Subscribe:

Thursday, June 2, 2011

شیخ ابو مصعب سوری کے سنہری الفاظ

موجودہ زمانے میں خصوصاً پاکستان میں جہاد میں شرکت کا ایک احسن طریقہ انفرادی جہاد کا راستہ بھی ہے ۔ جس کی اہمیت کو اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ۔۔۔ گذشتہ کئی سالوں میں ہم یعنی پاکستانی مجاہدین بحیثیت مجموعی اس نظریہ پر عمل نہ کرکے کافی نقصانات اٹھا چکے ہیں ۔۔۔۔ ہر نیا ساتھی جہاد کے لیے تیار ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے ان محاذوں کی طرف عازم سفر ہونا چاہتا ہے جہاں پہنچنا اس کے لیے نہ صرف یہ کہ آسان نہیں ہوتا بلکہ ۔۔۔۔ بعض اوقات کئی سال رباط کی سرزمین پر گذارنے کے باوجود بھی وہ کسی ایک معرکےمیں بھی حصہ نہیں لے پاتا ۔۔۔۔ میں متعدد مجاہدین سے گفتگو کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں اور اپنے براہ راست مشاہدے کے بنا پر پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ یہ محض واہمہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار مجاہدین کے بڑے سے بڑے ذمہ دار کے لیے ممکن نہیں رہا ۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ یمن سے جاری ہونے والے انگریزی جریدے انسپائر میں انفرادی جہاد کی اس حکمت عملی کو اپنانے پر مستقلا ً زور دیا جا رہا ہے ۔۔۔ میں گذشتہ کئی ہفتوں سے اس موضوع پر لکھنے کا سوچ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن اس موضوع پر مکمل گرفت نہ ہونے کی وجہ سے ارادہ کے پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا ۔۔۔ گذشتہ روز مطالعہ کے دوران شیخ ابو مصعب سوری (فک اللہ اسرہ ) کے یہ الفاظ سامنے آئے تو ذہن میں ایک جھپاکا سا ہوا ۔۔۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔

شیخ ابو مصعب سوری کے الفاظ
یہ تو بالکل ناممکن ہے کہ جہاد میں شرکت کی خواہش رکھنے والے سارے ہی نوجوان کھلے محاذوں کی طرف عازم سفر ہوں۔بلکہ قرین قیاس یہی ہے کہ مستقبل قریب میں ایسے محاذ شاید ہی سامنے آئیں گے ۔چنانچہ ہمارا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ جہاد میں شرکت کے متمنی مسلمانوں کی رہنمائی کریں کہ جہاں کہیں وہ موجود ہوں یا جہاں کہیں وہ فطری طور پر پہنچ سکتے ہوں صرف وہیں کارروائیاں کریں ۔ اور ان کو مشورہ یہی دینا چاہیے کہ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی اسی طرح فطری انداز کے ساتھ گزاریں ۔ اور خفیہ طور پر تنہا رہ کر جہاد کریں یا پھر بااعتمادافراد کے چھوٹے سے مجموعے کی صورت میں رہ کر جہاد کریں جو مزاحمت اور انفرادی جہاد کا ایک خود مختار حلقہ ہوگا ۔

انسپائر کے پچھلے شمارے میں بھی میں نے کچھ اس قسم کے الفاظ اداریہ میں پڑھے تھے جس میں درج تھا کہ ہمارے بعض ساتھی انتہائی خطرناک سفر کر کے جب یمن کے محاذوں پر ہمارے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں تو افسوس کرتے ہیں کہ کاش ہم یہاں نہ آتے ۔۔۔ کیونکہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم اپنے شہروں اور بستیوں میں مقیم ہوتے اور اپنے مخصوص نظریات کے ساتھ خفیہ طور پر لیکن عام انداز سے فطری زندگی گزار رہے ہوتے تو شاید جنگی حکمت عملی کے اعتبار سے ہم دشمن کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا سکتے ۔ کیونکہ بعض اوقات رباط کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنے کے بعد مجاہدین کا واپس اپنے گھر کو لوٹنا دو وجوہات سے آسان نہیں ہوتا۔ ایک سفر کی دقت اور خطرناکی کی وجہ سے اور دوسرے امنیات خراب ہوجانے کے باعث روز مرہ کی فطری زندگی گزارنے کا موقعہ کھو چکا ہوتا ہے۔۔۔

مجاہدین نے اب تک اس حکمت عملی پر عمل نہ کرنے کے کیسے نقصانات اٹھائے ہیں انہیں یہاں بیان کرنا مناسب نہیں لیکن نفسیاتی اعتبار سے اس صورتحال کا تذکرہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا اس لیے یہاں صرف امنیات اور سفر کی دقتوں کا ذکر کیا ہے ۔

میری خواہش ہے میں دعوۃ المقاومۃ الاسلامیہ سے انفرادی جہاد سے متعلق تمام تر مواد اکٹھا کر سکوں اور اسے ترجمہ کرکے پیش کرسکوں ۔۔۔ لیکن عربی میں مکمل دسترس نہ ہونے کا احساس اور وقت کی تنگی نے مجھے ان ارادوں سے باز رکھا ہوا ہے ۔۔۔ ویسے بھی انسپائر اور نوائے افغان میں اب ان موضوعات پر مضامین سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔۔۔۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

0 تبصرے:

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ