Subscribe:

Monday, June 27, 2011

ایک مجاہد ساتھی کی شکایات




 خاتون  کی ویڈیوز کی گنجائش اور انفرادی جنگ کی حکمت عملی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے بلاگ میں دو چیزیں کھٹکی تو سوچا کہ آپ کو توجہ دلا دی جائے ایک تو یہ کہ آپ نے دو تین مرتبہ اس بات کی تکرار کی کہ ہمارے ہاں بھی انفرادی جہاد کے منہج کو عام ہونا چاہیے اس کے لیے آپ نے شیخ ابو مصعب سوری اور انسپائر کے حوالے سے بات کی اور ایک بہت ہی خطرناک بات بھی لکھی کہ بعض اوقات کئی سال رباط کی سرزمین پر گذارنے کے باوجود بھی وہ کسی ایک معرکے میں بھی حصہ نہیں لے پاتا ۔ بھئی حقیقت یہ ہے کہ محمود طریقہ تو یہی ہے کہ تمام مجاہدین ایک ہی نظم میں منسلک ہو کر کام کریں لیکن آج کے حالات میں طاغوت کی گرفت کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں لیکن انسپائر اور شیخ سوری والی حکمت عملی مغربی ممالک کے لیے ہے کہ وہاں مجموعات کی ترتیب بنانا اور انہیں محفوظ رکھ کر چلانا عملا ممکن نہیں لیکن ہمارے ہاں تو خطہ خراسان میں الحمدللہ جہادی مجموعات کا باقاعدہ سلسلہ موجود ہے اس لیے ہمارے ہاں مجاہدین کے امرا یہی تقاضا کرتے ہیں کہ جس نے جہاد سے وابستہ ہونا ہے وہ ان مجموعات میں سے کسی کے ساتھ وابستہ ہو اور باقاعدہ امیر کی تشکیل پر کوئی کام کرے اسی میں برکت ہے اور اسی میں خیر ہے ۔ اگر آپ کو اس حکمت عملی سے اتفاق نہیں تو نظم جہاد سے بالمشافہ مل کر اپنے اشکال دور کرلیں لیکن یہ تو کسی طور بھی درست اور صحیح نہیں کہ آپ اپنے طور پر ہی جہاد کی حکمت عملی وضع کر کے اس کا پرچار شروع کر دیں ۔
دوسری بات عورت کی آواز والے مسئلے پر آپ کا جواب ہے اور آخر میں یہ کہنا کہ ۔۔۔۔ ہم اس کی گنجائش نکالتے ہیں ۔۔۔ مجاہدین کی قیادت اس بات پر مکمل یک سو ہے کہ شرعی مسائل کے بارے میں علمائے حق ہی سے رجوع کیا جائے گا اور ان ہی کے فتویٰ پر عمل ہوگا خود سے  اجتہادی منہج کو اختیار کرنا اور اسے رواج دینا مناسب طریقہ نہیں اگر آپ شرعی مسائل کا حل بھی چاہتے ہیں تو اس کے لیے موزوں یہ ہے کہ آپ نیچے یا اوپر علماء تک یہ سوالات پہنچائیں اور جو جواب وہ دیں ان کو آپ نشر کر دیں اگر آپ خود سے شرعی مسائل کو بھی حل کرنا شروع کر دیں گے تو اس کے نتیجے میں جو مسائل پیدا ہوں گے ان کو حل کرنا کسی کے بھی بس میں نہیں ہوگا ۔
یہ احساسات اس غرض سے پیش کیے گئے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو توجہ نہیں دلائیں گے تو اور کون توجہ دلائے گا اور ہم آپس میں ایک دوسرے کی غلطیوں پر متوجہ نہ ہوں گے تو اور کون ہوگا ؟؟؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عورت کی آواز والے مسئلے میں آخر میں ۔۔۔   ہم گنجائش نکالتے ہیں   ۔۔۔  کے الفاظ سے اگر کوئی یہ مطلب لیتا ہے کہ یہاں ہم سے مراد عرفان بلوچ یا غزوۃ الہند کی ٹیم ہے تو یہ  طرز عمل درست  نہیں  ہے  ۔۔۔ اسی تحریر میں ابتدا ہی میں وضاحت کر دی گئی تھی کہ یہاں جو کچھ بھی کہا جائے گا وہ خاکسار کی رائے ہر گز نہ سمجھی جائے ۔۔۔۔ پھر کیا اس بات کو بار بار دہرانے کی ضرورت رہ جاتی ہے ۔۔۔ آخر یہاں ہم سے مراد مجموعی طور پر مجاہدین کی قیادت اور علماء کو کیوں نہ سمجھا گیا ۔۔۔۔ ہاں حوالہ نہ دینے کی بات سمجھ میں آسکتی ہے ۔۔۔ لیکن اس کی ضرورت اس لیے محسوس نہ کی تھی کہ مجاہدین کے معروف میڈیا ڈپارٹمنٹس سے اب تک کئی ایسی ویڈیوز نشر ہوچکی ہیں جن میں عورتوں کی آواز اور ویڈیوز پر مشتمل قلیل دورانیہ کے کلپس موجود ہیں۔۔۔  بلکہ یہاں یہ وضاحت کی ہی اس لیے گئی تھی کہ سائل ان کی روشنی میں یہ سوال اٹھا سکتا ہے  کہ جب آپ لوگ عورت کی ویڈیوز کے خلاف ہیں تو پھر آپ کی اپنی  ویڈیوز میں ایسے کلپس کیوں شامل کیے گئے ہیں۔۔۔
اب ایک سوال میں بھی آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ مجاہدین کے علماء عورت کی ویڈیوز کے قطعا خلاف ہیں خواہ کسی جہادی مقصد سے ہی کیوں نہ ہو اور آج تک کبھی مجاہدین کے علماء نے ایسی کوئی گنجائش نہیں نکالی اگر ایسا ہے تو پھر  آپ مجاہدین کے معروف میڈیا سیل جیسے السحاب میڈیا ، الفرقان میڈیا ، الملاحم میڈیا اور قوقاز میڈیا سینٹر کو کتنا غیر ذمہ دار سمجھتے ہیں خصوصا السحاب کے بارے میں کیا آپ یہ تصوررکھتے ہیں کہ وہ قیادت سے پوچھے بغیر یا علماء سے دریافت کیے بغیر ایسی ویڈیوز جاری کر سکتے ہیں ۔۔۔ کم از کم میں تو السحاب کو اتنا غیر ذمہ دار نہیں سمجھتا ۔۔۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ بھی نہیں سمجھتے ہوں گے ۔۔۔ دراصل  میں آپ کی وہ کھٹک دور کرنے کی کوشش کر رہاہوں جو آپ کو میرے الفاظ سے میرے متعلق لاحق ہوئی تھی ۔۔۔
میں واضح کردوں کہ میں ان ویڈیوز کی بابت گفتگو نہیں کر رہا جو قوقاز میڈیا سینٹر سے جاری ہوئیں اور جن ویڈیوز میں ہماری شیشانی  بہنوں کو کلاشن کوف لہراتے اور تربیت لیتے دکھایا گیا ہے ان پر ذمہ داران کی جانب سے تشویش کی اطلاعات ہیں کیونکہ بعض شیشانی فدائی بہنوں کی  نقاب کے بغیر بھی ویڈیوز بنائی گئیں ہیں ، لیکن السحاب یا الفرقان کی ویڈیوز کے بارے میں تو ایسا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ شیوخ کی رائے جانے بغیر کلپس شامل کیے گئے ہیں ۔

اب میں دوسرے مسئلے کی طرف آتا ہوں اور وہ ہے ہمارا انفرادی جہاد کی حکمت عملی پر زور دینا  اور آپ کا اس کے متعلق تشویش میں مبتلا ہونا ۔۔۔ لیکن  یہ بات  اتنی آسانی سے سمجھ میں آنے والی نہیں ہے ۔ اس کی وضاحت کے لیے کتاب جتنی ضخامت درکار ہے ، اور یہاں اس کی گنجائش نہیں ہے  اس لیے مختصر وضاحت کر دیتا ہوں۔
آپ نے کہا ہے کہ میں نے ایک خطرناک بات لکھی ہے ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک میں نے بہت سے ان حقائق کو بیان ہی نہیں کیا جو اس سے زیادہ خطرناک ہیں ، کیوں کہ ان حقائق کو بیان کرنے میں مجاہدین کا نقصان ہے اور دشمن کا فائدہ  ۔۔۔  لیکن وہ ایسے حقائق ہیں جنہیں جانے بغیر یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ انفرادی جنگ کی حکمت عملی اختیار کرنا کیوں ناگزیر ہے ۔۔۔

آپ نے کہا ہے کہ محمود طریقہ یہی ہے کہ تمام مجاہدین ایک ہی نظم میں منسلک ہو کر کام کریں ، اس سے انکار ممکن نہیں ہے ، اور انشاء اللہ کتاب میں یہ وضاحت آجائے گی کہ نظم سے منسلک رہ کر بھی انفرادی جنگ اختیار کی جاسکتی ہے ، بعض ساتھیوں کی ای میل سے مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ انفرادی جہاد سے بعض ساتھیوں کا ذہن اس غلط فہمی کی طرف جارہا ہے کہ گویا میں انہیں نظم میں منسلک ہونے سے انکاری ہوں ، جب کہ یہ حقیقت نہیں ہے  ۔

آپ نے کہا ہے کہ شیخ ابو مصعب سوری والی حکمت عملی مغربی ممالک کے لیے مخصوص ہے ، اگر  آپ یہ بات شیخ سوری کی طرف منسوب کرکے کہہ رہے تو آپ نے ان کی طرف غلط بات منسوب کی ہے ۔ اور اگر اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں تو یہ بات درست نہیں ۔ میں  شیخ ابو مصعب سوری (اللہ انہیں قید سے رہائی دلائے ) کے عسکری نظریات کا قاری ہوں ، جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے یہ بات نہیں کی کہ  انفرادی جہاد صرف مغربی ممالک میں اختیار کیا جائے گا ۔شیخ سوری کا انفرادی جہاد کا نظریہ یہ ہے کہ :
"جہاں بھی فریقین کے درمیان طاقت کا غیر معمولی عدم توازن ہوگا وہاں کھلے محاذ میں جنگ کرنا مجاہدین کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگا اور ایسی صورت میں انفرادی جنگ کی حکمت عملی بہترین حکمت عملی تصور  ہوگی " یہاں وہ یہ قید نہیں لگاتے کہ یہ حکمت عملی صرف مغرب تک محدود ہے  ۔۔۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میراجدید عسکریات اور خصوصا مجاہدین کی جنگی حکمت عملی میں سالوں  کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ طاقت کے غیر معمولی عدم توازن کے باوجود جہاں بھی مجاہدین نے کھلے محاذ کی حکمت عملی کو اختیار کیا ہے وہاں انہیں غیر معمولی اور ناقابل تلافی  نقصان پہنچا ہے ۔ (اور ذہن میں رہے کہ وہ یہ بات ۲۰۰۵ سے پہلے کہہ چکے ہیں ) اور اس کے بعداب  پاکستان کی جنگ میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے ۔۔۔ اور یہاں میں کچھ حقائق پیش کر سکتا تھا لیکن مجاہدین کی خیر خواہی میں انہیں حذف کر رہا ہوں ۔
میں نے یہاں شیخ سوری کے بعینہ وہی الفاظ نہیں پیش کیےہیں  بلکہ ان کے عسکری نظریات کی تفہیم بیان کی ہے ۔

اب مختصراً  وہ نکات پیش کردوں جو انفرادی جنگ کا اصل موضوع ہیں، ساتھ ہی وہ وضاحت بھی آجائے گی  جس  کی وجہ سے پاکستان کی جنگ میں اسے اختیار کرنا ضروری ہوگیا ہے :

فطری زندگی گزارنے کا موقعہ برقرار رہے
سب سے پہلا اصول اس کا یہ ہے  ایک مجاہد اپنے گھر پر فطری زندگی گزارنے کا موقعہ برقرار رکھ سکے ۔ اور آج کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ وزیرستان جانے والے مجاہدین فطری زندگی گزارنے کا یہ موقعہ کھو چکے ہوتے ہیں الا ماشاء اللہ ۔۔۔ میرا علم محدود ہے لیکن جہاں تک میں ساتھیوں اور حالات سے واقف ہوں وزیرستان جانے والے تقریباً تمام ساتھی اس وقت خفیہ ایجنسیوں کی لسٹ میں موجود ہیں ۔۔۔۔ جب کہ  شہری گوریلا جنگ کے اندر فطری انداز سے گھر میں زندگی گزارنا بہترین حکمت عملی ہوتی ہے ۔۔۔لہٰذا  اس وقت مجاہدین کے لیے یہ  اہم ترین مسئلہ اور وقت کی بڑی ضرورت ہے کیوں کہ ایک مرتبہ یہ موقعہ کھو جائے تو پلٹ کر نہیں آتا ۔۔۔  پاکستان کی جنگ میں شہری گوریلا جنگ کی اہمیت اگر ابھی تک آپ کو واضح نہیں ہوئی تو جلد ہی  خود بخود واضح ہوجائے گی ۔۔۔

دیگر مجاہد ساتھیوں سے فاصلہ ضروری ہے
کیوں کہ شہری جنگ کے لیے کوئی حکمت عملی وضع ہی نہیں کی گئی تھی اس لیے شہروں میں مقیم اکثر  مجاہد ساتھی ایک دوسرے سے  فاصلوں پر رہنے کے بجائے بلا روک ٹوک  ملاقاتیں کرتے رہے ۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ آج پاکستان کی جیلیں ہمارے قیدی ساتھیوں سے بھری ہوئی ہیں کیوں کہ جب بھی اتفاق سے کوئی ایک مجاہد ساتھی گرفتار ہوتا ہے اس کے پیچھے گرفتاریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ انفرادی جنگ کے اندر  دیگر مجاہد ساتھیوں سے غیر ضروری رابطوں سے گریزایک  لازمی عنصر ہے ۔۔۔
میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس وقت پاکستان کی جیلوں میں کتنے مجاہدین قید ہیں ، اور ان میں سے کتنی تعداد ایسی ہے جو زنجیر کی کڑیوں کی صورت میں گرفتار ہوئے ہیں ۔

دشمن اپنے  عددی نقصان سے بے پرواہ ہے
پاکستان کے محاذ میں انفرادی جنگ کے برعکس کھلے محاذ کی جنگ اختیار کرنے سے اب تک جو نقصانات سامنے آچکے ہیں اس کا اعتراف نہ بھی کیا جائے تو احساس دلوں میں پیدا ہو رہا ہے ۔ میں ان نقصانات کا ذکر ابھی نہیں  کروں گا ، لیکن جہاں تک فائدوں کی بات ہے وہ کبھی نہیں سمیٹے جاسکتے ۔ کیوں کہ دشمن کے لیے عددی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔۔۔ ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔۔ وزیرستان میں جنگ کے دوران پانچ سو سپاہیوں کو مارنے سے بہتر ہے کہ کینٹ ایریا  میں موجود پانچ آن ڈیوٹی آفیسر ز کو قتل کر دیا جائے ۔۔۔۔  اگر یہ مثال کافی نہیں تو اور بہت سی مثالیں پیش کرسکتا ہوں ۔۔۔۔ لیکن طوالت کا خطرہ ہے ۔۔۔ یوں سمجھ لیں کہ اگلے دس ، پندرہ سال بھی آپ وزیرستان میں جنگ کرتے رہیں تو پاکستان کو فتح نہیں کرسکتے ۔۔۔ چاہے اس دوران بیسیوں ہزار سپاہی و آفیسر کو قتل کر دیا جائے ۔۔۔  کیوں کہ فوج میں بھرتیوں اور نئے تقررات کا سلسلہ تو پھر بھی جاری رہے گا ، اسی طرح دفاعی بجٹ بھی بڑھتا رہے گا ، قوم تو پستی رہے گی لیکن جنگ کی طوالت سے فوج کو کوئی فرق واقع نہیں ہو سکے گا ۔پہاڑوں کی جنگ سے زیادہ اہم شہروں کی جنگ ہے ، اور شہروں میں کھلے محاذ کی جنگ کرنا فی الحال مجاہدین کے لیے ممکن نہیں ۔
آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ وزیرستان میں ایک سال میں مرنے والے آفیسر اور سپاہیوں کی تعداد اگر پانچ ہزار بھی تصور کر لی جائے تو اس کا اتنا اثر نہیں ہوا جتنا ایک جی ایچ کیو کارروائی یا پی این ایس مہران جیسی کارروائیوں کا اثر ہے ۔۔۔۔  اس نوعیت کی کارروائیاں طاغوت پر بجلی بن کر گرتی ہیں ۔۔۔۔ تمام سیکیورٹی اداروں پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔۔۔ اور دور رس اور گہرے اثرات پیدا کرتی ہیں ۔۔۔۔

معرکوں میں شرکت سے محرومی
وزیرستان میں مقیم مجاہدین کا معرکوں میں شرکت سے محروم ہونا خود بخود اس بات کی دلیل بن جاتا ہے کہ پاکستان کے  جہاد میں شرکت کے اعتبار سے زیادہ مفید بات یہی تھی کہ مجاہدین شہروں میں مقیم ہوتے ۔۔۔۔ آپ کا کہنا ہے کہ یہ میں نے خطرناک بات کہی ہے ، لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے ، اور کیا آپ اس حقیقت کو مانتے ہیں یا اس کا انکار کرتے ہیں ۔۔۔
یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ وزیرستان  میں مقیم پاکستانی مجاہدین کی اکثریت معرکوں میں حصہ لینے سے محروم ہے ۔ معرکوں میں شرکت کے خواہش مند ان مجاہدین کی بے تابیاں جب بہت بڑھنے لگتی ہیں تو ان کی تشکیل افغانستان کے معرکوں کی جانب کی جاتی ہے ۔ اور یہ آرزو بھی بہت سوں کی پوری نہیں ہو پاتی کیونکہ تشکیل تو ایک محدود تعداد کی ہی ممکن ہے اور کتنے ہی ساتھی ایسے ہیں جنہیں  کئی کئی ماہ یا سالوں کے بعد ایک بار یہ موقع ملتا ہے ۔ اور اب تو ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ بعض اوقات عین روانگی کے وقت افغانستان کے طالبان یہ کہہ کر تشکیل روک دیتے ہیں کہ براہ مہربانی اس وقت مزید مجاہدین نہ بھیجیں یہاں کے لیے کافی ہیں  ۔ ظاہر ہے انہیں افغانستان میں مجاہدین کو ٹھہرانے اور ان کے لیے سیکیورٹی کا انتظام کروانے اور دیگر بندوبست کے لیے بھی وسائل درکار ہوتے ہیں ۔
فرض کریں کہ وزیرستان میں ایک سال سے مقیم ایک ہزار مجاہدین اپنے گھروں میں فطری زندگی گزار رہے ہوتے اور ہر سال ایک مجاہد نے اوسطاً صرف ایک مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا ہوتا تو ، محض ایک سال میں ہم ایک ہزار مجرمین کا صفایا کر چکے ہوتے ۔۔۔ اور یہاں یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ یہ مجرم  وزیرستان میں مرنے والے ان  سپاہیوں کی طرح نہ ہوتے جو فوج کے لیے کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ۔۔۔

قیدی بھائیوں کے بارے میں غفلت
اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر دل اتنا دکھی ہے کہ میں کچھ بھی نہیں کہنا چاہوں گا  ۔۔۔ غور تو کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مجاہد ساتھی افغانستان میں معرکوں کے خواہش مند ہیں اور پاکستان کے اندر جیلوں میں قید ساتھیوں سے بے پرواہ ہیں ۔۔۔

اور بہت سی باتیں ہیں ، لیکن جیسا کہ پہلے کہہ چکا ہوں کو اس حکمت عملی کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک کتاب کی ضرورت ہے ۔اس لیے فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں ۔۔۔
آپ کا یہ کہنا کہ اشکال ہے تو مجاہدین کے نظم سے ملاقات کرکے اسے دور کرلوں ۔۔۔ تو عرض کروں گا جہاں تک میری پہنچ تھی وہاں تک رسائی کرنے پر معلوم ہوا کہ اکثر ذمہ داران بھی اسی نہج پر سوچتے ہیں ۔۔۔۔ یعنی اسے محض میری فکر نہ سمجھا جائے بلکہ یہ  ہمارے عسکری کماندانوں کے دلوں کی آواز ہے

آخر میں یہ بھی عرض کروں گا مجھے اشکال کوئی نہیں مجھے تو اس پر شرح صدر ہے ۔۔۔ اور میں جو کچھ کہتا ہوں مجاہدین امت کی خیر خواہی میں کہتا ہوں ۔۔۔۔ بلکہ امانت کا حق یہی ہے کہ جس چیز میں کسی مسلمان کے لیے خیر دیکھوں وہی بات کہوں اور اسے چھپا کر نہ رکھوں ۔۔۔ اگر ایسا نہیں کروں گا تو  ان لوگوں میں شمار ہوں گا جو امانت ادا نہیں کرتے ۔۔۔۔ اس لیے مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے نزدیک مجرم نہ ٹھہرا دیا جاؤں ۔۔۔۔  ویسے بھی میرے   یہ مجاہد ساتھی تو مجھے ساری امت میں سب سےزیادہ  محبوب ہیں ۔۔۔۔

والسلام
عرفان بلوچ



 




:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
غزوۃ الہند میں شریک آپ کا مجاہد بھائی
عرفان بلوچ

7 تبصرے:

Anonymous said...

SUBHANALLAH......BAAT KHOUL KHOUL KEY BAYAN KER DI BAHI AAP NEY....

Anonymous said...

عرفان بھائی اللہ آپ کو بہت جزا دے آپ نے بہت سی گرہیں کھول دیں
لیکن کچھ سوالات ہیں مثلا شہروں میں تربیت کیسے دی جاسکتی ہے اس کے لیے کیا پہاڑوں پر نہیں جانا ہوگا

فائز

ghazi said...

MASHALLAH BHAI.................ap ne buht acha likha he.....or bhai k liye jinho ne ye itraz kia he infiradi jihad wal.......bhai pak me punjabhi majomoaat ki tarteeb ye hi he aik nazam k teht lakin qital infradi

Tausif Hindustani said...

baat bilkul wazeh hai , baseerat walon ko sab dikhta hai , jazakAllah khaira irfaan bro. ,

ghazi said...

ASSALAm O ALIKUM WR WB......
faiz shehro me trbibyat dena aik buht hasas kaam zaror he lakin ALHAMDOLILLAH yha kam ho rha he...or bhai trbiyet b le rhe he...or rhi baat ye k trbiyet me fire b krte hain to ye pakistan ki had tk koi masla nhi he... yha shadio pr firing hodi he,shab e barat mnai jati he , eid pr firing hoti he , etc or trining me roz fire nhi krne hote balke tasisi dora jat me aik hi din rimaia hota he agr bhai is tra trteeb bnain k us din jb un ki tadreeb ka akhri din ho wo koi esa din ho jo maqbol e aam ho us me ilaqe ko b dekha ja skta he k wha koi lok mela hone wala ho to ap chahe r.p.g b chalain koi nhi aae ga...or ALHAMDOLILLAH kuch bhai is tra se shehri ilaqo me tadreeb kr b chuke hain


GHAZI

Anonymous said...

mashaAllah boht khoob..Allah taala ap logon ko apnay naik maqasid ma saabit qadmi o ftaeh naseeb farmaye ...amin bhai nwaiafghan ak boht acha magzine hay uski ashaat jari rehni chaheye,june ka shumara na anay ki kia wja hay?

Anonymous said...

Mashallah bhai jan bohot khoob or bohot hi acha likha hain Allah apko mazeed taraqqi day or Allah apko deen ki hifazat karnay wala banaye

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ