Subscribe:

Thursday, June 16, 2011

ہندوستان کے اہم ترین علاقے


بھائی آپ نے جو سوالات پوچھے ہیں ان کے جواب دینا کا میں پوری طرح اہل نہیں کیوں کہ ہندوستان کے متعلق میرا علم محدود ہے ، اب ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ہندوستان کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت پر اچھا خاصہ مطالعہ کرنا پڑے گا ۔اگر اس بارے میں کوئی مفید کتاب کا علم ہو تو مجھے ضرور بتائیں ۔

ہو سکتا ہے کہ کیوں کہ آپ خود اتر پردیش میں رہتے ہیں ، اور اس کی اہمیت سے واقف ہیں لہٰذا یہ سمجھتے ہوں کہ پورے ہندوستان میں یہی خطہ سب سے اہم ہے ۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں ۔ بہر حال کشمیر تو کئی وجوہات کی بنا پر اس کا اہل نہیں کہ اسے مرکزی اہمیت حاصل ہو ماسوائے اس کے کہ وہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر چھاپہ مار  جنگوں کے لیے موزوں ترین علاقہ سمجھا جاسکتا ہے ۔ مجھے مکمل علم تو نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اس طرح کے پہاڑی علاقے ہندوستان میں اور بھی ریاستوں میں موجود ہیں ۔ لیکن وہاں مسلمانوں کی آبادی کے بارے میں مجھے کچھ بھی علم نہیں ۔

قطع نظر اس سے میں یہ ضرور عرض کردوں کہ عام طورپر جہاد اور مجاہدین کے لیے مرکزی اہمیت ان علاقوں کو حاصل ہوگی جو ایسی  خصوصیات کے حامل ہوں ، جن کوقدیم اور جدید  عسکری نظریات میں اہم سمجھا جاتا رہا ہے ۔ اس میں مزید اضافہ ان خصوصیات کا بھی کر لینا چاہیے جو توحید کی دعوت کو پھیلانے ، اور اللہ کی شریعت کے نفاذ کے لیے موزوں ترین سمجھی جاتی ہیں ۔ ان کی روشنی میں میرا تجزیہ جو کچھ کہتا ہے وہ  کچھ اس طرح کا ہے ، بغیر زیادہ تفصیل میں جائے ، ایسے علاقے :
جہاں فطرت سے زیادہ قریب زندگی ہو ، لوگ سادگی پسند ہوں اور سادہ مزاج ہوں  ،
جہاں کے مسلمان راسخ العقیدہ ہوں ، جہاں صحیح العقیدہ مسلمانوں کی تعداد فاسد العقیدہ مسلمانوں سے زیادہ ہو  (ہندوستان میں بھی پاکستان سے کچھ کم فاسد العقیدہ نہیں )
جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان عداوت اور دشمنی شدید درجہ میں نہ ہو ، یعنی ہو سکتا ہے بعض خطے یا علاقے ایسے ہوں جہاں کفار اور مسلمانوں کے درمیان دشمنیوں کے واقعات کم دیکھنے میں آئے ہیں
وہ علاقے یا خطے جہاں بیرونی امداد پہنچنے کا امکان زیادہ ہو ، وہ ہرگز کوئی ایسا علاقہ نہ ہونا چاہیے جسے کاٹ کر علیحدہ پھینک دینا آسان ہو ۔

ویسے آپ انسپائر کا مطالعہ کرتے ہیں تواندازہ کر سکتے ہیں کہ اس وقت جہاد کے لیے اوپن فرنٹس یعنی کھلے محاذ موجود نہیں ہیں اور اس کے امکانات بھی بہت کم ہیں ۔اس لیے انہیں صرف اپنی حکمت عملی میں سامنے رکھیں ورنہ اس وقت تو کوئی موقعہ اور امکان نظر نہیں آتا کہ آپ یہ سوال پوچھتے ۔

اب میں آتا ہوں ایک بہت اہم بات کی طرف ، جس کے لیے آپ کو آج سے حکمت عملی بنانی ہوگی :
اور وہ یہ ہے کہ اس وقت علاقوں کی مرکزی اہمیت شاید اس طرح سے باقی نہ ہو لیکن قوم اور قبیلوں کی اہمیت معاشرے میں نہایت اہم سمجھی جاتی ہے ۔ لہٰذا اس کام کے لیے وہ علاقہ بھی موزوں ترین ہوگا جہاں کی قوم ، قبیلہ یا خاندان معزز اور طاقت ور سمجھا جاتا ہو ۔ اور اس قوم کے اندر بعض ایسی عادات ہوں جو انسانی معاشرے میں بہترین سمجھی جاتی ہوں ، مثلاً مہمان نواز ہوں ، وعدے اور وفا کے پابند سمجھے جاتے ہوں ، آخری حد تک جان لڑانے والے ہوں ، اپنی عزتوں کی حفاظت کرنا جانتے ہوں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

مضبوط معاشرے کے قیام کے لیے معزز ترین قوم اور قبیلوں کے افراد کا تعاون اور ان کی ضرورت اسلام بھی محسوس کرتا ہے لہٰذا مجاہدین کو چاہیے کہ ہندوستان کی معزز ترین اقوام اور قبیلوں کو اپنے ساتھ شریک کرنے کی کوششیں ابھی سے شروع کردیں ۔یاد رکھیں کہ قبیلے کے طاقت ور اور بڑے افراد اگر اسلام کے محافظ بن جائیں تو ان کے پیچھے ان کا پورا خاندان ہوتا ہے ۔

اس کے لیے ایک اچھی حکمت عملی یہ ہوگی کہ ہندوستانی  مجاہدین مختلف قوموں اور قبیلوں کے ان خاندانوں میں شادیاں کریں جو معاشرے میں اونچی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان میں بھی خصوصا معزز ترین اور صاحب حیثیت افراد کی بیٹیوں سے شادیاں کریں ۔ اسی طرح آپ ان علاقوں میں بھی شادیاں کرنے کی کوشش کریں جہاں کی جغرافیائی اہمیت زیادہ ہے، جیسا کہ اہم خطوں کے متعلق چند نکات میں نے اوپر ذکر کیے ہیں ۔

اگرآپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں ہونی والی ہجرت حبشہ پر غور کریں تو آپ کو یہ حکمت سمجھ میں آئے گی ۔حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے زیادہ تر مسلمان قریش کے بااثر اور انتہائی معزز گھرانوں سے تعلق رکھتےتھے ۔یہ وہ لوگ نہیں تھے جنہیں حضرت عمار بن یاسر ، خبیب بن ارت اور بلال حبشی رضی اللہ عنہم  کی طرح ظلم و ستم کی صعوبتیں سہنی پڑ رہی تھیں پھر کیا وجہ تھی کہ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔  اصل وجہ ہی یہی تھی کہ یہ قریش کے معزز ترین خاندانوں کے چشم وچراغ تھے ، اور ان کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے اندر نفوذ کرنا چاہتے تھے ، جس کے لیے پہلی ضرور ت اس بات کی تھی کہ انہیں کسی محفوظ مقام پر منتقل کردیا جائے تاکہ خدانخواستہ کسی بھی ناگہانی کی صورت میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام  کے پاس قریش کے ایسے افراد موجود ہوں گے ، جو آگے چل کر قریش کی قیادت و سیادت کے اہل ہوں گے ۔کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس ہو رہا تھا کہ مکہ میں اسلام کی دعوت پھیلنے کا مزید امکان نہیں اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ایسے عرب قبیلے کی تلاش تھی جو اسلام کی دعوت قبول بھی کرے اور اس کی خاطر اپنے آپ کو خطرات میں ڈالنے کے لیے بھی تیار ہو ۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی وہ قوم پورے عرب کی قیادت کی اہل نہیں ہوسکتی تھی ۔ یہ بات معلوم تھی کہ قیادت قریش ہی کر سکتے تھے ۔لہٰذا قریش کے ان معزز مسلمانوں کو نہ صرف حبشہ کی طرف بھیج دیا گیا بلکہ مدینہ ہجرت کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ میں ٹھہرائے رکھا اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں وہاں سے واپس نہیں آنا ، یہاں تک کہ ہجرت کے ساتویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ سے مدینہ آنے کا حکم جاری کیا ۔عام طور پر سیرت نگاروں نے جس انداز سے لکھا ہے اس سے اس حکمت پر پردہ پڑا رہا ہے ، کیونکہ سیرت نگار لکھتے ہیں کہ ان مسلمانوں  نے قریش کے مظالم سے تنگ آکر ہجرت کی تھی ، یہ بات اگرچہ درست ہے لیکن اصل بات یہ تھی کہ انہیں قریش کی طرف سے مظالم مزید بڑھنے کا اندیشہ تھا ۔ اگرآپ ہجرت حبشہ کرنے والے مسلمانوں کے نام دیکھ لیں تو یہ بات باآسانی سمجھ میں آ جائے گی ۔یہاں یہ سب کچھ عرض کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ مجاہدین کو بھی سب کچھ اسی طرح کرنا ہوگا ، بلکہ میں معاشرے کے معزز اور با اثر قبیلوں اور خاندانوں کی اہمیت بیان کر رہا ہوں ۔

اس لیے میری نظر میں اہم کام یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان میں مجاہدین معاشرے کے معزز ترین قبیلوں اور ان کے خاندانوں تک رسائی پانے کی کوشش کریں ۔اور دعوت کے علاوہ اس کا ایک اہم ذریعہ یا حکمت عملی ان کے اندر شادیاں کر کے اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا ہو سکتا ہے ۔ یہ حکمت عملی ہمارے بہت کام آئے گی خصوصا اس وقت  جب فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگا اور قیادت و سیادت کا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا ۔
بہر حال ہندوستان کے متعلق معلومات اور مطالعہ محدود ہونے کے سبب اس وقت میرے لیے ممکن نہیں کہ میں  کسی علاقے یا قوم کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ کچھ کہہ سکوں ۔ بس آپ ان نکات کی روشنی میں لائحہ عمل طے کریں ۔

آپ کی دعاؤں کا طلب گار
غزوہ ہند میں شریک آپ کا بھائی
عرفان بلوچ

2 تبصرے:

Tausif Hindustani said...

jaisa ki maine pahle kaha hai , Aapki har tahrir nasihat aamooz , w khirdmand ke liye ishaaraat , maujood hai, lekin jahan tak main samajhta hun sabse bada masala , kisi tanzeem ka manzare aam par khulkar ayaan na hona hi hai, bahu se hindi bhaai gusse men hai lekin uska izhaar nahi kar paa rahe hain ,main pro. tanzeem

Anonymous said...

اچھے بھائ ؛عظیم مجاھد اسامہ کی شہادت ایبٹ آباد آپریشن میںھوئ؟؟جواب کا انتظاررہے گا

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ