Subscribe:

Thursday, June 9, 2011

پاکستان کی محبت شرک اکبر


مجاہدین کے مخالفین خواہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں  ، ان سے گفتگو کر کے دیکھ لیں ، ان سب کی تان یہاں آکر ٹوٹتی ہے کہ پاکستان ہمارا وطن ہے ، اور پاکستان کا دفاع ہماری قومی ذمہ داری ہے ۔ پاکستان کی سلامتی ہر چیز پر مقدم ہے ، اور جو بھی پاکستان سے برسر پیکار ہے خواہ وہ جہاد فی سبیل اللہ میں کفر کے خلاف جانیں لڑانے والے مجاہدین ہی کیوں نہ ہوں ۔۔۔ ان کے خلاف جنگ ہمارا قومی فریضہ ہے۔۔۔ ۔اور ان کے خلاف متحد ہوکر لڑنا ہم پر اس وطن کا قرض ہے ۔۔۔۔
اس قسم کے جاہلانہ اور مشرکانہ خیالات صرف انہی لوگوں تک مخصوص نہیں جو لادینی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی ہمیں ان سے کوئی سروکار ہے ۔۔۔  بلکہ ہمیں افسوس تو اس بات پر ہے کہ ہمارے مذہبی اور کسی حد تک دینی سوچ رکھنے والے طبقہ کے سواد اعظم کا حال بھی اس سے جدا نہیں ۔۔۔۔ پاکستان اور اس  کی محبت ، مسلمانوں کے لیے  عصر حاضر کا ہبل بن چکی ہے ۔جس کی تعظیم اور پرستش ان کے لاشعور میں اس طرح رچ بس گئی ہے کہ انہیں اس کا احساس تک نہیں ہو پاتا ۔۔۔۔
جب انہیں غیر ضروری اور مذموم وطن پرستی کا احساس دلانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ پاکستان کو اسلام کا ناقابل تسخیر قلعہ ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں اپنا مضحکہ اڑاتے ہیں اور  کہیں پاکستان کے ایٹمی اثاثو ں کی حفاظت جیسے فضول اور بے مقصد نعروں میں الجھا کر قوم کو مست رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ۔۔۔
یہ جہلاء  نہیں جانتے کہ جب مومن کے قلب و نظرمیں باری تعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ پیوست ہوجائے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے  ا براہیمی نظر عطا کردی جاتی ہے  جو ایسے تمام شرکیہ عقائد اور عبادات سے اس کو بے نیاز کردیتی ہے ۔۔۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو اس زمانے کا شرک اکبر ہو اسے پہچاننے میں اللہ کے پسندیدہ بندے پس و پیش کا شکار ہوں ۔۔۔۔ 
علامہ اقبال نے اپنی اس نظم میں نہ صرف وطن پرستی کو شرک عظیم قرار دیا بلکہ وطنیت کے ان قبائح  کا بھی ذکر کیا ہے جو اس کے مذموم ہونے پر روشن دلائل کی صورت میں آج ہمارے سامنے آرہی ہیں ۔۔۔
اے اللہ !!! ہمیں اپنے راستے میں قبول فرمالیں ۔۔۔ اور ہم سے وہ کام لیں جن سے آپ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں ۔۔۔۔ آمین ۔۔۔ یا رب العالمین ۔۔۔
غزوۃ الہند بلاگ ٹیم
 ان من الشعر الحکمۃ
وطنیت
علامہ محمد اقبال ؒ

اس دور میں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور
ساقی نے بنا کی روشِ لُطف و ستم اور
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے

یہ بت کہ تراشیدہء تہذیبِ نوی ہے
غارت گرِ کاشانہء دینِ نبَویؐ ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفویؐ ہے
نظّارہء دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے!

ہو قید مقامی تو نتیجہ ہے تباہی
رہ بحر میں آزاد وطن صورت ماہی
ہے ترک وطن سنت محبوب الٰہی
دے تو بھی نبوت کی صداقت پہ  گواہی
گفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے

اقوام جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے
تسخیر ہے مقصود تجارت تو اسی سے
خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

5 تبصرے:

Anonymous said...

afsoos kay kuch loog apni sooch ko doosron per musalat karna chatay hain aur is kay leay har harba istamal karn AFZAL jaantay hain jin ko khud apnay nazariat per goore karnay kee zaroorat hay wo apnay app ko aql a qul samajhtay hooay dajalli sooch our dajjali quowatoon ka saatha day rahay hain ALLAH hamain in dajali sooch aur quawootoon ka muqabla karnay kee tofeeq atta farmay ameen Muhammad Rizwan Qadri

صیف الکفر باالطاغوت said...

جزاک اللہ خیرا کثیرا

adnan said...

اس سے زیادہ بیہودہ اور غلط بات آج تک میں نے نہیں سنی جتنی آج سن رہا ہوں..جو جو خارجیوں کو مار پڑھی ہے اتنا ہے ذہنی طور پر کریک ہوتے جا رہے ہیں....اپر سے اقبال رح کے اشعار کا ناجائز اور بیہودہ طریقے سے ناسمجھی میں استمال کچھ خوف الله کا رکھ کر چلو ....ساری زندگی اسے پڑھتے نہیں اگر اس میں سے کچھ حاصل کیا ہی تو وہ بھی غلط ملت ...اس کو پرہو خدا کچھ ہدایت دے ہی دے ناسمجھوں کو



یہ بات بہت سے لوگ کرتے چلےآ رہے ہیں. خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے خاصے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں جب کوئی پاکستان کا نام لیتا ہےیا پاکستان زندباد کے نعرےلگتا ہے خودبخود ایسے حضرات کے منہ سے کفر کا فتویٰ عوام پر صادر ہو جاتا ہے ہاں البتہ سعودی عرب کے حوالے سے سر ٹانگوں کے نیچے چھپا لیتے ہیں جب سعودی عرب کی الا دی بلدی کی آوازیں وطنیت کے حوالے سے گونجنے لگ جاتی ہے .ایسے عناصر علامہ اقبال ر ح کے اشعار کا بھی کم علمی اور کم فہمی کی وجہ سے استعمال کرتے نظر آتے ہیں -حلاناکے اقبال کے حوالے سے ایسے عناصر بہت کم جانتے ہیں آیئں آج ہم اس پہلو پر بھی کچھ روشنی ڈالتے ہیں وطن پرستی کی اسلام میں کیا حیثیت ہے نیز کیا وطن پرستی اور حب الوطنی کیا ایک جیسے ہیں ؟؟؟..
.وطن پرستی اور حب الوطنی میں کیا فرق ہے؟
وطن سے محبت کسے نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسا فطری جذبہ ہے جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے
سوال یہ ہے کہ وطن پرستی اور حب الوطنی دو مختلف چیزیں ہیں مترادف ہیں؟
وطن پرستی اور حب ا لوطنی دوبلکل مختلف چیزیں ہیں۔ حب الوطنی (وطن سے محبت) ایک فطری جذبہ ہے لیکن وطن پرستی کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان حق و ناحق کا معیار خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر محض اپنے وطن کو بنالے۔ یہ شرک کی ایک شکل ہے اور اسلام اس کی بھی اسی طرح بیخ کنی مخالفت کرتاہے جس طرح شرک کی باقی تمام شکلوں کی۔۔۔ (پروفیسر خورشید احمد ۔۔۔ حاشیہ ۔ اسلامی نظریہ حیات)

چنانچہ اقبال ر ح خود بھی وطن پرستی کے حوالے سے ایک جگہ فرماتے ہیں
اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفوی ہے
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے
غارت گر کاشانۂ دین نبوی ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفوی ہے
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے !
ہو قید مقامی تو نتیجہ ہے تباہی
رہ بحر میں آزاد وطن صورت ماہی
ہے ترک وطن سنت محبوب الہی
دے تو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی
گفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے
بال جبریل سے انتخاب

اسلام کا عنصر جب وطن کے اندر سے ختم ہو جائے تو وہ وطن ایک بے جان جسم کی مانند ہو جاتا ہے یہ زہر کی طرح انسانی معاشرے میں پھیل جاتا ہے نتیجہ سواۓ معاشرے کی تباہی کے اور کچھ نہیں رہتا .انسان صرف وطن کا ہو کر رہے جاتا ہے اور اسی کو پوجا صرف وطن کی ہوتی ہے

علامہ اقبال ر ح جہاں وطن پرستی کی مذمت کرتے ہیں وہیں حب الوطنی اور وطن پرستی میں فرق کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں
قومیت کا مطلب اگر یہ ہے کے ایک بندے کو اپنے وطن سے محبت ہونی چاہیے اور اسے اپنے وطن کی خاطر جان دینی چاہیے تو یہ بات ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے قومیت کا تصادم اسلام سے اس وقت ہوتا ہے جب یہ سیاسی عقیدہ بن جاتی ہے اور یہ دعوا کرنے لگ جاتی ہے کہ انسان کو بس قومیت ہی کی بنیاد پر متحد ہونا چاہیے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو وہاں اسلام قومیت کو برداشت کرتا ہے کیوں کے ایسے ملکوں میں اسلام اور قومیت میں کوئی تضاد نہیں ہوتا ہن البتہ ایسے ملکوں میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں وہاں انھیں یہ حق حاصل ہے کے وہ علیحدہ ثقافتی اکائی کے طور پر حق خود اختیاری کا مطلبہ کریں

Anonymous said...

عقل و خرد سے سے عاری انسان ، مضمون کا سب سے پہلا پیرا پڑھو اور پھر اقبال کی نظم کو اس کی روشنی میں دیکھو ۔


دیں ہاتھ سے دے کر اگر آذاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا

مختصرا یہ یاد رکھنا کہ ہمرا ملک امریکہ کا نان نیٹو ، فرنٹ لائن اتحادی ہے ۔

اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ عطا فرمائے ۔

عرفان بلوچ said...

کون کس سے مخاطب ہے یہ اندازہ نہیں ہو رہا برائے مہربانی نام لے کر مخاطب ہوں

عدنان صاحب !!! بصد احترم عرض ہے کہ پاکستان کی پوجا و پرستش جس انداز سے کی جارہی ہے اسے وطن پرستی کے بجائے حب الوطنی سمجھانے پر آپ کیوں مصر ہیں

کیا اس کی محبت تلے اسلام اور اپنے عقائد کونہیں روندا جارہا

عافیہ صدیقی کو گھر سے اٹھا کر امریکیوں کے حوالے کرنا

ہزاروں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنا

گاؤں کے گاؤں بمباری کر کے ملیا میٹ کر دینا

اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنا تاکہ یہاں اللہ کی نازل کردہ شریعت نافذ نہ ہو سکے

یہ تو چند مثالیں ہیں ، ان جرائم اور کرتوتوں پر سینہ چوڑا کر کے دلیل دینا کہ ہاں پاکستان کے دفاع کے لیے یہ سب کچھ ضروری تھا

یہ محض حب الوطنی قرار پائے گا

یہی تو وہ وطن پرستی ہے جس کا پیرہن ، مذہب کا کفن ہے

اللہ پاک عقل دے ہر بندے کو

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ