Subscribe:

Monday, June 13, 2011

مجرمین کی نشاندہی : ہمارے پسندیدہ اہداف



مجرمین کی نشاندہی  : تیسرا حصہ

۱۔ میڈیا 
۲۔ سیکیورٹی فورسز 
۳۔ حکومتی ادارے اور افراد
۴۔ غیر حکومتی ادارے ، جیسے سیاسی تنظیمیں اور این جی اوز وغیرہ

۱۔ میڈیا 
معرکہ کفر و اسلام اور موجودہ صلیبی جنگ میں اس دجالی مہم  کی کیا اہمیت ہے اس کی تفصیل میں جانے کی ہم کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔دجال بازی کے اداروں کو ضرب لگانا اس وقت ہماری حکمت عملی کے خلاف ہوگا اور ان سے اعراض کرنے کے لیے مرکز سے ہدایات ہیں ، لہٰذا ہم میڈیا کے اداروں کے بجائے افراد کو ہدف بنانا پسند کریں گے ۔

ایسے سیکولر افراد جو اپنے قلم یا دیگر صلاحتیوں سے جہاد اور مجاہدین کے خلاف پروپگینڈے میں مصروف ہیں
ذہن میں مستحضر رہے کہ کچھ صحافی ایسے بھی ہیں جو حکومت اورسیکیورٹی فورسز  کے ظلم و جبر  کے خوف سے کھل کر مجاہدین کی حمایت نہیں کر سکتے اور بعض اوقات اپنے قلم یا زبان سے ایسی بات کہہ جاتے ہیں ، جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے کہ یہ لوگ مجاہدین یا جہاد کے خلاف ہیں ۔۔۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اس لیے احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ان صحافیوں یا صحافتی حلقوں کو مجرمین سے علیحدہ رکھیں ، جو کسی حد تک مذہبی اور دینی سوچ کے حامل ہیں ۔۔۔ ممکن ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کی طرح وہ بھی محض پراپگینڈا کا شکار ہوں ، بشرطیکہ  اس جھوٹ کو پھیلانے میں ان کی مستعدی اس حد تک نہ پہنچی ہوئی ہو  ۔

یہ جاننے کے لیے کون اس جرم میں کتنا شریک ہے ، اس کا اندازہ ان کے قلم اور زبان کے زہریلے پن سے باآسانی  لگایا جاسکتا ہے ۔
چنانچہ وہ صحافی یا صحافتی حلقے جو شب و روز  نام نہاد دہشت گردی کا راگ الاپتے  نہیں تھکتے اور امت مسلمہ کو اپنے محسنین سے بدظن کرکے مزید گمراہیوں کی طرف دھکیلتے ہیں
دین اسلام اور اس کے سچے پیروکاروں سے شدید بغض جن کے گفتار و کردار میں ہمیشہ نمایاں رہتا ہے
جو جہاد اور مجاہدین ہی نہیں، بلکہ شریعت مطہرہ کے خلاف  بھی دشمنی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے
اس مبارک جہاد کے متعلق جھوٹے اور بے سروپا الزامات کی بوچھاڑ سے جن کے دہانوں سے ہر وقت جھاگ نکلتا رہتا ہے  ، اور جن سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ   :::: قل موتو ابغیضکم   :::  ان سے کہو!!!  اپنے غصے میں آپ ہی جل مرو   ۔۔۔

۲۔ سیکیورٹی فورسز
 
اولین ترجیح  ::::::  تمام خفیہ اداروں کے افراد
 بلاتفریق ۔۔۔ رنگ و نسل و مذہب و عقیدہ  ۔۔۔۔
بلا تفریق ۔۔۔۔ اعلیٰ و ادنیٰ ۔۔۔ اہلکار و افسران ۔۔۔۔
خفیہ ادارے کون کون سے ہیں
آئی ایس آئی  ، ایم آئی  ، نیول انٹیلی جنس ، ائر فورس انٹیلی جنس ،  سی آئی ڈی ، رینجرز انٹیلی جنس ، ایس آئی یو (پولیس ) ، ایف آئی اے

پاکستان آرمی:  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  انٹیلی جنس  اداروں کے بعد ترجیح اول
کاکول اکیڈمی میں زیر تربیت جانور ۔۔۔ بلا تفریق ۔۔۔ رنگ و نسل و مذہب و عقیدہ ۔۔۔ سب سے پہلے  
آرمی کے میجر یا اس سے اعلیٰ رینک کے تمام افسران
ترجیحاً   :::       سیکولر ذہن رکھنے والے لادین اور مذہب بیزار  افسران
اس کے بعد ترجیحاً    :::   رافضی  افسران ، کیونکہ یہ شریعت کی راہ میں ہمیشہ بنیادی رکاوٹ بنے رہیں گے
ترجیحاً  :::   اعلیٰ یا اہم مناصب پر فائز افسران
پاکستان ائر فورس :::
رسال پور اکیڈمی میں زیر تربیت جانور  ۔۔۔ ۔۔۔ بلا تفریق ۔۔۔ رنگ و نسل و مذہب و عقیدہ ۔۔۔ سب سے پہلے  
ترجیحا  فائٹر پائلٹس ۔۔۔ بلا تفریق ۔۔۔ رنگ و نسل و مذہب و عقیدہ ۔۔۔اکیڈمی میں زیر تربیت افراد کے بعد
اس کے بعد ترجیحا ً     :::     سیکولر ذہن رکھنے والے لادین اور مذہب بیزار  افسران۔۔۔۔ترجیحاً  میجر کے برابر یا اعلیٰ رینک
اس کے بعد ترجیحاً    :::   رافضی  افسران ، کیونکہ یہ شریعت کی راہ میں ہمیشہ بنیادی رکاوٹ بنے رہیں گے
پاکستان نیوی   :::::
نیول اکیڈمی میں زیر تربیت جانور  ۔۔۔۔۔۔ بلا تفریق ۔۔۔ رنگ و نسل و مذہب و عقیدہ ۔۔۔ سب سے پہلے  
اس کے بعد ترجیحا ً    :::   سیکولر ذہن رکھنے والے لادین اور مذہب بیزار  افسران۔۔۔۔ ترجیحا میجر کے برابر یا اعلیٰ رینک
اس کے بعد ترجیحاً    :::   رافضی  افسران ، کیونکہ یہ شریعت کی راہ میں ہمیشہ بنیادی رکاوٹ بنے رہیں گے

ائر پورٹ سیکیورٹی فورس اور دیگر جیسے ایف سی ، کھاتہ دار اسی ترجیح کے ساتھ  

قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے : جیسے پولیس ، رینجرز ، وغیرہ ۔۔۔
ان میں بھی انہی اصولوں کو پیش نظر رکھا جاسکتا ہے
بھرتی مراکز ، اور تازہ بھرتی ہونے والے زیر تربیت افراد  ۔۔۔ سب سے پہلے  
اس کے بعد افسران   اور اہلکار ۔۔۔۔ بلا تفریق ۔۔۔ رنگ و نسل و مذہب و عقیدہ
یہاں آرمی والا اصول نہیں ہوگا ۔۔۔۔یعنی  پولیس کا اہلکار آرمی کے اہلکار سے زیادہ بڑا مجرم ہے اس لیے وہ بھی بلا تفریق  نسل و عقیدہ ۔ جب کہ آرمی میں ہم افسران کو ہدف بنانےکو ترجیح دیں گے ۔۔۔ اہلکاروں سے اعراض کریں گے ۔۔۔۔

۳۔ حکومتی ادارے اور افراد

ایک وسیع تر معاشرے کے قیام کے لیے بہت سے ایسے ادارے بھی حکومت کے تحت  آتے ہیں جن کا ریاستی کردار اتنا اہم نہیں ہوتا اس لیے ہم حکومت کو ہدف بناتے وقت ایسے اداروں اور افراد سے اعراض کریں گے مثال کے طور پر تعلیم یا  صحت کے شعبے وغیرہ ۔۔۔۔ لہٰذا یہ یا اس نوعیت کے دیگر شعبوں سے متعلق افراد یا اداروں کو ہم ہدف نہیں بنائیں گے۔۔۔ البتہ تعلیم کے شعبے کی دوسری اہمیت اتنی ہے کہ ہم بعض لبرل فاشسٹ افراد کو  جو تعلیمی پالیسیاں بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس سے مستثنیٰ کرسکتے ہیں

یہاں یہ اصول پیش نظر رہے کہ ہم حکومت کے صرف ان افراد اور اداروں کو ہدف بناسکتے ہیں جن کا ریاست کے استحکام میں براہ راست اہم کردار ہوتا ہے ۔ مثلاً
صدارتی عہدے ، وزارتیں  ،پارلیمنٹ ، عدلیہ اور دیگر قانون ساز ادارے  ، وغیرہ ۔۔۔ لیکن معاملات کی نوعیت سنگین ہونے کی وجہ سے بعض ایسے اداروں میں بھی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ہم  مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے ۔ 
لہٰذا یہاں بھی سابقہ اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے لبرل ، سیکولر ، لادین ، قوم پرست ، لسانیت پرست ، بددیانت ،  طبقہ ہمارا اول ہدف ہونا چاہیے ۔ خاص طور پر وہ افراد جن کے خلاف نفرت یہاں کے مخلص مسلمانوں کے اندر پہلے ہی موجود ہے ۔اس اصول پر عمل کرنے کے کئی دیگر  فائدے بھی حاصل ہوں گے ، جنہیں اس وقت  یہاں بیان کرنا دانش مندی نہیں ہے ۔۔۔
یہاں احتیاطاً ہم یہ بات دہراتے ہیں کہ آخری رائے بہر حال ہمارے علماء کی ہونی چاہیے ، جو مجاہدین کے عسکری کمانڈروں کے مشوروں اور تجاویز کو سامنے رکھ کر انہیں شرعی فتاویٰ جاری کریں گے ۔

۴۔ غیر حکومتی ادارے ، جیسے سیاسی تنظیمیں اور این جی اوز وغیرہ

اس میں وہ قوم پرست اور لسانی سیاسی تنظیمیں خاص طور پر  شامل ہیں جن کی بنیاد ہی اسلام دشمنی اور شریعت سے بغض و عداوت پر مبنی ہے ۔

یا اللہ ہماری نیتیں خالص کر لیں ، ہمارے گناہ بخش دیں ، ہم سے راضی ہوجائیں ، ہماری نصرت فرمائیں ، اور ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں فتح اور غلبہ عطا فرمائیں ، ہمیں اپنے راستے میں شہادت کے لیے قبول فرما لیں ، اور ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کے عیش کدوں میں داخل فرما لیں ۔

آپ کی دعاؤں کے طلب گار

غزوۃ الہند بلاگ ٹیم

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون 

4 تبصرے:

Anonymous said...

جزاک اللہ خیرا کثیرا

ابو عبد اللہ

Anonymous said...

mery khyal man tarjeehat ko thora sa tabdeel kran. Sb se pehla targhet wo log hony chaheyn jo Shareyat ki elania mukhalift krty aur Islami ahkamat ka mzaq urraty han, aesy log chon k murtad han is leya sb se pehla target ye hona chaheya. MQM, muslim league Q, peoples party(ppp), ANP bila tafreeq iski ziada haqdar han. yehi log han jo kufria jamhori nizam ko support krty han aur Islam k nifaz man sb se bri rukawat han. in logon k beyanat akhbarat man mojod han jin man inhon ne kufr baka hoa ha, in man pichli hukomat k murtad waziron ko marna baht asan ha.e.g pervez elahi, sheikh rasheed, aftab sherpao, DR sher afgan, Babar Awan, faisal saleh hayat,Srdare latif khosa, firdous Ashiq awan, Ahmad mukhtar, nazar gondal, farzana raja, Qamar zaman kaira, pichli aur mojoda hukomat k aham arkan bila tafreeq, Muslim league N k Ayaz Ameer(ye column bi likhta ha aur jihad k khlaf bakta rehta ha),
Is k bad media k wo log jo sar e aam jihad aur mujahideen k khlaf maghrib ki zuban bolty han e.g. nazir naji, saleem safi, Ayaz Ameer,
police walon man koshish ki jay k jo awam ko ziada tang krta ho, ziadtian krta ho, shia ho,
Darbaron k gaddi nasheenon ko, ye log 1 taraf shirk phelaty han aur dosri taraf kufria nizam k leya vote la kr dety han aur logon ko ghulam bnaty han.
srkari edarn man bi koshish ki jay k begunah ko na mara jay blka zalim shakhs aur bdmoash ko mara jay.
Note: pori koshish ki jay k begunah k khon se hath na rangy jaen is tarah se jihad fsad bn jay ga. sb se ziada zor siasatdanon ko khtam krny pr lagaya jay, jahan bi kufria nizam k supporter han un k khatmy ki koshish jki jay

Anonymous said...

AS Salam O Alaikum Wa Rahmat Ullah, bhai jan hr sorat man ye koshish ki jay k kisi be gunah k khon se hath na rangy jaen, bachon borrhon aur aurton ki hifazat ki jay jesa k Islam ne hman sikhaya ha. murtadeen, munafiqeen , hukmran tabqa pr ziada focus kia jay khrabi ki jarr yehi log han aur hman jarr katny pr twajo deni chaheya././

Anonymous said...

تم بھارت کے ایجنٹ کیا فتنہ پھیلا رہے ہو.کیا تم لوگوں کو اتنی ہی عقل ہے.تم کیا پاکستان کو بھارت جیسے کتے کے سامنے ذلیل کرنا چاہتے ہو.کیا تمھارے علم میں ہے کے بھارت میں پاکستان سے زیادہ مسلم ہیں.اور کبھی ان سے ان کے ملک کے بارے میں ایسی بات سنی.کیا بھارت میں رہنے والے مسلم پے یہ سب باتیں لاگو نہیں ہوتی .افسوس کے تمھارے جسے ملت فروش صرف پاکستان میں ہیں.الله تم سب لوگوں کو صراط مستقیم پے چلنا نصیب فرماتے. آمین. میرا تبصرہ لازمی شامل کرنا اگر تم میں حق بات سننے کی طاقت ہے.

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ