نے (خوشبو سونگھنے کے بہانے)اس کے سر کو قابو میں لے لیا اور (اپنے ساتھیوں سے) کہا کہ حملہ کر دو۔ چنانچہ انھوں نے اسے قتل کر ڈالا''۔
(صحیح المسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب قتل کعب بن أشرف طاغوت الیھود)

آئمہء کفر کا قتل تعلیمِ نبوی ﷺ ہے
صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی یہ دونوں روایات اس بات کی واضح اور قطعی دلیل ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دعوتِ دین کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے کے لئے قوت استعمال کی اور کفر کی نمائندہ دو چوٹی کی شخصیات کو ''اِغتِیَال''(یعنی ''ٹارگٹ کلنگ'') کے ذریعے مروایا۔ اہلِ دین کی پیش قدمی روکنے اور دینِ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے کفر مستقل منصوبہ بندی میں مصروف رہتا ہے۔ اس منصوبہ سازی کے پیچھے لا محالہ کچھ موذی ذہن کارفرما ہوتے ہیں، پھر انہی منصوبوں کوعملی جامہ پہنانے کے لئے بھی کچھ شریر ہاتھ  میسر وسائل کو حرکت میں لاتے ہیں۔ یہی وہ قائدینِ کفرہیں جن کا علاج تلوار کے بغیر ممکن نہیں۔ کعب بن اشر ف اور ابو رافع یہود کے دو نمایاں سردار تھے اور ان کا شمار بھی ان آئمہ ء کفر میں ہوتا تھا جو اسلام و مسلمانوں کے خلاف منصوبہ سازی میں پیش پیش تھے۔
امام ابنِ حجر رحمہ اللہ''فتح البار'' میں ابو رافع کے قتل کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
''وفیه جواز التجسس علی المشرکین وطلب غرتهم وجواز غتیال ذو الأذیة البالغة منهم''۔
''یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشرکین کی جاسوسی کرنا اور اس بات کی ٹوہ لگانا کہ وہ کب غافل ہوتے ہیں،جائز ہے۔ نیز یہ بھی جائز ہے کہ ان کے زیادہ موذی افراد کو 'اِغتِیَال' کے ذریعے قتل کیا جائے ''۔
(فتح البار، کتاب الجہاد والسیر، باب قتل المشرک النائم)

ان کی تاک میں بیٹھو!
یہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہ فرمانِ مبارک بھی نگاہوں میں رہے کہ:
(وَاقْعُدُوْا لَهُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ) (التوبة: ٥)
''اور ان (مشرکین کو مارنے) کے لئے ہر گھات میں بیٹھو''۔
امام ابو بکر بن العربی رحمہ اللہ اپنی تفسیر ''احکام القرآن'' میں لکھتے ہیں کہ:
''قال علماؤنا: هذا دلیل علی جواز غتیالهم قبل الدعوة…''
''ہمارے علماء نے لکھا ہے کہ :یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مشرکین کو دعوت پہنچائے بغیر بھی 'اِغتِیَال' کے ذریعے قتل کرڈالنا جائز ہے''۔
یہاں دعوت پہنچانے سے مراد ہے ''خبردار کرنا''۔ گویا یہ بات بالکل جائز ہے کہ ایک کافر کو پہلے سے خبردار کئے بغیر اچانک حملہ کر کے قتل کر دیا جائے (اور اسی کو عربی میں ''اِغتِیَال'' کہتے ہیں)۔

جان، مال اور عزت کا دفاع… ایک شرعی فریضہ
اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
 ( فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ) (البقرة:١٩٤)
 ''پس جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر ویسی ہی زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر کی''۔
امام ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ اس آیت کی تشریح میں یوں رقم طراز ہوتے ہیں:
''قال علماؤنا: هذا دلیل علی أن لک أن تبیح دم من أباح دمک، وتحل مال من استحل مالک''۔
''ہمارے علماء نے لکھا ہے کہ: یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص تمہارے خون کو مباح جانے تم بھی اس کے خون کو مباح جانو اور جو کوئی تمہارے مال کو حلال سمجھے تم بھی اس کے مال کو حلال سمجھو''۔
اس بات پر تو علمائے امت کا اجماع ہے کہ جان، مال یا عزت پر حملہ آور دشمن کے خلاف اپنادفاع کرنا جائز ہے۔ جہاں تک اپنی عزت کے دفاع کا معاملہ ہے، تو اس کے نہ صرف ''جواز ''بلکہ ''وجوب'' پر بھی علماء کا اجماع ہے۔ یعنی اگر کسی مسلمان کی عفت پامال کرنے کی کوشش کی جائے تواس پرواجب ہے کہ وہ یہ جسارت کرنے والے کو پہلے زبان سے، پھر ہاتھ سے پھر لاٹھی وغیرہ سے روکنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ اس کے بعدبھی نہ رکے اور اسلحہ استعمال کئے بغیر کوئی چارہ نہ رہے تو اسے اسلحے سے روکنا، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر قتل تک کر دینا لازم ہے، خواہ وہ حملہ آور شخص کتنا ہی پابندِ صوم و صلوٰة کیوں نہ ہو!
رہا جان اور مال کے دفاع کا شرعی حکم، تو جمہور علماء کے نزدیک یہ بھی واجب ہے، جبکہ اس کے جواز پر تو سبھی علماء کا اجماع ہے۔ یہاں یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ جان و مال پر حملہ آور ہونے والے لوگ اگر امت کے بہترین، صالح، خداترس اور عبادت گزار افراد ہوں، تب بھی اپنا دفاع کرنے کا یہ حکم تبدیل نہیں ہوتا۔ (اگر صالحین کے معاملے میں بھی شریعت یہ تعلیم دیتی ہے تو پھر آئمۂ کفر و ضلالت اور پیشوایانِ فسق وفجور کے خلاف یہ شرعی حق استعمال کرنے میں کیا شے مانع ہے جبکہ نہ صرف یہ مسلمانوں کی جانوں، مالوں اور عزتوں کے درپے ہیں، بلکہ ان کی قیمتی ترین متاع، متاعِ ایمان بھی ان سے چھیننے اور انہیں دین پر عمل سے روکنے کے لئے مستقل کوشاں ہیں۔)

کیا دعوت کی راہ میں حائل رکاوٹیں قوت استعمال کئے بغیر بھی ہٹ سکتی ہیں؟
اللہ کا دین انسانیت کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر تنہا اللہ رب العالمین کی غلامی میں دینے آیا ہے، لیکن بنی نوع انسان پر اپنی حاکمیت مسلط کرنے والا کوئی طاغوت بھی اس آسمانی دعوت کوٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کرتا، نہ ہی اپنی حاکمیت سے دستبردار ہونے پر بہ آسانی تیارہوتا ہے۔ ہر ایسا طاغوت، کفر کا ہر ہرامام اپنے تمام تر وسائل جھونک کر یہ کوشش کرتا ہے کہ انسانیت ظلماتِ کفر و شرک میں بھٹکتی رہے اور دعوتِ دین کی نورانی کرنیں اس تک کسی طور پہنچنے نہ پائیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ انسانوں کی ایک ایسی نسل وجود میں آئے جسے اپنی خواہشات کی تکمیل اور شہوات کی تسکین کے سوا کوئی غم نہ ہو اور وہ اسی سب میں غرق رہے تاکہ اسے غیر اللہ کی غلامی میں جکڑے رکھنا آسان ہو جائے۔ عیسائی مبلغین کے مشہور رہنما ''زویمر'' کے الفاظ میں:
''ہم نے انسانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی ہے جنہیں اپنی خواہشات کی تسکین کے سوا کسی شے کاغم نہیں۔ ان کا جینا مرنا، سب اپنی خواہشات ہی کی خاطر ہے اور ان خواہشات کی تکمیل کے لئے یہ اپنی قیمتی ترین متاع بھی لٹانے کو تیار رہتے ہیں''۔
پس ا نسانیت کواس دینِ قویم کی روشن تعلیمات سے دور رکھنے والے ہر طاغوت کو راہ سے ہٹانا اور دعوتِ دین کے پھیلائو میں حائل ہر بڑی رکاوٹ کو بزور دفع کرنا عین تقاضائے شریعت ہے۔ نبی ٔ اکرم صلی اللہ علی و سلم کے اس فرمانِ مبارک سے آخر اور کیا مقصود ہے کہ:
''بُعثت بین ید الساعة بالسیف حتٰی یُعبد اللّٰه وحدہ لا شریک له ''۔
''مجھے قیامت سے قبل تلوار دے کر مبعوث کیا گیا ہے تاکہ تنہااس اللہ کی عبادت بجا لائی جائے جس کا کوئی شریک نہیں''۔
(مسند أحمد، والحدیث ف صحیح الجامع، برقم:٢٨٣١)

سنت ِ ''اِغتِیَال'' پر اعتراض کرنے والوں سے صحابہ   کا تعامل
قائدینِ کفر اور آئمہء فتن کو رستے سے ہٹاناایک شرعی حکم، ایک منطقی ضرورت اورایک فطری حق   ہے۔ اسی لئے جب ابن یامین نامی ایک شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں یہ الفاظ کہے کہ :
''اللہ کی قسم! کعب بن اشرف کو تو دھوکے اور خیانت سے قتل کیا گیاتھا''۔
تو کعب بن اشرف کے قاتل محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے اور فرمایا:
''اے معاویہ! آپ کی مجلس میں ایسی گستاخانہ بات کی جائے اور آپ خاموش رہیں؟ اللہ کی قسم میں تو اس مجلس میں مزید نہیں بیٹھ سکتا… اگر مجھے یہ شخص کہیں تنہائی میں مل گیا تو میں تو اسے ضرور قتل کروں گا''۔
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ ، امام ابن تیمیہ؛ ص٩٠)
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ ایک جملہ کہنے کی پاداش میں ابن یامین کا خون بہانا جائز ہو گیا، حالانکہ وہ اصلاً ایک مسلمان تھا۔ اسی سے اس معاملے کی نزاکت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ابن یامین نے کعب بن اشرف کے قتل کوخیانت اور اس دین کی فطرت سے متصادم قرار دیا، جبکہ اس قتل کا حکم اور اس سنت کا اجراء تو خود رسولِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا۔ گویا اس شخص نے ایک حکمِ شرعی اور اس سے بھی بڑھ کر ،براہِ راست ذاتِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم پر اعتراض کرنے کی جسارت کی۔ اور بلاشبہ ''خیانت'' جیسے گھنائونے فعل کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کرنے سے انسان دین سے خارج اور قتل کا مستحق ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس سنت ِ نبوی ﷺ  کے بارے میں بہت سنبھل کر بات کرنی چاہیے… کہیں اپنا ایمان ہی نہ جاتا رہے!

 علمائے حق سے فتویٰ اور امرائے جہاد سے اجازت لینالازم ہے!
یہاں یہ بات ذہن نشین رہنا بھی نہایت اہم ہے کہ آئمہء کفر کا قتل و ''اِغتِیَال''(ٹارگٹ کلنگ) علمائے حق کی رہنمائی لئے بغیر کرنا کسی طور درست نہیں۔ بلاشبہ اس سنت کا احیاء نہایت اہم ہے، لیکن چونکہ یہ معاملہ خون بہانے جیسے بھاری امر سے متعلق ہے اور اس کے نتائج بھی جہاد کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں، لہٰذا اس حوالے سے  کوئی اہم  فیصلہ بھی کسی عام فرد پر نہیں چھوڑاجا سکتا۔ اس کے لئے تو ان علماء کی طرف رجوع لازم ہے جو مجاہدین کی شرعی رہنمائی کے ذمہ دار ہیں اور ان امرائے جہاد سے اجازت لینا بھی ضروری ہے جو جہاد کی مصلحت پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔

محمد بن مسلمہ   کی سنت ترک کرنے کا انجام
آئمہ ء کفر کا قتل ایک مبارک سنت ہے، جسے ترک کرنے کی بھاری قیمت آج اس امت کو چکانی پڑ رہی ہے۔  آج اگر امت پر ہر قسم کے (خارجی و داخلی) د شمن ہر سمت سے مسلط ہیں اور پوری دلیری سے مسلمانوں کا خون بہانے، عصمتیں پامال کرنے اور وسائل لوٹنے میں مصروف ہیں تو اس کا بہت بڑا سبب اس سنت کا مفقود ہونا ہے۔ اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہو ان بندگانِ خدا مست پر جو پستی و ذلت کے ان ادوار میں بھی اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے میدانِ عمل میں نکلتے رہے اور امت کو کفر کی غلامی سے آزاد کرانے اور اگلی نسلوں کو نئے حوصلے بخشنے کے لئے وقتاً فوقتاً اس سنت کو زندہ کرتے رہے، وگرنہ مسلمان بحیثیت مجموعی یہ سنت آج چھوڑ بیٹھے ہیں۔

خلاصۂ کلام:
١۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ عقیدۂ ولاء و براء (یعنی اللہ کے دوستوں سے دوستی اور اللہ کے دشمنوں سے دشمنی ) کے تقاضے پورے کریں اور پوری استقامت کے ساتھ دشمنانِ دین کے مقابل ڈٹ جائیں۔ اس عقیدے کا کم سے کم تقاضہ بھی یہ ہے کہ ہم روسی، یہودی اور امریکی مصنوعات کا استعمال ترک کر دیں۔ امریکی مصنوعات کے ترک پر میں اس لئے بھی خصوصی زور دوں گا کہ امریکہ ہی یہود کا اصل پشت پناہ اور حامی وناصر ہے۔
( زیرِ نظر تحریر اس دور میں لکھی گئی جب مجاہدین روس کے خلاف جہاد میں مصروف تھے۔ نیز یہ تحریر کسی عام فرد  نہیں، بلکہ شیخ عبداللہ عزام کے قلم سے نکلی جو اس دور میں عرب مجاہدین کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ درج بالا جملوں سے یہ بات واضح ہے کہ آپ اس دور میں بھی امریکہ کو امت کے اساسی دشمنوں میں شامل سمجھتے تھے، جس سے ان کور چشم مبصرین کے تجزیوں کا رد ہوتا ہے جو تاریخی حقائق کو مسخ کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مجاہدین نے روس کے خلاف جنگ امریکی مفادات کی خاطر لڑی، و لا حول ولا قوة الا باللہ! مترجم)
٢۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی سنت زندہ کرنے کے لئے آئمہ ء شرک ، قائدینِ کفر و الحاد اور ان نمایاں طواغیت کی فہرستیں ترتیب دی جائیں جو زمین میں اللہ کی حاکمیت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور انسانیت کو کفریہ نظاموں میں جکڑا رکھنا چاہتے ہیں۔ ''اشتہاری مجرموں'' کی اس فہرست میں جن لوگوں کے نام ہونا لازم ہیں ان کی طرف مختصراً اشارہ یہاں کیا جا رہا ہے:
١۔ دنیا بھر میں پائی جانے والی ہر وہ نمایاں یہودی شخصیت جو کسی طور بھی اسرائیل کی معاونت میں ملوث ہو (خواہ وہ عسکری معاونت ہو یا مالی معاونت یا زبان و قلم اور جدیدذرائع ابلاغ کے ذریعے معاونت )۔
٢۔ روسی اورغیر روسی کمیونسٹوں کے اہم قائدین۔ (اسی پر قیاس کرتے ہوئے آج امریکہ، یورپ اورنام نہاد ''دہشت گردی کے خلاف اتحاد''میں شامل' مسلم 'حکومتوں اور افواج  کے اہم قائدین کے نام بھی شامل کئے جائیں۔)
٣۔ (طاغوت کے خفیہ و علانیہ) قید خانوں میں انسانیت کی تذلیل اور مسلمانوں کی تعذیب پر مامور تفتیشی افسران۔
٤۔ سیکولر اور ملحدانہ نظریات کی حامل ان سیاسی جماعتوں کے قائدین جو نہ تو اپنی اسلام دشمنی پر پردہ ڈالتی ہیں، نہ ہی اپنے ملحدانہ عقائد کسی سے چھپاتی ہیں۔
٥۔ یہود( و نصاریٰ) کا اعلانیہ ساتھ دینے والے اکابرمجرمین، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں پائے جائیں۔
پس اے شہسوارانِ اسلام…اٹھو! اے اللہ کے لشکرو… آگے بڑھو! اے دین کی تلوارو… چمکو! اور بجلی کی کڑک بن کر دشمنانِ دین پر ٹوٹ پڑو!
وسبحانک اللّٰهم  وبحمدک وأشهد أن لا له لا أنت، أستغفرک وأتوب الیک۔

فقہ الجہاد
 ,
 اعلانات
اہم تحاریر
شیخ عبداللہ عزام

نوٹ
 
اس تحریر کو بلاگ پر نشر کرنے کا مقصد واضح ہے
ہم اس کے ذریعے عامۃ المسلمین کو اور خصوصاً مجاہدین سے تعلق و ہمدردی رکھنے والوں کو
اشتہاری مجرمین کی نشاندہی کرنے کی تحریض دلانا چاہتے ہیں

اس سلسلے میں پیش رفت کیسے کی جائے
کسے اور کہاں معلومات ارسال کی جائیں
کیا فہرستیں اور مجرمین کے متعلق معلومات اعلانیہ ہوں گی یا خفیہ
؟؟؟؟؟
یہ اور بہت سے سوالات
اور اس سلسلے میں آپ کی تجاویز کا انتظار رہے گا
اور اسی کی روشنی میں اسی عنوان کے تحت بلاگ پر پوسٹ نشر کی جائے گی
ان شاء اللہ

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ