Subscribe:

Tuesday, June 14, 2011

ہندوستانی مجاہد ین کا غزوۃ الہند میں کردار



ڈئر السلام علیکم
میرا  اسم مبارک ۔۔۔۔ ہے ۔ میرا سوال ہے ہند کے مسلمان ہند میں جہاد کا کب تک انتظار کریں گے ؟اور کیا یہ جہاد آئی ایس آئی سے پاک صاف ہوگا ؟ میرا مطلب یہ ہے کہ آنے والی دنوں میں ہند جہاد کا آغاز ہوگا پر زیادہ تر مجاہد پڑوس سے ہوں گے (تربیت کے لیے) کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ پاک کی سلامتی کے لیے یہاں کے مجاہد کا اپنے وطن کے مفاد کی خاطر استعمال کریں گے جیسا انہوں نے کشمیری کے ساتھ کیا تھا ؟ یا پھر آزاد ہوگا اور ہوگا تو کس کے پرچم تلے جہاد ہوگا ؟
اور میرے لیے یہ مناسب نہیں کہ میں ہند کو چھوڑ کر کہیں اور ہجرت کر کے جاؤں اور میں مانتا ہوں ہند میں جہاد کرنا اشد ترین ضرورت ہے ۔ کیوں کہ ہند شرک کے نام و نشان ختم کرنے کی پہلی منزل ہے ایشا میں ۔
(رومن انگریزی سے اردو ٹائپنگ )

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ برکاتہ
اگر آپ کا وہی نام ہے جو ای میل میں درج ہے تو واقعی بڑا مبارک اسم ہے ۔۔۔
غیب کا علم اللہ کے سوا کسی ذات کو نہیں ، اگر آپ غزوۃ الہند کا انتظار کر رہے ہیں ، تو کون کہہ سکتا ہے کہ احادیث میں جس غزوۃ الہند اور اس کی فضیلتوں کا ذکر ہے ، اس کا آغاز کب ہو گا ۔ ویسے ہمارا گمان یہ ہے کہ احادیث میں جس غزوۃ الہند کی پیشن گوئی کی گئی ہے اس کا زمانہ آچکا ہے یا بہت قریب ہے ، حالات و قرائن سے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ۔
آئی ایس آئی سے پاک صاف جہاد کے متعلق سوال سے یوں لگتا  ہے کہ آپ کے ذہن میں بھی غزوہ الہند سے متعلق وہی غلط فہمی ہے جو مسلمانوں کے اندر عام پائی جاتی ہے ۔ غزوۃ الہند سے متعلق پانچ احادیث ہیں جنہیں مختلف محدثین نے راویوں کے اختلاف کے ساتھ اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔ میرا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ ان پانچوں احادیث کو اسناد کے ساتھ ، اور شارحین کی وضاحتوں کے ساتھ نقل کروں گا ۔ مختصراً عرض ہے کہ مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں سندھ اور ہند دو علیحدہ علیحدہ الفاظ آئے ہیں ۔ ان دو علیحدہ الفاظوں کا مطلب آج کے زمانے میں دو مختلف خطے ہو سکتے ہیں یعنی سندھ پاکستان کے لیے اور ہند ،ہندوستان کے لیے ۔ اور ان دونوں خطوں کی جنگ اور اس میں فتح کو غزوۃ الہند میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔

جو مسلمان  غزوۃ الہند میں پاکستان کی جنگ اوراس خطے میں  مجاہدین کی فتح کو شامل نہیں سمجھتے ،یا اس کا ذکر نہیں کرتے وہ یقینا غلط فہمی کا شکار ہیں  ۔ موجودہ صلیبی جنگ میں کفار کے ساتھ پاکستان کا تعاون اور شرکت بہت کچھ سمجھانے کے لیے کافی ہے ۔ یہاں کے کافر حکمران اور مرتد افواج شریعت کے راستے میں بنیادی رکاوٹ بنے رہے ہیں ۔ لہٰذا اس خطے میں شریعت کی بالادستی ، اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد فتح تک جاری رہے گا اور کوئی وجہ نہیں  کہ ہم اسے غزوۃ الہند میں شمار نہ کریں ۔جو مسلمان بھی مجاہدین کے نکتہ نظر کو سمجھتا ہو وہ اس نظریہ کا قائل ضرور ہوجائے گا ۔

اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ ہندوستان کا جہاد انشاء اللہ آئی ایس آئی کی خباثتوں سے پاک ہوگا ، کسی وطنی مفاد میں نہ ہوگا اور یہ  لا الہ الا اللہ کے پرچم تلے ہوگا ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہ لینا چاہیے کہ جب تک مجاہدین پاکستان کو فتح نہ کرلیں ، ہندوستان میں جہاد کا کوئی امکان نہیں ۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہندوستانی مجاہدین ، ہندوستان میں جہاد کا آغاز کریں ، اور اس کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہیں دنیا بھر کے مجاہدین کا تعاون میسر آجائے، بشمول پاکستانی مجاہدین کے ۔بہر حال یہ وطنی عصبیت ختم ہو جائے گی ، یہ باقی رہ بھی نہیں سکتی کیوں کہ ہم چاہتے ہی یہ ہیں کہ یہ دونوں  خطے باہم ایک ہو جائیں ، اور پاک و ہند ہی پر کیا بس ہے ، سارا عالم ایک ہی خلافت کے تحت ہوگا ۔۔۔۔  اللہ کی نصرت سے  ۔۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز ۔۔۔
 چین و عرب ہمارا ، ہندوستاں ہمارا                               مسلم ہے ،ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

 حضرت کعب رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ذکر ہے کہ غزوہ ہند میں شرکت کے لیے ایک لشکر بیت المقدس یعنی شام سے روانہ ہوگا  اور ہند کی فتح کے بعد ہندوستان کے خزانوں سے بیت المقدس کی تزئین اور آرائش کا کام لیا جائے گا ۔اگرچہ یہ حدیث منقطع ہے ، لیکن اس کا اگلا مضمون درست ہے ، جس کی تائید دوسری احادیث سے ہوتی ہے ۔ یعنی ہند کی فتح کے بعد مجاہدین شام کی طرف لوٹیں گے تاکہ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہو کر دو سعادتیں اور فضیلتیں سمیٹ سکیں ۔ یہ مضمون کئی احادیث میں آیا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہند کی فتح سے پہلے پہلے شام کی فتح ہوچکی ہوگی ۔کیوں کہ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام اس وقت تک نازل نہیں ہوں گے جب تک مسلمانوں اور رومیوں (یعنی عیسائیوں ) کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کو فتح نہ مل جائے ۔حضرت کعب رضی اللہ عنہ والی حدیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ ہند وستان کی فتح کے بعد مجاہدین کا مرکزی قیام ہندوستان میں ہوگا ، جب تک دجال کا ظہور نہیں ہوجاتا ۔ اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاد نعیم بن حماد نے اپنی کتاب الفتن میں نقل کیا ہے ۔

بعض دوسری احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یمن سے بھی مجاہدین کے لشکر مختلف محاذوں میں شرکت کے لیے روانہ ہوں گے ۔  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُس وقت مجاہدین کے آپس کے رابطے بحال ہوچکے ہوں گے ، اور وہ ایک محاذ سے دوسرے محاذ تک شرکت کے لیے باآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ آیا جایا کریں  گے ۔ عرب دنیا کے اندر مسلم بیداری کی موجودہ صورتحال کچھ اسی طرف جا تی نظر آرہی ہے ۔

اب اگر یہ بات درست ہے کہ غزوۃ ہند میں شرکت کے لیے دنیا کے مختلف محاذوں سے مجاہدین جمع ہوں گے ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں جہاد کا آغاز ، پاکستان کی فتح سے مشروط ہے ،اگرچہ یہ ضروری نہیں، لیکن دنیا بھر کے مجاہدین کا  یہاں اکٹھے ہو کر ہندوستان کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے کا یہی مطلب سمجھ آرہا ہے ۔ اس تمام صورتحال میں معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے  مجاہدین بے چینی سے پاکستان کی فتح اور دنیا بھر سے مجاہدین کا انتظار کر رہے ہیں  اور آپ کی ای میل پڑھ کر مجھے بالکل ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے ۔ایسے میں آپ کے لیے صرف دعا کر سکتا ہوں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ، کیونکہ فی الحال تو آپ کے پاس صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں  
ہندوستانی مجاہدین کے لیے میرا مشورہ یہی ہے کہ وہ اپنے لیے جنگ کے میدان کا خود انتخاب کریں  ، بیرونی مشوروں کے بجائے خود تدبیر کریں اور سوچیں کہ آپ کے لیے بہترین راستہ کیا ہے

ساتھی ہی میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں جنگ کے میدانوں میں جلد اکٹھا کر دیں  ۔۔۔۔ واللہ اعلم  ۔۔۔

غزوۃ الہند میں شریک آپ کا بھائی
عرفان بلوچ

4 تبصرے:

Tausif Hindustani said...

آپ کی ہر تحریر دل پر اثر کرتی ہے، اور اس سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو حاصل ہوتا ہے ، جزا ک الله خیرا ، ہند میں قیادت کا فقدان ہے ، دل میں جزبہ تو بہت سارے بھائیوں کے ہیں . لیکن وہ کوئی راہ نہ پا کر جزبہ کو دل میں ہی قید کر لیتے ہیں الا ما شاء الله

Anonymous said...

اے ہند کے مظلوم مسلمانوں ہم آئی ایس آئی کی آلائشوں سے پاک ہیں ،جو اپنے ذاتی مفادات کے لئے کشمیر میں جہاد کراتی ہے،اور بوقت ضرورت یعنی جب امریکہ کہتا ہے تو جہاد روک لیتی ہے،ہم ہند کے مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں پاکستان کے مجاہدین قاعدہ الجہاد یعنی القاعدہ و طالبان کی صورت میں ہند وپاک کے مشرک مرتد حکمرانوں اور افواج پر قہر بنکر ٹوٹیں گے ،انشاء اللہ ۔مجاہدین ھند کو فتح کریں گے اور مظلوم مسلمان جمہوریت کے شرک سے ازاد ہو کر خلافت کے تحت زندگی بسر کریں ،ملا عمر مجاہد کی سربراہی میں

Anonymous said...

in this western following age,specially in pakistan what should we do for our kid's education?its a great problem .how we turn them because there is a big lack of islamic school systems here.brother have you suggestions for this ?i need guidance .

Mujahideen-e-Islam Media Centre said...

بسم الله الرحمن الرحیم۔
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته
تمام امت مسلمه کو الله تعالی حقیقی امن،چین و سکون عطا فرمائے۔
ھندوستان کے مسلمانوں کے لئے تو فی الحال یہی پیغام ہیں کہ اول تو افغانستان کا رخ کرے کسی بھی صورت ہو پھر یہاں پر عسکری تربیت حاصل کرے۔
لیکن پاکستان اس سے زیادہ محفوظ جگہ ہے وہاں پر عسکری تربیت کے مراکز بحال ہیں افغانستان میں عارضی مراکز قائم ہیں کیوکہ نیٹو کی بمباری کا خطرہ ہمہ وقت رہتا ہے۔اس لئے پاکستان زیادہ محفوظ ہے افغانستان سے۔
لیکن اسکا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ افغانستان میں مزاکز نہیں ہے الحمداالله ہر جگہ پر تقریباً بحال ہے۔مگر عارضی ہے۔
خیر والله اعلم۔
عسکری تربیت ضروری ہیں اور پھر قائدین سے مشورہ کرکے ہندوستان میں جھاد کا آغاز شروع کردینا چاہیے۔چاہے اسکے نتائج براآمد ہو یا نہ ہو لیکن امید قوی ہے کہ نتائج ضرور برآمد ہونگے الله اہل ایمان کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔
امیر المومنین کی زندگی کو ہی مطالعہ کرلے اور اسی منہج پر بسم الله کرے کیوکہ اب ہم صحابہ کرام والے کارنامے کے تو قابل نہیں ہے۔
لیکن یہ سلسلہ آپﷺ سے چلتا ہوا آرہا ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔
پشتو کا شاعر کہتا ہے۔
زوند دہ آبددیت دہ شہادت سمرہ وڑ شان دے۔
سرنگ یي کاروان دے سرنگ یي کاروان دے۔

کہ شہادت ہمیشہ کی زندگی ہیں اور شہادت کتنی بڑی شان ہے۔
ھائے کیسا یہ کاروان ہے کیسا یہ کاروان ہے۔

الله مجھے بھی اپنے مقبول بندوں میں شمار کرے اور شہادت کی موت عطا فرمائے الله ہمارے یتیموں کی سرپرستی کرے،اور ہمارے مجاھدین بھائیوں کی حفاظت فرمائے،اللہ کافروں کو اور انکے حریفوں کو نست و نعبود کردے،الله ہمیں ڈرنے والا دل عطا فرمائے اور ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے۔

آمین ثم آمین۔۔۔

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ