Subscribe:

Friday, July 8, 2011

غزوۃ الہند بلاگ کے نام


بسم اللہ والحمدللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ و بعد،
محترم منتظم غزوۃ الہند بلاگ  کے نام،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ آپ کی  اور ان تمام بھائیوں کی مساعی کو شرفِ قبولیت بخشیں جو نیٹ پر مختلف سائیٹس، بلاگز اور فورمز وغیرہ کے ذریعے اردو زبان میں دعوتِ جہاد کے فروغ کا کام کر رہے ہیں۔یقیناً یہ ایک نہایت اہم محاذ ہے۔ اللہ تعالیٰ مجاہدین کا دفاع ونصرت کرنے پر آپ سب حضرات کو بہترین جزا سے نوازیں، آمین!
میرے محترم بھائی!
آپ کے بلاگ پر گزشتہ دنوں ‘انفرادی جہاد’کے حوالے سے ایک بحث پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس بحث میں بعض قابلِ اصلاح و توجہ باتیں دیکھنے کو ملیں، اس لئے آپ کے نام یہ مختصر سی تحریر لکھنے کا ارادہ کیا۔ اللہ رب العزت موافقِ حق بات کہنے کی توفیق دیں:
عرض یہ ہے کہ‘انفرادی جہاد ’ کا جو نظریہ آپ نے یہاں بحوالہء شیخ ابو مصعب سوری فک اللہ اسرہ ذکر کیا، اسے  پاکستان کے احوال پر پوری طرح منطبق کر دینا درست نہیں۔ ایک تو اس لئے کہ شیخ ابو مصعب سوری نے اپنی کتاب میں مسلم ممالک پر مسلط افواج کے خلاف قتال کی بجائے  امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے خلاف قتال کے پس منظر میں گفتگو کی ہے۔دوسرا ، اس لئے بھی کہ مجاہدین کے کسی مفکر و داعی  کی کتاب میں ایک تحریر کا موجود ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آج فلاں میدان میں وہ تحریر  ایک باقاعدہ حکمتِ عملی کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔حکمتِ عملی تو حالات و واقعات کے پیشِ نظر بدلتی رہتی ہے اور اس کو جاننے کے لئے مجاہدین کی موجودہ قیادت سے رجوع کرنا لازم ہے۔ادارہ السحاب کی ایک تازہ فلم: ‘‘لا تکلف الا نفسک’’ میں انفرادی جہاد کا نظریہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، لیکن بنیادی طور پر مغربی ممالک  میں جہاد کے لئے۔ فلم کے دوسرے جزء میں شیخ عطیۃ اللہ حفظہ اللہ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ:
‘‘جب تک اور جہاں تک ممکن ہو مجاہدین کو ایک جماعت تلے اکٹھے ہو کر ہی جہاد کرنا چاہیے  اور یہی مطلوب ومثالی صورت ہے۔لہٰذا جن ممالک میں جہاد کا دروازہ کھل چکا ہے اور وہاں کوئی ایسی جماعت  موجود ہے جو جہاد کے شرعی منہج پر قائم اور فرضیتِ جہاد کی ادائیگی میں عملاً مصروف ہے؛ تو ایک  مسلمان کو چاہیے کہ وہ ایسی  جہادی جماعت تک پہنچ کر ، اس کے ساتھ مل کر ، اس کے جھنڈے تلے ہی جہاد کرے۔’’
 الحمدللہ آج پاکستان میں جہاد کا باقاعدہ دروازہ کھل چکا ہے اور یہاں شرعی منہج پہ قائم جہادی جماعتیں بھی موجود ہیں، لہٰذا انہی کے ساتھ مل کر، ان کی قیادت تلے اور ان کی رہنمائی کے مطابق جہاد کیا  جانا چاہیے۔اس کے سوا جو بھی صورت اختیار کی جائے گی وہ جہد کو ضائع کرنے اور مصلحتِ جہاد کو نقصان پہنچانے کا باعث ہو گی۔مجاہدین پاکستان میں جہادی تحریک کھڑا کرنے کے حوالے سے اپنی ایک سوچ، فکر اور حکمتِ عملی رکھتے ہیں۔جہاد کی مصلحت اسی میں  ہے کہ پاکستان کا  پورا محاذ اسی ایک حکمتِ عملی کے تحت چل رہا ہو۔ اگر جہاد سے منسلک افراد کو  آزاد چھوڑ دیا جائے  کہ وہ انفرادی طور پر جو قدم مناسب سمجھیں وہ اٹھائیں، تو اس سے انتشار ہی پھیلے گا۔لہٰذا اس نظریے کو پاکستان پر منطبق کرنا درست نہیں  ہو گا۔ یہ نظریہ تو ان علاقوں ، خصوصاً ان بلادِ کفار کے لئے ہے  جہاں باقاعدہ جہادی جماعتوں کا وجود نہیں اور انفرادی جہاد ہی وہاں کے لئے بہترین حکمتِ عملی ہے؛ اگرچہ وہاں کے لئے بھی شیخ عطیۃ اللہ حفظہ اللہ نے یہی تاکید کی ہے کہ مجاہدین کی قیادت کے بیانات وغیرہ سن  یا پڑھ کر مجاہدین کی حکمتِ عملی کے عمومی خد وخال پھر بھی معلوم کئے جائیں، تاکہ کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جائے جو الٹا عالمی تحریکِ جہاد کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رشد وہدایت پہ قائم رہنے کی توفیق نصیب فرمائے  ، ہماری لغزشوں سے درگزر فرمائے  اور ہمیں شہادت کی موت اور خاتمہ بالخیرعطا فرمائے، آمین!
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
دعاؤں کا طلبگار
احمد فاروق

14 تبصرے:

ghazi said...

ASSALAM O ALIKUM WR WB
ustad e muhtram mje buht khushi he k ap b yhi hain hamare darmiyan......ustad mere liye dua ki jiye ga...ALLAH seht aata frmain or ap bhaio k drmian wapsi phir mumkin ho jae.ameen.
mje ap ki duao ki sakht zarorat he.
ASSALAM O ALIKUM WR WB

عرفان بلوچ said...

ابو جرار کے نام !!

تبصروں سے موڈریشن ہٹانے کا مشورہ دینے کا شکریہ لیکن یہ مشورہ قابل عمل نہیں ہے ۔

چلیے ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ ہم آپ کی طرح علمی موشگافیوں کے ماہر نہیں ہیں

ہمارا حال تو اس سادہ سے مسلمان کا ہے جو شریعت میں جہاد کا حکم پاتا ہے اور اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لیے یہ ضروری سمجھتا ہے کہ حکم کے آگے سر اطاعت جھکا دیا جائے ۔۔ اور چوں چرا بالکل نہ کی جائے

تاکہ ہم بہانے بازیاں اور عذرات تراشنے والوں سے اپنا راستہ جدا کرلیں کہ خدانخواستہ ہمارا شمار بھی ان منافقین میں نہ ہو جائے جن کے احوال بیان کر کے قرآن عظیم نے ہمیں خبردار کر دیا ہے

جو کہتے کہ خدایا کچھ اور مہلت کیوں نہ دے دی
ابھی تو ہم اس کے لیے تیار ہی نہیں تھے

عرفان بلوچ said...

ابو جرار صاحب

آپ کو تکلیف تو ہوئی ہوگی کہ آپ کے سابقہ تبصرے بھی ہٹا دیے گئے ہیں لیکن یہ اس تکلیف اور پریشانی سے کم ہے جو ہمیں مرجئہ مذہب کے پیروکاروں سے پہنچ رہی ہے

ویسے یہ تبصرے ہٹانے کا مقصد آپ کو تکلیف دینا نہیں ہے

جس ایک کو راضی کرنے کی فکر ہے وہ خوش ہوتا ہے تو پھر ساری دنیا کی ناراضگی کی بھی کوئی پرواہ نہیں

Behna Ji said...

Assalamoalykum
brother irfan aap ny acha kiya wo tabsra hta diya, aik nagwari ka ehsas tha uski wja say, ab aisy lagta hay jaisy koee daagh mit gya Alhumdulillah. ye ghazwatul hind blog hay owr jo is kay ghazyon kay hi khilaf ho uska yhan kiya kaam!!

haq kabhi bhi baatil kay saath compromise nhi krta. jisko ''freedom of speech'' chahyay wo apna blog bnaiy owr us pr apni pasand kay tabsry kray. owr moderation htanay ka matlab aisa hi hay k aap apny ghar ki rakhwali choR dain!

Behna Ji said...

Assalamoalykum

shahnwaz farooqi aaj kal mery favourit writer/orator hain aap bhi inko sunyay please:

http://www.youtube.com/watch?v=eSQf1Yqsbf0

Anonymous said...

as'salam alaikum wrwb!

jazak'Allahu khair app ne ABU JARAR KA woh tabsara hata dya

Abu ATTA

عرفان بلوچ said...

بے شک شاہنواز فاروقی بہت اچھا لکھ لیتے ہیں

اور بعض اوقت بالکل ٹھیک ٹھیک لکھتے ہیں یعنی دیگر کالم نگاروں کے برعکس حق کو حق لکھ دیتے ہیں

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان کو بہترین بدلہ دیں

آمین


ابوجرار !! الحمدللہ ڈر کر کوئی نہیں بھاگا
اور ہمت ہے تو جواب دیں ، اور لعنت ہے ایسے اسلام پر کہنے سے آپ سمجھتے ہیں میں جذباتی ہوجاؤں گا

اصل بات یہ ہے کہ آپ مجاہدین سے اختلاف کرتے ہوئے دور جا نکلتے ہیں ۔ پہلے بنیادی مسئلہ حل طلب ہے مہربانی فرما کر اس کی وضاحت کر دیں

مناسب محسوس ہوا تو بلاگ پر نشر بھی کر دیا جائے گا

سوال نمبر ا:

آپ یہ بتائیں کہ کیا آپ کے نزدیک حملہ آور کافر کے دفاع میں جہاد مسلمانوں پر فرض عین ہوتا ہے یا نہیں

سوال نمبر ۲
اگر اتفاق سے آپ کا جواب ہاں میں ہو تو یہ بتائیں کہ کیا امریکہ حملہ آور کافر ہے یا نہیں

سوال نمبر ۳
جنگ میں حملہ آور کافروں کا ساتھ دینے والے مسلمانوں کے بارے میں کیا حکم ہے


جواب مختصر اور ٹو دی پوائنٹ ہونے چاہیے فضول قسم کی موشگافیوں سے پرہیز کیجیے گاامید ہے حق کو پالیں گے

ابو جرار said...

جواب نمبر ا ۔ ہاں
جواب نمبر ۲ ۔ ہاں

جواب نمبر ۳ ۔ پہلے تو آپ یہ ثابت کر دیں کہ کوئی ان کا ساتھ دے رہا ہے میں ثابت کر سکتا ہوں کہ پاکستان امریکہ کا ساتھ اس کو ہرانے کے لیے دے رہا ہے

اور جنگ احد میں عبداللہ بن ابی نے کس کا ساتھ دیا تھا لیکن حضور نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا

عرفان بلوچ said...

شاباش !!! حضرت آپ کو ثابت کرنے کے لیے محنت کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔ کیوں کہ ہر کسی کے دماغ میں خلل نہیں ہے

واہ ۔ واہ ۔ کیا بات ہے

پاکستان اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ اس لیے دے رہا ہے کہ اسے شکست دینا چاہتا ہے

بڑے بڑے لطیفے سنے ہیں ۔۔۔ لیکن حیرت ہے اس جیسا نہ سنا ۔۔۔ یہ لطیفہ نیا معلوم ہوتا ہے

یعنی سیکنڑوں مسلمانوں کو ہزاروں لاکھوں ڈالروں کے عوض اس لیے فروخت کیا تھا تاکہ امریکہ معاشی بوجھ تلے دب جائے اور امریکہ سے ڈالر بٹور کر اسلامی ریاست کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے
اور اتنے ڈھیر سارے قیدیوں کے اخراجات اٹھا اٹھا کر امریکہ کی کمر دوہری ہو جائے



اور عافیہ صدیقی بہن کو امریکہ کے حوالے اس لیے کیا تھا تاکہ وہ عورت کے فتنے میں مبتلا ہر کر دیوانہ ہو جائے

اور سوات میں مسلمانوں کی بستیوں کو کھنڈرات اس لیے بنایا تھا تاکہ امریکہ خوشی میں ناچے اور جھوم جھوم کر ڈھیر ساری شراب پی لے اور جب بری طرح مست ہو جائے تو گردن پر ایک چپیڑ لگا دی جائے

اور وزیرستان میں مسلمانوں کے اوپر بم باری اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ مقتولین کے ورثاء کو امریکہ سے انتقام کے جذبے سے بھر دیا جائے

اور پشاور کے بازاروں میں دھماکے اس لیے کروائے تھے تاکہ پٹھانوں کو امریکہ اور بلیک واٹر کے خلاف کھڑا کر دیا جائے


آپ کی دماغی حالت جو بھی ہو ۔۔۔ لیکن اس لطیفے کا جواب نہیں واقعی

Behna Ji said...

Assalamoalykum
lateefa waqee khoob hay.:)

jarar bhaee jis haar ki baat kr rhy hain wo is lateefay say sabit hoti hay.

irfan:tumhara football owr cricket ka match kais rha amrika kay saath?

jarar:brabar rha

irfan: acha wo kaisay

jarar: football wo jeet gay owr cricket ham haar
gay.:)

عبداللہ انصاری said...

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم بھائی عرفان بلوچ! کیا اس تحریر سے یہ سمجھا جانا درست ہے کہ مغرب میں انفرادی جہاد کی حکمت عملی ایک مجبوری کے تحت ہے،(یعنی انفرادی جہاد کا بہترین حکمت عملی قرار پانا مجبوری کی بنا پر ہوا) اور اس مجبوری کو انتشار کے پھیلنے پھر فوقیت حاصل ہے۔ تو کیا اگر اسی قسم کی صورتحال پاکستان میں کسی مسلمان بھائی تو درپیش ہو(جیسے رابطہ نہ ہوپانا یا مشکل ہونا) تو اس کیلئے انفرادی جہاد کیسا ہے؟ نیز مغرب میں انفرادی جہاد کے بہترین حکمت عملی ہونے میں صرف باقاعدہ جہادی جماعتوں کی غیرموجودگی ہی ایک وجہ ہے یا اس کی کچھ اور وجہ بھی ہیں؟

السحاب کی تازہ ریلیز : لا تکلف الا نفسک ، اگر انگریزی یا اردو میں دستیاب ہو تو اس کا لنک دے دیں۔
والسلام

عرفان بلوچ said...

عبداللہ انصاری بھائی !! یہ تحریر میری نہیں ہے

اس معاملے پر میری سابقہ رائے برقرار ہے لیکن امیر کی اطاعت مقدم ہے
اس لیے میں اس پر کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا

Anonymous said...

irfan bhai aik tou app ameer ki ataat ki baat kar rahe ha dosri taraf apni baat par bhi qaim han ye kya majra ha??????

allah app ki aur degar bhaio ki hifazat kare..
ameen

Anonymous said...

very important, asalam-u-alakim.irfan bhai shayed apko yad hoga tkribn aik sal howa ta mene apko kha ta ke me alqaida me shamoliyat hasil krna chata ho.to apne mje reply dya ta ke agr tmhare niyat saf ho to zror tmhe rasta mil jaye ga,our hr wkt alah tala se dua manglo .beshk apka bat she ta.aj alhmdulilah me ustad ahmad farooq(hafizaholah) ki group me shmoliyat hasil ki our me unke drmiyan me ho alhmdolilah.alah tala apko hifazat de our me tmhare lye dua go rhonga.apka bhai(abu-ul-bara ,bannu) reply me

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ