Subscribe:

Wednesday, July 20, 2011

کیا مرجئہ طے کریں گے کہ تکفیری کون ہیں


کیا مرجئہ طے کریں گے کہ تکفیری کون ہیں

حامد کمال الدین

میڈیا میں، بلکہ ہر طرف، ’تکفیریوں‘ کا اِس وقت خوب خوب چرچا ہے۔ شمالی علاقوں کی صورتحال نے جہاں اور بہت سے موضوعات کو جنم دیا وہاں ’تکفیری مذہب‘ بھی ہر خاص وعام کا موضوعِ سخن بن گیا ہے۔ بی بی سی اور سی این این تک گویا اب ’اسلامی فرقوں‘ کے موضوع پر اتھارٹی ہیں جو ’تکفیریوں‘ پر سیرحاصل گفتگو کر سکتے ہیں! دانشور، اخبار، رسالے، چینل۔۔ اپنے اپنے انداز میں ’تکفیریوں‘ پر تجزیے دے رہے ہیں۔ جماعتیں اور تنظیمیں اپنے طور پر کارکنوں کو ’تکفیریوں‘ کے موضوع پر ’بریفنگ‘ دے رہی ہیں جوکہ من وعن اور ایک ’مستند حوالہ‘ کے طور پر آگے سے آگے چلنا ہوتی ہے! رفتہ رفتہ اب ایک عام اخبار پڑھنے والا تک پوچھنے لگا ہے کہ ’یار یہ تکفیری کیا ہوتے ہیں‘؟!
کیا واقعتا کوئی یہاں جانتا ہے کہ ’تکفیری‘ کس بلا کا نام ہے؟! کیا کسی نے یہاں کبھی کہا ہے کہ ’میں تکفیری ہوں‘ یا پھر دوسروں کی جانب سے ہی اُس کو یہ نام دیا جاتا ہے؟ ’تکفیری‘ اپنا یہ ’نام‘ اگر خود نہیں رکھتے بلکہ یہ نام اوروں کی طرف سے اُن کو دیا جاتا ہے تو پھر وہ کونسا وصف ہے جس کی بنا پر کسی کو ’تکفیری‘ قرار دیا جاسکتا ہے؟ یعنی وہ کیا نظریات وافکار ہیں جن کا حامل ہونے کی بنا پر کسی شخص کو ’تکفیری‘ ٹھہرا دیا جائے اور یہ فیصلہ کون کرے گا کہ یہ نظریات ہی ’تکفیری‘ نظریات ہیں؟ نیز یہ کہ ، یہ ’وصف‘ جس کی بنا پر ایک شخص کا اعتبار ’تکفیریوں‘ میں ہوگا، کہاں بیان ہوا ہے اور کس نے بیان کیا ہے؟ کیا اُس وصف کا اعتبار کرنے پر کوئی اختلاف بھی ہوا ہے یا وہ اہلسنت کے ہاں متفق علیہ مانا گیا ہے؟ کیا اِس کی بابت کوئی اسٹینڈرڈ مراجع ہیں یا ہر شخص ’تکفیری‘ کی بابت اپنی تعریف رکھتا ہے اور اِس وجہ سے کوئی بھی شخص کسی بھی دن ’تکفیری‘ ہونے کی زد میں آسکتا ہے!؟ اور اِس وجہ سے اسلام کے حق میں یا کفر کی مذمت میں کوئی بھی ’شدید‘ بات کہنے سے پہلے آدمی کو سوچنا پڑے گا کہ کہیں وہ ’تکفیری‘ تو شمار نہیں ہونے لگے گا۔۔۔۔؟! باطل چاہتا تو بہرحال یہی ہے!!!
٭٭٭٭٭
بلاشبہ تاریخ میں ایسے فرقے پائے گئے ہیں جن کو دیے گئے نام اُن کے اپنے اختیار کردہ نہیں رہے۔ مثلاً ’خوارج‘ کو یہ نام عامۃ المسلمین کی جانب سے دیا گیا مگر یہ سوال کہ ’خوارج ہوتے کون ہیں؟‘، اِس پر ائمہء علم کی اسٹینڈرڈ تعریفات بآسانی دستیاب رہی ہیں اور کتب میں بخوبی ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ’معتزلہ‘ کو یہ نام ائمہء اہلسنت کی طرف سے دیا گیا تھا۔ مگر ’معتزلہ کون ہوتے ہیں؟‘ اِس پر اہلسنت کی اسٹینڈرڈ تعریفات بآسانی دستیاب ہیں۔ رافضی اپنے آپ کو ’رافضی‘ نہیں کہتے بلکہ ’مومن‘ کہتے ہیں۔ اُن کا یہ نام جس پر وہ تلملا جاتے ہیں اہلسنت ہی لیتے ہیں مگر ’رافضی کون ہوتے ہیں؟‘ اِس کا تعین اہلسنت مصادر میں ہرگز نایاب نہیں۔
چنانچہ غلطی اِس میں نہیں کہ کسی باطل گروہ کو اہل سنت کی جانب سے کوئی ایسا نام دے دیا جائے جو وہ خود اپنے لئے اختیار نہ کرتا ہو۔ ایک باطل فرقہ اپنے لئے نہایت خوبصورت اور جاذبِ نظر نام اختیار کرتا ہے تو اہلسنت ہرگز پابند نہیں کہ اُس کو اُسی خوبصورت نام سے بلائیں اور پکاریں۔ البتہ اُس کی بابت مستند تعریفات رکھنے میں اہلسنت نے کبھی کوتاہی نہیں برتی۔ ایسا بہرحال نہیں کہ ہر شخص ’خوارج‘ یا ’معتزلہ‘ یا ’رافضہ‘ یا ’جہمیہ‘ کی اپنی تعریف کرتا پھرے اور کسی شخص یا طائفہ پر حکم لگانے کے معاملہ میں ہر تنظیم، ہر جماعت، بلکہ تو ہر نیوز ایجنسی، ہر ٹی وی چینل اور ہر ’مبصر‘ اپنی ’صوابدید‘ لئے پھرتا ہو اور جس پر چاہے وہ لیبل تھوپ دے!
بے شک اہلسنت کے نزدیک یہ حد درجہ برے لفظ رہے ہیں، مگر ایسا بہرحال نہیں کہ ’خارجی‘ یا ’معتزلی‘ یا ’رافضی‘ یا ’جہمی‘ یا ’قدری‘ وغیرہ محض ایک گالی ہو جو غصے یا اختلاف کے وقت کسی کو دے ڈالی جائے! یہ لفظ ’برے‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شرعی دلالت رکھتے تھے اور اِس لحاظ سے ایک شرعی وعلمی امانت تھے جس کو اللہ سے ڈر کر اور خاص علمی ضوابط کا پابند رہ کر ہی اختیار کیا جاتا اور اِن کو کسی کے لئے بول دینے سے پہلے سوبار سوچا جاتا۔ ایک باطل گروہ یا شخص کو ایک معیوب تسمیہ دینے سے اہلسنت کے ہاں جو بات پیش نظر ہوتی وہ دراصل اِحقاقِ حق اور اِبطالِ باطل ہوتا تھا، جوکہ جہاد اور اقامتِ دین کا ایک نہایت برگزیدہ باب ہے اور امت کے اندر اہلسنت کا فرضِ منصبی۔
٭٭٭٭٭
علاوہ ازیں، تسمیات labels کا معاملہ سیاسی پہلوؤں سے بھی حد درجہ حساس ہے۔ بڑے بڑے دوررس مقاصد محض لیبلز لگا کر حاصل کر لئے جاتے ہیں۔ آج کے دور میں تو اِس کا اندازہ کرنا ہرگز دشوار نہیں۔ ’دہشت گردی‘ کا لفظ اِس حقیقت پر ایک نہایت واضح مثال ہے: کوئی بھی شخص اپنے آپ کو ’دہشت گرد‘ نہیں کہتا۔ اِس لفظ کے برا ہونے پر کوئی شاید اختلاف بھی نہیں کرتا۔ مگر ہم جانتے ہیں ’دہشت گردی‘ محض گالی بھی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ اصطلاح کے طور پر مستعمل ہے اور اِس کی باقاعدہ ایک دلالت implication ہے۔ اب اگر اس کی کوئی اسٹینڈرڈ تعریف definition اور وصفdescription متعین کئے بغیر ہی، اور اُن اسٹینڈرڈز پر آخری درجے کا اصرار کئے بغیر ہی، آپ اِس لفظ کا استعمال ہوجانے دیتے ہیں تو اپنے ساتھ ایک بہت بڑی واردات ہوجانے کا راستہ آپ خود اپنے ہاتھوں کھول دیتے ہیں۔ یہ رخنہ چھوڑ دیا گیا تو جس فریق کے ہاتھ میں میڈیا کی طاقت ہوگی وہ دوسرے کا ستیاناس کر کے رکھ دے گا۔ آپ جتنے بھی کمزور ہوں لازماً آپ کو یہ رخنہ پر کرنے کی مقدور بھر کوشش کرنا ہوگی اور اِس رخنے کو وسیع کرنے کے عمل میں آڑے آنے پر تو جان کھپا دینا ہوگی۔ البتہ اگر آپ کو اِس رخنے کا ادراک ہی نہیں تو آپ کی زبان سے کی گئی ’دہشت گردی‘ کی مذمت بھی آپ کے دشمن کے کام آئے گی (خاص طور پر جبکہ میڈیا کی طاقت اُس کے ہاتھ میں ہے)۔ بالفاظِ دیگر، دشمن کے تیر تو آپ کو لہولہان کریں گے ہی آپ کے چلائے ہوئے تیر بھی خود آپ ہی کے خلاف برتے جائیں گے۔ البتہ اصطلاحات کو پہنائے گئے معانی کی بنیادوں اور ا’ن کیلئے اختیار کئے گئے اسٹینڈرڈز کو چیلنج کر کے یقینا آپ اِس گولہ باری میں، جہاں تک ہوسکے، اپنی پوزیشن کو بہتر کر سکتے ہیں۔
حق تو یہ ہے کہ یہ جنگ بڑی حد تک ’اصطلاحات‘ پر ہی سہارا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اِس دور میں ’نکتہ وروں‘ کی ایک بڑی تعداد کو ’اصطلاحات‘ کے اندر ہی نقب لگاتا دیکھیں گے۔ باہر سے ’میڈیا‘ اور اندر سے ’اصطلاحات‘ کے نقب زن!!!
پس یا تو ایک اصطلاح کو دیا گیا معنیٰ آپ کے شرعی سُنّی معیار پر پورا اترتا ہو یعنی اُس کو حق معانی پر ہی محمول کیا گیا ہو، اور یا پھر آپ اُس اصطلاح کی ہی پابندی قبول نہیں کرتے۔ بلکہ تو ضروری ہو جاتا ہے کہ اِس صورت میں آپ اُس اصطلاح کو سرے سے لغو جانیں، بے شک وہ کسی درست معنیٰ میں کتنی بھی قابلِ اعتناءکیوں نہ ہو۔
اسی حوالے سے۔۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی بابت مشہور ہے کہ بعض پراپیگنڈا کرنے والے حاسدوں کی جانب سے، جو کہ ناصبیت سے ملحق اغراض رکھتے ہوں گے یا پھر چاہتے ہوں گے کہ بڑھتی ہوئی شہرت رکھنے والے اِس ہاشمی نوجوان پر ہاتھ ڈال دینے کےلئے بنو عباس کو ایک نہایت خوب بہانہ فراہم کردیں، امام شافعی کواہلِ بیتِ رسول اللہ سے عقیدت رکھنے پر بطورِ طعنہ ’رافضی‘ مشہور کردینے کی کوشش ہوئی۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں ”حبِ اہل بیت“ اہلسنت کے ہاں ایمان کا حصہ ہے اور اہلسنت کا نہایت معلوم وصف۔ جبکہ رافضیت کا ”حبِ اہل بیت“ سے کوئی تعلق ہی نہیں؛ جس وجہ سے اُن کو رافضی کہا جاتا ہے وہ اُن کا ”بغضِ صحابہ“ ہے جس سے کہ معاذ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا کوئی تعلق ہی نہ ہوسکتا تھا۔ ایک اصطلاح کا ایک ایسا غیر علمی اور بددیانتی پر مبنی استعمال سامنے آتا ہے تو اِس معنیٰ میں یہ اصطلاح لغو ہی مانی جائے گی اور ایک خندہء استہزا کے قابل ہی جانی جائے گی۔ چنانچہ امام شافعی تک یہ بات پہنچتی ہے کہ اہلِ بیت کے بکثرت تذکرہء خیر پر آپ کو ’رافضیت‘ کے لقب سے نوازا گیا ہے تو نہ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ اِس لفظ کی ہیبت سے دبتے ہیں اور نہ اِس پر صفائیاں دینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ کمال لاپروائی سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اِس پر ایک شعر کہتے ہیں:
فَلیعلمِ الثَقَلانِ انی رافضی!!۔
ان کانت الرافضیۃ حبَّ آلِ محمدٍ
یعنی: ”رافضیت اگر آلِ محمد سے محبت رکھنے کا نام ہے، تو پھر سب جن وانس جان لیں کہ میں ’رافضی‘ ہوں!
فرقہ واریت‘ ایک دوسری اصطلاح ہے جس کو جاہلی میڈیا اپنے بے شمار اغراض کے لئے نہایت کامیابی کے ساتھ برتتا ہے۔ شرک سے روکیں تو آپ ’فرقہ واریت‘ کے مرتکب! بدعات کے خلاف آواز اٹھائیں تو آپ ’فرقہ واریت‘ کے داعی! خرافات ا ور انحرافات کے خلاف جنگ کا علم اٹھائیں، تاکہ اِس امت کا احیاءہو اور یہ اپنے تاریخی مقام پر از سر نو فائز ہو، تو آپ پر ’فرقہ واریت‘ کا الزام۔۔۔۔! ’فرقہ واریت‘ کا لیبل گویا ایک لٹھ ہے جو ہر داعیِ اصلاح کے سر پر دے ماری جاتی ہے اور بڑے بڑے ’سمجھ دار‘ اِس کے ڈر کے مارے دم سادھ کر بیٹھ رہنے میں ہی عافیت جانتے اور اپنی ’ساکھ‘ کا تحفظ ممکن بناتے ہیں۔ تب وہ اپنی سرگرمی کیلئے ایسے ’بے ضرر‘ محاذوں پر ہی سرگرم ہوجانا مناسب تر جانتے ہیں جن پر کسی بھی ’فرقے‘ کو اعتراض نہ ہو۔۔۔۔! یعنی عین وہ چیز جو جاہلیت کو مطلوب ہے!!!
جو کہا نہیں وہ سنا کرو‘۔۔ جاہلیت یہی تو چاہتی ہے کہ اُس کے ہاتھ میں ’اصطلاحات‘ کی یہ لٹھ پکڑی دیکھ کر آپ اُس کے آگے لگ کر بھاگ کھڑے ہوں! اِس لٹھ سے یہ ڈرائے سب کو اور مارے کسی کسی کو!!!سبھی مر جائیں تو اُس کا یہ تماشا دیکھنے کو یہاں کون رہے؟! لیبلز اور القابات ایسے ہتھیار ’ڈرانے‘ کیلئے ہی تو ہوتے ہیں!!!وہ شخص جو اِن سے ڈر کر نہیں دکھاتا، جاہلیت کو جتنی تکلیف اور جتنی مایوسی اُس شخص سے ہوتی ہے کسی اور سے نہ ہوتی ہوگی۔۔۔۔ بشرطیکہ زیرک پن سے بھی اُس شخص کو ایک حظِ وافر ملا ہو اور ”بصیرت“ سے بھی وہ تہی دامن نہ ہو!
چنانچہ ”اصطلاحات“ کو ’نیشنلائز‘ بلکہ اب تو ’گلوبلائز‘ کر لینے سے جاہلیت اپنا جو مقصد حاصل کر رہی ہے، میڈیا کے دور میں یہی تو تاریخ کا بدترین فاشزم ہے اور آخری درجے کی فکری وثقافتی اجارہ داری۔ جاہلیت اپنی اِس پوزیشن کو ہی تو برقرار کھنا چاہتی ہے کہ اِس کا بولا ہوا ایک لفظ آپ کو بھسم کر جانے کی امکانی صلاحیت رکھے! یہ اپنی خاص ’زبان‘ میں آنکھ کا ایک اشارہ کردے تو آپ محسوس کریں کہ آپ کہیں کے نہیں رہے اور اِس کا استعمال کیا ہوا ایک ’کنایہ‘ گویا آپ کو سات پشتوں تک برباد کر کے رکھ دے گا!
سبحان اللہ! قرآن کی یہ آیت گویا ہے ہی ’میڈیا‘ اور ’پراپیگنڈا‘ اور ’ادب کی طوفانی قوت‘ کے دور میں پڑھی جانے کے لئے۔۔۔۔!!!لَوْمَة لآئِمٍ(کسی ملامت کرنے والے کی ملامت)کو ہرگز کسی خاطر میں نہ لانا وہ نہایت اہم وصف ہے جو ہم دیکھتے ہیں قرآن نے پہلے ہی اُس طائفہء منصورہ کا بیان کر دیا ہے جو زوال اور انحطاط اور ارتداد کے وقت اس امت کا احیاءِ نو کرے گا اور اِس کی ڈوبتی ناؤ کو اللہ کے فضل سے پار لگائے گا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّة عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّة عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَة لآئِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاء وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (المائدۃ: 54(
اے ایمان والو! تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پھر جائیں، تو پھر اللہ ایسے لوگوں کو لے کر آئے گا جن سے اللہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہوں گے۔ یہ مومنوں پر بڑے ہی نرم ہوں گے اور کافروں پر بڑے ہی سخت۔ یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ دے گا اُسی کو جسے دینا اُس کی اپنی مشیئت ہو۔ اور اللہ تو ہے ہی وسعت والا، جاننے والا

پس وہ شخص جو جاہلیت کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس ’خوفناک ہتھیار‘ سے ڈر کر نہیں دیتا، بلکہ اپنی بصیرت سے کام لے کر اِس کا سد باب بھی کرتا ہے، وہ جاہلیت کا برپا کیا ہوا یہ تماشا آخری حد تک خراب کر دینے کا باعث بنتا ہے، جس پر جاہلیت یقینا سٹپٹا جائے گی۔ ایک ایسا تماشا جس کو پوری دنیا ’دم نہ کشیدم‘ کی صورت بنی، انتہائی محو ہو کر دیکھتی ہے، وہ تماشا ایک ایسے موحد کے دم سے نہایت بدمزہ ہونے لگتا ہے جو __ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَه  کا مصداق __ اللہ کی تعظیم اور کبریائی کو زمانے کاموضوع بنا دینے کیلئے میدان میں اترتا ہے اور ہر اُس اعتبار، ہر اُس اتفاق اور ہر اُس اصطلاح کی صحت کو ہی چیلنج کر دیتا ہے جس پر اللہ نے اپنے انبیاءکو بھیج کر کوئی سند نہیں اتار رکھی۔
إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى (النجم: 23(
یہ تو محض نام ہیں جو گھڑ رکھے ہیں آپ ہی تم نے اور تمہارے بڑوں نے، اللہ نے تو اِن کے لئے کوئی سند نہیں اتار رکھی۔ یہ لوگ تو پیروی کرتے ہیں محض ظن کی اور اُس چیز کی جو نفسوں میں آجائے۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی جانب سے ہدایت ان تک آچکی ہے
جاہلیت کے ہاتھ میں پکڑا ہوا سانپ ہر کسی کو ’اصلی‘ نظر آتا ہے سوائے اس موحد کے جو جِبت اور طاغوت کے ساتھ کفر کر دینے کا علم بلند کر چکا ہو۔ صرف یہی ہے جس پر جاہلیت کا افسوں نہیں چلتا۔ نہ صرف اِس پر نہیں چلتا بلکہ اِس کے کھڑا ہونے کے باعث بہت سی خلقت جاہلیت کے افسوں سے نکل آتی ہے۔ پس اِس کے کھڑا ہونے کی دیر ہے، اور اِس کے کھڑا رہنے کی شرط ہے، کہ میدان کا نقشہ ہی تبدیل ہونے لگتا ہے اور دنیا نئے حقائق کو وجود میں آتا دیکھنے لگتی ہے۔
ما انزل اللہ“ کی روشنی میں مفہومات کی یہ جنگ war of concepts پس ایک نہایت حقیقی جنگ ہے اور میدان کا نقشہ بدل دینے کیلئے نقطہء اولین۔ حقائق کو صحیح الفاظ دینا اور الفاظ کو صحیح وثابت شرعی حقائق کا ہی عکاس بنا رکھنا۔۔ عین اِس محاذ پر پہرے بٹھا دینا اور یہاں پر جاہلیت کو ہرگز کوئی واردات نہ کرنے دینا ایک نہایت حقیقی محاذ ہے، اور قطعاً کسی غفلت اور کسی ناتوانی کا متحمل نہیں۔
اصطلاحات کی ’سیاسی‘ جہت۔۔
یہ وضاحت اِس لئے ضروری تھی کہ آج اگر ہم اسلام کی اجلی نکھری حقیقت کو اپنے اِن معاشروں میں اور اپنی اِس دنیا کے اندر پھر سے ایک جیتا جاگتا واقعہ بنا دینا چاہتے ہیں، اور بلاشبہ آج کا یہ تحریکی جہادی عمل اِسی مطلوب ومقصودِ مومن کو شرمندہء تعبیر کرنے کے لئے ہی بڑی محنت کے ساتھ روپزیر کرایا جارہا ہے۔۔ تو اِس پہلو سے بھی یہ معاملہ نہ صرف ہمارے غوروفکر بلکہ احتیاط کا بھی متقاضی ہو جاتا ہے۔۔۔۔
نہ حق پر ثبات کے بِنا کوئی چارہ ہے اور نہ بصیرت کے حصول بغیر کوئی راہ۔
نہ علم سے استغنا ممکن ہے اور نہ اہل علم سے وابستہ رہے بغیر کوئی چارہ۔

Saturday, July 16, 2011

امی کی اجازت نہیں ہے



میرا سوال یہ ہے کہ میرے گھر والے کہتے ہیں کہ ایک اللہ والے اپنی ماں کی اجازت کے بغیر حج پر گئے تو وہ حج اللہ نے قبول نہیں کیا تو تم میری اجازت کے بغیر جہاد پر گئے تو وہ کیسے قبول ہو گا ۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

کیا شریعت کے کسی قطعی حکم کے خلاف یہ دلیل کافی ہے ۔ اپنے گھر والوں سے پوچھیں کہ ان بزرگ کا نام کیا تھا ، اور انہیں کیسے معلوم ہوا کہ ان کا حج قبول ہوا کہ نہیں ۔ اور یہ واقعہ کون سی کتاب میں درج ہے ۔ اور کیا وہ کتاب یا  واقعہ  ،قرآن اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے؟؟؟

میرے بھائی جہاد اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم ہے ،یہ  سب سے افضل عبادت ، اور دین اسلام کی بلند ترین چوٹی ہے ۔۔۔ اس کی شرائط اور دیگر تفصیلات سے فقہاء کی کتابیں بھری ہوئی ہیں ۔ مختصر یہ ہے کہ والدین کی اجازت کی شرط اقدامی جہاد کے لیے ہے نہ کہ دفاعی جہاد کے لیے ۔ اقدامی جہاد فرض کفایہ ہے اور دفاعی جہاد فرض عین ، اور اس کے بارے میں یہی حکم ہے جب جہاد فرض عین ہو تو اولاد کو والدین کی ، بیوی کو شوہر کی ، غلام کو آقا کی اور قرض دار کو قرض خواہ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔

اگر آپ کی تشفی نہ ہو تو بہتر ہوگا کہ آپ جہاد کی فرضیت کے بارے میں کسی کتاب کا مطالعہ کریں ۔ مثلا شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ کی کتاب " ایمان کے بعد اہم ترین فرض عین " یا " مشاری الاشواق "

ذرا سا غور اس آیت پر بھی فرما لیں :
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴿٢٤﴾ سورة التوبة
کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

اگر آپ حق کو پہچان چکے ہیں تو پھر دوسروں کی خواہشات کی پراہ مت کریں ۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خصوصی طور پر اپنے گھر والوں سے ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے ، کیوں کہ بسا اوقات آدمی گھروالوں یا دوستوں کے دھوکہ اور فریب میں آکر جہاد سے رک جاتا ہے ۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان اسی سے متعلق ہے :

یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اِنَّ مِن اَزوَاجِکُم وَاَولَادِکُم عَدُوّاً لَّکُم فَاحذَرُوهُم  [تغابن:14]
اے ایمان والوبلا شبہ تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں تمہارے دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار رہنا

اس سے مراد وہ  دشمنی نہیں جو دنیا میں  نقصان کے اندیشوں پر مبنی  ہو بلکہ گھر والوں سے ایمان اور اخروی نتائج کے اعتبار سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔۔۔۔پس آپ کو لازم ہے کہ بچیں اس فریب سے :
والسلام
آپ کا بھائی

عرفان بلوچ

Tuesday, July 12, 2011

وصیت شہید ابو دجانہ خراسانی



وصیت شہید ابو دجانہ خراسانی رحمہ اللہ

یہ جہاد فرض عین ہے  .... !
پھر تردد کیسا.... !



شہید ڈاکٹر ہمام خلیل محمد ابو ملال (ابو دجانہ خراسانی ؒ ) نے خوست (افغانستان ) میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے مرکز پر شہیدی حملہ کیا اور افغانستان ، پاکستان ، عراق اور اردن میں تعینات صلیبی افواج اور ان کے جاسوسی اداروں کے متعدد افسران اور ان کے معاونین کو جہنم واصل کیا ۔

یہ تحریر شہید رحمہ اللہ کی ریکارڈ کردہ گفتگو کی مدد سے تیار کی گئی ہے ۔ان کا صوتی پیغام ادارہ السحاب کی جانب سے نشر کیا گیا ۔
جس کا ترجمہ حافظ معاذ خان نے کیا اور ادارہ السحاب برائے نشر و اشاعت نے اسے کتابی صورت میں بھی نشر کیا ۔

ہماری ادارہ السحاب سے درخواست ہے کہ اس قسم کے مفید پیغامات کا یونی کوڈ افادہ عام کے لیے
 جہادی ویب سائٹس کے منتظمین کو بھی ارسال کیا جائے تاکہ دوبارہ ٹائپ کرنے کی زحمت سے بچا جائے





الحمد لله الواحد المتعال . والصلوٰة والسلام علی الضحوک القتال . سیدنا محمد وعلی آله وصحبه اجمعین  . ومن سار علی هديهم الی یوم الدین

پوری دنیا میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیوں کے نام ....السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اما بعد!

میں یہ مختصر پیغام ہر اس مسلمان کو جہاد فی سبیل اللہ پر تحریض دلانے کے لیے چھوڑ رہا ہوں جو اس شش و پنج میں ہے کہ آیا وہ عزت و سربلندی کے راستے پر نکلے یا ذلت کے ساتھ پیچھے بیٹھا رہے ۔

اے میرے بھائی !۔۔۔ میں آپ کے لیے یہ پیغام اس یقین کے ساتھ چھوڑ رہا ہوں کہ آپ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجاہدین کے قریب ہیں ۔ تقریباً  ہر مجاہد کو جہاد کے میدانوں میں آنے سے قبل شش و پنج اور تذبذب کے انہی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ تاہم کچھ لوگ ان مراحل کو چند دنوں ، چند گھنٹوں یا چند گھڑیوں میں طے کر جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کے لیے یہ دورانیہ بڑھتا ہی جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ ان کی زندگی کی شام ہو جاتی ہے مگر وہ یہ فیصلہ نہیں کرپاتے  ۔

میرے پیارے بھائی !۔۔۔ یہ مت سوچیے کہ آپ کے اس مسکین بھائی کو آپ کی کیفیات کا اندازہ نہیں ہے ۔ میں نے آپ لوگوں کے درمیان اتنا طویل عرصہ گزارا ہے کہ میں اپنے آپ کو آپ کے احساسات کے بہت قریب محسوس کرتا ہوں ۔ ایسا لگتا کہ جیسے میں آپ کے شعور اور لا شعور کے درمیان اس کھینچا تانی کا نظارہ کر رہا ہوں جس نے جہاد کی اس محبت کو ابھر آنے سے روکے رکھا ہے جو آپ کے دل کی گہرائیوں تک میں اتری ہوئی ہے ۔ اسے لوگوں کے سمندر میں ایک اجنبی کی طرح دربدر کر رکھا ہے ۔۔۔ ایک تنہا اداس دل کی طرح ۔۔۔ جو ہر دم کسی ہم نشین کی تلاش میں ہو ۔

میرے یہ الفاظ دراصل آپ کے اپنے نہاں خانہ دل کی آواز ہے.... ان الفاظ کی سچائی کی گواہی میرے جسم کے وہ ٹکڑے دیں گے جنہیں میں کل فضا میں بکھیر نے والاہوں .... اس امید کے ساتھ کہ ان کی بازگشت آپ کی سماعتوں سے ہمیشہ ٹکراتی رہے گی....تاکہ اس کے ذریعے میں آپ کے دلوں میں حب ِّجہاد کے بیج بو سکوں.... اگر میں اپنے خون سے ان کی آبیاری کرنے میں کامیاب رہا .... تو ہو سکتا ہے کہ ان بیجوں سے جہاد عظیم کا تن آور درخت پھوٹ نکلے ۔۔۔اور جہاد کی کھیتی آپ کی زندگی میں بھی لہلہانے لگے ۔

کاش ان الفاظ کے سوا آپ کو جگانے کا کوئی اور بھی ذریعہ ہوتا ۔۔۔ تو میں آندھیوں سے پہلے چلنے والی ہواؤں کی طرح اڑ کر آپ تک پہنچ جاتا ۔۔۔اور آپ میں سے ہر ایک کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے جھنجھوڑتا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے رب تعالیٰ کا یہ فرمان سناتا :

 اِلاَّ تَنفِرُوا یُعَذِّبکُم عَذَاباً الِیماً وَیَستَبدِل قَوماً غَیرَکُم وَلاَ تَضُرُّوہُ شَیئاً [ التوبه: 39]
اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گااور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے ۔

اے کاش ....! میرے پاس سر کے بالوں جتنی روحیں ہوتیں....تو میں مساجد کے میناروں پہ چڑھ کر جمعہ کے روز یہ منادی کرتا کہ.... حی علیٰ الصلوٰة ....پر لبیک کہنے والو....!کیا.... حی علیٰ الجہاد ....کوسرے سے بھولے بیٹھے ہو۔

آخر کب تک جہاد کی محبت خیالوں اور زبانی دعووں تک محدود رہے گی ؟؟ کب تک یہ محبت مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر شرمندگی کے چند آنسو بہا لینے ۔۔۔۔ یا کوئی ترانہ سن کر ۔۔۔ یا کوئی نظم پڑھ کر پیدا ہونے والے وقتی جوش سے آگے نہیں بڑھ پائے گی ؟؟؟ کب تک آپ اسے فارغ وقت گزارنے کے لیے ایک مشغلہ بنائے رکھیں گے ؟

ہمیں نہ تو باذوق ناظرین کی تلاش ہے اور نہ ہی ہمدردانہ جذبات کی ۔ ہم تو آپ کو مجاہدین کی صفوں میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اور ہم اس کے لیے کوشاں رہیں گے جب تک کہ آپ  راہ جہاد کے راہی نہ بن جائیں ۔ ہم اپنی دعوتی نشریات کے ذریعے آپ تک پہنچیں گے ۔ہم اپنی دعوت کے ذریعے آپ کے لئے تحریضی گھات لگائیں گے....اپنی نشریات کے ذریعے آپ کے لئے ترغیب کی سرنگیں بچھائیں گے....شاید کبھی اس کی چنگاری سے آپ کی فکر جگمگا اٹھے ....اور ممکن ہے کہ آپ کے دل بے تاب ہوجائیں کہ آپ بھی ابطال امت کے ہم رکاب ہوجائیں ....چاہے اس مقصد کے لیے ہمیں دشمن کی طرف سے اپنی توجہ کم ہی کیوں نہ کرنی پڑے ....اورجب تک آپ ہم سے آ نہیں ملتے....ہم آپ کی تلاش جاری رکھیں گے....!کبھی کوئی سنہراخواب آپ کو اپنی طرف کھینچے گا اور کبھی کوئی ڈراؤنامنظر آپ کا پیچھا کرے گا ....تاکہ آپ کے امن و سکون میں خلل آجائے ۔۔۔اور مجاہدین کا ساتھ نہ دینے کی خلش بن کرزندگی کو آپ کے لئے اور بھی دشواربنادے ۔

ہم آپ کو خفیہ پیغامات بھیجیں گے....ایسے پیغامات جنہیں صرف آپ ہی سمجھ سکیں گے....یہ پیغامات آپ کو اخبارات میں،جرائدمیں ،انٹرنیٹ پر....غرض ہر جگہ ملیں گے....ہماری جوخبربھی آپ پڑھیں گے وہ آپ کو اپنی ہی خبر لگے گی....!ہمارے متعلق ہر بحث آپ سے آپ کے بیٹھ رہنے کا شکوہ کرتی دکھائی دے گی....!ہر جملے میں آپ کو اپنا نام سنائی دے گا....اورہر سطر اورہر منظر میں آپ کو اپناہی عکس دکھائی دے گا....گویا آپ مجاہدین کے ہاں مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہو چکے ہوں....آپ محسوس کریں گے کہ گویا مجاہدین کو پوری دنیا میں آپ کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں....اورقتال پر اس تحریض کا ہدف.... آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں....یہاں تک کہ آپ ہم سے آ ملیں۔

صریح آیات کے معانی اور احادیث صحیحہ کی عبارتیں آپ کا پیچھا کریں گی ۔ سیرۃ ابن ہشام کے ابواب اور اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ کی سطور آپ کو ابھاریں گی ۔ یہاں تک کہ آپ یہ تصور کرنے لگیں گے کہ جیسے عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ فلوجہ کے معرکہ میں شہید ہوئے ہوں اور جیسے انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے خوست میں فدائی حملہ کیا ہو ۔ جہاد سے دور رہ کر آپ کے مشاغل آپ کے لیے پر لطف نہیں رہیں گے ، یہاں تک کہ آپ کو عبادات میں بھی مزہ نہیں آئے گا ۔ہم آپ کو بار بار بلاتے رہے گے ....یہاں تک کہ آپ ہم سے آملیں۔

میرے ایمان کے ساتھیو! ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے طواغیت کے ذریعے اس امت کا امتحان لیا ہے ۔۔ جو لوگوں کو دین سے دور کر رہے ہیں ۔سنتوں کو ترک کیا جارہا ہے ، بدعات کی ترویج جاری ہے ۔ فطرتوں کو مسخ کیا جارہا ہے اور جہاد کو بہت سے مسلمانوں کی نظروں میں دیوانوں کا کھیل بنا دیا گیا ہے ۔ شیاطین جن کے علاوہ شیاطین انس بھی مسلمانوں کے راستے میں بیٹھ کر انہیں جہاد فی سبیل اللہ سے روک رہے ہیں ۔ وہ ان سے کہتے ہیں ۔۔۔ کیا تم جہاد فی سبیل اللہ میں جاکر اپنے آپ کو مرواؤ گے ، اپنی بیوی سے کسی اور کو شادی کرنے دوگے ، اپنے بچوں کو یتیم کرواؤ گے ؟ وہ یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم اپنی خوبصورت بیوی کس کے لیے چھوڑ دوگے ؟ کون تماری بوڑھی ماں کی خدمت کرے گا؟ کون تمہارے ضعیف باپ اور ننھے بچوں کا خیال رکھے گا؟ اور تم اپنی بہترین ملازمت اور خوبصورت مکان کو چھوڑ کر کیسے چلے جاؤ گے ؟

 لیکن اگر آپ انہیں یہ بتائیں کہ آپ جہاد پر نہیں جا رہے بلکہ آپ  تو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے یا اعلیٰ دنیاوی علوم کا کوئی کورس کرنے جارہے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ خوشی سے ان کے چہرے کھلے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنے وقت ، مال اور مشوروں سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کے ساتھ سفر کی بھرپور خواہش رکھیں گے ، چاہے انہیں سوٹ کیس میں ہی گھس کر جانا پڑے ....سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ:

لَو کَانَ عَرَضاً قَرِیباً وَسَفَراً قَاصِداً لاَّتَّبَعُوکَ وَلَکِن بَعُدَت عَلَیهِمُ الشُّقَّةُ [التوبه: 42 ]
 اگر مالِ غنیمت ملنا آسان اور سفر ہلکا ہوتا تو تمہارے ساتھ شوق سے چل دیتے لیکن مسافت اُن کو دور نظر آئی

دیکھنا میرے بھائی محتاط رہنا....! گھر والوں اور دوستوں یاروں کی شکل میں موجود یہ دشمن کہیں تمہیں جہاد سے روک نہ دیں....!بچنا ان کے دھوکے سے ....بچنا ان کے فریب سے....!اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:

 یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اِنَّ مِن اَزوَاجِکُم وَاَولَادِکُم عَدُوّاً لَّکُم فَاحذَرُوهُم  [تغابن:14]
اے ایمان والوبلا شبہ تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں تمہارے دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار رہنا

سو اے اللہ کے بندے!حق کو پہچاننے اور اس کی حلاوت دل میں محسوس کر لینے کے بعد دوسروں کی خواہشات کی پرواہ مت کرو....!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب جیسے نہ بننا جسے معلوم تھا کہ اس کا بھتیجا اللہ کا سچا نبی ہے....لیکن جب موت کا وقت آیا تو لوگوں کی خواہشات سے متاثر ہوکر آخری لمحے یہ کہہ کر جان دے دی.... کہ میں قریش کے آباؤجدادکے دین پر مرتا ہوں۔

اے جہاد کی دعوت سمجھ کر بیٹھ رہنے والے....!جب تمہارے بسترِ مرگ پر وہ لوگ اکٹھے ہوں گے جو جہاد کو موت.... اور بیٹھ رہنے کو تحفظ کا ضامن قرار دیتے تھے.... تو ان میں تم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا بھی سوائے چند آنسو بہانے اور آہیں بھرنے کے کچھ نہ کر سکے گا....جب کہ دیگر لوگ تمہارے کفن دفن اور ہسپتال کے اخراجات کا بندوبست کرنے میں مصروف ہوں گے....موت کے یقینی آثار دیکھ کر.... تمہاری میز پر پھولوں کا ایک گلدستہ رکھ کے.... شفایابی کی چندجھوٹی تسلیاں لکھ کرچلتے بنیں گے....لیکن اُس وقت تمہیں میری یہ باتیں یاد آئیں گی....مگر پھر ندامت کے سوا تمہارے ہاتھ میں کچھ نہ ہوگا...شہداءکے تصوراتی چہرے تمہیں دکھائی دینے لگیں گے....کبھی سیدناحمزہ بن عبدلمطلب رضی اللہ عنہ،کبھی سیدناانس بن نضر رضی اللہ عنہ،کبھی عبداللہ عزام ،کبھی ابو مصعب الزرقاوی،کبھی ابو اللیث اللیبی اورکبھی ابو الجہاد المصری رحمہم اللہ....پھر اپنی یہ زندگی تمہیں ایک سراب نظر آنے لگے گی ....اور تم سوچو گے کہ موت نے تمہیں ذرا مہلت نہیں دی....اُس وقت تمہیں احساس ہو گا کہ تم نے بڑے خسارے کا سودا کیا ....اور یہ جو تمہارے اردگرد جہاد کی راہ میں روڑے اٹکانے والے کھڑے ہیں.... انہوں نے تمہیں دھوکے میں مبتلا کئے رکھا....پھر تمہیں اندازہ ہو گا کہ تمہارے اور اُن مجاہدین میں جن سے تم محبت کرتے ہو.... اور جن کے راستے کو حق سمجھتے ہو....بہت فرق ہے....کیونکہ اُنہوں نے اُس راہ میں جان دی جس سے اُنہیں محبت تھی....اور تم نے اس راہ میں جان دی جس سے تمہارے گردوپیش کے لوگوں کو محبت تھی ۔ولا حول ولا قوة الا باللہ

میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں....شاید یہ آپ کو جہاد کی طرف راغب کر سکے....یہ احمد نامی ایک غیر عرب شخص کا واقعہ ہے جو کہ کرسی سے اٹھنے سے بھی قاصر تھے....وہ دونوں ٹانگوں سے معذور تھے اور زمین پر اپنے ہاتھوں کے بل چلتے تھے....لیکن خود داری کے وہ پیکر ‘پھر بھی جہاد کی خاطرارضِ خراسان میں اپنےمجاہد بھائیوں سے آملے....جب وہ مجاہدین کے مرکز پہنچے تو انہوں نے امیرِ مرکز سے درخواست کی کہ وہ ان کا نام رات کے پہرے میں شامل کر لیں....اور جب امیر نے اُن کی دل جوئی کے لیےاُن کا نام فہرست میں شامل کر لیاتواِس خوشی میں.... کہ ان کی آنکھوں کو رات کے پہرے کا شرف نصیب ہو گا....وہ رونے لگے....اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اُس رات میرا بستر اُن کی کرسی کے بالکل ساتھ تھا....اور مجھے ساری رات ان کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا رہا....پہرہ شروع ہونے سے لے کر فجر تک وہ پوری توجہ سے پہرہ بھی دیتے رہے اور اللہ کا ذکر کر کے روتے بھی رہے....مجھے ان پر بڑارشک آیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اپنے اس بندے کو دونوں فضیلتوں سے نواز اہے.... یعنی ایک اللہ کی راہ میں پہرہ دینا ....اور دوسرا اللہ تعالیٰ کی خشیت میں رونا۔

میرا اپنا حال یہ تھا کہ نیند کے غلبے کی وجہ سے کبھی سوتا کبھی جاگتا....لیکن احمد مسلسل پہرہ دیتے رہے....دوسرے لوگ اپنی باری مکمل کرکے سو جاتے ....لیکن احمد اپنی جگہ قائم رہتے....میں اپنے دل میں سوچتا رہا کہ بھلا ہمارے علاقوں کے لوگ عزیمت کی ان مثالوں سے کہاں واقف ہوں گے.... اُن کے گردوپیش میں تو ہر وقت جہاد سے رکے رہنے ....اور دوسروں کو روکنے والوں کے ....جتھے منڈلاتے رہتے ہیں....اللہ کی قسم! اگر جہاد فی سبیل اللہ میں ایسے لوگوں کی صحبت اور ہم نشینی کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوتا.... تو یہ بھی بہت تھا۔

میرے بھائیوجان رکھو....! جب یقین اور ایمان کمزور ہو جاتا ہے ....اور انسان صرف اپنے حواس ہی پر اعتماد کرنے لگتاہے....تو وہ مادیت سے قریب اور ایمان بالغیب سے دور ہوتا چلا جاتا ہے....پھر وہ دنیا کی زندگی پر مطمئن اور راضی ہو جاتا ہے.... جبکہ آخرت سے بیزارہوکر اس کے ذکر سے بھی کتراتا ہے....دنیا کی زندگی اس کے لئے اصل حقیقت ....جبکہ آخرت پر ایمان محض ایک واہمہ اور خیال بن جاتا ہے....انسان کا عقیدہ راہِ حق سے ہٹ جاتا ہے.... اور وہ اپنے حواس خمسہ کا غلام بن جاتا ہے....پھر وہ اسی پر ایمان رکھتا ہے جسے خود محسوس کر سکتا ہو....جبکہ محسوسات پر مبنی زندگی کے علاوہ کسی اور زندگی کا تصور بھی کرنا اس کے لئے  محال ٹھہرتا ہے۔

ایسے لوگوں کی مثال رحم مادر کے پردوں میں گم اس جنین کی سی ہے جو باہر کی زندگی سے بالکل ناواقف ہے....جسے کچھ معلوم نہیں کہ اس نے کب اور کہاں جانا ہے ....وہ اپنی ماں کے پیٹ میں کسی ارادے اور آزادی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔اس جنین کو باہر کی زندگی کا کچھ پتہ نہیں....اس کے حواس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق زندگی اندھیروں میں گم.... صرف ایک مجہول سی شے کا نام ہے....فرض کیجے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس جنین کو عقل عطا کردیں ....اور وہ اپنی کیفیات کو بیان کرنے کی قدرت حاصل کر لے.... توکیا وہ ولادت اور اس وقت پیش آنے والے مشکل مراحل کی مذمت میں کئی دیوان نہ بھر دیتے....؟وہ ولادت کے بعد ابتدائی شور شرابے کو موت سے تعبیر کرتے ....اور ان کی زبان میں اس مرحلے کے لئے وہی مثالیں دی جاتیں جو ہمارے ہاں موت کے لئے دی جاتی ہیں....جبکہ اندھیروں میں قید اپنی بے بسی اور بے چارگی کی زندگی ....انہیں کون و مکان کی خوبصورت ترین شے نظر آتی ....اور ولادت اور اس کے مراحل سے وہ ہر ممکن طریقے سے بچنے کی کوشش کرتے ....کیونکہ ان کے حواس انہیں یہی کچھ بتاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے....رحمِ مادر میں قرار پکڑنے والے ہر جنین کا اصل مقصد اس دنیا میں وارد ہوکر یہاں کی زندگی گزارنا ہے....انسان کی زندگی تو شمار ہی اس کی ولادت کے بعد کی جاتی ہے ....اور کوئی انسان بھی رحمِ مادر میں دوبارہ جانے کی کبھی تمنا نہیں کرتا....کیونکہ اب اس کے حواس دونوں مراحل سے گزر چکے ہیں۔

بندۂمومن کے لئے ....جسے یہ یقین ہو کہ دنیا ایک قید خانے کے سوا کچھ بھی نہیں....موت کی مثال ایسی ہی ہے....ایک مجاہد کے لئے موت دراصل سعادتوں سے بھری ....ایک اور زندگی کی شروعات کا نام ہے۔

یہ درست ہے کہ ہم نے کبھی کسی شہید کودنیا میں واپس آکر یہ بتلاتے نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا....لیکن دراصل یہ اللہ تعالیٰ ،اس کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ....جو ہمیں موت کا عاشق بناتا ہے....اور اللہ کی قسم!بندۂمومن کے لئے یہ دنیا رحمِ مادر سے بھی زیادہ تنگ اور گھٹن والی جگہ ہے....اور اُس کے لئے اِس تنگی سے نجات حاصل کرنے کا سب سے آسان راستہ ....شہادت فی سبیل اللہ ہے....بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ولادت کے وقت پیش آنے والی مشکلات شہید کو موت کے وقت محسوس ہونے والی تکلیف سے کہیں بڑھ کر ہیں.... کیونکہ شہید کو تو موت کے وقت صرف ایک چیونٹی کے کاٹنے جیسی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔

ایک مجاہد کے لئے موت توایسے ہی ہے....جیسے ایک ناقص زندگی سے ایک کامل زندگی کی جانب سفر....اگرچہ اس نے وہ زندگی پہلے کبھی نہیں دیکھی ....لیکن اسے اپنے ایمان کے سبب اس زندگی کی پہچان ضرور ہے....جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَیُدخِلُهُمُ الجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُم [سورۃ محمد: 5]
”اور وہ اُنہیں اُس جنت میں داخل فرمائے گا جس کی وہ اُنہیں خوب پہچان کروا چکا ہے“

اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ....وہ مردہ نہیں....!چاہے آپ اُنہیں منوں مٹی تلے دفن کردیں.... اُن کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعائیں کرتے ہوں....چاہے ان پر آنسو بہائیں .... اور ان کی تعزیت کے لیے محفلیں سجائیں ....لیکن وہ زندہ ہیں....مگر آپ کو شعور نہیں....وہ ایک ایسی زندگی کے مالک ہیں جو ظاہری حواس کی حدود سے بہت آگے کی زندگی ہے ....اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو اُس زندگی کی ایک جھلک ہی دکھلا دیں.... توایسی موت کے طلبگاروں سے سارے معسکرات بھر جائیں....اور وہ شہداءجن کے لئے آپ رحمت کی دعائیں کرتے ہیں....اگر اللہ تعالیٰ سبز پرندوں کے قالب میں موجود دو شہیدوں کاکوئی مکالمہ آپ کو سنوادیں.... تو آپ کو معلوم ہو.... کہ دراصل وہ اللہ تعالیٰ سے آپ کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔

تردد کے شکار میرے بھائی....! آپ کی مردانگی اور غیرت کے سامنے ایک سوالیہ نشان رکھتے ہوئے ....میں آپ کو افغانستان کی سرزمین پر پیش آنے والا ایک واقعہ سناتا ہوں.... جسے آپ صرف سنئے نہیں....بلکہ تھوڑی دیر کے لئے ....آنکھیں بند کرکے ....اپنے تخیل کے پردے پر.... اس کی منظر کشی کیجیے....!

ایک دن امریکیوں نے افغانستان کی ایک بستی پر طالبان کے دو بڑے رہنماؤں کےخلاف آپریشن کیا....شدید مقابلے کے بعد دونوں جانثار شہید ہوگئے....لیکن صلیب کے پجاریوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا ....بلکہ اِس کے بعد اُن دونوں کی بیویوں کو ہیلی کاپٹر میں اٹھا کر لے گئے....پھر جب ہیلی کاپٹر بلند ہو ا تو اُن درندوں نے خواتین کے کپڑے نیچے پھینکنے شروع کردیے.... تاکہ بستی والوں کو یہ دکھا سکیں کہ انہوں نے مجاہدین کی عزت و آبروکے ساتھ کیا سلوک کیا ۔

میں جب بھی اِس واقعے کا تصور کرتا ہوں تو میرا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے....میرا دل چاہتا ہے کہ میرے پاس ہزاروں زندگیاں ہوں ....اور میں اِن سب کویکے بعد دیگرے .... اپنی اُن پاک دامن، عفت مآب بہنوں کا بدلہ لینے کے  لیے پیش کردوں....اور میرا دل چاہتا ہے کہ اُن علماءِسوءجو امریکہ کی صفوں میں شامل ہیں....اورابھی تک جہاد کے خلاف فتوے دیتے ہیں....ایک جگہ جمع کرکے ان سب کو زمین میں گاڑ دوں.... اور پھر مجاہدین کے یتیم بچے اور بیوہ عورتیں اُنہیں جوتے مار مار کر اِنہیں جوتوں کے نیچے زندہ دفن کردیں۔

لیکن ابھی اپنی آنکھیں مت کھولئے گا ....!کیونکہ منظر ابھی ختم نہیں ہوا....!ذرا ایک لمحے کے لئے یہ سوچئے.... کہ وہ دونوں خواتین آپ کی اپنی مائیں ،بہنیں یا بیویاں ہیں....کیاآپ اس کا تصور بھی کر سکتے ہیں....؟کیا ایسا سوچنا بھی آپ کے لئے ممکن ہے ....؟اگرآپ کا جواب نفی میں ہے تو جان لیجیے  کہ ارضِ افغانستان میں آپ کی پاکدامن مسلمان بہنوں کے ساتھ یہ سب کچھ ہو رہا ہے ....اور پھر یہ تو ان بیسیوں واقعات میں سے ایک واقعہ ہے جنہیں نام نہاد’ آزاد میڈیا ‘نشر کرنے کی زحمت تک گوارانہیں کرتا۔

مجھے اُن لوگوں پرحیرانی ہوتی ہے جویہ سب کچھ سننے اور جاننے کے بعد بھی دنیا اور اس کی رنگینیوں کے اسیر بنے بیٹھے ہیں....گویا اُنہیں اِس سب کی کوئی پرواہ ہی نہیں....یہ کوئی ریڈ انڈینز کا تاریخی واقعہ نہیں .... نہ ہی ویتنام جنگ کی کوئی کہانی ہے....بلکہ اے امتِ محمد....!یہ سب کچھ سرزمینِ اسلام میں ہو رہا ہے....وہ خواتین جن کا پردہ اتارا گیا....اور جن کی آبرو کو داغدار کیا گیا....وہ محمد رسول اللہ کی بیٹیاں ہیں....وہ اُسی قبلے کی طرف رخ کرکے نمازپڑھتی ہیں جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں....اُسی مہینے کے روزے رکھتی ہیں جس کے ہم رکھتے ہیں....اُسی بیت اللہ کا حج کرتی ہیں جس کا ہم حج کرتے ہیں....بھلا کیا خیر ہو گا آپ میں.... اگر آپ ان کی نصرت بھی نہ کرسکیں ....اوریہ کیسی مردانگی ہے .... جو اپنی بہنوں کا انتقام بھی نہ لے سکے....؟

جہاد سے پیچھے بیٹھ رہنے والو ....!میں تمہیں مردوں کی شجاعت کے قصوں کی بجائے چند عورتوں کی دلیری کے واقعات سناتا ہوں....تاکہ تم اپنی مردانگی کو جانچ سکو کہ آیا تم واقعی اُن جوانمردوں میں سے ہو جنہوں نے اللہ سے کیے  اپنے عہد کو سچ کر دکھایا....یا ایسے مردوں میں سے ہو جن کی مردانگی کی دلیل صرف ان کی جنم پرچی ہے....؟

 ایک مجاہدہ تفتیشی پوسٹ کے پاس پہنچی اور وہاں جا کر رونے لگی....جب اس کے رونے کی وجہ سے اس کے گرد فوجیوں کا ہجوم ہو گیا.... تو اس نے اپنی فدائی جیکٹ پھاڑ دی ....اور دشمن کو ٹکڑوں کو تقسیم کرتی ہوئی اپنے رب کی جنت کی جانب چل دی۔

ایک دوسری خاتون جو عمر میں بالکل بوڑھی تھیں.... ان کے گھر میں مہاجرین نے پناہ لی....تو انہوں نے اپنی بندوق اٹھائی اور مجاہدین کے لئے پہرہ دینے لگیں....جب مجاہدین نے ان سے کہا کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ آرام کر لیں.... تو وہ کہنے لگیں کہ:نہیں....! اللہ کی قسم ہرگز نہیں....!اگر دشمن آیا تو اس کے ساتھ سب سے پہلے میں لڑوں گی۔

 ایک اور خاتون ایسی ہیں جنہوں نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ بغیر کسی مہر کے ایسے شخص کے ساتھ شادی کرنے کو تیار ہیں جو شہیدی حملہ کرنے میں ان کی مدد کرے ۔

اور اس سے پہلے جو کچھ پاکستان میں مولانا عبدالرشید غازی رحمہ اللہ کی طالبات کے ساتھ ہوا....جنہوں نے عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے.... شریعت کی خاطر آخری دم تک گولیوں اور بارود کا ڈٹ کر مقابلہ کیا....مجھے ایک سچے آدمی نے بتایا ....کہ مسجد کے صحن میں خون کی ایک نہربہ رہی تھی.... جس میں لوگ ہاتھ ڈالتے تھے تو ان معصوم بہنوں کی آنکھیں ،ہڈیاں اور کٹے ہوئے اعضاءان کے ہاتھ میں آتے تھے ....ہماری ماؤں.... زینب،عائشہ، خدیجہ اور رقیہ نے بھی اسلام کے لئے ایسی ہی عظیم قربانیاں دیں ....اللہ ان سب سے راضی ہو....!

لیکن اے جعفر....!اے اسد....!اے عاصم ....!اے خالد ....!سوال یہ ہے کہ تم نے اس دین کے لیے کیا کیا....؟اے قوتِ فیصلہ سے عاری لوگو....!اے پس و پیش کے مارے لوگو....!کل اپنے رب کو کیا جواب دو گے....؟جب تمہیں حشر کے دن اکٹھا کیا جائے گا.... پھرکون ساعذر گھڑ کے لاؤگے.... اِن بہادر بہنوں نے تمہاری ساری حجتیں باطل کر دکھائی ہیں۔

میں اپنی گفتگو کا اختتام فضائلِ شہادت کے حوالے سے ایک حدیث مبارکہ پر کرتا ہوں....جو کہ اس موضوع سے متعلق احادیث میں سے ایک جامع روایت ہے ۔

سیدنا عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ:ایک صحابی نماز کے لیےآئے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھا رہے تھے۔جب وہ صحابی صف کے پاس پہنچے تو انہوں نے دعا کی کہ:اے اللہ.... !آپ مجھے وہ افضل ترین شے عطا فرما دیں جو آپ اپنے صالح بندوں کو عطا فرماتے ہیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ :یہ سوال کرنے والا کون تھا؟تو انہوں نے کہا :میں تھا یا رسول اللہ!اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اِس صورت میں تیرا گھوڑا مر جائے گا.... اور تو خودشہید ہو جائے گا۔

اللہ اکبر!اللہ اکبر!اللہ اکبر!یعنی اس حدیث کے مطابق کسی شخص کا گھوڑا مر جانا.... اور خود اس کا اللہ کی راہ میں شہادت پاجانا.... اللہ تعالیٰ کی جانب سے اُس کے نیک بندوں کو ملنے والا سب سے بڑا فضل اور احسان ہے ۔

سو اے میرے بھائیو....!اٹھو....!اوراُس عبادت کی تیاری کرو جس کے جیسی اور کوئی عبادت نہیں....لپکو اُس موت کی جانب ....جس کی تمنا خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ....بھاگو اُس اعزازواکرام کی جانب جسے شہید دنیا سے جانے کے بعد بھی نہیں بھول پاتا....اور پھر سے اللہ کی راہ میں دسیوں مرتبہ قتل ہونے کی تمنا کرتا ہے....راستے میں حائل اِن دیواروں کو گرا دو....!اِن بے معنی حدودکو پار کرجاؤ...! خفیہ ایجنسیوں کے اس بودے حصار کو توڑ ڈالو....!اور اُس جنت کی جانب بڑھو جس کا عرض آسما ن و زمین جیسا ہے۔

فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْۚ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ  [غافر: 44]
تم میری یہ باتیں کبھی یاد کرو گے....اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ....بے شک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے

وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ [سورۃ یوسف: 21]
اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے ....لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

والسلام : آپ کا بھائی
ابو دجانہ خراسانی
بمطابق : انتیس دسمبر 2009ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, July 8, 2011

غزوۃ الہند بلاگ کے نام


بسم اللہ والحمدللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ و بعد،
محترم منتظم غزوۃ الہند بلاگ  کے نام،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ آپ کی  اور ان تمام بھائیوں کی مساعی کو شرفِ قبولیت بخشیں جو نیٹ پر مختلف سائیٹس، بلاگز اور فورمز وغیرہ کے ذریعے اردو زبان میں دعوتِ جہاد کے فروغ کا کام کر رہے ہیں۔یقیناً یہ ایک نہایت اہم محاذ ہے۔ اللہ تعالیٰ مجاہدین کا دفاع ونصرت کرنے پر آپ سب حضرات کو بہترین جزا سے نوازیں، آمین!
میرے محترم بھائی!
آپ کے بلاگ پر گزشتہ دنوں ‘انفرادی جہاد’کے حوالے سے ایک بحث پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس بحث میں بعض قابلِ اصلاح و توجہ باتیں دیکھنے کو ملیں، اس لئے آپ کے نام یہ مختصر سی تحریر لکھنے کا ارادہ کیا۔ اللہ رب العزت موافقِ حق بات کہنے کی توفیق دیں:
عرض یہ ہے کہ‘انفرادی جہاد ’ کا جو نظریہ آپ نے یہاں بحوالہء شیخ ابو مصعب سوری فک اللہ اسرہ ذکر کیا، اسے  پاکستان کے احوال پر پوری طرح منطبق کر دینا درست نہیں۔ ایک تو اس لئے کہ شیخ ابو مصعب سوری نے اپنی کتاب میں مسلم ممالک پر مسلط افواج کے خلاف قتال کی بجائے  امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے خلاف قتال کے پس منظر میں گفتگو کی ہے۔دوسرا ، اس لئے بھی کہ مجاہدین کے کسی مفکر و داعی  کی کتاب میں ایک تحریر کا موجود ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آج فلاں میدان میں وہ تحریر  ایک باقاعدہ حکمتِ عملی کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔حکمتِ عملی تو حالات و واقعات کے پیشِ نظر بدلتی رہتی ہے اور اس کو جاننے کے لئے مجاہدین کی موجودہ قیادت سے رجوع کرنا لازم ہے۔ادارہ السحاب کی ایک تازہ فلم: ‘‘لا تکلف الا نفسک’’ میں انفرادی جہاد کا نظریہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، لیکن بنیادی طور پر مغربی ممالک  میں جہاد کے لئے۔ فلم کے دوسرے جزء میں شیخ عطیۃ اللہ حفظہ اللہ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ:
‘‘جب تک اور جہاں تک ممکن ہو مجاہدین کو ایک جماعت تلے اکٹھے ہو کر ہی جہاد کرنا چاہیے  اور یہی مطلوب ومثالی صورت ہے۔لہٰذا جن ممالک میں جہاد کا دروازہ کھل چکا ہے اور وہاں کوئی ایسی جماعت  موجود ہے جو جہاد کے شرعی منہج پر قائم اور فرضیتِ جہاد کی ادائیگی میں عملاً مصروف ہے؛ تو ایک  مسلمان کو چاہیے کہ وہ ایسی  جہادی جماعت تک پہنچ کر ، اس کے ساتھ مل کر ، اس کے جھنڈے تلے ہی جہاد کرے۔’’
 الحمدللہ آج پاکستان میں جہاد کا باقاعدہ دروازہ کھل چکا ہے اور یہاں شرعی منہج پہ قائم جہادی جماعتیں بھی موجود ہیں، لہٰذا انہی کے ساتھ مل کر، ان کی قیادت تلے اور ان کی رہنمائی کے مطابق جہاد کیا  جانا چاہیے۔اس کے سوا جو بھی صورت اختیار کی جائے گی وہ جہد کو ضائع کرنے اور مصلحتِ جہاد کو نقصان پہنچانے کا باعث ہو گی۔مجاہدین پاکستان میں جہادی تحریک کھڑا کرنے کے حوالے سے اپنی ایک سوچ، فکر اور حکمتِ عملی رکھتے ہیں۔جہاد کی مصلحت اسی میں  ہے کہ پاکستان کا  پورا محاذ اسی ایک حکمتِ عملی کے تحت چل رہا ہو۔ اگر جہاد سے منسلک افراد کو  آزاد چھوڑ دیا جائے  کہ وہ انفرادی طور پر جو قدم مناسب سمجھیں وہ اٹھائیں، تو اس سے انتشار ہی پھیلے گا۔لہٰذا اس نظریے کو پاکستان پر منطبق کرنا درست نہیں  ہو گا۔ یہ نظریہ تو ان علاقوں ، خصوصاً ان بلادِ کفار کے لئے ہے  جہاں باقاعدہ جہادی جماعتوں کا وجود نہیں اور انفرادی جہاد ہی وہاں کے لئے بہترین حکمتِ عملی ہے؛ اگرچہ وہاں کے لئے بھی شیخ عطیۃ اللہ حفظہ اللہ نے یہی تاکید کی ہے کہ مجاہدین کی قیادت کے بیانات وغیرہ سن  یا پڑھ کر مجاہدین کی حکمتِ عملی کے عمومی خد وخال پھر بھی معلوم کئے جائیں، تاکہ کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جائے جو الٹا عالمی تحریکِ جہاد کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رشد وہدایت پہ قائم رہنے کی توفیق نصیب فرمائے  ، ہماری لغزشوں سے درگزر فرمائے  اور ہمیں شہادت کی موت اور خاتمہ بالخیرعطا فرمائے، آمین!
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
دعاؤں کا طلبگار
احمد فاروق