Subscribe:

Tuesday, July 12, 2011

وصیت شہید ابو دجانہ خراسانی



وصیت شہید ابو دجانہ خراسانی رحمہ اللہ

یہ جہاد فرض عین ہے  .... !
پھر تردد کیسا.... !



شہید ڈاکٹر ہمام خلیل محمد ابو ملال (ابو دجانہ خراسانی ؒ ) نے خوست (افغانستان ) میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے مرکز پر شہیدی حملہ کیا اور افغانستان ، پاکستان ، عراق اور اردن میں تعینات صلیبی افواج اور ان کے جاسوسی اداروں کے متعدد افسران اور ان کے معاونین کو جہنم واصل کیا ۔

یہ تحریر شہید رحمہ اللہ کی ریکارڈ کردہ گفتگو کی مدد سے تیار کی گئی ہے ۔ان کا صوتی پیغام ادارہ السحاب کی جانب سے نشر کیا گیا ۔
جس کا ترجمہ حافظ معاذ خان نے کیا اور ادارہ السحاب برائے نشر و اشاعت نے اسے کتابی صورت میں بھی نشر کیا ۔

ہماری ادارہ السحاب سے درخواست ہے کہ اس قسم کے مفید پیغامات کا یونی کوڈ افادہ عام کے لیے
 جہادی ویب سائٹس کے منتظمین کو بھی ارسال کیا جائے تاکہ دوبارہ ٹائپ کرنے کی زحمت سے بچا جائے





الحمد لله الواحد المتعال . والصلوٰة والسلام علی الضحوک القتال . سیدنا محمد وعلی آله وصحبه اجمعین  . ومن سار علی هديهم الی یوم الدین

پوری دنیا میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیوں کے نام ....السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اما بعد!

میں یہ مختصر پیغام ہر اس مسلمان کو جہاد فی سبیل اللہ پر تحریض دلانے کے لیے چھوڑ رہا ہوں جو اس شش و پنج میں ہے کہ آیا وہ عزت و سربلندی کے راستے پر نکلے یا ذلت کے ساتھ پیچھے بیٹھا رہے ۔

اے میرے بھائی !۔۔۔ میں آپ کے لیے یہ پیغام اس یقین کے ساتھ چھوڑ رہا ہوں کہ آپ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجاہدین کے قریب ہیں ۔ تقریباً  ہر مجاہد کو جہاد کے میدانوں میں آنے سے قبل شش و پنج اور تذبذب کے انہی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ تاہم کچھ لوگ ان مراحل کو چند دنوں ، چند گھنٹوں یا چند گھڑیوں میں طے کر جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کے لیے یہ دورانیہ بڑھتا ہی جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ ان کی زندگی کی شام ہو جاتی ہے مگر وہ یہ فیصلہ نہیں کرپاتے  ۔

میرے پیارے بھائی !۔۔۔ یہ مت سوچیے کہ آپ کے اس مسکین بھائی کو آپ کی کیفیات کا اندازہ نہیں ہے ۔ میں نے آپ لوگوں کے درمیان اتنا طویل عرصہ گزارا ہے کہ میں اپنے آپ کو آپ کے احساسات کے بہت قریب محسوس کرتا ہوں ۔ ایسا لگتا کہ جیسے میں آپ کے شعور اور لا شعور کے درمیان اس کھینچا تانی کا نظارہ کر رہا ہوں جس نے جہاد کی اس محبت کو ابھر آنے سے روکے رکھا ہے جو آپ کے دل کی گہرائیوں تک میں اتری ہوئی ہے ۔ اسے لوگوں کے سمندر میں ایک اجنبی کی طرح دربدر کر رکھا ہے ۔۔۔ ایک تنہا اداس دل کی طرح ۔۔۔ جو ہر دم کسی ہم نشین کی تلاش میں ہو ۔

میرے یہ الفاظ دراصل آپ کے اپنے نہاں خانہ دل کی آواز ہے.... ان الفاظ کی سچائی کی گواہی میرے جسم کے وہ ٹکڑے دیں گے جنہیں میں کل فضا میں بکھیر نے والاہوں .... اس امید کے ساتھ کہ ان کی بازگشت آپ کی سماعتوں سے ہمیشہ ٹکراتی رہے گی....تاکہ اس کے ذریعے میں آپ کے دلوں میں حب ِّجہاد کے بیج بو سکوں.... اگر میں اپنے خون سے ان کی آبیاری کرنے میں کامیاب رہا .... تو ہو سکتا ہے کہ ان بیجوں سے جہاد عظیم کا تن آور درخت پھوٹ نکلے ۔۔۔اور جہاد کی کھیتی آپ کی زندگی میں بھی لہلہانے لگے ۔

کاش ان الفاظ کے سوا آپ کو جگانے کا کوئی اور بھی ذریعہ ہوتا ۔۔۔ تو میں آندھیوں سے پہلے چلنے والی ہواؤں کی طرح اڑ کر آپ تک پہنچ جاتا ۔۔۔اور آپ میں سے ہر ایک کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے جھنجھوڑتا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے رب تعالیٰ کا یہ فرمان سناتا :

 اِلاَّ تَنفِرُوا یُعَذِّبکُم عَذَاباً الِیماً وَیَستَبدِل قَوماً غَیرَکُم وَلاَ تَضُرُّوہُ شَیئاً [ التوبه: 39]
اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گااور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے ۔

اے کاش ....! میرے پاس سر کے بالوں جتنی روحیں ہوتیں....تو میں مساجد کے میناروں پہ چڑھ کر جمعہ کے روز یہ منادی کرتا کہ.... حی علیٰ الصلوٰة ....پر لبیک کہنے والو....!کیا.... حی علیٰ الجہاد ....کوسرے سے بھولے بیٹھے ہو۔

آخر کب تک جہاد کی محبت خیالوں اور زبانی دعووں تک محدود رہے گی ؟؟ کب تک یہ محبت مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر شرمندگی کے چند آنسو بہا لینے ۔۔۔۔ یا کوئی ترانہ سن کر ۔۔۔ یا کوئی نظم پڑھ کر پیدا ہونے والے وقتی جوش سے آگے نہیں بڑھ پائے گی ؟؟؟ کب تک آپ اسے فارغ وقت گزارنے کے لیے ایک مشغلہ بنائے رکھیں گے ؟

ہمیں نہ تو باذوق ناظرین کی تلاش ہے اور نہ ہی ہمدردانہ جذبات کی ۔ ہم تو آپ کو مجاہدین کی صفوں میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اور ہم اس کے لیے کوشاں رہیں گے جب تک کہ آپ  راہ جہاد کے راہی نہ بن جائیں ۔ ہم اپنی دعوتی نشریات کے ذریعے آپ تک پہنچیں گے ۔ہم اپنی دعوت کے ذریعے آپ کے لئے تحریضی گھات لگائیں گے....اپنی نشریات کے ذریعے آپ کے لئے ترغیب کی سرنگیں بچھائیں گے....شاید کبھی اس کی چنگاری سے آپ کی فکر جگمگا اٹھے ....اور ممکن ہے کہ آپ کے دل بے تاب ہوجائیں کہ آپ بھی ابطال امت کے ہم رکاب ہوجائیں ....چاہے اس مقصد کے لیے ہمیں دشمن کی طرف سے اپنی توجہ کم ہی کیوں نہ کرنی پڑے ....اورجب تک آپ ہم سے آ نہیں ملتے....ہم آپ کی تلاش جاری رکھیں گے....!کبھی کوئی سنہراخواب آپ کو اپنی طرف کھینچے گا اور کبھی کوئی ڈراؤنامنظر آپ کا پیچھا کرے گا ....تاکہ آپ کے امن و سکون میں خلل آجائے ۔۔۔اور مجاہدین کا ساتھ نہ دینے کی خلش بن کرزندگی کو آپ کے لئے اور بھی دشواربنادے ۔

ہم آپ کو خفیہ پیغامات بھیجیں گے....ایسے پیغامات جنہیں صرف آپ ہی سمجھ سکیں گے....یہ پیغامات آپ کو اخبارات میں،جرائدمیں ،انٹرنیٹ پر....غرض ہر جگہ ملیں گے....ہماری جوخبربھی آپ پڑھیں گے وہ آپ کو اپنی ہی خبر لگے گی....!ہمارے متعلق ہر بحث آپ سے آپ کے بیٹھ رہنے کا شکوہ کرتی دکھائی دے گی....!ہر جملے میں آپ کو اپنا نام سنائی دے گا....اورہر سطر اورہر منظر میں آپ کو اپناہی عکس دکھائی دے گا....گویا آپ مجاہدین کے ہاں مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہو چکے ہوں....آپ محسوس کریں گے کہ گویا مجاہدین کو پوری دنیا میں آپ کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں....اورقتال پر اس تحریض کا ہدف.... آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں....یہاں تک کہ آپ ہم سے آ ملیں۔

صریح آیات کے معانی اور احادیث صحیحہ کی عبارتیں آپ کا پیچھا کریں گی ۔ سیرۃ ابن ہشام کے ابواب اور اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ کی سطور آپ کو ابھاریں گی ۔ یہاں تک کہ آپ یہ تصور کرنے لگیں گے کہ جیسے عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ فلوجہ کے معرکہ میں شہید ہوئے ہوں اور جیسے انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے خوست میں فدائی حملہ کیا ہو ۔ جہاد سے دور رہ کر آپ کے مشاغل آپ کے لیے پر لطف نہیں رہیں گے ، یہاں تک کہ آپ کو عبادات میں بھی مزہ نہیں آئے گا ۔ہم آپ کو بار بار بلاتے رہے گے ....یہاں تک کہ آپ ہم سے آملیں۔

میرے ایمان کے ساتھیو! ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے طواغیت کے ذریعے اس امت کا امتحان لیا ہے ۔۔ جو لوگوں کو دین سے دور کر رہے ہیں ۔سنتوں کو ترک کیا جارہا ہے ، بدعات کی ترویج جاری ہے ۔ فطرتوں کو مسخ کیا جارہا ہے اور جہاد کو بہت سے مسلمانوں کی نظروں میں دیوانوں کا کھیل بنا دیا گیا ہے ۔ شیاطین جن کے علاوہ شیاطین انس بھی مسلمانوں کے راستے میں بیٹھ کر انہیں جہاد فی سبیل اللہ سے روک رہے ہیں ۔ وہ ان سے کہتے ہیں ۔۔۔ کیا تم جہاد فی سبیل اللہ میں جاکر اپنے آپ کو مرواؤ گے ، اپنی بیوی سے کسی اور کو شادی کرنے دوگے ، اپنے بچوں کو یتیم کرواؤ گے ؟ وہ یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم اپنی خوبصورت بیوی کس کے لیے چھوڑ دوگے ؟ کون تماری بوڑھی ماں کی خدمت کرے گا؟ کون تمہارے ضعیف باپ اور ننھے بچوں کا خیال رکھے گا؟ اور تم اپنی بہترین ملازمت اور خوبصورت مکان کو چھوڑ کر کیسے چلے جاؤ گے ؟

 لیکن اگر آپ انہیں یہ بتائیں کہ آپ جہاد پر نہیں جا رہے بلکہ آپ  تو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے یا اعلیٰ دنیاوی علوم کا کوئی کورس کرنے جارہے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ خوشی سے ان کے چہرے کھلے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنے وقت ، مال اور مشوروں سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کے ساتھ سفر کی بھرپور خواہش رکھیں گے ، چاہے انہیں سوٹ کیس میں ہی گھس کر جانا پڑے ....سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ:

لَو کَانَ عَرَضاً قَرِیباً وَسَفَراً قَاصِداً لاَّتَّبَعُوکَ وَلَکِن بَعُدَت عَلَیهِمُ الشُّقَّةُ [التوبه: 42 ]
 اگر مالِ غنیمت ملنا آسان اور سفر ہلکا ہوتا تو تمہارے ساتھ شوق سے چل دیتے لیکن مسافت اُن کو دور نظر آئی

دیکھنا میرے بھائی محتاط رہنا....! گھر والوں اور دوستوں یاروں کی شکل میں موجود یہ دشمن کہیں تمہیں جہاد سے روک نہ دیں....!بچنا ان کے دھوکے سے ....بچنا ان کے فریب سے....!اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:

 یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اِنَّ مِن اَزوَاجِکُم وَاَولَادِکُم عَدُوّاً لَّکُم فَاحذَرُوهُم  [تغابن:14]
اے ایمان والوبلا شبہ تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں تمہارے دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار رہنا

سو اے اللہ کے بندے!حق کو پہچاننے اور اس کی حلاوت دل میں محسوس کر لینے کے بعد دوسروں کی خواہشات کی پرواہ مت کرو....!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب جیسے نہ بننا جسے معلوم تھا کہ اس کا بھتیجا اللہ کا سچا نبی ہے....لیکن جب موت کا وقت آیا تو لوگوں کی خواہشات سے متاثر ہوکر آخری لمحے یہ کہہ کر جان دے دی.... کہ میں قریش کے آباؤجدادکے دین پر مرتا ہوں۔

اے جہاد کی دعوت سمجھ کر بیٹھ رہنے والے....!جب تمہارے بسترِ مرگ پر وہ لوگ اکٹھے ہوں گے جو جہاد کو موت.... اور بیٹھ رہنے کو تحفظ کا ضامن قرار دیتے تھے.... تو ان میں تم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا بھی سوائے چند آنسو بہانے اور آہیں بھرنے کے کچھ نہ کر سکے گا....جب کہ دیگر لوگ تمہارے کفن دفن اور ہسپتال کے اخراجات کا بندوبست کرنے میں مصروف ہوں گے....موت کے یقینی آثار دیکھ کر.... تمہاری میز پر پھولوں کا ایک گلدستہ رکھ کے.... شفایابی کی چندجھوٹی تسلیاں لکھ کرچلتے بنیں گے....لیکن اُس وقت تمہیں میری یہ باتیں یاد آئیں گی....مگر پھر ندامت کے سوا تمہارے ہاتھ میں کچھ نہ ہوگا...شہداءکے تصوراتی چہرے تمہیں دکھائی دینے لگیں گے....کبھی سیدناحمزہ بن عبدلمطلب رضی اللہ عنہ،کبھی سیدناانس بن نضر رضی اللہ عنہ،کبھی عبداللہ عزام ،کبھی ابو مصعب الزرقاوی،کبھی ابو اللیث اللیبی اورکبھی ابو الجہاد المصری رحمہم اللہ....پھر اپنی یہ زندگی تمہیں ایک سراب نظر آنے لگے گی ....اور تم سوچو گے کہ موت نے تمہیں ذرا مہلت نہیں دی....اُس وقت تمہیں احساس ہو گا کہ تم نے بڑے خسارے کا سودا کیا ....اور یہ جو تمہارے اردگرد جہاد کی راہ میں روڑے اٹکانے والے کھڑے ہیں.... انہوں نے تمہیں دھوکے میں مبتلا کئے رکھا....پھر تمہیں اندازہ ہو گا کہ تمہارے اور اُن مجاہدین میں جن سے تم محبت کرتے ہو.... اور جن کے راستے کو حق سمجھتے ہو....بہت فرق ہے....کیونکہ اُنہوں نے اُس راہ میں جان دی جس سے اُنہیں محبت تھی....اور تم نے اس راہ میں جان دی جس سے تمہارے گردوپیش کے لوگوں کو محبت تھی ۔ولا حول ولا قوة الا باللہ

میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں....شاید یہ آپ کو جہاد کی طرف راغب کر سکے....یہ احمد نامی ایک غیر عرب شخص کا واقعہ ہے جو کہ کرسی سے اٹھنے سے بھی قاصر تھے....وہ دونوں ٹانگوں سے معذور تھے اور زمین پر اپنے ہاتھوں کے بل چلتے تھے....لیکن خود داری کے وہ پیکر ‘پھر بھی جہاد کی خاطرارضِ خراسان میں اپنےمجاہد بھائیوں سے آملے....جب وہ مجاہدین کے مرکز پہنچے تو انہوں نے امیرِ مرکز سے درخواست کی کہ وہ ان کا نام رات کے پہرے میں شامل کر لیں....اور جب امیر نے اُن کی دل جوئی کے لیےاُن کا نام فہرست میں شامل کر لیاتواِس خوشی میں.... کہ ان کی آنکھوں کو رات کے پہرے کا شرف نصیب ہو گا....وہ رونے لگے....اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اُس رات میرا بستر اُن کی کرسی کے بالکل ساتھ تھا....اور مجھے ساری رات ان کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا رہا....پہرہ شروع ہونے سے لے کر فجر تک وہ پوری توجہ سے پہرہ بھی دیتے رہے اور اللہ کا ذکر کر کے روتے بھی رہے....مجھے ان پر بڑارشک آیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اپنے اس بندے کو دونوں فضیلتوں سے نواز اہے.... یعنی ایک اللہ کی راہ میں پہرہ دینا ....اور دوسرا اللہ تعالیٰ کی خشیت میں رونا۔

میرا اپنا حال یہ تھا کہ نیند کے غلبے کی وجہ سے کبھی سوتا کبھی جاگتا....لیکن احمد مسلسل پہرہ دیتے رہے....دوسرے لوگ اپنی باری مکمل کرکے سو جاتے ....لیکن احمد اپنی جگہ قائم رہتے....میں اپنے دل میں سوچتا رہا کہ بھلا ہمارے علاقوں کے لوگ عزیمت کی ان مثالوں سے کہاں واقف ہوں گے.... اُن کے گردوپیش میں تو ہر وقت جہاد سے رکے رہنے ....اور دوسروں کو روکنے والوں کے ....جتھے منڈلاتے رہتے ہیں....اللہ کی قسم! اگر جہاد فی سبیل اللہ میں ایسے لوگوں کی صحبت اور ہم نشینی کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوتا.... تو یہ بھی بہت تھا۔

میرے بھائیوجان رکھو....! جب یقین اور ایمان کمزور ہو جاتا ہے ....اور انسان صرف اپنے حواس ہی پر اعتماد کرنے لگتاہے....تو وہ مادیت سے قریب اور ایمان بالغیب سے دور ہوتا چلا جاتا ہے....پھر وہ دنیا کی زندگی پر مطمئن اور راضی ہو جاتا ہے.... جبکہ آخرت سے بیزارہوکر اس کے ذکر سے بھی کتراتا ہے....دنیا کی زندگی اس کے لئے اصل حقیقت ....جبکہ آخرت پر ایمان محض ایک واہمہ اور خیال بن جاتا ہے....انسان کا عقیدہ راہِ حق سے ہٹ جاتا ہے.... اور وہ اپنے حواس خمسہ کا غلام بن جاتا ہے....پھر وہ اسی پر ایمان رکھتا ہے جسے خود محسوس کر سکتا ہو....جبکہ محسوسات پر مبنی زندگی کے علاوہ کسی اور زندگی کا تصور بھی کرنا اس کے لئے  محال ٹھہرتا ہے۔

ایسے لوگوں کی مثال رحم مادر کے پردوں میں گم اس جنین کی سی ہے جو باہر کی زندگی سے بالکل ناواقف ہے....جسے کچھ معلوم نہیں کہ اس نے کب اور کہاں جانا ہے ....وہ اپنی ماں کے پیٹ میں کسی ارادے اور آزادی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔اس جنین کو باہر کی زندگی کا کچھ پتہ نہیں....اس کے حواس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق زندگی اندھیروں میں گم.... صرف ایک مجہول سی شے کا نام ہے....فرض کیجے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس جنین کو عقل عطا کردیں ....اور وہ اپنی کیفیات کو بیان کرنے کی قدرت حاصل کر لے.... توکیا وہ ولادت اور اس وقت پیش آنے والے مشکل مراحل کی مذمت میں کئی دیوان نہ بھر دیتے....؟وہ ولادت کے بعد ابتدائی شور شرابے کو موت سے تعبیر کرتے ....اور ان کی زبان میں اس مرحلے کے لئے وہی مثالیں دی جاتیں جو ہمارے ہاں موت کے لئے دی جاتی ہیں....جبکہ اندھیروں میں قید اپنی بے بسی اور بے چارگی کی زندگی ....انہیں کون و مکان کی خوبصورت ترین شے نظر آتی ....اور ولادت اور اس کے مراحل سے وہ ہر ممکن طریقے سے بچنے کی کوشش کرتے ....کیونکہ ان کے حواس انہیں یہی کچھ بتاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے....رحمِ مادر میں قرار پکڑنے والے ہر جنین کا اصل مقصد اس دنیا میں وارد ہوکر یہاں کی زندگی گزارنا ہے....انسان کی زندگی تو شمار ہی اس کی ولادت کے بعد کی جاتی ہے ....اور کوئی انسان بھی رحمِ مادر میں دوبارہ جانے کی کبھی تمنا نہیں کرتا....کیونکہ اب اس کے حواس دونوں مراحل سے گزر چکے ہیں۔

بندۂمومن کے لئے ....جسے یہ یقین ہو کہ دنیا ایک قید خانے کے سوا کچھ بھی نہیں....موت کی مثال ایسی ہی ہے....ایک مجاہد کے لئے موت دراصل سعادتوں سے بھری ....ایک اور زندگی کی شروعات کا نام ہے۔

یہ درست ہے کہ ہم نے کبھی کسی شہید کودنیا میں واپس آکر یہ بتلاتے نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا....لیکن دراصل یہ اللہ تعالیٰ ،اس کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ....جو ہمیں موت کا عاشق بناتا ہے....اور اللہ کی قسم!بندۂمومن کے لئے یہ دنیا رحمِ مادر سے بھی زیادہ تنگ اور گھٹن والی جگہ ہے....اور اُس کے لئے اِس تنگی سے نجات حاصل کرنے کا سب سے آسان راستہ ....شہادت فی سبیل اللہ ہے....بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ولادت کے وقت پیش آنے والی مشکلات شہید کو موت کے وقت محسوس ہونے والی تکلیف سے کہیں بڑھ کر ہیں.... کیونکہ شہید کو تو موت کے وقت صرف ایک چیونٹی کے کاٹنے جیسی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔

ایک مجاہد کے لئے موت توایسے ہی ہے....جیسے ایک ناقص زندگی سے ایک کامل زندگی کی جانب سفر....اگرچہ اس نے وہ زندگی پہلے کبھی نہیں دیکھی ....لیکن اسے اپنے ایمان کے سبب اس زندگی کی پہچان ضرور ہے....جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَیُدخِلُهُمُ الجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُم [سورۃ محمد: 5]
”اور وہ اُنہیں اُس جنت میں داخل فرمائے گا جس کی وہ اُنہیں خوب پہچان کروا چکا ہے“

اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ....وہ مردہ نہیں....!چاہے آپ اُنہیں منوں مٹی تلے دفن کردیں.... اُن کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعائیں کرتے ہوں....چاہے ان پر آنسو بہائیں .... اور ان کی تعزیت کے لیے محفلیں سجائیں ....لیکن وہ زندہ ہیں....مگر آپ کو شعور نہیں....وہ ایک ایسی زندگی کے مالک ہیں جو ظاہری حواس کی حدود سے بہت آگے کی زندگی ہے ....اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو اُس زندگی کی ایک جھلک ہی دکھلا دیں.... توایسی موت کے طلبگاروں سے سارے معسکرات بھر جائیں....اور وہ شہداءجن کے لئے آپ رحمت کی دعائیں کرتے ہیں....اگر اللہ تعالیٰ سبز پرندوں کے قالب میں موجود دو شہیدوں کاکوئی مکالمہ آپ کو سنوادیں.... تو آپ کو معلوم ہو.... کہ دراصل وہ اللہ تعالیٰ سے آپ کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔

تردد کے شکار میرے بھائی....! آپ کی مردانگی اور غیرت کے سامنے ایک سوالیہ نشان رکھتے ہوئے ....میں آپ کو افغانستان کی سرزمین پر پیش آنے والا ایک واقعہ سناتا ہوں.... جسے آپ صرف سنئے نہیں....بلکہ تھوڑی دیر کے لئے ....آنکھیں بند کرکے ....اپنے تخیل کے پردے پر.... اس کی منظر کشی کیجیے....!

ایک دن امریکیوں نے افغانستان کی ایک بستی پر طالبان کے دو بڑے رہنماؤں کےخلاف آپریشن کیا....شدید مقابلے کے بعد دونوں جانثار شہید ہوگئے....لیکن صلیب کے پجاریوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا ....بلکہ اِس کے بعد اُن دونوں کی بیویوں کو ہیلی کاپٹر میں اٹھا کر لے گئے....پھر جب ہیلی کاپٹر بلند ہو ا تو اُن درندوں نے خواتین کے کپڑے نیچے پھینکنے شروع کردیے.... تاکہ بستی والوں کو یہ دکھا سکیں کہ انہوں نے مجاہدین کی عزت و آبروکے ساتھ کیا سلوک کیا ۔

میں جب بھی اِس واقعے کا تصور کرتا ہوں تو میرا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے....میرا دل چاہتا ہے کہ میرے پاس ہزاروں زندگیاں ہوں ....اور میں اِن سب کویکے بعد دیگرے .... اپنی اُن پاک دامن، عفت مآب بہنوں کا بدلہ لینے کے  لیے پیش کردوں....اور میرا دل چاہتا ہے کہ اُن علماءِسوءجو امریکہ کی صفوں میں شامل ہیں....اورابھی تک جہاد کے خلاف فتوے دیتے ہیں....ایک جگہ جمع کرکے ان سب کو زمین میں گاڑ دوں.... اور پھر مجاہدین کے یتیم بچے اور بیوہ عورتیں اُنہیں جوتے مار مار کر اِنہیں جوتوں کے نیچے زندہ دفن کردیں۔

لیکن ابھی اپنی آنکھیں مت کھولئے گا ....!کیونکہ منظر ابھی ختم نہیں ہوا....!ذرا ایک لمحے کے لئے یہ سوچئے.... کہ وہ دونوں خواتین آپ کی اپنی مائیں ،بہنیں یا بیویاں ہیں....کیاآپ اس کا تصور بھی کر سکتے ہیں....؟کیا ایسا سوچنا بھی آپ کے لئے ممکن ہے ....؟اگرآپ کا جواب نفی میں ہے تو جان لیجیے  کہ ارضِ افغانستان میں آپ کی پاکدامن مسلمان بہنوں کے ساتھ یہ سب کچھ ہو رہا ہے ....اور پھر یہ تو ان بیسیوں واقعات میں سے ایک واقعہ ہے جنہیں نام نہاد’ آزاد میڈیا ‘نشر کرنے کی زحمت تک گوارانہیں کرتا۔

مجھے اُن لوگوں پرحیرانی ہوتی ہے جویہ سب کچھ سننے اور جاننے کے بعد بھی دنیا اور اس کی رنگینیوں کے اسیر بنے بیٹھے ہیں....گویا اُنہیں اِس سب کی کوئی پرواہ ہی نہیں....یہ کوئی ریڈ انڈینز کا تاریخی واقعہ نہیں .... نہ ہی ویتنام جنگ کی کوئی کہانی ہے....بلکہ اے امتِ محمد....!یہ سب کچھ سرزمینِ اسلام میں ہو رہا ہے....وہ خواتین جن کا پردہ اتارا گیا....اور جن کی آبرو کو داغدار کیا گیا....وہ محمد رسول اللہ کی بیٹیاں ہیں....وہ اُسی قبلے کی طرف رخ کرکے نمازپڑھتی ہیں جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں....اُسی مہینے کے روزے رکھتی ہیں جس کے ہم رکھتے ہیں....اُسی بیت اللہ کا حج کرتی ہیں جس کا ہم حج کرتے ہیں....بھلا کیا خیر ہو گا آپ میں.... اگر آپ ان کی نصرت بھی نہ کرسکیں ....اوریہ کیسی مردانگی ہے .... جو اپنی بہنوں کا انتقام بھی نہ لے سکے....؟

جہاد سے پیچھے بیٹھ رہنے والو ....!میں تمہیں مردوں کی شجاعت کے قصوں کی بجائے چند عورتوں کی دلیری کے واقعات سناتا ہوں....تاکہ تم اپنی مردانگی کو جانچ سکو کہ آیا تم واقعی اُن جوانمردوں میں سے ہو جنہوں نے اللہ سے کیے  اپنے عہد کو سچ کر دکھایا....یا ایسے مردوں میں سے ہو جن کی مردانگی کی دلیل صرف ان کی جنم پرچی ہے....؟

 ایک مجاہدہ تفتیشی پوسٹ کے پاس پہنچی اور وہاں جا کر رونے لگی....جب اس کے رونے کی وجہ سے اس کے گرد فوجیوں کا ہجوم ہو گیا.... تو اس نے اپنی فدائی جیکٹ پھاڑ دی ....اور دشمن کو ٹکڑوں کو تقسیم کرتی ہوئی اپنے رب کی جنت کی جانب چل دی۔

ایک دوسری خاتون جو عمر میں بالکل بوڑھی تھیں.... ان کے گھر میں مہاجرین نے پناہ لی....تو انہوں نے اپنی بندوق اٹھائی اور مجاہدین کے لئے پہرہ دینے لگیں....جب مجاہدین نے ان سے کہا کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ آرام کر لیں.... تو وہ کہنے لگیں کہ:نہیں....! اللہ کی قسم ہرگز نہیں....!اگر دشمن آیا تو اس کے ساتھ سب سے پہلے میں لڑوں گی۔

 ایک اور خاتون ایسی ہیں جنہوں نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ بغیر کسی مہر کے ایسے شخص کے ساتھ شادی کرنے کو تیار ہیں جو شہیدی حملہ کرنے میں ان کی مدد کرے ۔

اور اس سے پہلے جو کچھ پاکستان میں مولانا عبدالرشید غازی رحمہ اللہ کی طالبات کے ساتھ ہوا....جنہوں نے عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے.... شریعت کی خاطر آخری دم تک گولیوں اور بارود کا ڈٹ کر مقابلہ کیا....مجھے ایک سچے آدمی نے بتایا ....کہ مسجد کے صحن میں خون کی ایک نہربہ رہی تھی.... جس میں لوگ ہاتھ ڈالتے تھے تو ان معصوم بہنوں کی آنکھیں ،ہڈیاں اور کٹے ہوئے اعضاءان کے ہاتھ میں آتے تھے ....ہماری ماؤں.... زینب،عائشہ، خدیجہ اور رقیہ نے بھی اسلام کے لئے ایسی ہی عظیم قربانیاں دیں ....اللہ ان سب سے راضی ہو....!

لیکن اے جعفر....!اے اسد....!اے عاصم ....!اے خالد ....!سوال یہ ہے کہ تم نے اس دین کے لیے کیا کیا....؟اے قوتِ فیصلہ سے عاری لوگو....!اے پس و پیش کے مارے لوگو....!کل اپنے رب کو کیا جواب دو گے....؟جب تمہیں حشر کے دن اکٹھا کیا جائے گا.... پھرکون ساعذر گھڑ کے لاؤگے.... اِن بہادر بہنوں نے تمہاری ساری حجتیں باطل کر دکھائی ہیں۔

میں اپنی گفتگو کا اختتام فضائلِ شہادت کے حوالے سے ایک حدیث مبارکہ پر کرتا ہوں....جو کہ اس موضوع سے متعلق احادیث میں سے ایک جامع روایت ہے ۔

سیدنا عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ:ایک صحابی نماز کے لیےآئے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھا رہے تھے۔جب وہ صحابی صف کے پاس پہنچے تو انہوں نے دعا کی کہ:اے اللہ.... !آپ مجھے وہ افضل ترین شے عطا فرما دیں جو آپ اپنے صالح بندوں کو عطا فرماتے ہیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ :یہ سوال کرنے والا کون تھا؟تو انہوں نے کہا :میں تھا یا رسول اللہ!اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اِس صورت میں تیرا گھوڑا مر جائے گا.... اور تو خودشہید ہو جائے گا۔

اللہ اکبر!اللہ اکبر!اللہ اکبر!یعنی اس حدیث کے مطابق کسی شخص کا گھوڑا مر جانا.... اور خود اس کا اللہ کی راہ میں شہادت پاجانا.... اللہ تعالیٰ کی جانب سے اُس کے نیک بندوں کو ملنے والا سب سے بڑا فضل اور احسان ہے ۔

سو اے میرے بھائیو....!اٹھو....!اوراُس عبادت کی تیاری کرو جس کے جیسی اور کوئی عبادت نہیں....لپکو اُس موت کی جانب ....جس کی تمنا خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ....بھاگو اُس اعزازواکرام کی جانب جسے شہید دنیا سے جانے کے بعد بھی نہیں بھول پاتا....اور پھر سے اللہ کی راہ میں دسیوں مرتبہ قتل ہونے کی تمنا کرتا ہے....راستے میں حائل اِن دیواروں کو گرا دو....!اِن بے معنی حدودکو پار کرجاؤ...! خفیہ ایجنسیوں کے اس بودے حصار کو توڑ ڈالو....!اور اُس جنت کی جانب بڑھو جس کا عرض آسما ن و زمین جیسا ہے۔

فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْۚ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ  [غافر: 44]
تم میری یہ باتیں کبھی یاد کرو گے....اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ....بے شک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے

وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ [سورۃ یوسف: 21]
اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے ....لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

والسلام : آپ کا بھائی
ابو دجانہ خراسانی
بمطابق : انتیس دسمبر 2009ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

7 تبصرے:

دجانہ خراسانی said...

اللہ تعالی دجانہ خراسانی کی شہادت کو قبول کرے اور بلند ترین مقامات پر فائز کرے۔۔۔۔
تحریک طالبان پاکستان کی کفار کے خلاف افغانستان میں واحد کاروائی۔۔۔ اللہ تعالی تحریک پاکستان کی توپوں کا رخ موڑ کر اصلی کافروں کی طرف کردے۔۔۔ آمین

Behna Ji said...

Assalamoalykum

irfan bhaee bohat acha mazmoon chuna aap ny share krny ko. abhi kuch din pehly hi main ny ye prha tha bnate aysha risaly main, owr bohat acha lga k main ny isko print kr liya taake baar baar nazar say guzar skay.

iska hr lafz aap ko hi mukhatib kr rha hay owr yehi shaheed bhaee abu dajana khurasani ka maqsad tha. hr lafz apky dil say dunya ki muhabbat nikal kr akhirat ki chah paida krta hay.

khas tor pr ye alfaaz to apko grip kr laytay hain owr aap srapa guilty ban jaty hain:


آخر کب تک جہاد کی محبت خیالوں اور زبانی دعووں تک محدود رہے گی ؟؟ کب تک یہ محبت مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر شرمندگی کے چند آنسو بہا لینے ۔۔۔۔ یا کوئی ترانہ سن کر ۔۔۔ یا کوئی نظم پڑھ کر پیدا ہونے والے وقتی جوش سے آگے نہیں بڑھ پائے گی ؟؟؟ کب تک آپ اسے فارغ وقت گزارنے کے لیے ایک مشغلہ بنائے رکھیں گے ؟

ALLAH ham sab ky dil main haq kay liyay marny ki tRap paida kray Ameen. abhi to ham main say bohat say bilkul bay- jaan say hain.jaan hi na ho to jaan ka nazrana kaisa!haq say muhabbat uski chah owr walwala ho ga to baat bny gi.

ہو صداقت کے لۓ جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جان پیدا کرے

Anonymous said...

جزاک اللہ خیرا کثیرا

Anonymous said...

IRFAN BHAI KOHI DHANGA KA BUSINESS KARAIN CHORAY YEH SAB FALTU BATAIN HAIN AP INTERNET PER BAITH KAR YEH SAB KUCH KARKAY SAMAJHTAY HO AP GHAZI HO YEH INTERNET KI DUNIYA DHOKA HAIN ASAL ZINDAGI MEIN YEH SAB CHEEZAY NAHI HAIN AP DEKH LAY APNAY GHAR SAY NIKAL K.
LOL
APKA DOST
RASHID KHAKI

Anonymous said...

Allah ham sab ko israstay per chalnay ke tofiq day

Anonymous said...

راشد خاکی بہت اچھا مشورہ ہے ،اسے اپنے جیسوں کے لئے سنبھال کر رکھئے کام آئیگا
ابو سالم پاکستانی

Anonymous said...

jazakallahu khiar this is one of my most favourite articles

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ