Subscribe:

Friday, July 1, 2011

خالد خواجہ اور علماء کا ساتھ




السلام علیکم
حضرت !مجھے اپنی اصلاح کیلیے  آپ سے کچھ سوال پو چھنے ہیں
 (١)پاکستان میں
مجاہدین سے جنگ توناپاک فوج کررہی ہے لیکن حملے پولیس پر ہورہے ہیں اسکی کیا وجہ ہے؟
(٢) خالدخواجہ (رہنما نے مجاہدین کی گرفتاری میں بیان دیا تھا جس میں اس نے اپنے جرم کا اقرار کر تے ہوے کہا کہ لال مسجد کے سانحے میں میرے ساتھ مفتی رفیع عثمانی اور مولانا زاہدالراشدی مولانا عبد اللہ شاہ مظہر قاری حنیف جالندھری مولانافضل
الرحمن وغیرہ بھی مرتد حکومت کے ساتھ ملے ہوے تھے   (یہ سب ملک پاکستان کے بڑےاور نامور اور مشہور علما ہیں )کیا ایسا ہی ہے ؟
 (٣)خالد خواجہ کو اگر مجاہدین ہی نے قتل کیا ہے تو اسکی نماز جنازہ مولانا عبد العزیز صا حب(خطیب لال مسجد  اسلام
آباد ) نے کیوں  پڑھائی ؟
جند المہدی

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
جوابات

۱۔ بھائی حیرت کی بات ہے کہ آپ کو پولیس کے اوپر ہونے والے حملوں پر تشویش ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں نے مجاہدین کے خلاف جنگ اختیار کر رکھی ہے ۔  اور اپنے نزدیک اس کارخیر میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں ۔ آپ پولیس کا سابقہ رکارڈ ہی اٹھا کر دیکھ لیں ۔کیا پولیس نے پھول کے ٹوکرے برسائے ہیں مجاہدین کے  اوپر ؟؟؟ شہروں میں ہونے والی تقریبا تمام ہی گرفتاریوں میں پولیس بلا واسطہ یا بالواسطہ شریک رہی ہے ۔ مجرمین کی نشاندہی والے مضمون میں تو ہم یہ بھی وضاحت کرچکے ہیں کہ پولیس کا اہلکار فوج کے سپاہی سے زیادہ بڑا مجرم ہے ۔ کیوں کہ پولیس کے اہلکار کے لیے طاغوت کی نوکری چھوڑنا کوئی مسئلہ نہیں ، جب کہ فوج کے سپاہی اور افسران کے لیے فوج کی نوکری چھوڑنا آسان نہیں ہوتا ۔فوج چھوڑنے کے لیے ایک طویل اور مشکل مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے ۔ مجاہدین سے ہمدردی اور تعلق رکھنے والے بہت سے افراد  جو فوجی اداروں سے منسلک ہیں بعض اوقات انہیں نوکری چھوڑنے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔بہر حال ہم تو شریعت کے پابند ہیں ، اور شریعت کے احکامات پولیس  کے بارے میں واضح ہیں کہ  یہ بھی مقاتلین میں شامل ہیں ۔

۲۔ خالد خواجہ نے علماء کے متعلق جو بیان دیا ہے ، اس کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ، کیوں کہ یہ ضروری تو نہیں کہ خالد خواجہ کے اعتراف جرم پر مبنی بیان کا ہر حصہ اس کی اپنی سوچ ہو ، اور اس پر ان مجاہدین کی سوچ کا ذرا بھی اثر نہ ہو جنہوں نے  اسے گرفتار کر رکھا تھا ۔ دو میں سے جو بھی صورتحال ہو  آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہتے ہیں ؟؟؟؟

۳۔  رہی بات نماز جنازہ کی تو یہ بات میرے علم میں نہیں کہ خالد خواجہ کی نماز جنازہ مولانا عبدالعزیز صاحب نے پڑھائی ہے ۔ اور اگر یہ  درست ہے تو ممکن ہےمولانا عبدالعزیز صاحب پر دباؤ ہو ۔ یہ بھی ممکن ہے مولانا عبدالعزیز صاحب کا خیال ان کے متعلق ایسا  نہ ہو جو انہیں قتل کرنے والے مجاہدین کا تھا اور یہ لاعلمی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے ۔اتنا  عرض کر نا چاہوں گا کہ خالد خواجہ اور کرنل امام کے قتل کے معاملہ پر بعض جہادی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ لیکن تشویش بڑھانے اور پھیلانے کے بجائے اس معاملہ کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سپرد کردیں ، یہی بہتر ہے ۔کیوں کہ مجاہدین خواہ کسی بھی حلقے سے تعلق رکھتے ہوں وہ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ہم ان کے دعویٰ کو درست تسلیم کرلیں۔

غزوۃ ہند میں شریک آپ کا مجاہد بھائی
عرفان بلوچ




4 تبصرے:

Anonymous said...

کرنل امام اور خواجہ کا قتل بالکل درست تھا،گوانتاناموبے میں سیف اللہ پراچہ کی اھلیہ کو بھی اس ظالم خواجہ نے بہت بے وقوف بنایا تھاان خاندان اسکے بارے میں منفی تاثر رکھتا ھے

Anonymous said...

الحمداللہ میں آپ سے صد فیصد متفق ہوں۔ آپ نے میرے دل کی بات لکھ دی ہے۔
لیکن ایک بات آپ سے پوچھنا چاھتا ہوں کہ
جن مجاہدین میں اس بات کی تشویش پائی جاتی ہے کیا ہم ان کی تشویش کو دور نہیں کرسکتے؟
کیا کرنل امام اور خالد خواجہ کے وہ اقدام جن کی وجہ سے مجاہدین نے انہیں سزا دی۔۔۔۔وضاحت نہیں کی جاسکتی
تاکہ وہ احباب جو کسی بھی درجہ میں تشویش کا شکار ہیں ۔۔۔۔۔ مطمئن ہوں۔

Anonymous said...

میرے خیال میں اسی تشویش کو دور کرنے کے لئے حکیم اللہ محسود خود اس ویڈیو میں نظر آئے

مسلم said...

عجیب بات ہے کہ جب تحریک طالبان کے مرکزی امیر اگر ایک سرگرمی میں بذاتِ خود شریک ہوں تو اس کے بعد اس طرح کے شکوک و شبہات کی کیا وجہ رہ جاتی ہے؟
عرفان بھائی! یہاں میں آپ سے قطعاً اتفاق نہیں رکھتا۔

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ