Subscribe:

Wednesday, June 1, 2011

سلیم شہزاد کو آئی ایس آئی نے کس جرم میں قتل کیا ؟

تحریر عرفان بلوچ :::

ایشیا ٹائمز کے رپورٹر سلیم شہزاد کو اتوار کی شام اسلام آباد کے معروف اور حساس علاقے سے ان کی گاڑی سمیت غائب کر دیا گیا تھا ۔دو دن بعد  منڈی بہاء الدین سے ان کی لاش ملنے کے بعد ان کی پراسرار گمشدگی کی کہانی اب منظر عام پر آچکی ہے ۔۔۔ اس تحریر میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ۔۔۔آئی ایس آئی کو ایک پاکستانی صحافی سے ایسی کون سی پرخاش تھی جس کی بنا پر انہیں اغوا کرکے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا ۔۔۔ ؟؟؟؟



سید سلیم شہزاد، ہانگ کانگ کی نیوز ویب سائٹ ایشیاء ٹائمز آن لائن کے پاکستان میں بیورو چیف تھے جبکہ وہ ایک اطالوی خبررساں ادارے کے لیے بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ بریڈ فورڈ میں قائم پاکستان سکیورٹی ریسرچ یونٹ کے رکن بھی تھے۔ لیکن سید سلیم شہزاد کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے اس خطے میں جاری امریکی جنگ اور القاعدہ اور طالبان سے متعلق خبروں اور تجزیوں کا سلسلہ شروع کیا ۔۔۔ بی بی سی کےمعروف تجزیہ نگار  ارمان صابر کا کہنا ہے کہ میں نے ان سے ملاقات کر کے جانا کہ وہ ہر وقت خطرات سے کھیلنے کے لیے تیار رہتے تھے اور نمایاں صحافی بننا چاہتے تھے ۔



اس سے پہلے وہ متعدد بار ایشیا ٹائمز میں القاعدہ اور طالبان سے متعلق رپورٹس شائع کر چکے ہیں  ۔۔۔ جس کے بعد انہیں کئی مرتبہ آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرمیں طلب کیا جاتا رہا ہے ۔۔۔ گذشتہ سال انہوں نے اپنی ایک رپورٹ میں ملا برادر کو خاموشی سے رہا کرنے کی وجوہات بیان کیں (بعد ازاں افغان طالبان نےان کی  تصدیق بھی کر دی ) ۔۔۔ جس کے فوراً بعد انہیں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر میں طلب کرکے ان کے  نامعلوم ذرائع کے بارے میں دریافت کیا گیا ۔۔۔ لیکن انہوں نے اپنے ذرائع کے بارے میں بتانے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔  کیونکہ آئی ایس آئی کا خیال تھا کہ کوئی خفیہ اہلکار انہیں یہ معلومات فراہم کر رہا ہے ۔۔۔۔ اس کے بعد انہیں اپنی خبر کی تردید کرنے کا بھی حکم دیا گیا لیکن انہوں نے اسے بھی ماننے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔۔



سلیم شہزاد کے دوستوں کا کہنا ہے کہ سلیم شہزاد جب بھی کوئی رپورٹ پیش کرتے تو  آئی ایس آئی ان سے ضرور رابطہ کرتی تھی ۔اتوار کے دن ان کی پراسرار گمشدگی سے ایک روز پہلےسنیچر کی شام اپنے دوستوں کے ساتھ ایف نائن پارک میں ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ کراچی میں مہران بیس پر حملے کے بارے میں ان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ ستائیس مئی کو ہانگ کانگ کی ویب سائٹ ایشیا ٹائمز میں شائع ہوئی ہے ۔ لیکن ابھی تک اس تحقیقاتی رپورٹ پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے ۔۔۔ انہوں نے اپنے دوستوں کو مسکراتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ  انہیں جلد ہی اٹھا لیا جائے گا ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک دن بعد ایک شخص کا فون آیا تھا جس نے اپنے آپ کو کرنل ظاہر کیا وہ کہہ رہا تھا کہ "سلیم صاحب کئی دن سے کوئی شکایت نہیں آرہی لیکن ملاقات تو ہونی چاہیے نا "۔ ان کا کہنا تھا کہ جس نمبر سے فون آیا اس پر انہوں نے کئی بار رابطہ کی کوشش کی لیکن وہ نمبر کام نہیں کر رہا تھا ۔



اتوار کی شام ان کی گمشدگی کے فوراً بعد ان کی اہلیہ نے ہیومن رائٹس واچ نامی بین الاقوامی تنظیم کے ذمہ دار علی دایان حسن کو فون کر کے اپنے شوہر کی گمشدگی کی اطلاع فراہم کی ۔ ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں ہدایت کر رکھی تھی کہ اگر مجھے کچھ ہوجائے تو علی دایان حسن کو مطلع کر دیا جائے ۔ علی دایان حسن کا کہنا ہے کہ سلیم شہزاد کافی عرصے سے شدید خطرہ محسوس کر رہے تھے اور انہیں یقین ہے کہ سلیم شہزاد کو آئی ایس آئی ہی نے اغوا کیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے رابطہ کاروں نے  اپنے ذرائع استعمال کرکے ایجنسیوں سے براہ راست معلوم کروا لیا تھا کہ سلیم شہزاد آئی ایس آئی ہی کی حراست میں ہیں ۔علی دایان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلام آباد کے انتہائی معروف ،پررونق اور حساس علاقے سے کسی شخص کو اس کی گاڑی سمیت غائب کردینے کا کارنامہ آئی ایس آئی ہی انجام دے سکتی ہے ۔



ان کی لاش ملنے کا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی عجیب و غریب ہے جس  سے اس بات کی مزید تائید ہوتی ہے کہ یہ کام آئی ایس آئی نے کیا ہے کیونکہ پولیس انسپکٹر فیاض تنولی سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہاں کے مقامی پولیس والوں اور لوگوں کو یہ کیسے علم ہوا کہ جس شخص کی یہ گاڑی ہے اُس کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ مارگلہ میں درج ہے، تو انسپکٹر فیاض اس کا  کوئی جواب نہ دے سکا ۔



ہیومن رائٹس واچ کو ان کے ذرائع نے یہ بھی اطلاع دی کہ سلیم شہزاد پیر کی رات تک گھر پہنچ جائیں گے ۔۔۔ اور پہلے ان کا فون بحال کر دیا جائے گا تاکہ وہ گھر والوں سے بات کر سکیں ۔۔۔ اس رات تک انہیں رہا کر دیا جائے گا ۔۔۔ لیکن جب منگل کی دوپہر تک وہ گھر نہیں پہنچے تو علی دایان کو زیادہ تشویش ہوئی ۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے سلیم شہزاد کی ایک پرانی ای میل دوبارہ کھولی جس میں سلیم شہزاد نے انہیں ہدایت کی تھی میری گمشدگی کی صورت میں اس ای میل کو ظاہر کر دیا جائے ۔۔۔ تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ سلیم شہزاد کو خفیہ ایجنسیوں سےکس قسم کے  خطرات لاحق تھے ۔



اب ہم آتے ہیں اس طرف کہ ان کی تازہ رپورٹ میں کیا کچھ کہا گیا تھا ۔ سلیم شہزاد نے اپنی تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹ میں کچھ ایسے حقائق بیان کر دیے تھے، جن کا سامنے آنا فوجی نقطہ نگاہ سے بدنامی اوررسوائی کاذریعہ بن سکتے تھے ۔۔۔ سید سلیم شہزاد کے برادرِ نسبتی (سالے) حمزہ امیر کے مطابق سلیم شہزاد کی ستائیس مئی کو ہانگ کانگ کی ویب سائٹ ایشیا ٹائمز میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں انہوں نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ القاعدہ اور پاکستان بحریہ میں مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے شدت پسندوں نے بحریہ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سلیم شہزاد کی نامعلوم ذرائع کے حوالے سے شائع کردہ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بحریہ کے دس کے قریب نچلےگریڈ کے ملازمین کو گرفتار کیا گیا اور انہیں رہا کرانے کے لیے القاعدہ نے نیول حکام کو دھمکیاں بھی دیں تھیں ۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر جب متعلقہ اہلکاروں کو رہا نہ کیا گیا تو شدت پسندوں نے پہلے کراچی میں نیوی کی بسوں اور بعد میں مہران بیس پر حملہ کر کے طیاروں کو تباہ کردیا۔



اپنی رپورٹ میں انہوں نے عام اخباری خبروں اور تجزیوں کی طرح حقائق چھپا کر بیان کرنے کے بجائے ہلاک ہونے والے کمانڈوز ، پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی نہ صرف صحیح تعدادبھی پیش کردی بلکہ بہت سی ایسی حقیقتوں سے بھی پردہ اٹھایا جسے مقامی اخبارات اور میڈیا میں کبھی پیش نہیں کیا جاتا ۔۔۔۔ ہماری نظر میں سلیم شہزاد کا یہ تحقیقی رپورٹ  پیش کرنا ہی ایک ناقابل معافی جرم تھا ۔۔۔ کیونکہ اس رپورٹ کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ یا جاسکتا ہے کہ نیول بیس حملہ اپنے نوعیت کے اعتبار سے مجاہدین کی ایسی کامیاب ضرب تھی جس نے نہ صرف ناپاک افواج کو شدید ہزیمت میں مبتلا کر دیا بلکہ بہت حد تک اپنے مقاصد اور اہداف بھی حاصل کر لیے ۔۔۔۔



رپورٹ پڑھنے کے لیے لنک




دکھ تو اس بات کا ہے کہ ساری کہانی کے منظر عام پر آنے کے بعد بھی ہماری حکومت عوام کو دھوکہ میں رکھنے کے لیے کہہ رہی ہے کہ معلوم ہوتا ہے سلیم شہزاد کو  کسی نے ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قتل کر دیا ہے

۔۔۔ واللہ المستعان علینا ۔۔۔۔



ہمارا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ ہم آئی ایس آئی کے مجرمانہ کرتوتوں اور خباثتوں پر سے پردہ اٹھاتے رہیں گے ۔۔۔۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اس ارادہ میں کامیابی عطا فرمائیں ۔۔۔۔ آمین



واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

2 تبصرے:

Anonymous said...

سلیم شہزاد زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی سے وابستہ رہے،یہ ان چند صحافیوں میں سے تھے سازشی نظریات پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ انہوں نے طالبان و القاعدہ کے بارے میں ان تصورات کو مسترد کیا کہ ،یہ فرضی جماعتیں یا کسی کی آلہ کا ر ہیں ،سلیم شہزاد کی خبرون کی وجہ اکثر پاکستان کے سیکورٹی اداروں کو مشکلات کا سامنا رہا

Anonymous said...

allah sleem shehzad ki shahdat ko qabool farmen

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ