Subscribe:

Monday, June 27, 2011

ایک مجاہد ساتھی کی شکایات




 خاتون  کی ویڈیوز کی گنجائش اور انفرادی جنگ کی حکمت عملی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے بلاگ میں دو چیزیں کھٹکی تو سوچا کہ آپ کو توجہ دلا دی جائے ایک تو یہ کہ آپ نے دو تین مرتبہ اس بات کی تکرار کی کہ ہمارے ہاں بھی انفرادی جہاد کے منہج کو عام ہونا چاہیے اس کے لیے آپ نے شیخ ابو مصعب سوری اور انسپائر کے حوالے سے بات کی اور ایک بہت ہی خطرناک بات بھی لکھی کہ بعض اوقات کئی سال رباط کی سرزمین پر گذارنے کے باوجود بھی وہ کسی ایک معرکے میں بھی حصہ نہیں لے پاتا ۔ بھئی حقیقت یہ ہے کہ محمود طریقہ تو یہی ہے کہ تمام مجاہدین ایک ہی نظم میں منسلک ہو کر کام کریں لیکن آج کے حالات میں طاغوت کی گرفت کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں لیکن انسپائر اور شیخ سوری والی حکمت عملی مغربی ممالک کے لیے ہے کہ وہاں مجموعات کی ترتیب بنانا اور انہیں محفوظ رکھ کر چلانا عملا ممکن نہیں لیکن ہمارے ہاں تو خطہ خراسان میں الحمدللہ جہادی مجموعات کا باقاعدہ سلسلہ موجود ہے اس لیے ہمارے ہاں مجاہدین کے امرا یہی تقاضا کرتے ہیں کہ جس نے جہاد سے وابستہ ہونا ہے وہ ان مجموعات میں سے کسی کے ساتھ وابستہ ہو اور باقاعدہ امیر کی تشکیل پر کوئی کام کرے اسی میں برکت ہے اور اسی میں خیر ہے ۔ اگر آپ کو اس حکمت عملی سے اتفاق نہیں تو نظم جہاد سے بالمشافہ مل کر اپنے اشکال دور کرلیں لیکن یہ تو کسی طور بھی درست اور صحیح نہیں کہ آپ اپنے طور پر ہی جہاد کی حکمت عملی وضع کر کے اس کا پرچار شروع کر دیں ۔
دوسری بات عورت کی آواز والے مسئلے پر آپ کا جواب ہے اور آخر میں یہ کہنا کہ ۔۔۔۔ ہم اس کی گنجائش نکالتے ہیں ۔۔۔ مجاہدین کی قیادت اس بات پر مکمل یک سو ہے کہ شرعی مسائل کے بارے میں علمائے حق ہی سے رجوع کیا جائے گا اور ان ہی کے فتویٰ پر عمل ہوگا خود سے  اجتہادی منہج کو اختیار کرنا اور اسے رواج دینا مناسب طریقہ نہیں اگر آپ شرعی مسائل کا حل بھی چاہتے ہیں تو اس کے لیے موزوں یہ ہے کہ آپ نیچے یا اوپر علماء تک یہ سوالات پہنچائیں اور جو جواب وہ دیں ان کو آپ نشر کر دیں اگر آپ خود سے شرعی مسائل کو بھی حل کرنا شروع کر دیں گے تو اس کے نتیجے میں جو مسائل پیدا ہوں گے ان کو حل کرنا کسی کے بھی بس میں نہیں ہوگا ۔
یہ احساسات اس غرض سے پیش کیے گئے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو توجہ نہیں دلائیں گے تو اور کون توجہ دلائے گا اور ہم آپس میں ایک دوسرے کی غلطیوں پر متوجہ نہ ہوں گے تو اور کون ہوگا ؟؟؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عورت کی آواز والے مسئلے میں آخر میں ۔۔۔   ہم گنجائش نکالتے ہیں   ۔۔۔  کے الفاظ سے اگر کوئی یہ مطلب لیتا ہے کہ یہاں ہم سے مراد عرفان بلوچ یا غزوۃ الہند کی ٹیم ہے تو یہ  طرز عمل درست  نہیں  ہے  ۔۔۔ اسی تحریر میں ابتدا ہی میں وضاحت کر دی گئی تھی کہ یہاں جو کچھ بھی کہا جائے گا وہ خاکسار کی رائے ہر گز نہ سمجھی جائے ۔۔۔۔ پھر کیا اس بات کو بار بار دہرانے کی ضرورت رہ جاتی ہے ۔۔۔ آخر یہاں ہم سے مراد مجموعی طور پر مجاہدین کی قیادت اور علماء کو کیوں نہ سمجھا گیا ۔۔۔۔ ہاں حوالہ نہ دینے کی بات سمجھ میں آسکتی ہے ۔۔۔ لیکن اس کی ضرورت اس لیے محسوس نہ کی تھی کہ مجاہدین کے معروف میڈیا ڈپارٹمنٹس سے اب تک کئی ایسی ویڈیوز نشر ہوچکی ہیں جن میں عورتوں کی آواز اور ویڈیوز پر مشتمل قلیل دورانیہ کے کلپس موجود ہیں۔۔۔  بلکہ یہاں یہ وضاحت کی ہی اس لیے گئی تھی کہ سائل ان کی روشنی میں یہ سوال اٹھا سکتا ہے  کہ جب آپ لوگ عورت کی ویڈیوز کے خلاف ہیں تو پھر آپ کی اپنی  ویڈیوز میں ایسے کلپس کیوں شامل کیے گئے ہیں۔۔۔
اب ایک سوال میں بھی آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ مجاہدین کے علماء عورت کی ویڈیوز کے قطعا خلاف ہیں خواہ کسی جہادی مقصد سے ہی کیوں نہ ہو اور آج تک کبھی مجاہدین کے علماء نے ایسی کوئی گنجائش نہیں نکالی اگر ایسا ہے تو پھر  آپ مجاہدین کے معروف میڈیا سیل جیسے السحاب میڈیا ، الفرقان میڈیا ، الملاحم میڈیا اور قوقاز میڈیا سینٹر کو کتنا غیر ذمہ دار سمجھتے ہیں خصوصا السحاب کے بارے میں کیا آپ یہ تصوررکھتے ہیں کہ وہ قیادت سے پوچھے بغیر یا علماء سے دریافت کیے بغیر ایسی ویڈیوز جاری کر سکتے ہیں ۔۔۔ کم از کم میں تو السحاب کو اتنا غیر ذمہ دار نہیں سمجھتا ۔۔۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ بھی نہیں سمجھتے ہوں گے ۔۔۔ دراصل  میں آپ کی وہ کھٹک دور کرنے کی کوشش کر رہاہوں جو آپ کو میرے الفاظ سے میرے متعلق لاحق ہوئی تھی ۔۔۔
میں واضح کردوں کہ میں ان ویڈیوز کی بابت گفتگو نہیں کر رہا جو قوقاز میڈیا سینٹر سے جاری ہوئیں اور جن ویڈیوز میں ہماری شیشانی  بہنوں کو کلاشن کوف لہراتے اور تربیت لیتے دکھایا گیا ہے ان پر ذمہ داران کی جانب سے تشویش کی اطلاعات ہیں کیونکہ بعض شیشانی فدائی بہنوں کی  نقاب کے بغیر بھی ویڈیوز بنائی گئیں ہیں ، لیکن السحاب یا الفرقان کی ویڈیوز کے بارے میں تو ایسا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ شیوخ کی رائے جانے بغیر کلپس شامل کیے گئے ہیں ۔

اب میں دوسرے مسئلے کی طرف آتا ہوں اور وہ ہے ہمارا انفرادی جہاد کی حکمت عملی پر زور دینا  اور آپ کا اس کے متعلق تشویش میں مبتلا ہونا ۔۔۔ لیکن  یہ بات  اتنی آسانی سے سمجھ میں آنے والی نہیں ہے ۔ اس کی وضاحت کے لیے کتاب جتنی ضخامت درکار ہے ، اور یہاں اس کی گنجائش نہیں ہے  اس لیے مختصر وضاحت کر دیتا ہوں۔
آپ نے کہا ہے کہ میں نے ایک خطرناک بات لکھی ہے ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک میں نے بہت سے ان حقائق کو بیان ہی نہیں کیا جو اس سے زیادہ خطرناک ہیں ، کیوں کہ ان حقائق کو بیان کرنے میں مجاہدین کا نقصان ہے اور دشمن کا فائدہ  ۔۔۔  لیکن وہ ایسے حقائق ہیں جنہیں جانے بغیر یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ انفرادی جنگ کی حکمت عملی اختیار کرنا کیوں ناگزیر ہے ۔۔۔

آپ نے کہا ہے کہ محمود طریقہ یہی ہے کہ تمام مجاہدین ایک ہی نظم میں منسلک ہو کر کام کریں ، اس سے انکار ممکن نہیں ہے ، اور انشاء اللہ کتاب میں یہ وضاحت آجائے گی کہ نظم سے منسلک رہ کر بھی انفرادی جنگ اختیار کی جاسکتی ہے ، بعض ساتھیوں کی ای میل سے مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ انفرادی جہاد سے بعض ساتھیوں کا ذہن اس غلط فہمی کی طرف جارہا ہے کہ گویا میں انہیں نظم میں منسلک ہونے سے انکاری ہوں ، جب کہ یہ حقیقت نہیں ہے  ۔

آپ نے کہا ہے کہ شیخ ابو مصعب سوری والی حکمت عملی مغربی ممالک کے لیے مخصوص ہے ، اگر  آپ یہ بات شیخ سوری کی طرف منسوب کرکے کہہ رہے تو آپ نے ان کی طرف غلط بات منسوب کی ہے ۔ اور اگر اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں تو یہ بات درست نہیں ۔ میں  شیخ ابو مصعب سوری (اللہ انہیں قید سے رہائی دلائے ) کے عسکری نظریات کا قاری ہوں ، جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے یہ بات نہیں کی کہ  انفرادی جہاد صرف مغربی ممالک میں اختیار کیا جائے گا ۔شیخ سوری کا انفرادی جہاد کا نظریہ یہ ہے کہ :
"جہاں بھی فریقین کے درمیان طاقت کا غیر معمولی عدم توازن ہوگا وہاں کھلے محاذ میں جنگ کرنا مجاہدین کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگا اور ایسی صورت میں انفرادی جنگ کی حکمت عملی بہترین حکمت عملی تصور  ہوگی " یہاں وہ یہ قید نہیں لگاتے کہ یہ حکمت عملی صرف مغرب تک محدود ہے  ۔۔۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میراجدید عسکریات اور خصوصا مجاہدین کی جنگی حکمت عملی میں سالوں  کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ طاقت کے غیر معمولی عدم توازن کے باوجود جہاں بھی مجاہدین نے کھلے محاذ کی حکمت عملی کو اختیار کیا ہے وہاں انہیں غیر معمولی اور ناقابل تلافی  نقصان پہنچا ہے ۔ (اور ذہن میں رہے کہ وہ یہ بات ۲۰۰۵ سے پہلے کہہ چکے ہیں ) اور اس کے بعداب  پاکستان کی جنگ میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے ۔۔۔ اور یہاں میں کچھ حقائق پیش کر سکتا تھا لیکن مجاہدین کی خیر خواہی میں انہیں حذف کر رہا ہوں ۔
میں نے یہاں شیخ سوری کے بعینہ وہی الفاظ نہیں پیش کیےہیں  بلکہ ان کے عسکری نظریات کی تفہیم بیان کی ہے ۔

اب مختصراً  وہ نکات پیش کردوں جو انفرادی جنگ کا اصل موضوع ہیں، ساتھ ہی وہ وضاحت بھی آجائے گی  جس  کی وجہ سے پاکستان کی جنگ میں اسے اختیار کرنا ضروری ہوگیا ہے :

فطری زندگی گزارنے کا موقعہ برقرار رہے
سب سے پہلا اصول اس کا یہ ہے  ایک مجاہد اپنے گھر پر فطری زندگی گزارنے کا موقعہ برقرار رکھ سکے ۔ اور آج کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ وزیرستان جانے والے مجاہدین فطری زندگی گزارنے کا یہ موقعہ کھو چکے ہوتے ہیں الا ماشاء اللہ ۔۔۔ میرا علم محدود ہے لیکن جہاں تک میں ساتھیوں اور حالات سے واقف ہوں وزیرستان جانے والے تقریباً تمام ساتھی اس وقت خفیہ ایجنسیوں کی لسٹ میں موجود ہیں ۔۔۔۔ جب کہ  شہری گوریلا جنگ کے اندر فطری انداز سے گھر میں زندگی گزارنا بہترین حکمت عملی ہوتی ہے ۔۔۔لہٰذا  اس وقت مجاہدین کے لیے یہ  اہم ترین مسئلہ اور وقت کی بڑی ضرورت ہے کیوں کہ ایک مرتبہ یہ موقعہ کھو جائے تو پلٹ کر نہیں آتا ۔۔۔  پاکستان کی جنگ میں شہری گوریلا جنگ کی اہمیت اگر ابھی تک آپ کو واضح نہیں ہوئی تو جلد ہی  خود بخود واضح ہوجائے گی ۔۔۔

دیگر مجاہد ساتھیوں سے فاصلہ ضروری ہے
کیوں کہ شہری جنگ کے لیے کوئی حکمت عملی وضع ہی نہیں کی گئی تھی اس لیے شہروں میں مقیم اکثر  مجاہد ساتھی ایک دوسرے سے  فاصلوں پر رہنے کے بجائے بلا روک ٹوک  ملاقاتیں کرتے رہے ۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ آج پاکستان کی جیلیں ہمارے قیدی ساتھیوں سے بھری ہوئی ہیں کیوں کہ جب بھی اتفاق سے کوئی ایک مجاہد ساتھی گرفتار ہوتا ہے اس کے پیچھے گرفتاریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ انفرادی جنگ کے اندر  دیگر مجاہد ساتھیوں سے غیر ضروری رابطوں سے گریزایک  لازمی عنصر ہے ۔۔۔
میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس وقت پاکستان کی جیلوں میں کتنے مجاہدین قید ہیں ، اور ان میں سے کتنی تعداد ایسی ہے جو زنجیر کی کڑیوں کی صورت میں گرفتار ہوئے ہیں ۔

دشمن اپنے  عددی نقصان سے بے پرواہ ہے
پاکستان کے محاذ میں انفرادی جنگ کے برعکس کھلے محاذ کی جنگ اختیار کرنے سے اب تک جو نقصانات سامنے آچکے ہیں اس کا اعتراف نہ بھی کیا جائے تو احساس دلوں میں پیدا ہو رہا ہے ۔ میں ان نقصانات کا ذکر ابھی نہیں  کروں گا ، لیکن جہاں تک فائدوں کی بات ہے وہ کبھی نہیں سمیٹے جاسکتے ۔ کیوں کہ دشمن کے لیے عددی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔۔۔ ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔۔ وزیرستان میں جنگ کے دوران پانچ سو سپاہیوں کو مارنے سے بہتر ہے کہ کینٹ ایریا  میں موجود پانچ آن ڈیوٹی آفیسر ز کو قتل کر دیا جائے ۔۔۔۔  اگر یہ مثال کافی نہیں تو اور بہت سی مثالیں پیش کرسکتا ہوں ۔۔۔۔ لیکن طوالت کا خطرہ ہے ۔۔۔ یوں سمجھ لیں کہ اگلے دس ، پندرہ سال بھی آپ وزیرستان میں جنگ کرتے رہیں تو پاکستان کو فتح نہیں کرسکتے ۔۔۔ چاہے اس دوران بیسیوں ہزار سپاہی و آفیسر کو قتل کر دیا جائے ۔۔۔  کیوں کہ فوج میں بھرتیوں اور نئے تقررات کا سلسلہ تو پھر بھی جاری رہے گا ، اسی طرح دفاعی بجٹ بھی بڑھتا رہے گا ، قوم تو پستی رہے گی لیکن جنگ کی طوالت سے فوج کو کوئی فرق واقع نہیں ہو سکے گا ۔پہاڑوں کی جنگ سے زیادہ اہم شہروں کی جنگ ہے ، اور شہروں میں کھلے محاذ کی جنگ کرنا فی الحال مجاہدین کے لیے ممکن نہیں ۔
آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ وزیرستان میں ایک سال میں مرنے والے آفیسر اور سپاہیوں کی تعداد اگر پانچ ہزار بھی تصور کر لی جائے تو اس کا اتنا اثر نہیں ہوا جتنا ایک جی ایچ کیو کارروائی یا پی این ایس مہران جیسی کارروائیوں کا اثر ہے ۔۔۔۔  اس نوعیت کی کارروائیاں طاغوت پر بجلی بن کر گرتی ہیں ۔۔۔۔ تمام سیکیورٹی اداروں پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔۔۔ اور دور رس اور گہرے اثرات پیدا کرتی ہیں ۔۔۔۔

معرکوں میں شرکت سے محرومی
وزیرستان میں مقیم مجاہدین کا معرکوں میں شرکت سے محروم ہونا خود بخود اس بات کی دلیل بن جاتا ہے کہ پاکستان کے  جہاد میں شرکت کے اعتبار سے زیادہ مفید بات یہی تھی کہ مجاہدین شہروں میں مقیم ہوتے ۔۔۔۔ آپ کا کہنا ہے کہ یہ میں نے خطرناک بات کہی ہے ، لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے ، اور کیا آپ اس حقیقت کو مانتے ہیں یا اس کا انکار کرتے ہیں ۔۔۔
یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ وزیرستان  میں مقیم پاکستانی مجاہدین کی اکثریت معرکوں میں حصہ لینے سے محروم ہے ۔ معرکوں میں شرکت کے خواہش مند ان مجاہدین کی بے تابیاں جب بہت بڑھنے لگتی ہیں تو ان کی تشکیل افغانستان کے معرکوں کی جانب کی جاتی ہے ۔ اور یہ آرزو بھی بہت سوں کی پوری نہیں ہو پاتی کیونکہ تشکیل تو ایک محدود تعداد کی ہی ممکن ہے اور کتنے ہی ساتھی ایسے ہیں جنہیں  کئی کئی ماہ یا سالوں کے بعد ایک بار یہ موقع ملتا ہے ۔ اور اب تو ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ بعض اوقات عین روانگی کے وقت افغانستان کے طالبان یہ کہہ کر تشکیل روک دیتے ہیں کہ براہ مہربانی اس وقت مزید مجاہدین نہ بھیجیں یہاں کے لیے کافی ہیں  ۔ ظاہر ہے انہیں افغانستان میں مجاہدین کو ٹھہرانے اور ان کے لیے سیکیورٹی کا انتظام کروانے اور دیگر بندوبست کے لیے بھی وسائل درکار ہوتے ہیں ۔
فرض کریں کہ وزیرستان میں ایک سال سے مقیم ایک ہزار مجاہدین اپنے گھروں میں فطری زندگی گزار رہے ہوتے اور ہر سال ایک مجاہد نے اوسطاً صرف ایک مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا ہوتا تو ، محض ایک سال میں ہم ایک ہزار مجرمین کا صفایا کر چکے ہوتے ۔۔۔ اور یہاں یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ یہ مجرم  وزیرستان میں مرنے والے ان  سپاہیوں کی طرح نہ ہوتے جو فوج کے لیے کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ۔۔۔

قیدی بھائیوں کے بارے میں غفلت
اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر دل اتنا دکھی ہے کہ میں کچھ بھی نہیں کہنا چاہوں گا  ۔۔۔ غور تو کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مجاہد ساتھی افغانستان میں معرکوں کے خواہش مند ہیں اور پاکستان کے اندر جیلوں میں قید ساتھیوں سے بے پرواہ ہیں ۔۔۔

اور بہت سی باتیں ہیں ، لیکن جیسا کہ پہلے کہہ چکا ہوں کو اس حکمت عملی کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک کتاب کی ضرورت ہے ۔اس لیے فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں ۔۔۔
آپ کا یہ کہنا کہ اشکال ہے تو مجاہدین کے نظم سے ملاقات کرکے اسے دور کرلوں ۔۔۔ تو عرض کروں گا جہاں تک میری پہنچ تھی وہاں تک رسائی کرنے پر معلوم ہوا کہ اکثر ذمہ داران بھی اسی نہج پر سوچتے ہیں ۔۔۔۔ یعنی اسے محض میری فکر نہ سمجھا جائے بلکہ یہ  ہمارے عسکری کماندانوں کے دلوں کی آواز ہے

آخر میں یہ بھی عرض کروں گا مجھے اشکال کوئی نہیں مجھے تو اس پر شرح صدر ہے ۔۔۔ اور میں جو کچھ کہتا ہوں مجاہدین امت کی خیر خواہی میں کہتا ہوں ۔۔۔۔ بلکہ امانت کا حق یہی ہے کہ جس چیز میں کسی مسلمان کے لیے خیر دیکھوں وہی بات کہوں اور اسے چھپا کر نہ رکھوں ۔۔۔ اگر ایسا نہیں کروں گا تو  ان لوگوں میں شمار ہوں گا جو امانت ادا نہیں کرتے ۔۔۔۔ اس لیے مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے نزدیک مجرم نہ ٹھہرا دیا جاؤں ۔۔۔۔  ویسے بھی میرے   یہ مجاہد ساتھی تو مجھے ساری امت میں سب سےزیادہ  محبوب ہیں ۔۔۔۔

والسلام
عرفان بلوچ



 




:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
غزوۃ الہند میں شریک آپ کا مجاہد بھائی
عرفان بلوچ

Sunday, June 26, 2011

غزوۃالہند بلاگ بند کیے جانے کا خطرہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم  
الحمدللہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسول اللہ  
محبوب مجاہد ساتھیو اور قابل احترام بہنو !!!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  

غزوۃالہند بلاگ بند کیے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے کیوں کہ ہمارے بارے میں گوگل کمپنی کو ایک  درخواست پیش کر دی گئی ہے ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ  غزوۃ الہند بلاگ  ایک شدت پسندانہ نظریات کا حامل اردو بلاگ ہے اور یہ انٹرنیٹ پر شدت پسندی یا دوسرے الفاظ میں دہشت گردی کا رجحان پھیلانے کی سازشوں میں مصروف ہے ۔ گوگل کمپنی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی ایسی درخواست پر فوری عمل کرنے کے بجائے اپنے نمائندوں کے ذریعے اس کی تحقیق کرواتے ہیں ۔ تحقیق مکمل ہونے کے بعد گوگل کا نمائندہ انہیں جو رپورٹ پیش کرے اس کے مطابق ایکشن لیتے ہیں ۔

اس بات کا امکان ہے  کہ گوگل کمپنی اس درخواست پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بلاگ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس بلاگ کو بند کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔ ایسی صورت میں ہم ان تحریروں کو جلد از جلد کسی دوسری جگہ اپ لوڈ کرنے کی کوشش کریں گے۔ مجاہد ساتھی یو ٹیوب کےذریعے بلاگ کے نئے پتے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔ہم اپنی تحریروں کو نئے بلاگ پر منتقل کرنے کے فوری بعد یوٹیوب پر ایک مختصر ویڈیو اپ لوڈ کریں گے جسے ڈھونڈنے کے لیے آپ یوٹیوب کے سرچ بکس میں مندرجہ ذیل ٹیگس کا استعمال کرسکتے ہیں

انگریزی ٹیگز :
Ghazwatul Hind Urdu Blog
Irfan Balooch Urdu Blog

اردو ٹیگز:
غزوۃ الہند بلاگ
عرفان بلوچ  کا اردو بلاگ

یوٹیوب میں سرچ رزلٹس کو تاریخ کے اعتبار سے ترتیب دیں یا گذشتہ ایک ہفتے میں اپ لوڈ ہونے والی ویڈیوز تک سرچ رزلٹس کو محدود کرنے سے آپ فوری طور پر نئے پتے سے آگاہ ہوجائیں گے اور ہمارا رابطہ پھر سے بحال ہو جائے گا ۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

آؤ پاکستانیو جشن منائیں



 کفریہ ریاست کے جاں باز محافظوں نے سات  گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعدکلاچی  تھانے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ۔
ڈزز  ڈزز  ڈز ز۔۔ ۔۔۔آہا ۔۔۔ ہوائی فائرنگ ۔۔۔ خوشی میں ۔۔۔ ناچو ۔۔۔ گاؤ ۔۔۔ جشن مناؤ ۔۔۔

واہ بھئی آج تو اخبار بھرا ہوا ہے تمہارے جاں بازوں کی دلیری اور مہارت کے قصوں سے ۔۔۔ کہا جا رہا ہے کہ آپریشن کامیاب  ۲۰ یرغمالی اہلکاروں کو چھڑوا لیا گیا ۔۔۔۔دہشت گرد اتنے عقل سے پیدل تھے کہ  موت سامنے دیکھ کر بھی یرغمال بنائے گئے بیس اہلکاروں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے ۔۔۔۔ نہ نہ پاگل نہ تھے ۔۔۔۔ وہ تو طاغوت کے سپاہیوں سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔ لڑنے تھوڑا ہی آئے تھے ۔۔۔۔  

اور سنو!!!   ۔۔۔۔ دہشت گرد اپنا منصوبہ بتا کر آئے تھے ۔۔۔ ڈی آئی جی امتیاز شاہ کو ۔۔۔ سرکار ہم فلاں فلاں ساتھیوں کو چھڑوانے کے لیے حملہ کر رہے ہیں۔۔۔۔ہو سکتا ہے اخباریوں  کے نزدیک گھاس چرے ہوئے ہوں ۔۔۔۔میں سوچتا ہی رہ گیا کہ   کیا ان میں سے ایک نے زیادہ گھاس کھا لی تھی آتے ساتھ ہی مین گیٹ بھی بند کر دیا ۔۔۔یا پھر وہ طارق بن زیاد رحمہ اللہ کا واقعہ نیا نیا پڑھ کر آیا ہوگا ۔۔۔۔بہت جذباتی ہو رہا تھا بے چارہ ۔۔۔۔ یا پھر ۔۔۔۔ اسے پلان نہیں بتایا تھا امیر صاحب نے صرف ڈی آئی جی کو بتایا تھا ۔۔۔

لو جی اور سنو ۔۔۔۔اور اڑاؤ مضحکہ دجالی نشریات کا ۔۔۔۔ جب کارروائی شروع ہوئی تو تھانے کے اندر پہلے سے ۲۲ اہلکار موجود تھے ، پھر کہتے ہیں ، ۱۰ اہلکار شہید ہوگئے ، پھر کہتے ہیں ۴ زخمی حالت میں پائے گئے ، پھر یہ ۲۰ یرغمالی اہلکار کہاں سے ٹپک پڑے  ۔۔۔ دیکھنا یار بارش تو نہیں ہو رہی تھی آسمان سے اہلکاروں کی تھانے میں ۔۔۔۔

آہاں!!! ۔۔۔۔ یاد آیا ۔۔۔  ایک  اور لطیفہ بھی سنا ۔۔۔ ایک درجن دہشت گرد اندر داخل ہوئے تھے کارروائی کے لیے (اخباری خبر) ۔۔۔ پانچ حملہ آور مارے گئے (اخباری خبر )۔۔۔۔ بقیہ سات کے بھاگنے کی خبر کسی نے جاری نہیں کی ۔۔۔ کیوں جی اس میں سبکی کا ڈر ہے ۔۔۔لگا دو یار ۔۔۔ ذلالت اور ڈھٹائی میں فرق ہوتا ہے ۔۔۔
ویسے یہ سپاہیوں میں اتنی عسکری مہارت کس نے اتنی کوٹ کوٹ کر بھری ہے  ؟؟؟؟

دجالی میڈیا سے جھانکتی حقیقتیں ایک مجاہد کی نظر سے 

ہمارا محتاط اندازہ ہے کہ مجاہدین کی تعداد تین سے پانچ کے درمیان تھی
حملہ آور مجاہدین کی تعداد بڑھاکر پیش کرنے کا جدید فلسفہ عسکریات میں اس وقت کام آتا ہے جب ناپاک سیکیورٹی اداروں کی نام نہاد مہارت کا سکہ ذلت اور رسوائی کے بدنما دھبوں سے اپنی حیثیت کھو نے لگتا ہے  ۔۔۔  کبھی کہا جاتا ہے سینکڑوں جنگجوؤں کا پاک فوج کی بے سروساماں چوکیوں پر حملہ ۔۔۔۔مزید ہنسی اس وقت آتی ہے جب وہ حملہ ناکام ہوتا ہے ۔۔۔
ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد دس سے اٹھارہ کے درمیان ہے ۔ جن میں ایس ایچ او اور تفتیشی افسر نمایاں ہیں
پولیس کے مکروہ ادارے پر ذلت و رسوائی کا ٹیکہ ماتھے پر علیحدہ سجایا ۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔
مجاہدین کی کامیابی یہ ہے کہ ہاتھ ایک بھی نہیں لگا ۔۔۔ تین ہوں یا پانچ سب نے شہادت کو گلے لگا لیا
سچ ہے ۔۔۔
واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لایعلمون


اللہ پاک ساتھیوں کی شہادت اپنی بارگاہ عالی میں قبول فرمالیں ۔۔۔ آمین۔۔
یہ تحریر طنز و مزاح میں لکھنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ کوئی ساتھی آزردہ خاطر نہ ہو

غزوۃ ہند میں شریک آپ کا شرارتی مجاہد بھائی
عرفان بلوچ

Saturday, June 25, 2011

کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی


کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی

 فوج میں مذہبی تقسیم کا عمل شروع
الحمدللہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسول اللہ ۔۔۔۔
امت مسلمہ کو مبارک ہو سینکڑوں مجاہدین اور ہزارہا مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد پاکستان کی کفریہ ریاست میں عدم استحکام کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔

مجاہدین اللہ کی نصرت سے فوجی اداروں میں نقب لگانے میں کامیاب ہوگئے ۔مجاہدین ایک طویل عرصے سے اسی کوشش میں تھے کہ کسی طرح ملک کے سب سے طاقتور اور خود مختار ادارے کے اندر  مذہب اور دین کی بنیاد پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ۔   اگرچہ پاکستان فوج کی بنیادوں میں مذہبیت کی جڑیں تو روس کے خلاف افغان جہاد کے زمانے سے موجود تھیں لیکن پاکستان فوج  جیسے غیر معمولی حد تک منظم ادارے میں اس کی بنیاد پر تقسیم کا عمل کوئی آسان کام نہیں تھا ۔گذشتہ ماہ قتل ہونے والے صحافی سید سلیم شہزاد نے اپنی کتاب "انسائڈ القاعدہ اینڈ طالبان " میں فوج کے اندر اس مذہبی تقسیم اور اس کے نتیجے میں طالبان اور القاعدہ کو پہنچے والی امدا د کا ذکر بھی کیا تھا ۔ بلکہ انہوں نے اپنی آخری رپورٹ میں جو کہ پی این ایس مہران بیس پر ہونے والے حملے کے بارے میں ایشیا ٹائمز میں شائع ہوئی نیوی کے اندر موجود مذہبی  تقسیم کی طرف بھی اشارہ کیا جس کی پاداش میں  آئی ایس آئی نے پہلے انہیں اغوا کیا اور بعد ازاں ان کی تشدد شدہ لاش برآمد ہوئی ۔

جنرل ہیڈ کوارٹر میں دو برس سے تعینات حاضر سروس برگیڈئیر علی خان کو  حراست میں لیے جانے کے بعد پاکستانی فوج میں یہ دراڑیں مزید گہری ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے ۔ بلاشبہ اس اعتبار سے یہ خبر مجاہدین امت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے ۔چنانچہ  ہم اسے صلیبی کفر اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں مجاہدین کی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں ، کیوں کہ اب پاکستان فوج کے اندر ہائی رینک آفیسرز میں بھی اپنے عقیدے اور دین سے منسلک رہنے کا رجحان نظر آنا شروع ہو گیا ہے ۔اس نوعیت کی  خبریں اور تجزیے پہلی بار اخبار ات کی زینت بنے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے ۔ نیز یہ کہ فوج کی اعلیٰ قیادت  اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ فوج میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل نہ ہونے پائے ۔

پاکستان بھر کے اخبارات چاہے  کفار و منافقین کے ان بیہودہ دعووں سے اپنے صفحات کو سیاہ کر لیں  کہ "ہم دہشت گردوں کو ان کے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے " اس سب کے باوجود الحمدللہ پاکستان آرمی کے آفیسرز میں  دین اور عقیدے کی بنیاد پر فوج سے انحراف کے بڑھتے  ہوئے رجحان کو دیکھ کر  یہ محسوس ہورہا ہے کہ  وزیرستان میں شہید ہونے والے ہمارے سینکڑوں مجاہد بھائیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔۔۔ ان شاء اللہ ۔۔۔ کیوں کہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ شہیدوں کا مقدس خون جس مٹی کو سیراب کرتا ہے وہاں اثر ضرور دکھاتا ہے اور آج اس نے اپنا حقیقی رنگ جمانا شروع کر دیا ہے ۔

ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک یا ریاست کے اہم ترین ادارے چار ہیں اور یہی اس کے لیے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
 حکومت ، فوج ، عدلیہ اور معیشت
پاکستان میں حکومت اور عدلیہ کو خود مختار نہیں سمجھا جاتا اور ان کے بارے میں یہ تصور عام ہے ۔معیشت کا حال اتنا بے حال ہے کہ وہ کسی شمار میں نہیں  ۔
لے دے کہ فوج ہی واحد  ادارہ ہے (بلکہ  تھا )جس کو پاکستان کی حد تک خودمختار یا سب سے زیادہ طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے ۔
اگر اللہ کی نصرت سے اس ادارے کو کمزور کر دیا جائے ، یا سانپ کی طرح اس کا زہر نکال دیا جائے ، یا اس ادارے کو ہائی جیک کرکے اس کا رخ اسلام کی طرف موڑ دیا جائے تو پاکستان کی ریاست انشاء اللہ اسلام پسندوں کے قبضے میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

ہو سکتا ہے ہمارے بعض مجاہد ساتھی میری اس بات سے اتفاق نہ کریں اور ان کے نزدیک فوج میں مذہبی تقسیم پر ہمیں اس لیے  خوش ہونے کی ضرورت نہیں کہ مجاہدین فوج سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھتے  اور اس عمل کو   کفریہ ریاست کے عدم استحکام کی طرف پہلا قدم قرار دیا جانا قبل از وقت ہوگا ۔۔۔ لیکن یہ بات تو یقینی ہے کہ فوج میں مذہبی تقسیم  کا پیدا ہونا مجاہدین کے حق میں ہے اور اللہ نے چاہا تو اس سے خیر کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوگا ۔۔۔ فوج سے بحیثیت مجموعی خیر کی توقعات باندھنا تو عبث ہے لیکن فوج کے اندر ایسے عنصر کا موجود ہونا خطے میں جاری کفر و اسلام کی جنگ میں اہل ایمان کے نہایت خیر و برکت کا باعث بنے گا ۔
ان شاء اللہ
وما ذلک علی اللہ بعزیز 

یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ ہمیں اپنے ان فوجی بھائیوں کی حراست ، خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں شدید تعذیب اور فوجی عدالتوں میں ان کے خلاف سزاؤں پر تشویش اور بے چینی ہے ۔ اور ہم ناپاک افواج کے ہاتھوں ان کے اہل خانہ پر ہونے والے مظالم پر بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے ۔۔۔ یہ ضروری اضافہ اپنی تحریر میں اس لیے کیا ہے کہ ہمیں بحیثیت مجاہد اس خبر پر ایک پہلو سے خوشی ہوئی ہے تو دوسرا پہلو دردناک بھی ہے ۔۔۔ لیکن بزبان حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔

دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ    پریشاں  مالی
کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالی
گل بر انداز ہے خون شہداء  کی لالی
رنگ گردوں کا  ذرا  دیکھ تو عنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی  ہے

دعاؤں کا طلب گار
غزوۃ الہند میں شریک آپ کا مجاہد بھائی
عرفان بلوچ


Thursday, June 23, 2011

انٹرنیٹ پر سیکیوریٹی

انصار المجاہدین

کے لیے

انٹرنیٹ پر سیکیوریٹی

کے حوالے سے

احتیاطی تدابی






پاس کوڈ
z4ipl3a$b3y882h@ksi983b&v&93wh

تمام لنکس ناکارہ ہونے کی صور ت میں ہمیں مطلع کریں
تاکہ نئی جگہ اپ لوڈ کیا جاسکے

ڈاؤن لوڈ

پی ڈی ایف
hxxp://www.2shared.com/file/eB_sUlr7/
hxxp://www.badongo.com/file/25508089
hxxp://www.files.to/get/14207/b4qpd9e1zl
hxxp://www.rapidspread.com/file.jsp?id=n4jyfzxb4h
hxxp://www.rapidspread.com/file.jsp?id=tn1smt6a8y

ورڈ فائل + تصاویر
hxxp://www.2shared.com/file/N-dh3mUn/
hxxp://www.badongo.com/file/25508560
hxxp://www.files.to/get/14227/kyu4pb69as
hxxp://peikairo.notlong.com
hxxp://www.rapidspread.com/file.jsp?id=ugkzcgtboc

ورڈ فائل (تصاویر کے ساتھ)
hxxp://www.2shared.com/file/fTpRZpN8/
hxxp://www.badongo.com/file/25508258
hxxp://www.files.to/get/14215/rdpso8ksmf
hxxp://www.rapidspread.com/file.jsp?id=cuuj40xoay




بشکریہ باب الاسلام اردو فورم

Wednesday, June 22, 2011

اسرار المجاہدین کا استعمال سیکھیں


السلام علیکم ورحمۃ اللہ
انٹرنیٹ پر احتیاط کے حوالے سے پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ مجاہد ساتھی ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہوئے اس بات کی احتیاط کیا کریں کہ انٹرنیٹ پر  اپنی اصل شناخت ظاہر نہ کریں  ۔ اگر کسی وجہ سے ایسا کرنا ضروری ہو تو پھر خفیہ رابطہ کی کوشش کریں ۔ اس کے علاوہ مجرمین کی نشاندہی یا اس جیسی دوسری حساس معلومات کے تبادلہ کے لیے بھی  خفیہ رابطہ ضروری ہے ۔ خصوصا ویب سائٹس کے منتظمین سے رابطہ کرتے ہوئے احتیاط کئی درجہ بڑھا لینی چاہیے ۔ کیونکہ جہادی ویب سائٹس کی سرویلنس کا امکان انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ ہے ۔خفیہ رابطہ کے لیے اسرار المجاہدین کے استعمال کے لیے اس سے پہلے بار بار ترغیب دلائی جاتی رہی ہے ۔
انٹرنیٹ کی دنیا پر مجاہدین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر خوشی ضرور ہوتی ہے لیکن یہ جان کر دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکامات کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں مجاہدین کی اکثریت خاصی سست واقع ہوئی ہے ۔ اور بارہا اس کے کافی سنگین نتائج  سامنے آچکے ہیں ۔
اس بے احتیاطی کی ایک وجہ مجاہد ساتھیوں میں اسرار المجاہدین کے استعمال کے بارے میں زیادہ معلومات کا نہ ہونا ہے ۔غزوۃ الہند بلاگ کی ادنیٰ سی   کاوش  پیش خدمت ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ فوری اور آسان طریقہ تعلیم  کے لیے تصویری خاکوں کی مدد سے اسرار المجاہدین کا استعمال سکھایا جائے ۔







نوٹ کرنے کی باتیں :
عام چابی کے ذریعے سادہ ٹیکسٹ کو صرف انکرپٹ کیا جاسکتا ہے ، ڈی کرپٹ نہیں کیا جاسکتا
انکرپٹڈ پیغام کو ڈی کرپٹ (یعنی سادہ ٹیکسٹ میں تبدیل )کرنے کے لیے مخصوص چابی کی ضرورت ہوتی ہے ، اور یہ مخصوص چابی آپ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہوتی ۔
جس مجاہد ساتھی کو پیغام بھیجنا ہو آپ کے پاس اس کی دی ہوئی عام چابی ہونی ضروری ہے ۔ کسی اور کی عام چابی سے پیغام انکرپٹ تو ہو جائے گا لیکن ڈی کرپٹ نہیں ہو سکے گا ۔اور یہ غلطی نئے ساتھیوں میں عام ہے ۔






واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

Saturday, June 18, 2011

مقدس گائے اور مقدس بیل


۱۹ جون ۲۰۱۱

سلیم شہزاد قتل کیس میں شکوک و شبہات پھیلانے کے لیے خفیہ ایجنسیاں سرگرم ہو گئیں ہیں ۔ یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ خفیہ اداروں نے سلیم شہزاد کے موبائل کا ڈیٹا غائب کردیا ہے ۔جب سلیم شہزاد قتل کیس کے سلسلے میں پیش رفت کرنے کے لیے ، ان کے موبائل نیٹ ورک سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کسی نامعلوم دباؤ کی بنا پر ان کا موبائل ڈیٹا کمپیوٹر سسٹم سے پہلے ہی غائب کردیا گیا ہے ۔ واللہ المستعان ۔۔۔
اس خبر کے مشہور ہونے کے بعد آئی ایس آئی نے کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ آئی ایس آئی خود بھی سلیم شہزاد کے قتل کے تحقیق کرے گی ، اور فکر کرنے کی کوئی بات نہیں اگر موبائل سسٹم سے غائب ہو تو کیا سلیم شہزاد کا کالرز ڈیٹا ہمارے پاس محفوظ ہے ۔  اب کون اس سے پوچھے کہ اب تک آئی ایس آئی اس کالرز ڈیٹا میں کتنی ترمیم کر چکی ہو  ؟؟؟؟

جنوبی اور شمالی وزیرستان میں مجاہدین نے ناپاک فوج کے چوکیوں پر حملے کرکے متعدد مرتدین کو ہلاک کو دیا ۔اس کے جواب میں ناپاک فوج نے اپنی دردندگی کا ثبوت دیتے ہوئے شہری آبادی پر گولے پھینکے  جس کے نتیجے میں کئی مسلمان شہری شہید ہوگئے ۔شمالی وزیرستان میں مجاہدین کے حملوں کے بعد مرتد افواج نے قبائلی عوام پر اندھا دھن  فائرنگ شروع کردی اس فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین ہلاک جب کہ آٹھ قبائلی شہری زخمی ہوگئے ۔ جب مرتدین کو معلوم ہوا کہ زخمی قبائلیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے تو ان ناپاک فوجیوں نے ہسپتال پر بھی مارٹر گولے برسائے ۔اسی طرح جنوبی وزیرستان میں فوج کی چوکی پر مجاہدین کے کامیاب حملے کے بعدفوجیوں نے عام آبادی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے پانچ قبائلی شہریوں کو شہید کر دیا ۔اگلے دن کے اخبارات نے جو دجالی میڈیا کے زیر اثر ہیں ، فوج کے ان مظالم پر پردہ ڈال کر اپنے گھناؤنے کردار پر مزید گواہی ثبت کردی ۔واللہ المستعان علینا

پنجگور میں ایف سی کے قافلے پر ریمورٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا ۔ اس حملے میں ایف سی کے متعدد اہلکار مردار ہوگئے ۔ مردار ہونے والے اہلکاروں کی صحیح تعداد معلوم نہ ہوسکی کیونکہ دجالی میڈیا کے ذریعے خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔


خاتون کی ویڈیو کے بارے میں



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرفان بھائی اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے آپکی خیریت و حفاظت کی لئے دعا گو ہوں۔
عرفان بھائی میں آپ کامجاہد  بھائی کراچی سے ہوں ۔عرفان بھائی میں نے آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا ہیں مجھے یہ تو نہیں کہ آپ مفتی ہیں یا نہیں لیکن پھر بھی تعلق تو علماء سے ضرور ہوگا کیو کہ آپکی پوسٹ سے پتا چلتا ہیں کہ آپ الحمد اللہ دین کا اچھا خاصا فہم رکھتے ہیں اور تعصب و ضد سے ہٹ کر آپ کا کام ہیں اللہ قبول فرمائے اور اللہ مجھے بھی آپکی طرح شرح صدر نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین۔
اب آتا ہوں مسئلہ کی طرف۔عرفان بھائی اگر میں چاہتا تو یہ دار الفتاء سے بھی پوچھ سکتا تھا لیکن وہ وہاں تو حکمت کا راج ہیں کیوکہ ان کو ہر معاملے میں احتیاط کرنا پڑتی ہیں اس لئے مناسب ہیں وہ میرے مسئلے کا جواب نہ دے بلکہ قوی امید ہیں لیکن مجاہد تو سراپا حق ہوتا ہیں اور حکمت نہیں بلکہ حق کی بات کرتا ہیں کیوکہ اس کا تو یہ عقیدہ ہوتا ہیں کہ گردن تو ایسے بھی کٹنی ہیں کیوں نہ حق کی خاطر کٹوالی جائے۔۔خیر۔۔
عرفان بھائی جیسا کہ لوگوں کے ذہنوں کے لئے آج میڈیا کی ضرورت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور خاص کر انٹرنیٹ سے کیوکہ اس کے ذریعے جہاد و قتال کی دعوت نہایت عمدہ اور آسان ہیں لیکن اس پر کام کرنے والے تو الحمد اللہ ہیں اور کررہے ہیں اللہ قبول فرمائے ۔۔مگر عرفان بھائی پرسوں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا یوٹیوب میں کہ ایک چینل پر وزٹ کیا جو کہ عورتوں کے لئے بنایا گیا تھا تاکہ اس کے ذریعے بہنوں کو دعوت دی جائے اور اس میں خاتون کی ایک ویڈیو بھی ہیں جس میں وہ دعوت دے رہی ہیں برقہ اوڑھا ہوا ہیں اور آنکھیں نکالی ہوئی ہیں اور کافی لمبا بیان کیا ہیں اس نے اور باقی ویڈیوز میں اس نے خالی اپنی آواز ریکارڈ کروائی ہیں اس میں بھی بیان ہیں جو کہ جہاد و قتال کے موضع پر ہیں۔۔تو بھائی عورت کا اس طرح سرعام بیان کرنا خواہ وہ حق پر ہی بات کیوں نہ ہو کیا یہ جائز ہیں یا نہیں ۔کیا عورت کی آواز کسی غیر محرم کو سنانا جائز ہیں یا نہیں ۔۔اس چینل پر مردو عورت دونوں سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں کیوں کہ یوٹیوب پر تو سب دیکھ سکتے ہیں۔
میں چاہوں تو اسکا لنک بھی دے دوں آپکو لیکن پھر بات تعصب تک جا پہنچے گی ۔
بھائی میرے اس مسئلے کا ضرور جواب دینا اگر آپکا جواب مجھے مل گیا تو میں نہایت خوش ہونگا لیکن اگر نہیں ملا تو پھر تو خواں مخواں دل آزاری ہوگی میری۔۔۔
احب المجاھدین ولست منھم۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
::::::
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بھائی  میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں آپ کو وہی کچھ بتاؤں گا جو کچھ میں نے اپنے اساتذہ سے سیکھا ہے اورمیں اپنی رائے پیش کر نے کے قابل بھی نہیں ۔
آپ نے خاتون کی جس ویڈیو کا ذکر کیا ہے ، اس پر ہم سب کو تشویش ہے ، اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی ویڈیو کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔کیوں کہ اس کے نتیجے میں فتنوں کے پھیلنے کا امکان زیادہ ہے ۔
اب میں آپ کو اس مسئلہ کے بارے میں بھی بتا دوں جو نا محرم عورت کی آواز کے پردے کے بارےمیں ہے ۔
شیخ انوار العولقی حفظہ اللہ عورت کی آواز کے پردے کے بارے میں فرماتے ہیں : کہ اسلام ایک متوازن دین ہے ، اور اسلام کے ہر حکم میں توازن یعنی عدل کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ جب بھی کوئی شرعی حکم لگایا جاتا ہے تو علماء کی کوشش ہوتی ہے کہ افراط و تفریط سے بچا جائے ، یعنی نہ تو اتنی نرم رائے اختیار کی جائے جس سے گمراہی کا خطرہ ہو اور نہ ہی اتنا متشدد رویہ اختیار کیا جائے جس سے حکم کی مصلحت بھی فوت ہوجائے ۔ شیخ انوار العولقی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو علماء یہ کہتے ہیں کہ عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے ۔ وہ زیادہ سخت موقف اپناتے ہیں ۔ اور اس موقف کو اپنانے کے نتیجے میں بعض اوقات کچھ مصلحتیں بھی فوت ہوجاتی ہیں۔شیخ انوار کا کہنا ہے دور صحابہ میں صحابہ اور صحابیات کا کسی ضرورت کی وجہ سے آپس میں گفتگو کرنا ، اور ملاقات کے لیے ایک سے دوسرے کے پاس جانا اتنے تواتر سے ثابت ہے کہ اس کا انکار ممکن ہی نہیں ۔ اور یہ ضرورت صرف دینی ہی نہیں بلکہ بعض اوقات معاشرتی ضرورت کی بنا پر بھی وہ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے تھے ۔ایک انسانی معاشرے میں بسا اوقات ایسی ضرورت پیدا ہوجاتی ہے کہ عورت یا مرد کو آپس میں گفتگو کرنی پڑ جاتی ہے ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ یہ گفتگو یا ملاقات  شریعت کے بقیہ احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے کی جائے ۔ مثلاً پردے کے پیچھے سے ، یا شرعی پردے کے ساتھ ، اور غیر ضروری گفتگو سے مکمل پرہیز ، اور صرف اتنی گفتگو جتنی ضروری ہو ، اور تنہا ئی میں ملاقات کی گنجائش نہیں ، اسی طرح  مرد و عورت کی خفیہ ملاقات کی بھی شریعت میں گنجائش نہیں ہے ۔

جہاں تک ان خاتون کی اس ویڈیو کا سوا ل ہے وہ ہمارے نزدیک درست نہیں ہے ، چاہے وہ پردے کے پیچھے ہی سے کیوں نہ ہو ، بات یہ ہے کہ جہاد کے بارے میں وہ جو کچھ کہنا چاہتی ہیں ان سے بہتر انداز سے کہنے والے پہلے ہی کہتے آرہے ہیں ۔ ایسے میں ان خاتون کو اپنی ویڈیو بنانے کی کیا ضرورت ہے اور کیا اب قتال کی دعوت دینے والے مرد موجود نہیں رہے  یا ان خاتون کا دین کا علم ہمارے مردوں سے زیادہ ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ اگر ان کا علم ہمارے مرد حضرات سے زیادہ ہوتا تو بھی گنجائش نکل سکتی  تھی ۔
اگر اس کے علاوہ کوئی اور مصلحت ہے تو ان خاتون سے پوچھیں ۔۔۔ ہو سکتا ہے ان کی نیت یہ ہو کہ ان کی ویڈیو کو زیادہ پذیرائی ملے گی اور بڑی تعداد میں نوجوان نسل اسے دیکھے گی اور اس کا اثر قبول کرے گی ،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ ان کی نیت کے سبب ان کے اس عمل کو قبول بھی فرمالیں ۔۔۔ اگر یہی بات ہے تو پھر ہمیں شیوخ سے رائے لینی ہوگی ۔۔۔ وہ کیا کہتے ہیں
بہر حال اس کے علاوہ یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اس کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ ہاں اگر وہ کوئی فدائی حملہ کرنے جا رہی ہوں اور کوئی وصیت ریکارڈ کروانا چاہیں تو بعض مصلحتوں کی بنا پر یہ احسن عمل ہوگا اور ہم اس کی گنجائش نکالتے ہیں ۔۔۔
واللہ اعلم
غزوہ ہند میں شریک آپ کا بھائی
عرفان بلوچ