Subscribe:

Thursday, July 7, 2011

عورت کی آواز اور خواتین کا انٹرنیٹ پر کردار


بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ

میں اپنی علمی کم مائگی کا کئی بار اعتراف کر چکا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ شرعی مسائل کے بارے میں گفتگو کرنے سے گریز کروں ، اس لیے صرف ان موضوعات پر اکتفا کرتا ہوں جو اہم ہوں اور جن کے بارے میں علماء کی رائے معلوم ہو ۔ مجھے کئی بار ساتھیوں کی طرف سے مسلم خواتین کے لیے انٹرنیٹ اور فیس بک کے استعمال کے جواز اور مردوں سے گفتگو کی شرعی حیثیت اور اس کی حدود کے بارے میں سوالات موصول ہوئے ہیں ۔ عورت کی آواز والے مضمون  پر بھی چند اعتراضات اور سوالات اٹھائے گئے تھے جن کے ازالے کے لیے میں نے مناسب سمجھا کہ میں شیخ انوار العولقی حفظہ اللہ کے اپنے الفاظ نقل کر دوں ۔ یہ الفاظ ان کے اس بیان کا حصہ ہیں جو شیخ انوار العولقی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی پر مبنی لیکچرز سیریز کے بارہویں حصہ میں ہجرت حبشہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وضاحت کی ہے ۔

::::::::::::::::::::::::::::::::::::

شیخ انور العولقی کے بیان کا حصہ شروع ہوتا ہے

یہاں آپ مسلم خواتین کا معاشرے میں حصہ لینے کا دائرہ کار  ملاحظہ کر سکتے ہیں  ۔میں چاہوں گا کہ آپ مسلم خواتین کے  معاشرتی کردار کو بھی جان لیں کیوں کہ ان کے گھریلو کردار کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں  یعنی مسلم خواتین کا بیوی اور ماں کی حیثیت سے کردار ، تو اب آپ ان گھر سے باہر کے تعلقات کی حیثیت بھی جان لیں گے ۔

آپ دیکھیں گے کہ اسلام دو انتہاؤں کے درمیان کا راستہ ہے ۔ہر معاملہ میں ہمارے پاس دو انتہائیں ہیں ۔طرفان یعنی دو کنارے ہیں اورایک وسط ۔ دو کنارے دو انتہائیں ہیں جب کہ وسط درمیان کا راستہ ہے ۔اور اسلام ہر معاملہ میں وسط کا انتخاب کرتا ہے ۔امت وسط کی ایک تعریف یہ بھی ہے ۔ پس ہر مسئلہ کے بارے میں دو انتہائیں موجود ہیں اور فقہ اور حکمت یہ ہے کہ ان کے درمیان عین وسط معلوم کیا جائے ۔  دو  انتہاؤں  کے درمیانی جز کئی ہو سکتے ہیں لیکن عین وسط صرف ایک ہوگا ۔انتہاؤں کے درمیان کے کسی بھی حصے کو پکڑ لینا آسان ہوتا ہے لیکن عین وسط تلاش کرنا مشکل کام ہوتا ہے ۔ اور یہ وہ کام ہے جس کے لیے فقہ اور حکمت دونوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔

قدیم اسلامی تاریخ میں یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ مسلم خواتین کا معاشرے میں نہایت اہم کردار ہوتا تھا ۔ پہلی مسلمان ایک خاتون تھیں ۔اسلام کی پہلی ہستی جو شہید ہوئی وہ خاتون ہیں ۔ کون ہیں وہ سمیہ رضی اللہ عنہا ۔ آپ مسلم خواتین کو پہلی ہجرت جو حبشہ کی طرف ہوئی اس میں دیکھتے ہیں ۔ اس کے بعد ہجرت مدینہ میں بھی وہ پھر نظر آتی ہیں ۔ اس کے بعد جہاد میں بھی ان کی شرکت معلوم ہے ۔ اسلامی جماعت سازی میں بھی وہ حصہ لیتی ہیں ۔ تعلیم اور تربیت کے شعبہ میں بھی خواتین کا حصہ تھا  ۔

بعض مصنوعی رکاوٹیں جو آج مسلم خواتین کےراستے میں ہم نے کھڑی کر دی ہیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود نہیں تھیں ۔میرا مطلب ہے کہ ہمارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو اس معاملہ میں دونوں انتہاؤں کو چلے جاتے ہیں ۔ ایک انتہا یہ ہے کہ مرد و عورت گھل مل کر رہ سکتے ہیں ، ہنسی مذاق کر سکتے ہیں ، ایک دوسرے کو لطیفے سنا سکتے ہیں ، بغیر کسی رکاوٹ کے ، اور حجاب ایک اختیاری شے ہے ۔ اور دوسری طرف بھی ایک انتہا ہے یعنی جن کے نزدیک عورت کی آواز تک کی اجازت نہیں ہے ۔ محسوس ہوتا ہے جیسے ہم لوگ مختلف سیاروں میں جی  رہے ہوں ۔ یہ ہیں عورت کے معاشرتی کردار کے بارے میں دو انتہائیں لیکن ہمیں وسط تلاش کرنا چاہیے ۔میں چاہوں گا کہ آپ کو ایک مثال بھی پیش کروں تاکہ معلوم ہو سکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد و عورت کے درمیان معاشرتی تعلقات کی نوعیت کیا تھی ۔

کیوں کہ میں ہجرت حبشہ پر بات کر رہا تھا تو آپ کو ایک واقعہ اسی سے متعلق سنا دیتا ہوں ۔ جب حبشہ ہجرت کرنے والے مسلمان ہجرت کے ساتویں برس مدینہ واپس آئےتو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے ملنے ان کے پاس تشریف لائیں ۔اس دوران حضرت عمر ؓ اپنی صاحبزادی سے ملنے آئے تو ان کے پاس حضرت اسماء  ؓ کو بیٹھے دیکھا ۔انہوں نے پوچھا کہ یہ عورت کون ہے ۔ حضرت حفصہ ؓ نے جواب دیا کہ یہ اسماء بنت عمیس ہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا الحبشیہ ، البحریہ ۔۔ یعنی یہ حبشہ سے آنی والی خاتون ہیں ۔ اور سمندر پار سے آئی ہیں ۔حفصہ ؓ نے جواب دیا کہ جی ہاں یہ وہی ہیں ۔۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء سے براہ راست مخاطب ہو کر کہا کہ:  " ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے ،لہٰذا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہیں " ۔۔۔ یہ سن کر حضرت اسماء ؓ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر غصہ آگیا ۔۔ فرمانے لگیں : نہیں جی ! آپ ہماری نسبت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قریب نہیں ہوسکتے ۔۔ بے شک آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ، وہ آپ کے  بھوکوں کو کھانا کھلاتے رہے ، آپ لوگوں کی تربیت کرتے  رہے ۔۔ جب کہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور کرم سے محروم رہے ہیں ،کیوں کہ ہم  یہاں سے بہت دور  تھے اور ہم کوئی اپنی پسند سے وہاں نہیں گئے تھے نہ ہی اپنی پسند سے وہاں رہ رہے تھے ۔۔۔ اور اس حالت میں ہمیں اپنے گھر جانے کا خیال نہیں آتا تھا بلکہ ہم تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کی آرزو کرتے تھے ۔۔۔اور میں ابھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتی ہوں اور جو کچھ آپ نے ہمارے متعلق کہا ہے وہ میں آپ ؐ  کو بیان کروں گی اور میں نہ تو کچھ کمی کروں گی نہ کچھ اضافہ کروں گی ۔۔۔پھر وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں اور جو کچھ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تھا وہ آپ کو بتایا ۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء سے پوچھا اور تم نے عمر کو کیا جواب دیا ۔۔۔ تو انہوں نے اپنا بیان بھی سنا دیا ۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ :نہیں  !!! عمر اور اس کے ساتھیوں کا مجھ پر تم سے زیادہ حق نہیں ہے ، نہ ہی وہ تم لوگوں کی نسبت مجھ سے زیادہ قریب ہیں ۔۔۔ ان کے لیے ایک ہجرت کا اجر ہے جب کہ تم لوگوں کے لیے دو ہجرتوں کا اجر ہے ۔۔۔ یعنی ان کے مقابلے میں دوگنا اجر ہے ۔۔ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہجرت حبشہ کرنے والے صحابہ کو اس جھگڑے کا  علم ہوا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا بھی ۔۔۔ تو وہ تصدیق کے لیے جوق در جوق میرے گھر آنے لگے یہاں تک کہ میرے گھر کے باہر ان کا جمگھٹا لگ گیا جو مجھ سے یہ حدیث سیکھنے کے خواہش مند تھے ۔۔۔ وہ فرماتی ہیں : کہ اس وقت ان صحابہ کے لیے پوری دنیا میں کوئی چیز اس حدیث سے بڑھ کر محبوب نہیں تھی ۔۔۔

اب اس واقعہ کو ہی لیجیے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے گفتگو کی اور ان دونوں کے درمیان یہ  بات چیت براہ راست ہوئی ۔ پھر اس کے بعد حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کے گھر پر بڑی تعداد میں صحابہ آتے ہیں تاکہ ان سے یہ حدیث سیکھیں ۔ ۔ جن میں مشہور صحابی ابو موسی العشری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔ یہ ہے اُس زمانے میں صحابہ اور صحابیات کے درمیان معاشرتی تعلقات کی ایک مثال ۔۔۔ اگر آپ تلاش کرنا چاہیں تو یقینا  دور رسالت میں صحابہ اور صحابیات کے درمیان گفتگو اور ملاقاتوں کے احوال کے ایسے بے شمار واقعات مل جائیں گے ۔ البتہ ان تمام واقعات میں ایک قدر مشترک ہے کہ یہ رسمی قسم کی ملاقاتیں تھیں ، ان میں ہمیں کہیں یہ نہیں ملے گا کہ یہ آپس میں ہنسی مذاق کر رہے ہیں  یا ایک دوسرے کو لطیفے سنا رہے ہیں ۔انہیں اپنی حدود کا علم تھا ، لیکن جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ صحابہ دوسری انتہا پر بھی نہیں چلے گئے تھے ۔۔ جیسا کہ اس معاملہ میں ہمیں بعض مسلمانوں کے اندر آج انتہائی شدت نظر آتی ہے ۔

یہاں شیخ انور العولقی کے بیان کا حصہ ختم ہوتا ہے
::::::::::::::::::::::::::::::::::::



اس تمام بحث سے مردو عورت کے درمیان گفتگو کے بارے میں شیخ انوار العولقی حفظہ اللہ کی رائے معلوم ہو جاتی ہے ۔اور یہی بات میں نے مضمون میں مختصرکرکے  بیان کی تھی جس پر میرے بعض بھائیوں کو تشویش لاحق ہوئی تھی ۔

جہاں تک خواتین کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال اور فیس بک یا ڈسکشن فورمز پر حصہ لینے کا معاملہ ہے ۔ اس بارے میں بعض علماء کی رائے یہاں سے معلوم کی جاسکتی ہے :


لنک دیکھیے

جواب میں یہی کہا گیا ہے کہ بہنیں انٹرنیٹ استعمال کر سکتی ہیں اور اسلامی معلومات کے حصول یا  تبادلہ کے لیے کسی چیٹ روم میں داخل  ہو سکتی ہیں اور وہاں حصہ بھی لے سکتی ہیں لیکن کسی غیر محرم سے اخفاء میں بات نہ کرے ۔۔۔ اخفاء یعنی ۔ privately ۔ کیوں کہ شریعت کی کوشش ہے کہ فتنوں کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے ، اور اس میں فتنہ میں داخل ہونے کا قوی امکان ہے ۔

ان مباحث کو  سامنے رکھیں تو جو کچھ اخذ کیا جاسکتا ہے وہ کچھ اس طرح ہے :
انٹرنیٹ کا استعمال صرف ضرورت تک محدود رہے اور آپس میں گفت و شنید کے لیے فتنوں سے محفوظ سے محفوظ تر راستہ اختیار کرے اور اسے رسمی گفتگو تک محدود  رکھے ۔۔۔۔

آواز کے ساتھ انٹرنیٹ پر گفت وشنید  ۔۔۔  وائس چیٹنگ  :
غیر مرد سے  رابطہ کے لیے آواز یعنی وائس چیٹنگ سے تو ہر ممکن اجتناب ضروری ہے ۔۔۔ کیوں کہ جب ٹائپ کر کے کام ہو سکتا ہے تو آواز کی کوئی ضرور ت باقی ہی نہیں رہتی ۔۔۔ اور آواز فتنوں سے زیادہ قریب کر دیتی ہے۔

ٹائپنگ کر کے گفت شنید کرنا  یعنی پرائیوٹ چیٹ :
اگرچہ یہ گفت شنید بذات خود حرام نہیں ہے ۔۔۔ نہ ہی علماء نے اس کو خفیہ ملاقات کے برابر قرار دیا ہے ۔۔۔لیکن علماء کے نزدیک پرائیوٹ چیٹنگ کرتے ہوئے فریقین ایک طرح سے اکیلے ہوتے ہیں اور یوں ان کے فتنوں میں پڑنے کا خطرہ موجود ہے ، لہٰذا اس سے بھی اجتناب بہتر ہے ۔
اگر کوئی ساتھی فی الواقعہ اس گفت و شنید کی ضرورت  محسوس کرے  تو اسے فتنوں سے محفوظ بنانے کے لیے بہتر ہے کہ
یہ گفتگو مختصر سے مختصر ہو، اسے خوامخواہ طول نے دے
بلا مقصد اور غیر ضروری گفتگو سے مکمل پرہیز کرے
ہنسی مذاق ، لطیفہ گوئی سے مکمل اجتناب کیا جائے
اسے مستقل روایت نہ بنائے
اگر ای میل کے تبادلہ سے معلومات کا حصول ممکن ہو تو چیٹنگ کے بجائے ای میل کا طریقہ اختیار کرے

ای میلنگ :
علماء کے نزدیک ای میل ، معلومات کی حصول کے لیے غیر مرد سے رابطے کا  چیٹ کی نسبت زیادہ محفوظ ذریعہ ہے ، یعنی چیٹ کی نسبت ای میل فتنوں سے دورہے ، اگرچہ  محفوظ پوری طرح یہ بھی نہیں ۔

فتنہ سے کیا مراد ہے :
فتنہ کی تعریف نہایت وسیع ہے ۔۔۔ لیکن یہاں موضوع سے متعلق تعریف ہی پر اکتفا کرتے ہیں ۔یعنی  امتحان اور آزمائش ۔۔۔

علماء کے نزدیک مومن کو جان بوجھ کر کسی ایسے امتحان میں ڈالنا درست نہیں جہاں اس کے ایمان ضائع ہونے یا گناہ میں مبتلا ہونے کا قوی امکان موجود ہو ۔۔۔لہٰذا انٹرنیٹ کے استعمال کا جواز صرف اسی حد تک محدود کرتے ہیں جہاں فتنوں کا خطرہ نہ ہو ۔۔یعنی عورت یا مرد کے بارے میں یہ امکان موجود نہ ہو کہ وہ کسی گناہ میں مبتلا ہوجائیں گے ۔

لہٰذا مناسب یہی ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے کے دوران ہر فرد فتنے اور ضرورت کے درمیان اپنے آپ کو رکھ کر فیصلہ کرلے کہ اس وقت کس سے زیادہ قریب ہے ۔۔

اور اس بارے میں اندازہ کرتے وقت  صرف اپنے بارے میں ہی نہ سوچے بلکہ اگر اسے محسوس ہو کہ وہ خود تو فتنوں سے محفوظ ہے لیکن اس کی وجہ سے فریق مخالف فتنہ میں داخل ہوسکتا ہے یا ہو رہا ہے تو انٹرنیٹ کا استعمال یا گفت وشنید ترک کردے ۔

جنس مخالف کے لیے محبت کے جذبات حلال ہیں یا حرام  :
انٹرنیٹ کااستعمال کرتے وقت گفت وشنید کو محدود سے محدود کرنا اس لیے مفید ہے کیوں کہ اس سے آپس میں انسیت پیدا ہونے کا خطرہ ہے ، اور انسیت دل میں پسندیدگی کے جذبات پیدا کرتی ہے ۔۔۔جسے عرف عام میں محبت کا نام دیا جاتا ہے ۔۔۔
  پسندیدگی کے جذبات کے بارے میں علماء متفق ہیں کہ جنس مخالف کے لیے دل میں محبت کے جذبات نہ تو حرام ہیں نہ ہی حلال کیوں کہ جذبات کے اوپر انسان کااختیار  نہیں ہوتا ۔۔ چنانچہ  جذبات کے بارے میں قیامت کے دن سوال نہیں ہوگا ۔۔۔ لیکن ایسے جذبات کے بعد انسان کیا رویہ اختیار کرتا ہے وہ اہم ہے ۔۔۔ کیوں کہ قیامت کے دن سوال انسان سے اس کے افعال  پر ہوگا نہ کہ محض جذبات پر ۔۔۔ محبت کے جذبات پر دو طرح کا طرز عمل ممکن ہے ایک حلال ہے اور دوسر احرام :

اگر وہ نکاح کا پیغام بھیجے تو یہ جائز اور حلال ہے ۔

جب کہ وہ تمام افعال حرام ہیں جن کی شریعت مطہرہ میں اجازت نہیں
جیسے آپس میں بے تکلف ہونے اور گھلنے ملنے کی کوشش کرنا
بے مقصد اور بلاضرورت گفتگو کرنا جیسے ہنسی مذاق ، ٹھٹھہ بازی ، لطیفے سنانا وغیرہ
آپس میں محبت بھرے پیغامات بھیجنا
قربت کی خواہش کرنا یا قرب کی کوشش کرنا
وغیرہ وغیرہ ۔۔ ۔

یہ تو ہے اسلام کا حکم ہے ۔۔۔ لیکن آج کل کے ماحول اور فتنوں کی بھرمار دیکھتے ہوئے تقویٰ اور ایمان پر قائم رہنا آسان نہیں ۔ چنانچہ اس کا تقاضہ تو یہی ہے کہ آپس میں گفت شنید سے جس درجہ گریز ممکن ہو وہ اختیار کی جائے ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان اور تقویٰ پر چلنے کی توفیق عطا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوں
آمین

غزوۃ الہند میں شریک آپ کا مجاہد بھائی
عرفان بلوچ

22 تبصرے:

ghazi said...

MASHALLAH BHAI ap ne waqai buht ahm masla ko nihayiyat tafsil or khubsurti se paish kia he....
lakin bhai aik baat pochni he ap se k aam tor pr kuch logo ko is se ihtyat ka kha he to wo jawab dete hain k "bi wo to meri sister hi hain me un ko sister hi smjhta ho" in k bare kia kehte hain ulama e din o matin

Anonymous said...

Assalamoalykum wr wb

jazakallah khayran kaseeran brother Irfan . bohat aham owr zaroori topic pr aap nay dobara say respond kiya. Alhumdulillah, mery dil nay iskay har lafz ki tasdeeq ki.
owr ye aik ne'mat hay k aapky dil ka fatwa aik scholar kay fatway say match kr jaaiy Alhumdulillah.
ALLAH apko apni hifzo aman main rakhy owr apki deen kay liyay koshishon ko baar awar kray Ameen, dushmane islam ko zillato ruswaee owr shikast say do char kray owr mujhideen owr musalmano ko ko hr mhaz pr kamyabi owr surkhruee ata kray Ameen.
ALLAH ham sab ko haq pr qaaim rakhy owr islam ka parcham chahaar su lehraay Ameen.

Behna Ji said...

Assalamoalykum
owr surah al ahzab ki is ayat say bhi pta chalta hay k owrat zaroorat kay tehat baat kr sakti hay is shart kay saath kay usky alfaaz ka chunao owr lehja lochdaar owr zoo-maani na ho. owr us say sunay waly mard kay dil main koee ghalat fehmi na paida ho jaiy. owr is treeqay say baat krny ko ALLAH taala nay ''dastoor kay mutabiq'' baat krna kha hay, owr is treeqay say baat krny ki ijaazat di hay owrat ko. yeni business style. stick to to the topic and no useless talk.

32 اے پیغمبر کی بیویو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو کسی (اجنبی شخص سے) نرم نرم باتیں نہ کیا کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض ہے کوئی امید (نہ) پیدا کرے۔ اور ان سے دستور کے مطابق بات کیا کرو

عرفان بلوچ said...

نہیں بھائی جو یہ کہتا ہے کہ یہ تو میری بہن ہے اس لیے میں اس سے بات کر لیتا ہوں یہ طریقہ درست نہیں کیوں کہ وہ بہن نامحرم سے محرم نہیں بن جاتی

میں اس بارے میں تلاش کرکے علماء کی رائے بیان کروں گا

ویسے میرا یقین ہے کہ اسلام اس طرح کے بہانوں کی اجازت نہیں دیتا

Behna Ji said...

Assalamoalykum
ghazi bhaee ye jo log kehty hain k wo to meri behan hay, iska jwab bhi ALLAH taala nya isi surah yeni sura ahzab main day diya hay:

4 خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا رستہ دکھاتا ہے

5 مومنو! لےپالکوں کو اُن کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے۔ اگر تم کو اُن کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔ لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

to jab maan kehny say koee asli maan nahi banti owr baita kehny say koee asli baita nhi banta to behan kehny say koee asli behan nhi ban sakti . haan jaisa k ALLA nay farmaya wo deen kay hawaly say zaroor behan hay taake aap aik taazeem ka jazba apny ooper tari kr lain . magar ye khooni rishta nhi ban jata. owr isi khud sakhta rasam ko toRny kay liyay ALLAH taala nay nabi akram sallalaho alyhe wasallam ka zaynab bint jahash RA say nikaah kr diya.

Anonymous said...

JazakAllah khairan kasira

Hashham saeed said...

Assalam o alykum;
bhai sahab ye moozoo'aat mujahideen main bhi ikhtilaafi hain... barah e karam in moozooat ko ulema ki taraf bhaija karen..... khud mat faisla kia kejiye....

ghazi said...

irfan bhai ap ulama ki ara bta dain ta k bad smjane me asani paida ho jae

وسیم خان said...

جزاک اللہ خیر۔ غزوۃالہند بلاگ ایک زبردست بلاگ ھیں۔ اللہ اپکو جزائے خیر دے امیں یا رب العلمین

Anonymous said...

waelaikum Salam My Dear and Sweet Bhai i really miss you a lot Qassam say but i am sorry mujh say abhi tak music nahi giya or na hi kami ayi hein really mein apsay jhoot nahi bhoolungi because jhoot halak karta hein ap dua karain plz plz plz

Anonymous said...

Irfan Balooch akhi i also agree with you ,
JAZAK ALLAH KHAIR
Shiraz

ارم شاہ said...

اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے

ضیاء الحق said...

ماشاءالله ماشاءالله...الله سب مسلمان كو ايسا توفيق فرمائين!

Anonymous said...

jazakallahu khairan .

Tausif Hindustani said...

آپ نے حضرت عمر رضی الله عنہ و حضرت اسماء کی مِثآل دی ہے ، ہمیں یہ بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کی یہ پردہ کا حکم نافذ ہونے سے پہلے کا ہے یہ بعد کا ؟ اور ہمیں وہ حدیث بھی محل نظر رکھنی چاہئے جس میں نبی صلی الله علیہ وسلّم نے نابینا صحابی عبد الله ابن مکتوم سے حضرت عائشة کو پردہ کرایا تھا

عرفان بلوچ said...

توصیف بھائی آپ نے اچھا سوال اٹھایا ہے ۔ جیسا کہ اس واقعہ میں ہی درج ہے کہ یہ ہجرت کے ساتویں برس کا واقعہ ہے جب کہ پردے کے ابتدائی احکامات سورۃ الاحزاب میں اور پھر سورۃ النور میں نازل ہوئے ہیں ۔

احزاب ہجرت کے پانچویں برس میں نازل ہوئی جب کہ سورۃ النور غزوہ بنی المصطلق کے موقعہ پر یعنی چھٹے برس میں نازل ہوئی ہے

چنانچہ یہ واقعہ یقینی طور پر پردے کے احکامات کے بعد کا ہے

Anonymous said...

Irfan Bhai apki is post say pata chalta hain k ap iskay haq mein hain k larkiya net use karain or facebook bhi use karain.
Gustakhi maaf
Agar apkay dil mein islam ka gham hota to ap kabhi yeh fatwa jari nahi kartain kyun k jaha say fitnay anay ka andhaisha ho wo raasta hi band kardo behtar hain.
Magar apnay to larkiyon ko jawaz day diya ab to wo samjahingi k wo haq per hain k net use karti hain or islami knowlegde parhti hain magar is islami knowlegde k sath unkay qaddam kitnay agay nikal jatay hain iska apko andaza ya tajarba sayid ho kyun k larko ka yeh haal hain to larkiyaan to tanhayi mein 2 hath agay nikal jati hain
Apka bhai
Altaf Rashid

Behna Ji said...

Assalamoalykum
hazrat umar RA owr hazrat asma RA ki misaal yhan pr awaaz kay parda honay main narmi ya choot kay baary main hay, warna owrat kay chehray owr jism kay parda honay kay baary main to kisi shak ki gunjaish nhi hay. yeni owrat chehray ko hr haal main chupa kr bhi zaroorat kay waqt baat kr sakti hay.

isi liyay quraan main hay k ''jab tum nabi sallalaho alyhe wasallam ki azwaj say koee cheez mango to parday kay peechay say mango k ye tumhary owr unky dilon ki pakeezgi kay liyay behtar hay''.
owr abdullah ibne maktoom RA owr hazrat aisha RA wali hadees isi sy mutalliq hay.yeni face to face honay say bachna.

عرفان بلوچ said...

بھائی یہ میری ذاتی رائے نہیں ہے آپ لنک دیکھ لیجیے

جو بات بار بار دہرانے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ انٹرنیٹ کا استعمال بذات خود جائز ہے لیکن جہاں فتنہ محسوس ہو وہاں سے دور ہو جانا چاہیے اس لیے عموما گھروں میں نوجوان لڑکیوں کو انٹرنیٹ کے استعمال سے روکا جاتا ہے اور عام طور پر یہی طریقہ صحیح ہے یعنی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرنے میں پابندی لگانا درست ہے۔ یعنی جن کے متعلق فتنوں میں پڑنے کا اندیشہ زیادہ ہو

Tausif Hindustani said...

Irfaan bhaijaan zara tasweer ke istemal par bhi ulmaa karaam ki raai batanae ki zehmat karen kyonki ye buraai aajkal aam hai , aur sabhi taseer ke bare men hadees jante hain ? zara iske baare men tafseel se koi post yahan publish karen

Muhammad Rafiq Khan said...

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عرفان بھائی اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے آپکے لئے اور باقی تمام مجاہد ساتھیوں کے لئے دعا گو ہوں ۔بھائی آپ نے ایک مضمون لکھا ہیں جس کا عنوان ہیں عورت کی آواز اور خواتین کا انٹرنیٹ پر کردار۔اس پر صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ نے شیخ انو ر العلوقی کی جو آراء نقل کی ہیں اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہیں کہ عورت کو انٹرنیٹ استمعال کیا جانا چاہیے اورانٹرنیٹ سے دین کی معلومات لینی چاہیے ۔بھائی پہلی بات تو یہ ہیں کہ ماڈرن لڑکیوں کے لئے یا ایسی لڑکیوں کے لئے جو باہر ملک میں رہتی ہیں کیوکہ وہاں اسلامی احکامات کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی خاص کر پردے کے معاملے میں کیوکہ وہاں پر دین کی بات کو بھی نا محرم سے سیکھ رہی ہوتی ہیں وہ بھی بغیر کسی پردے کے ایسی جگہیں آپکو باہر کے ممالک میں نظر آئے گی۔اگر انکے لئے یہ فتوی دیا جائے تو بجا ہوگا لیکن اگر سب پر اس کو منطبق کیا جائے تو شاید خیر کے بجائے شر نکل آئے۔خیر۔بھائی آپ نے صرف شیخ امام انور العلوقی پر اکتفاء کیا اس پر مجھے تشویش ہیں آپ قرآن حدیث ،پھر صحابہ ،تابعین آئمہ اور جمہور علماء کی رائے نقل کرتے اور اس خطے کے جید علماء حق کی بھی آراء نقل کرتے اور دیگر کی بھی کرتے تو بات صیح سمجھ آتی مگر صرف شیخ امام انور العلوقی کی بات پر اکتفاء کرنا میں سمجھتا ہوں مناسب نہیں۔

وسلام

آپکا بھائی

ام تیمیہ said...

السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اس بلاگ کو بہت عرصہ سے دیکھ رہی ہوں ، بے حد عمدہ ہے ، بہت سادہ انداز میں بہت اہم بات اور اہم بات پیش کردینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماشآءاللہ
بہت ساری دعائیں آپ بھایئوں اور تمام مجاہد بھائیوں کے لئے ، اللہ تعالی سب کی تمام کاوشوں کو قبول فرمائے اور شہادت کی اعلی منزل عطا فرمائے ۔۔۔آمین

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ