Subscribe:

Saturday, June 18, 2011

سزائے موت کے منتظرہمارے قیدی بھائی


الحمدللہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسول اللہ
ہمارے بعض قیدی بھائیوں کو فوجی عدالت نے سزائے موت کی سزا سنا دی ہے ۔ ان قیدیوں کو پرویز بے مشرف پر قتل کے الزام میں ۲۰۰۴ میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان میں سے  چار کا تعلق پاکستان ائر فورس  سے ہے اورایک پاکستان آرمی کا اہلکار ہے ، جب کہ بقیہ سات افراد عام شہری ہیں ۔  ان قیدیوں کا دعویٰ ہے کہ ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں ، اور انہیں نام نہاد فوجی عدالتوں نے کورٹ مارشل کے نام پر دوسری عدالتوں میں اپیل کرنے سے محروم کر دیا ہے ۔ جب کہ یہ قیدی اپنے حق میں گواہ لانے پر بھی قادر ہیں ، ان کے گواہان کو گھروں سے اٹھا کر غائب کردیا جاتا رہا، اور انہیں کئی کئی ماہ مستقل شدیدترین اذیتیں محض اس لیے دی گئیں تاکہ ان سے زبردستی جھوٹے بیانات پر دستخط کروائے جائیں ۔پاکستان کے کفریہ آئین کے اندر یہ ظالمانہ سقم بھی موجود ہے جس کے تحت فوجی عدالتوں میں کیے گئے کسی بھی فیصلہ کو ملک کی دیگر عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا خواہ وہ سپریم کورٹ ہی کیوں نہ ہو ۔ان قیدیوں کا جرم محض اتنا ہے کہ یہ اسلام سے محبت کرنے والے وہ اہلکار ہیں ، جنہوں نے پرویزی دور میں اس فوجی ڈکٹیٹر کی غیر اخلاقی اور اسلام دشمن پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے آواز بلند کی اور پرویز کے لیے کیے جانے والے  ریفرنڈم کے ڈرامے میں اس کے حق میں ووٹ ڈالنے سے انکار کر دیا تھا ۔

چند روز قبل ملتان اور راول پنڈی کے وکلاء نے بار ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس میں ان قیدیوں کے حق میں ایک قرار داد بھی پیش کی تھی جس کا متن پیش خدمت ہے :

بخدمت جناب سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راول پنڈی
محترم صدر اور معزز اراکین بار!
اس قرار داد کے ذریعے ایک انتہائی اہم انسانی مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں ۔ قومی افق پر واقع ہونے والے سنگین واقعات دراصل پرویز مشرف کے طرز حکومت کے تسلسل کا نتیجہ ہیں ۔ اس فوجی ڈکٹیٹر کے بکھیرے ہوئے کانٹے آج قوم کو پلکوں سے چننے پڑ رہے ہیں ۔ اس کے بدترین اقدامات میں سے ایک بدترین قدم اس کے دور حکومت میں قائم فوجی عدالتوں کے ذریعے بے گناہ افراد کا عدالتی قتل ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دور پرویزی میں صرف عام شہریوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کر دیا گیا بلکہ اس نے سب سے زیادہ نقصان پاک فوج جیسے قومی ادارے کے تشخص کو پہنچایا ۔ فوج کے متعدد افسران کو گھروں سے اٹھا کر ٹارچر سیلوں میں ڈال دیا گیا ۔
۲۰۰۳ میں پرویز مشرف نے مغرب میں اپنی اہمیت بڑھانے کے لیے اپنے اوپر ایک قاتلانہ حملہ کا ڈرامہ رچایا ۔جھنڈا چیچی اور چکلالہ کے درمیان ایک پل کو اڑایا گیا مگر اس حادثہ میں ایک مکھی بھی نہیں مری مگر ائر فورس ، آرمی اور دیگر شہریوں کو اس سازش میں گرفتار کر لیا گیا ۔پاکستان آرمی کے  سپاہی اسلام الدین صدیقی کو کھاریاں کی فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی اور ملتان میں تمام قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاسے  پھانسی دے دی گئی ۔ اس کے گھر والوں کو اخبارات کے ذریعے اس کی سزائے موت کی پتہ چلا ۔ اس کو رحم کی اپیل بھی نہ کرنے دی گئی اور وکلاء تک کو اس سے ملاقات سے روک دیا گیا ۔
اس کے بعد دوسری فوجی عدالت نے چکلالہ اور اٹک قلعہ میں مقدمات کی سماعت کی اور ۱۲ دیگر افراد کو موت کی سزا سنا دی گئی ان میں سے چار کا تعلق ائر فورس ، ایک آرمی ، اور سات عام شہری تھے ۔ مقدمے کی سماعت کے دوران مندرجہ ذیل سنگین بے قاعدگیاں کی گئیں تاکہ انصاف سے محروم طبقوں کو آسانی سے موت کے گھاٹ اتارا جا سکے ۔
۱)         کسی ملزم کو اپنے دفاع میں گواہ لانے کی اجازت نہ تھی ۔
۲)        ا ن کو سات ماہ تک ٹارچر سیلوں میں انتہائی ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر بیانات لیے گئے
۳)        استغاثہ کے گواہان کو بھی اٹک قلعہ میں قید رکھ کر اپنی مرضی کے بیانات لیے گئے ۔
۴)        سویلین اور فوجیوں کا اکٹھا ٹرائل کیا گیا جس کی کوئی قانون اجازت نہیں دیتا ۔
۵)        سزائے موت سنائے جانے کے بعد مثل مقدمہ اور مقدمہ سے متعلق دیگر کاغذات ( Trial Proceedings ) دینے سے انکار کر دیا گیا ۔
۶)        جن ملزمان نے اپنے حق میں گواہ لانے پر اصرار کیا ان کے گواہوں کو گھروں سے اٹھا لیا گیا ۔
۷)        مثل مقدمہ کے بغیر کوئی شخص فیصلہ کے خلاف اپیل نہیں کر سکتا ۔
ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے آئین میں دیے گئے آرٹیکل  (۳) ۱۹۹ کی وجہ سے فوجی عدالتوں کے ان فیصلوں کو برقرار رکھا ۔
اب جبکہ صدارتی ریفرنس پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ کیا یہ سزائے موت کے منتظر ۱۲ افراد بھی اس کے مستحق نہیں کہ ان کے مقدمات بھی وفاقی حکومت بطور ریفرنس سپریم کورٹ کو ارسال کرے تاکہ فوجی ڈکٹیٹروں کے قوم کو لگائے ہوئے زخموں کا مداوا ہو سکے ۔
اس کے علاوہ ہم معززان  پارلیمنٹ سے یہ استدعا کرتے ہیں کہ آرٹیکل (۳) ۱۹۹ کو بھی آئین سے خارج کیا جائے ۔ جس کے تحت افواج پاکستان سے منسلک افراد فوج کے اعلیٰ حکام کے کسی بھی غیر قانونی فیصلہ اور حکم کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کر سکتے ۔ بدقسمتی سے پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر نے ۱۹۶۲ کے آئین میں فوج کے لیے یہ استثنیٰ حاصل کیا تھا اور آج بھی ۱۹۷۳ کے آئین میں (۳) ۱۹۹ کی صورت میں یہ خرابی موجود ہے جس کی وجہ سے افواج پاکستان سے منسلک وہ افراد جنہوں نے پرویز مشرف کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی احکامات ماننے سے انکار کیا تھا اور ان کو فوج کے نام نہاد عدالتی اور انتظامی احکامات کے تحت بر طرف کر دیا گیا تھا ، آج بھی اس جمہوری دور میں آئین کے اس ظالمانہ آرٹیکل کی وجہ سے عدالتوں کے دروازے ان پر بند ہیں اور وہ انصاف سے محروم ہیں اور مسلح افواج سے منسلک افراد کو بھی متعلقہ ہائی کورٹ کے زیر انتطام دیگر جمہوری ممالک کی طرح اپیل کا حق دیا جائے ۔
قانون اور انصاف کے علمبردار وکلاء سے آج بھی قوم یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ وہ اس قرار داد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کریں کہ ان بے گناہ افراد کے متعلق ریفرنس سپریم کورٹ کو ارسال کیا جائے ۔ اور آئین میں ترمیم کی جائے ۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ جن پر صرف قاتلانہ حملہ کا الزام ہے وہ پھانسی پر لٹکا دیے جائیں اور آئین ، لال مسجد ، اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو کا قاتل لندن میں کی فضاؤں میں موج میلہ کر رہا ہے ۔
سزائے موت کے منتظر افراد :
۱۔   نائک ارشد   (پاکستان آرمی )
۲۔   چیف ٹیک نیشن نوازش علی  (پاکستان ائر فورس )
۳۔   چیف ٹیک نیشن خالد محمود (پاکستان ائر فورس )
۴۔    ٹیک نیشن  نیاز محمود (پاکستان ائر فورس )
۵۔  جونئیر ٹیک نیشن عدنان رشید  (پاکستان ائر فورس )
۶۔  مشتاق احمد  (شہری )
۷۔ زبیر احمد   (شہری )
۸۔ راشد قریشی  (شہری )
۹۔ غلام سرور بھٹی  (شہری )
۱۰ ۔ اخلاص احمد  (شہری )
۱۱۔ رانا نوید  (شہری )
۱۲۔ عامر سہیل  (شہری )
یہ قرار داد مورخہ ۲ جون ۲۰۱۱ بروز جمعرات جنرل باڈی کے اجلاس میں پیش کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا
سردار منظر بشیر
سیکریٹری راول پنڈی بار ایسو سی ایشن

مجاہد ساتھیوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس مسئلہ کو فوری اہمیت دیتے ہوئے ، اپنے قیدی بھائیوں کے حق میں صبر ، استقامت ، شرکت جہاد اور اللہ کے راستے میں شہادت کی دعا کریں ۔ اور ان کو سزائے موت سے بچانے کے لیے کسی بھی قسم کا اقدام اٹھاسکتے ہوں تو اس میں مزید تاخیر نہ کریں کیوں کہ ان قیدیوں کو کسی بھی وقت سزائے موت دی جاسکتی ہے ۔

جن مجاہد ساتھیوں کے وکلاء سے رابطے ہیں وہ کوشش کریں کہ یہی قرار داد لاہور اور کراچی بار ایسوسی ایشن میں بھی پیش کی جائے تاکہ اس قرار داد کے ذریعے  سپریم کورٹ جلد سے جلد اس مسئلہ کا نوٹس لے ۔
اسی طرح اس مسئلہ کو میڈیا کے سامنے پیش کرنے سے بھی فوجی عدالتوں پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے تاکہ ان قیدیوں کی سزائے موت کو کچھ عرصہ کے لیے موخر کیا جاسکے ۔
اس معاملہ کو ہیومن کنسرن سے متعلق ان این جی اوز کے سامنے بھی رکھا جائے جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان فوجی اہلکاروں کی سزائے موت پر فوری عملد درآمد کو رکوا سکیں ۔
اور سب سے اہم تر یہ کہ اس معاملہ کو فوری اہمیت دیتے ہوئے مجاہدین کے ذمہ دار اپنی صوابدید کے اعتبار سے ایسی حکمت عملی ترتیب دیں کہ قوت اور طاقت کے ذریعے فی سبیل اللہ ان قیدیوں کو رہائی نصیب ہو ۔

وما ذلک علی اللہ بعزیز ۔۔۔
اورایسا کرنا  اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ۔۔۔۔

ان میں سے بعض قیدی بھائیوں کی تصویریں یوٹیوب کی اس ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

8 تبصرے:

Tausif Hindustani said...

nahi ji ye pakistani muhibbe watan ki nazar se dekhoge to sabke sab qusoorwar nazar ayenge , unki nazar men aise logon ko zinda rahna hi nahi chahiye , aise nazariye aaj aksar muhibbe watan ke hote hain chahe wo kisi bhi mulk ke hon , aise dhakkan( be aql ) logon ka naara hota hai , pakistani hain humwatan hain , ye pakistan humaaraa, aur Islaam ka nara hai , muslim hain humwatan hai, saaraa jahaan humaaraa

burningbrainkhan said...

mujahideen par Allah swt ki rehmatain hon..aamin,'fidai hamla' kay baray ma achi tareh say janna chahta hun, mgr iska literature nhe mil rha ,madad farmayn gay ?

RASHID KHAKI said...

Hamain Murtad kehnay walo thora to Allah ka khof karo
Adnan rashid ki rihayi mein meinay kafi darjay tak Taliban k sath madad ki hai Adnan say mera khas rabta nahi tha lakin is jail k andar kuch senior leader thay jinko media mein show nahi kiya giya asal haddaf wahi thay adnan ko to humnay bhaija hai inkay sath.
Adnan inkay liye itna ahem nahi tha us becharay ko to jhootay case main pansaya gaya tha.

isi liye kehta hun k hukumat or agencies mein har banday ko murtad or kaffir ki nazar say mat dekho.

or haan planning kesi thi qatl o qital bhi nahi huwa or jail fatah hogiya.

yeh taliban ki planning mat samjhiega yeh planning hamaray kuch afasro nay jo Allah ka or deen ka gham rakhtay hai unhon nay ki hai.

Apka bhai
RASHID KHAKI.

عرفان بلوچ said...

میں نے کہا تھا نا راشد بھائی

ایسا لگتا ہے آپ کا دل بدلنے والا ہے


اپنے اس جملے پر غور کریں

::::::::::::::::::::::::::::::::
isi liye kehta hun k hukumat or agencies mein har banday ko murtad or kaffir ki nazar say mat dekho.
::::::::::::::::::::::::::::::::

دیکھا ، اللہ نے آپ کو اتنی ہمت تو دی کہ آپ افواج پاکستان میں سے بعض کو مرتد اور کافر کی نظر سے دیکھنے پر معترض نہیں


بہر حال یہ کارروائی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے لیے ایک بڑی فتح تھی

اگر اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے بعض افسران کی مرضی اور مدد شامل تھی تو یہ بلاشبہ یہ اس سے بھی بڑی نصرت ہے جو اللہ نے بھیجی ہے


اور ویسے پاکستان میں ہونے والی ہر بڑی جہادی کارروائی کے پیچھے بعض افسران سے ملنے والے خفیہ معلومات کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے


لیکن مجاہدین ، فوج کے اندر موجود اپنے بھائیوں کی حفاظت کے لیے اس کا باضابطہ اعتراف نہیں کرتے


اب میں اور آپ کیا کر سکتے ہیں

RASHID KHAKHI said...

wo kyun karaingay aitraaf zarooori nahi hai har baat awam ko batadi jaye.

Khair hum to uskay ghulam hai jo Deen ka ghulam hai.
hum baqi naik kaam to karnay say ajiz hai kam az kam insaan ko insaan samajh kar tars khajaye yeh hosakta hai hamain Jannat mein lay jaye.

Bani isreal mein aurat nay 1 kuttay ko pani pilayii wo jannat mein gayi hum bhi isi umeed say Aas lagaye jee rahain hai.

Baqi Dil Badalnay mein ziada tar kirdar chand alimo ka hai jinhon nay mujhay samjhaya..

ap logo ka bhi shukurya ada karta hun.

blog per ap logo nay kaam roka huwa hai isay jari rakhain khas kar masayil k lihaz say.

tumharain ameer saab to zaban k bohot taiz hai or irtidad k fatway bhi wo khoob kas kar lagatay hai mein kahi afsaro ko sunata hun wo hans partay hai k yeh dekho hamain samjhanay chala hai lakin baaz kam karnay walo nay apnay mobile per inkay lectures rakhain huway hai baazo ko shok hai k inhain sunain..

apnay ameer saab say kahiye k Fatwo k bajaye Fojiyo ko Naseehat ziada karain iska faida khoob horaha hai..

agar zindagi mein likha ho to inshAllah mulaqat bhi karaingay apkay ameer saab say guftaar k bohot naram hai magar fatwo mein naram nahi hai.

Mufti abu zar saab to hamari eik bhi nahi suntain..

Anonymous said...

Aoa, Rashid Bhai .. aap kay kehnay ka mtalab ye hai ke iss waqt fauj aur ISI mein aisay loog maujood hein jo pakistan mein jihad karnay waalon kay haqq mein hein aur unnki muawanat karrahay hain?.... agar aisa hi hai tou ye tou boht khushi ki baat hai ... Allah (swt) aap logoon ko himmat aur istaqamat naseeb farmaey. Laikin aik sawaal ye thaa keh .... jub umuumi taur par fauji aur intelligence tabqa itna sahti se paistan mein jihad karnay waalon ke khilaaf hai tou aap loog in idaaron mein rehtay huay ye kaam karrahay hein in ki nazroon ke neechay... ye baat samajh nahi aati ... kya ye loog aapkay khilaaf action laenay mein bay bass hein?...ya kya ye loog double game khel rahay hein? .... ya phir aap logon ka tareeqa kaar aisa hai keh ye aap logon ka ata nahi laga paatay? ..... aur aik sawaal ye bhi ke kya ye baat sach hai ke 2001 ke u - turn ke baad se abb tak ke iss arsay mein armed forces ke aik baray tabqay mein intashaar paya jaata hai.... aur woh apni qayaadat ki plociyoon sey bezaar aachukay hein? aapkay jawaab ka muntazir

Anonymous said...

asl.al.wr.muhtram bhai jan mai aapse bahut ahem umoor par bat karna chahta hun lekin wo jihad se muta-alliq razdari ki baten hain mai ne asrar al mujahideen download karne ki bahut koshish ki lekin mumkin na hua aapne jo link de rakhkha hai use serch karne bad hotfile nami site khul jati hai aur uspe meri samajh me nahi aa raha ki aage kya karna hai meri ye baten bahut ahmiyat ki hamil hain aur inke bare me aap se istisharah zururi hai inki wajah se meri ninden udi hui hain mai kuch bhi kar raha hun mera dil isi tasawur me gum rehta hai mai kuch karna chahta hun meri rehnumai farmyen mujhe aap se rabte ke kya karna chahiye
jald az jald jawab inayat farmayen aapne mna na kiya hota to mai EmailID zurur irsal kar deta
zahid

عرفان بلوچ said...

زاہد بھائی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ نے اپنی ای میل یا رابطہ تو کوئی دیا ہی نہیں

اور اگر آپ کو اسرار کی سمجھ نہیں آرہی تو اسے رہنے دیں لیکن ٹور کا استعمال آتا ہو تو ایک نئی آئی ڈی بنائیں ٹور پر

پھر وہ آئی ڈی مجھے یہیں تبصرہ کر دیں میں تبصرہ شائع نہیں کروں گا

والسلام

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ