Subscribe:

Saturday, July 16, 2011

امی کی اجازت نہیں ہے



میرا سوال یہ ہے کہ میرے گھر والے کہتے ہیں کہ ایک اللہ والے اپنی ماں کی اجازت کے بغیر حج پر گئے تو وہ حج اللہ نے قبول نہیں کیا تو تم میری اجازت کے بغیر جہاد پر گئے تو وہ کیسے قبول ہو گا ۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

کیا شریعت کے کسی قطعی حکم کے خلاف یہ دلیل کافی ہے ۔ اپنے گھر والوں سے پوچھیں کہ ان بزرگ کا نام کیا تھا ، اور انہیں کیسے معلوم ہوا کہ ان کا حج قبول ہوا کہ نہیں ۔ اور یہ واقعہ کون سی کتاب میں درج ہے ۔ اور کیا وہ کتاب یا  واقعہ  ،قرآن اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے؟؟؟

میرے بھائی جہاد اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم ہے ،یہ  سب سے افضل عبادت ، اور دین اسلام کی بلند ترین چوٹی ہے ۔۔۔ اس کی شرائط اور دیگر تفصیلات سے فقہاء کی کتابیں بھری ہوئی ہیں ۔ مختصر یہ ہے کہ والدین کی اجازت کی شرط اقدامی جہاد کے لیے ہے نہ کہ دفاعی جہاد کے لیے ۔ اقدامی جہاد فرض کفایہ ہے اور دفاعی جہاد فرض عین ، اور اس کے بارے میں یہی حکم ہے جب جہاد فرض عین ہو تو اولاد کو والدین کی ، بیوی کو شوہر کی ، غلام کو آقا کی اور قرض دار کو قرض خواہ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔

اگر آپ کی تشفی نہ ہو تو بہتر ہوگا کہ آپ جہاد کی فرضیت کے بارے میں کسی کتاب کا مطالعہ کریں ۔ مثلا شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ کی کتاب " ایمان کے بعد اہم ترین فرض عین " یا " مشاری الاشواق "

ذرا سا غور اس آیت پر بھی فرما لیں :
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴿٢٤﴾ سورة التوبة
کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

اگر آپ حق کو پہچان چکے ہیں تو پھر دوسروں کی خواہشات کی پراہ مت کریں ۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خصوصی طور پر اپنے گھر والوں سے ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے ، کیوں کہ بسا اوقات آدمی گھروالوں یا دوستوں کے دھوکہ اور فریب میں آکر جہاد سے رک جاتا ہے ۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان اسی سے متعلق ہے :

یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اِنَّ مِن اَزوَاجِکُم وَاَولَادِکُم عَدُوّاً لَّکُم فَاحذَرُوهُم  [تغابن:14]
اے ایمان والوبلا شبہ تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں تمہارے دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار رہنا

اس سے مراد وہ  دشمنی نہیں جو دنیا میں  نقصان کے اندیشوں پر مبنی  ہو بلکہ گھر والوں سے ایمان اور اخروی نتائج کے اعتبار سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔۔۔۔پس آپ کو لازم ہے کہ بچیں اس فریب سے :
والسلام
آپ کا بھائی

عرفان بلوچ

5 تبصرے:

صیف الکفر باالطاغوت said...

جزاک اللہ خیرا کثیرا

یہ بھائی نے جو سوال کیا ہے، یہ مرجعوں، علمأ السلاظین اور غالی صوفیوں کی تلبیس کا نتیجہ ہے۔

اللہ سب مسلمانوں کو گمراہ قائدین سے اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیں جہاد فی سبیل اللہ خصوصا قتال فی سبیل اللہ کی توفیق، اس کی تڑپ اور شہادت فہ سبیل اللہ کی نعمت نصیب فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

مجاہد خراسانی said...

یہ اعتراض اکثر تبلیغی جماعت کے ساتھیوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے۔۔ اللہ ان کو بھی اس راستے کا راہی بنائے اور وہ وقت جلد لائے جب رائیونڈ سے غزوہ ہند کے لئے قافلوں کی تشکیل ہو۔۔ آمین

Behna Ji said...

Assalamoalykum

ye confusion tab hoti hay jab logon ko farze ayn owr farze kifaya ka farq pta nahi hota. ab jihad farze ayn ban chuka hay, to jaisay farz namaz kay liyay ammee say ijazat ki zaroorat nahi bulke wo to har haal main parhni hay ,aisay hi jihad main jany kay liyay bhi ijazat ki zaroorat baqi nahi rhi .

Anonymous said...

بھائی خطہ خراسان اور ہند آپ جہاں چاہیں ہاد کر لیں ۔ اب تو مجاہدین آپ کے علاقوں میں موجود ہیں ۔ والحمدللہ علیٰ ذالک

درویش خُراسانی said...

اچھا لکھا ہے۔

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ