Subscribe:

Sunday, June 12, 2011

انسپائر اور مغربی مسلمان کے درمیان گفتگو


مغرب میں رہنے والے ایک مسلمان بھائی نے انگریزی جریدے انسپائر سے جہاد میں شرکت کے لیے سرزمین جہاد کی طرف ہجرت کا مشورہ طلب کیا ۔ جس پر ادارہ کی طرف سے انہیں انفرادی جہاد اختیار کرنے کی نصیحت کی گئی ۔اس گفتگو کی اہمیت کے پیش نظر اس کا اردوترجمہ نشر کیا جا رہا ہے ۔

السلا م  علیکم!
میں مغر ب میں ر ہتا ہوں اور میر ی دلی تمنا ہے کہ میں سر زمین جہاد کی  طرف ہجرت کروں مثلا افغانستان  یا یمن۔ میرے پاس سفر کے لیے ضروری رقم موجود ہے اور میں کسی حد تک جانتا ہو ں کہ مجھے کہاں جا نا ہوگا۔لیکن میرے ساتھ صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ  یہ کہ میرے پاس مجاہدین سے رابطہ کا کوئی ذریعہ نہیں   ہے۔اس سلسلے میں آپ مجھے مشورہ دیں کہ مجھے کیا کرنا چا ہیٔے  ۔جزاک اللہ خیر ۔۔۔
آپ کا گم نام بھائی

ادارہ انسپائر کا جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ  ، ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا اور امید کرتے ہیں کہ وہ آپ کے لیے وہ راستہ کھول دے جو آپ کو شہادت کے دروازوں تک لےجائے ۔ آمین ۔
 آپ کی صورتحال   ،مغرب میں ہمارے بہت سے ان بھا ئیو ں سے مختلف نہیں جو جہاد کے لیے گھروں سے نکلنے کو تیار  ہیں مگر ان کے پاس اپنے مجاہد  بھا ئیوں سے ملنے کے لئےواضح راستہ  موجود نہیں ہے۔اس صورتحال میں ہمارا آپ کے لیے یہی مشورہ ہے کہ آپ مغربی ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی پر غور کریں۔      

مغرب کے بھائیوں کو یہ فقہی اصول یاد رکھنا چاہئے کہ  جہاد اُس وقت فرض عین ہو جاتا ہے جب امراء یا قائدین ِجہاد اسے  فرض قرار دیں ، اور جب وہ کہیں کہ ہمارے پاس اس وقت کافی مجاہدین موجود ہیں اور ہمیں جنگ کے میدان میں مجاہدین کی ضرورت نہیں تویہ  فرض عین سے کم ہو کر فرض کفایہ ہو جائے گا  ۔لہٰذا یہ حکم لگاتے ہوئے بنیاد ی اہمیت اس بات کو حاصل رہے گی مجاہدین کی قیادت اس بارے میں کیا کہتی ہے  ۔اگرچہ جہاد کےتمام فقہی احکام لگاتے ہوئے  قیادت کی رائے اہم نہیں ۔

اس حکم کو سامنے رکھتے ہوئے ،مجاہدین  کی قیادت،خصو صاََ اپنے مغربی بھائیوں سے یہ کہتی ہے کہ آپ میدان جہاد مثلاً یمن کی طرف آنے کے بجائے ، مغرب کے خلاف ایسی کارروائی  کی کوشش کریں جس سے اس  کے مفاد کو نقصان  پہنچے ۔ ہم پھر دہراتے ہیں کہ ، یہ بات جہادی قیادت کی ضرورت پر  منحصر ہے۔بہر حال ،اس کا یہ مطلب نہیں کہ یمن میں جہاد فرض عین نہیں۔

ہمارے وہ  بھائی جنہوں نے مغرب سے یہاں ہجرت کی ہے،اپنے  اس تجر بے سے یہی اخذ کر پائے ہیں کہ اگر وہ مغربی ممالک میں واپس جا کر  کارروائی  کر سکتے تو یہ ان کے لئے زیادہ مفید ہوتا ۔وہ اس لئے کہ دس امریکی  سپا  ہیو ں  کا قتل یمن کے سو سپا ہیوں کے قتل سے بہتر ہے۔سر زمین جہا د کا رخ   کرنے وا لے مغر بی بھائیوں میں سے اکثر کی اُس وقت  تک یہ  سوچ نہیں بن پا تی جب تک وہ اپنے مجاہد بھائیوں کے ساتھ کچھ وقت نہ گزار لیں۔ لیکن جب تک یہ سوچ بنتی ہے عمل کا وقت گزر چکا ہوتا ہے ، پھر یہ خواہش مجاہدین کے دلوں کو جلاتی اور کڑھاتی رہتی ہے ، لیکن کوئی فائدہ نہیں، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور واپسی نا ممکن ہو جاتی ہے۔لہٰذا  ہم اپنے مغربی بھائیوں کو اسی با ت کا احساس  دلانا چاہتے ہیں کہ وہ اس بات کی اہمیت کو سمجھیں ۔اور یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بدو لت ہم شیخ ابو مصعب السوری(اللہ انہیں قید سے رہائی دلائے ) کی ان  تحریروں کا ترجمہ اپنے جریدہ  انسپائر میں نشر کرتے ہیں جو انفرادی جہاد کے نظریات سے متعلق ہے ۔

شیخ ابو مصعب سوری (فک اللہ اسرہ ) کہتے ہیں کہ ، آپ اپنی  صلا حیتوں کو پہچانتے ہوئے اپنے لیے ہدف کا انتخاب کریں ۔آپ کے اہداف کا دائرہ بہت وسیع ہے ، لہٰذا ممکنہ اختیارات کا بغور جائزہ لیں ۔ مقامی سطح پر کیے جانے والے حملوں میں جو آسان ہوں لیکن نتائج کے اعتبار سے زیادہ مؤثرہوں انہیں اختیار کریں ،مثلاً ، آرمی کے بھرتی مراکز ،  نائٹ کلب،ہائی وے یا کفار کے مصروف ترین شاپنگ مال ۔ وہ  اہداف جو قدر ے مشکل  ہیں مثلاً  سٹاک  مارکٹیں یا وہ اہم افراد جن کی سیکیورٹی سخت ہوتی ہے یا خفیہ ایجنسیوں کے مراکز ، فطری بات ہے کہ ان کو ہدف بنانے کے لیے آپ کو  بہت زیادہ ترصد (ریکی ) کرنا ہوگا ، جیسے دشمن کی نقل و حرکت ، کیمرے اور دیگر حفاظتی اقدامات ، سیکیورٹی گارڈز کی تعداد اور داخلہ اور خارج ہونے کے راستوں کی تفصیلات کا بہت غور سے جائزہ لینا ہوگا وغیرو غیرو۔

ایک کام  جو آپ لوگوں کے لئے انتہائی  مفید ہوگا وہ یہ کہ آپ  ناکام ہونے والے ان سابقہ حملوں کا بغور جائزہ لیں جو انفرادی سطح پر یا چھوٹے مجموعہ  کی صورت میں کیے گئے تھے ۔ان تمام باتوں کو ذہن نشین کریں جو آپریشن کی نا کامی کا باعث بنی تھیں اس سے آپ کو اپنا کام بخوبی انجام دینے میں مدد ملے گی ۔آپ کو یہ بھی ضروری طے کرنا ہو گا کہ آپ جو کارروائی  کرنے چلے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے۔کیا آپ اسے بار بار دہرانا چاہتے ہیں یا آپ اسے استشہادی حملے کی صورت میں کرنا چاہتے ہیں؟؟؟

ہم نے نوٹ کیا ہے کہ مغرب کے اندر مقامی جہادی کارروائیوں کے نتیجے میں سال ۲۰۱۰ میں سب سے زیادہ  گرفتاریاں ہوئی ہیں ۔جب ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ان گرفتاریوں کی بنیادی وجہ مجموعے یعنی گروپ کی صورت میں مجاہدین کا اکٹھا ہونا اور ایک دوسرے سے رابطہ کرنا تھا ، لہٰذا ایک کے بعد ایک گرفتار ہوتے چلے گئے ۔ممکن ہے دشمن نے مجاہدبھائیوں کے درمیان اپنا کوئی جاسوس چھوڑ رکھا ہو ، اور مجاہدین اس خوش فہمی میں ہوں کہ یہ ہم میں سے ایک ہے ۔ہم نے مشاہدہ کیا کہ وہ کارروائیاں  جو انفرادی طور پر کی گئیں تھیں ، ان میں سے زیادہ تر کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچیں ۔

تو اس سے ہم کیا  سیکھ سکتے ہیں؟مجموعے کی صورت میں کی جانے والی کارروائی کے ناکام ہونے کا امکان انفرادی سطح پر کی جانے والی کارروائی سے بدرجہا زیادہ ہے ۔کیونکہ اس میں کسی فرد کی زبان یا ذہن سے منصوبہ نکل سکتا ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ  اگرچہ آپ کی نظر میں آپ کے ساتھی قابل اعتماد ہوں، لیکن  یہ عین متوقع ہے کہ خفیہ ایجنسیاں آپ کی غیر معمولی نقل و حرکت  پر غور کر رہی ہوں،  کیونکہ  جب کئی ساتھی اکٹھے ہوتے ہیں تو لوگوں کی نظروں میں آنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے ۔اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا کوئی ساتھی آپ کے دشمن کا ایجنٹ ہو ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ساتھی کی گرفتاری کے بعد اس پر دباؤ ڈال کر آپ کے متعلق معلوم کیا جائے ۔

تاہم،انفرادی حملے کی پلاننگ کو جب تک آپ صرف اپنے آپ  تک محدود رکھیں گے،دنیا میں کوئی بھی یہ  نہیں جان سکے گا کہ آپ کس نہج پر سوچ رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے بھائی ،جیسا کے  ندال حسن،تیمور ،روشن آرا  اور دیگر اپنی انفرادی حملوں میں کامیاب ہو گئے ۔ اگرچہ انہیں بعد میں گرفتار کر لیا گیا تھا، لیکن در حقیقت اس اعتبار سے  وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے تھے کہ کارروائی کو انجام دینے تک کسی بیرونی عنصر کو بھنک بھی نہیں پڑی  کہ وہ کیا کرنے والے ہیں ۔

ہاں آخر میں ہم یہ ضرور کہیں گے کہ ، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مغربی ممالک میں ایسے حملوں کی قابلیت  نہیں رکھتے ، اور آپ کا خیال ہے کہ آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ آپ سرزمین جہاد کی طرف ہجرت کر جائیں ، لیکن آپ کا مجاہدین سے کوئی رابطہ نہیں تو ، آپ کے پاس اتنی مقدار میں پیسے ضرور ہوں جس سے آپ اس ملک میں اُس وقت تک قیام کر  سکیں جب تک آپ کا رابطہ مجاہدین سے نہیں ہوجاتا ۔

مجاہدین کو تلاش کرنا بذات خود اللہ تعالی کی طرف سے ایک آزمائش ہے  ۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جہاد کے راستے میں آپ کے صبر اور ثبات کا امتحان لیں گے ۔

 یمن میں کچھ مجاہدین ایسے بھی ہجرت کر کے آئے ، جن کا القاعدہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا ، وہ بمشکل عر بی بول پاتے ،مگر اس سب کے باوجود اللہ کی رحمت سے آج وہ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

ہم آپ کو صرف یہ  نصیحت کر سکتے ہیں کہ ہمیشہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر بھروسہ کریں ، کبھی جلد بازی سے کام نہ لیں ، خواہ حالات بظاہر آپ کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں ۔

جزیرۃ العرب میں القاعدہ کے مجاہد بھائی

بشکریہ انگریزی جریدہ انسپائر ۔ صفحہ نمبر ۱۱ ، ۱۲


 الملاحم میڈیا ۔ جزیرۃ العرب میں القاعدہ 

5 تبصرے:

Anonymous said...

بھائی ، آپ پاکستان کے لیے انفرادی جہاد پر اتنا زور کیوں لگا رہے ہیں یہ یمن تو نہیں ہے ، یہاں سے تو جہاد کی زمین قریب بھی بہت ہے اور یہاں کوئی مغرب کی طرز پر حملے بھی نہیں کیے جاسکتے

کیا ذمہ داران کی طرف سے کوئی طے شدہ امر ہے یا آپ کے ذہن کا اپنا خیال ہے


ہم بعض مجاہد ساتھی ہیں اور ہمیں پریشانی ہے کہ آپ کیا چاہ رہے ہیں

ابو ہریرہ

Anonymous said...

آپ پریشان نہ ہوں اور انکی بات غور سے پڑھیں اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
انھوں نے چھوٹے مجموعوں کا بھی تو ذکر کیا ہے۔

Tausif Hindustani said...

jazakAllah khaira fi dunia w aakhirah , umada mauzoo, bahut kuch seekhne ko mila , lekin masla training ka ab bhi hai ,

Anonymous said...

aziz bhai asslamo alaikum,ijtemai k sath infiradi jihad bilkul zaruri hay.Allah swt ap sbko apni hifazat ma rakhay ,ameen .ma bhe apnay apko mujahideen ka hissa smajhta hun inshaallah!ye btyn 'nwaiafghan jihad' june ka abhe tk kiun nhe aya??dosari bat ye k agr koi maali madadd bhijwani ho to kasay bhajain? ap k jwab ka intezar rhay ga.

ابو جمال said...

میرے گم نام بھائی اگر آپ مالی تعاون کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اولین خواہش ہوتی ہے کہ آپ بذات خود کوئی راستہ تلاش کریں اور اس ذریعہ سے مجاہدین تک پیسے پہنچائیں

ہمارے لیے اپنے آپ کو سامنے لانا کسی طرح موزوں نہیں ہے، بہرحال اگر آپ کوئی اور ذریعہ تلاش نہ کر سکیں تو اللہ کے بھروسے پر محفوظ رابطہ کرنے کی بھی کوشش کی جاسکتی ہے

والسلام

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ