Subscribe:

Saturday, June 25, 2011

کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی


کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی

 فوج میں مذہبی تقسیم کا عمل شروع
الحمدللہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسول اللہ ۔۔۔۔
امت مسلمہ کو مبارک ہو سینکڑوں مجاہدین اور ہزارہا مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد پاکستان کی کفریہ ریاست میں عدم استحکام کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔

مجاہدین اللہ کی نصرت سے فوجی اداروں میں نقب لگانے میں کامیاب ہوگئے ۔مجاہدین ایک طویل عرصے سے اسی کوشش میں تھے کہ کسی طرح ملک کے سب سے طاقتور اور خود مختار ادارے کے اندر  مذہب اور دین کی بنیاد پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ۔   اگرچہ پاکستان فوج کی بنیادوں میں مذہبیت کی جڑیں تو روس کے خلاف افغان جہاد کے زمانے سے موجود تھیں لیکن پاکستان فوج  جیسے غیر معمولی حد تک منظم ادارے میں اس کی بنیاد پر تقسیم کا عمل کوئی آسان کام نہیں تھا ۔گذشتہ ماہ قتل ہونے والے صحافی سید سلیم شہزاد نے اپنی کتاب "انسائڈ القاعدہ اینڈ طالبان " میں فوج کے اندر اس مذہبی تقسیم اور اس کے نتیجے میں طالبان اور القاعدہ کو پہنچے والی امدا د کا ذکر بھی کیا تھا ۔ بلکہ انہوں نے اپنی آخری رپورٹ میں جو کہ پی این ایس مہران بیس پر ہونے والے حملے کے بارے میں ایشیا ٹائمز میں شائع ہوئی نیوی کے اندر موجود مذہبی  تقسیم کی طرف بھی اشارہ کیا جس کی پاداش میں  آئی ایس آئی نے پہلے انہیں اغوا کیا اور بعد ازاں ان کی تشدد شدہ لاش برآمد ہوئی ۔

جنرل ہیڈ کوارٹر میں دو برس سے تعینات حاضر سروس برگیڈئیر علی خان کو  حراست میں لیے جانے کے بعد پاکستانی فوج میں یہ دراڑیں مزید گہری ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے ۔ بلاشبہ اس اعتبار سے یہ خبر مجاہدین امت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے ۔چنانچہ  ہم اسے صلیبی کفر اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں مجاہدین کی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں ، کیوں کہ اب پاکستان فوج کے اندر ہائی رینک آفیسرز میں بھی اپنے عقیدے اور دین سے منسلک رہنے کا رجحان نظر آنا شروع ہو گیا ہے ۔اس نوعیت کی  خبریں اور تجزیے پہلی بار اخبار ات کی زینت بنے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے ۔ نیز یہ کہ فوج کی اعلیٰ قیادت  اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ فوج میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل نہ ہونے پائے ۔

پاکستان بھر کے اخبارات چاہے  کفار و منافقین کے ان بیہودہ دعووں سے اپنے صفحات کو سیاہ کر لیں  کہ "ہم دہشت گردوں کو ان کے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے " اس سب کے باوجود الحمدللہ پاکستان آرمی کے آفیسرز میں  دین اور عقیدے کی بنیاد پر فوج سے انحراف کے بڑھتے  ہوئے رجحان کو دیکھ کر  یہ محسوس ہورہا ہے کہ  وزیرستان میں شہید ہونے والے ہمارے سینکڑوں مجاہد بھائیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔۔۔ ان شاء اللہ ۔۔۔ کیوں کہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ شہیدوں کا مقدس خون جس مٹی کو سیراب کرتا ہے وہاں اثر ضرور دکھاتا ہے اور آج اس نے اپنا حقیقی رنگ جمانا شروع کر دیا ہے ۔

ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک یا ریاست کے اہم ترین ادارے چار ہیں اور یہی اس کے لیے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
 حکومت ، فوج ، عدلیہ اور معیشت
پاکستان میں حکومت اور عدلیہ کو خود مختار نہیں سمجھا جاتا اور ان کے بارے میں یہ تصور عام ہے ۔معیشت کا حال اتنا بے حال ہے کہ وہ کسی شمار میں نہیں  ۔
لے دے کہ فوج ہی واحد  ادارہ ہے (بلکہ  تھا )جس کو پاکستان کی حد تک خودمختار یا سب سے زیادہ طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے ۔
اگر اللہ کی نصرت سے اس ادارے کو کمزور کر دیا جائے ، یا سانپ کی طرح اس کا زہر نکال دیا جائے ، یا اس ادارے کو ہائی جیک کرکے اس کا رخ اسلام کی طرف موڑ دیا جائے تو پاکستان کی ریاست انشاء اللہ اسلام پسندوں کے قبضے میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

ہو سکتا ہے ہمارے بعض مجاہد ساتھی میری اس بات سے اتفاق نہ کریں اور ان کے نزدیک فوج میں مذہبی تقسیم پر ہمیں اس لیے  خوش ہونے کی ضرورت نہیں کہ مجاہدین فوج سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھتے  اور اس عمل کو   کفریہ ریاست کے عدم استحکام کی طرف پہلا قدم قرار دیا جانا قبل از وقت ہوگا ۔۔۔ لیکن یہ بات تو یقینی ہے کہ فوج میں مذہبی تقسیم  کا پیدا ہونا مجاہدین کے حق میں ہے اور اللہ نے چاہا تو اس سے خیر کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوگا ۔۔۔ فوج سے بحیثیت مجموعی خیر کی توقعات باندھنا تو عبث ہے لیکن فوج کے اندر ایسے عنصر کا موجود ہونا خطے میں جاری کفر و اسلام کی جنگ میں اہل ایمان کے نہایت خیر و برکت کا باعث بنے گا ۔
ان شاء اللہ
وما ذلک علی اللہ بعزیز 

یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ ہمیں اپنے ان فوجی بھائیوں کی حراست ، خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں شدید تعذیب اور فوجی عدالتوں میں ان کے خلاف سزاؤں پر تشویش اور بے چینی ہے ۔ اور ہم ناپاک افواج کے ہاتھوں ان کے اہل خانہ پر ہونے والے مظالم پر بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے ۔۔۔ یہ ضروری اضافہ اپنی تحریر میں اس لیے کیا ہے کہ ہمیں بحیثیت مجاہد اس خبر پر ایک پہلو سے خوشی ہوئی ہے تو دوسرا پہلو دردناک بھی ہے ۔۔۔ لیکن بزبان حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔

دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ    پریشاں  مالی
کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالی
گل بر انداز ہے خون شہداء  کی لالی
رنگ گردوں کا  ذرا  دیکھ تو عنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی  ہے

دعاؤں کا طلب گار
غزوۃ الہند میں شریک آپ کا مجاہد بھائی
عرفان بلوچ


1 تبصرے:

Anonymous said...

یقینا یہ صورت حال حو صلہ افزا ہے،اسمیں کوئی شک نہیں مجاہدین فوج پر تو ہر گز اعتماد نہیں کرتے ،لیکن بہر حال یہ خبرین ہر لہاظ سے اچھی ہیں،اور دین کے نام پر فوج کی تقسیم کا بہرحال فائدہ طالبان و القاعدہ ہی کو ہوگا،فوج کو درپیش یہ وہ چیلنج ہے جسے خاصے عرصے تک کامیابی سے چھپانے کی کوشش کی گئی ،لیکن یہ راز فوج باامر مجبوری افشاء کر رہی ہے،فوج میں پیدا ہو نے والی یہ تقسیم سیکیولر ادارے کو طور پر ترویج پانے والے تمام اداروں کے لئے بھیانک پیغام لارہی ہے،میرا نہیں خیال کہ فوج اس اندرونی ضرب کو برداشت کر سکے گی،وزریستان وغیرہ میں لڑنے والے انکے کاکے سپاھی تک اس جنگ میں کنفیوژڈ ہیں تو باقیوں کا کیا حال ہوگا،القاعدہ کی بڑی کامیابی یہ ہے پاکستانی عوام اس جنگ کو آج بھی اپنی جنگ نہیں سمجھتے ،یہی وہ نقطہ ہے جسے طالبان و القاعدہ کو پیش نظر رکھنا ہو گا،،اسمیں ہم دینی جماعتوں کی کمزوریوں کے باوجود اس بات پر انکی تحسین کریں جنہوں نے اس جنگ کو کبھی پاکستان کی جنگ نہیں کہا،یہ اور بات ہے کہ وہ القاعدہ سے بحِ مکمل طور پر ہم آھنگی نہیں رکھتے

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ