Subscribe:

Wednesday, July 20, 2011

کیا مرجئہ طے کریں گے کہ تکفیری کون ہیں


کیا مرجئہ طے کریں گے کہ تکفیری کون ہیں

حامد کمال الدین

میڈیا میں، بلکہ ہر طرف، ’تکفیریوں‘ کا اِس وقت خوب خوب چرچا ہے۔ شمالی علاقوں کی صورتحال نے جہاں اور بہت سے موضوعات کو جنم دیا وہاں ’تکفیری مذہب‘ بھی ہر خاص وعام کا موضوعِ سخن بن گیا ہے۔ بی بی سی اور سی این این تک گویا اب ’اسلامی فرقوں‘ کے موضوع پر اتھارٹی ہیں جو ’تکفیریوں‘ پر سیرحاصل گفتگو کر سکتے ہیں! دانشور، اخبار، رسالے، چینل۔۔ اپنے اپنے انداز میں ’تکفیریوں‘ پر تجزیے دے رہے ہیں۔ جماعتیں اور تنظیمیں اپنے طور پر کارکنوں کو ’تکفیریوں‘ کے موضوع پر ’بریفنگ‘ دے رہی ہیں جوکہ من وعن اور ایک ’مستند حوالہ‘ کے طور پر آگے سے آگے چلنا ہوتی ہے! رفتہ رفتہ اب ایک عام اخبار پڑھنے والا تک پوچھنے لگا ہے کہ ’یار یہ تکفیری کیا ہوتے ہیں‘؟!
کیا واقعتا کوئی یہاں جانتا ہے کہ ’تکفیری‘ کس بلا کا نام ہے؟! کیا کسی نے یہاں کبھی کہا ہے کہ ’میں تکفیری ہوں‘ یا پھر دوسروں کی جانب سے ہی اُس کو یہ نام دیا جاتا ہے؟ ’تکفیری‘ اپنا یہ ’نام‘ اگر خود نہیں رکھتے بلکہ یہ نام اوروں کی طرف سے اُن کو دیا جاتا ہے تو پھر وہ کونسا وصف ہے جس کی بنا پر کسی کو ’تکفیری‘ قرار دیا جاسکتا ہے؟ یعنی وہ کیا نظریات وافکار ہیں جن کا حامل ہونے کی بنا پر کسی شخص کو ’تکفیری‘ ٹھہرا دیا جائے اور یہ فیصلہ کون کرے گا کہ یہ نظریات ہی ’تکفیری‘ نظریات ہیں؟ نیز یہ کہ ، یہ ’وصف‘ جس کی بنا پر ایک شخص کا اعتبار ’تکفیریوں‘ میں ہوگا، کہاں بیان ہوا ہے اور کس نے بیان کیا ہے؟ کیا اُس وصف کا اعتبار کرنے پر کوئی اختلاف بھی ہوا ہے یا وہ اہلسنت کے ہاں متفق علیہ مانا گیا ہے؟ کیا اِس کی بابت کوئی اسٹینڈرڈ مراجع ہیں یا ہر شخص ’تکفیری‘ کی بابت اپنی تعریف رکھتا ہے اور اِس وجہ سے کوئی بھی شخص کسی بھی دن ’تکفیری‘ ہونے کی زد میں آسکتا ہے!؟ اور اِس وجہ سے اسلام کے حق میں یا کفر کی مذمت میں کوئی بھی ’شدید‘ بات کہنے سے پہلے آدمی کو سوچنا پڑے گا کہ کہیں وہ ’تکفیری‘ تو شمار نہیں ہونے لگے گا۔۔۔۔؟! باطل چاہتا تو بہرحال یہی ہے!!!
٭٭٭٭٭
بلاشبہ تاریخ میں ایسے فرقے پائے گئے ہیں جن کو دیے گئے نام اُن کے اپنے اختیار کردہ نہیں رہے۔ مثلاً ’خوارج‘ کو یہ نام عامۃ المسلمین کی جانب سے دیا گیا مگر یہ سوال کہ ’خوارج ہوتے کون ہیں؟‘، اِس پر ائمہء علم کی اسٹینڈرڈ تعریفات بآسانی دستیاب رہی ہیں اور کتب میں بخوبی ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ’معتزلہ‘ کو یہ نام ائمہء اہلسنت کی طرف سے دیا گیا تھا۔ مگر ’معتزلہ کون ہوتے ہیں؟‘ اِس پر اہلسنت کی اسٹینڈرڈ تعریفات بآسانی دستیاب ہیں۔ رافضی اپنے آپ کو ’رافضی‘ نہیں کہتے بلکہ ’مومن‘ کہتے ہیں۔ اُن کا یہ نام جس پر وہ تلملا جاتے ہیں اہلسنت ہی لیتے ہیں مگر ’رافضی کون ہوتے ہیں؟‘ اِس کا تعین اہلسنت مصادر میں ہرگز نایاب نہیں۔
چنانچہ غلطی اِس میں نہیں کہ کسی باطل گروہ کو اہل سنت کی جانب سے کوئی ایسا نام دے دیا جائے جو وہ خود اپنے لئے اختیار نہ کرتا ہو۔ ایک باطل فرقہ اپنے لئے نہایت خوبصورت اور جاذبِ نظر نام اختیار کرتا ہے تو اہلسنت ہرگز پابند نہیں کہ اُس کو اُسی خوبصورت نام سے بلائیں اور پکاریں۔ البتہ اُس کی بابت مستند تعریفات رکھنے میں اہلسنت نے کبھی کوتاہی نہیں برتی۔ ایسا بہرحال نہیں کہ ہر شخص ’خوارج‘ یا ’معتزلہ‘ یا ’رافضہ‘ یا ’جہمیہ‘ کی اپنی تعریف کرتا پھرے اور کسی شخص یا طائفہ پر حکم لگانے کے معاملہ میں ہر تنظیم، ہر جماعت، بلکہ تو ہر نیوز ایجنسی، ہر ٹی وی چینل اور ہر ’مبصر‘ اپنی ’صوابدید‘ لئے پھرتا ہو اور جس پر چاہے وہ لیبل تھوپ دے!
بے شک اہلسنت کے نزدیک یہ حد درجہ برے لفظ رہے ہیں، مگر ایسا بہرحال نہیں کہ ’خارجی‘ یا ’معتزلی‘ یا ’رافضی‘ یا ’جہمی‘ یا ’قدری‘ وغیرہ محض ایک گالی ہو جو غصے یا اختلاف کے وقت کسی کو دے ڈالی جائے! یہ لفظ ’برے‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شرعی دلالت رکھتے تھے اور اِس لحاظ سے ایک شرعی وعلمی امانت تھے جس کو اللہ سے ڈر کر اور خاص علمی ضوابط کا پابند رہ کر ہی اختیار کیا جاتا اور اِن کو کسی کے لئے بول دینے سے پہلے سوبار سوچا جاتا۔ ایک باطل گروہ یا شخص کو ایک معیوب تسمیہ دینے سے اہلسنت کے ہاں جو بات پیش نظر ہوتی وہ دراصل اِحقاقِ حق اور اِبطالِ باطل ہوتا تھا، جوکہ جہاد اور اقامتِ دین کا ایک نہایت برگزیدہ باب ہے اور امت کے اندر اہلسنت کا فرضِ منصبی۔
٭٭٭٭٭
علاوہ ازیں، تسمیات labels کا معاملہ سیاسی پہلوؤں سے بھی حد درجہ حساس ہے۔ بڑے بڑے دوررس مقاصد محض لیبلز لگا کر حاصل کر لئے جاتے ہیں۔ آج کے دور میں تو اِس کا اندازہ کرنا ہرگز دشوار نہیں۔ ’دہشت گردی‘ کا لفظ اِس حقیقت پر ایک نہایت واضح مثال ہے: کوئی بھی شخص اپنے آپ کو ’دہشت گرد‘ نہیں کہتا۔ اِس لفظ کے برا ہونے پر کوئی شاید اختلاف بھی نہیں کرتا۔ مگر ہم جانتے ہیں ’دہشت گردی‘ محض گالی بھی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ اصطلاح کے طور پر مستعمل ہے اور اِس کی باقاعدہ ایک دلالت implication ہے۔ اب اگر اس کی کوئی اسٹینڈرڈ تعریف definition اور وصفdescription متعین کئے بغیر ہی، اور اُن اسٹینڈرڈز پر آخری درجے کا اصرار کئے بغیر ہی، آپ اِس لفظ کا استعمال ہوجانے دیتے ہیں تو اپنے ساتھ ایک بہت بڑی واردات ہوجانے کا راستہ آپ خود اپنے ہاتھوں کھول دیتے ہیں۔ یہ رخنہ چھوڑ دیا گیا تو جس فریق کے ہاتھ میں میڈیا کی طاقت ہوگی وہ دوسرے کا ستیاناس کر کے رکھ دے گا۔ آپ جتنے بھی کمزور ہوں لازماً آپ کو یہ رخنہ پر کرنے کی مقدور بھر کوشش کرنا ہوگی اور اِس رخنے کو وسیع کرنے کے عمل میں آڑے آنے پر تو جان کھپا دینا ہوگی۔ البتہ اگر آپ کو اِس رخنے کا ادراک ہی نہیں تو آپ کی زبان سے کی گئی ’دہشت گردی‘ کی مذمت بھی آپ کے دشمن کے کام آئے گی (خاص طور پر جبکہ میڈیا کی طاقت اُس کے ہاتھ میں ہے)۔ بالفاظِ دیگر، دشمن کے تیر تو آپ کو لہولہان کریں گے ہی آپ کے چلائے ہوئے تیر بھی خود آپ ہی کے خلاف برتے جائیں گے۔ البتہ اصطلاحات کو پہنائے گئے معانی کی بنیادوں اور ا’ن کیلئے اختیار کئے گئے اسٹینڈرڈز کو چیلنج کر کے یقینا آپ اِس گولہ باری میں، جہاں تک ہوسکے، اپنی پوزیشن کو بہتر کر سکتے ہیں۔
حق تو یہ ہے کہ یہ جنگ بڑی حد تک ’اصطلاحات‘ پر ہی سہارا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اِس دور میں ’نکتہ وروں‘ کی ایک بڑی تعداد کو ’اصطلاحات‘ کے اندر ہی نقب لگاتا دیکھیں گے۔ باہر سے ’میڈیا‘ اور اندر سے ’اصطلاحات‘ کے نقب زن!!!
پس یا تو ایک اصطلاح کو دیا گیا معنیٰ آپ کے شرعی سُنّی معیار پر پورا اترتا ہو یعنی اُس کو حق معانی پر ہی محمول کیا گیا ہو، اور یا پھر آپ اُس اصطلاح کی ہی پابندی قبول نہیں کرتے۔ بلکہ تو ضروری ہو جاتا ہے کہ اِس صورت میں آپ اُس اصطلاح کو سرے سے لغو جانیں، بے شک وہ کسی درست معنیٰ میں کتنی بھی قابلِ اعتناءکیوں نہ ہو۔
اسی حوالے سے۔۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی بابت مشہور ہے کہ بعض پراپیگنڈا کرنے والے حاسدوں کی جانب سے، جو کہ ناصبیت سے ملحق اغراض رکھتے ہوں گے یا پھر چاہتے ہوں گے کہ بڑھتی ہوئی شہرت رکھنے والے اِس ہاشمی نوجوان پر ہاتھ ڈال دینے کےلئے بنو عباس کو ایک نہایت خوب بہانہ فراہم کردیں، امام شافعی کواہلِ بیتِ رسول اللہ سے عقیدت رکھنے پر بطورِ طعنہ ’رافضی‘ مشہور کردینے کی کوشش ہوئی۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں ”حبِ اہل بیت“ اہلسنت کے ہاں ایمان کا حصہ ہے اور اہلسنت کا نہایت معلوم وصف۔ جبکہ رافضیت کا ”حبِ اہل بیت“ سے کوئی تعلق ہی نہیں؛ جس وجہ سے اُن کو رافضی کہا جاتا ہے وہ اُن کا ”بغضِ صحابہ“ ہے جس سے کہ معاذ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا کوئی تعلق ہی نہ ہوسکتا تھا۔ ایک اصطلاح کا ایک ایسا غیر علمی اور بددیانتی پر مبنی استعمال سامنے آتا ہے تو اِس معنیٰ میں یہ اصطلاح لغو ہی مانی جائے گی اور ایک خندہء استہزا کے قابل ہی جانی جائے گی۔ چنانچہ امام شافعی تک یہ بات پہنچتی ہے کہ اہلِ بیت کے بکثرت تذکرہء خیر پر آپ کو ’رافضیت‘ کے لقب سے نوازا گیا ہے تو نہ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ اِس لفظ کی ہیبت سے دبتے ہیں اور نہ اِس پر صفائیاں دینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ کمال لاپروائی سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اِس پر ایک شعر کہتے ہیں:
فَلیعلمِ الثَقَلانِ انی رافضی!!۔
ان کانت الرافضیۃ حبَّ آلِ محمدٍ
یعنی: ”رافضیت اگر آلِ محمد سے محبت رکھنے کا نام ہے، تو پھر سب جن وانس جان لیں کہ میں ’رافضی‘ ہوں!
فرقہ واریت‘ ایک دوسری اصطلاح ہے جس کو جاہلی میڈیا اپنے بے شمار اغراض کے لئے نہایت کامیابی کے ساتھ برتتا ہے۔ شرک سے روکیں تو آپ ’فرقہ واریت‘ کے مرتکب! بدعات کے خلاف آواز اٹھائیں تو آپ ’فرقہ واریت‘ کے داعی! خرافات ا ور انحرافات کے خلاف جنگ کا علم اٹھائیں، تاکہ اِس امت کا احیاءہو اور یہ اپنے تاریخی مقام پر از سر نو فائز ہو، تو آپ پر ’فرقہ واریت‘ کا الزام۔۔۔۔! ’فرقہ واریت‘ کا لیبل گویا ایک لٹھ ہے جو ہر داعیِ اصلاح کے سر پر دے ماری جاتی ہے اور بڑے بڑے ’سمجھ دار‘ اِس کے ڈر کے مارے دم سادھ کر بیٹھ رہنے میں ہی عافیت جانتے اور اپنی ’ساکھ‘ کا تحفظ ممکن بناتے ہیں۔ تب وہ اپنی سرگرمی کیلئے ایسے ’بے ضرر‘ محاذوں پر ہی سرگرم ہوجانا مناسب تر جانتے ہیں جن پر کسی بھی ’فرقے‘ کو اعتراض نہ ہو۔۔۔۔! یعنی عین وہ چیز جو جاہلیت کو مطلوب ہے!!!
جو کہا نہیں وہ سنا کرو‘۔۔ جاہلیت یہی تو چاہتی ہے کہ اُس کے ہاتھ میں ’اصطلاحات‘ کی یہ لٹھ پکڑی دیکھ کر آپ اُس کے آگے لگ کر بھاگ کھڑے ہوں! اِس لٹھ سے یہ ڈرائے سب کو اور مارے کسی کسی کو!!!سبھی مر جائیں تو اُس کا یہ تماشا دیکھنے کو یہاں کون رہے؟! لیبلز اور القابات ایسے ہتھیار ’ڈرانے‘ کیلئے ہی تو ہوتے ہیں!!!وہ شخص جو اِن سے ڈر کر نہیں دکھاتا، جاہلیت کو جتنی تکلیف اور جتنی مایوسی اُس شخص سے ہوتی ہے کسی اور سے نہ ہوتی ہوگی۔۔۔۔ بشرطیکہ زیرک پن سے بھی اُس شخص کو ایک حظِ وافر ملا ہو اور ”بصیرت“ سے بھی وہ تہی دامن نہ ہو!
چنانچہ ”اصطلاحات“ کو ’نیشنلائز‘ بلکہ اب تو ’گلوبلائز‘ کر لینے سے جاہلیت اپنا جو مقصد حاصل کر رہی ہے، میڈیا کے دور میں یہی تو تاریخ کا بدترین فاشزم ہے اور آخری درجے کی فکری وثقافتی اجارہ داری۔ جاہلیت اپنی اِس پوزیشن کو ہی تو برقرار کھنا چاہتی ہے کہ اِس کا بولا ہوا ایک لفظ آپ کو بھسم کر جانے کی امکانی صلاحیت رکھے! یہ اپنی خاص ’زبان‘ میں آنکھ کا ایک اشارہ کردے تو آپ محسوس کریں کہ آپ کہیں کے نہیں رہے اور اِس کا استعمال کیا ہوا ایک ’کنایہ‘ گویا آپ کو سات پشتوں تک برباد کر کے رکھ دے گا!
سبحان اللہ! قرآن کی یہ آیت گویا ہے ہی ’میڈیا‘ اور ’پراپیگنڈا‘ اور ’ادب کی طوفانی قوت‘ کے دور میں پڑھی جانے کے لئے۔۔۔۔!!!لَوْمَة لآئِمٍ(کسی ملامت کرنے والے کی ملامت)کو ہرگز کسی خاطر میں نہ لانا وہ نہایت اہم وصف ہے جو ہم دیکھتے ہیں قرآن نے پہلے ہی اُس طائفہء منصورہ کا بیان کر دیا ہے جو زوال اور انحطاط اور ارتداد کے وقت اس امت کا احیاءِ نو کرے گا اور اِس کی ڈوبتی ناؤ کو اللہ کے فضل سے پار لگائے گا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّة عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّة عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَة لآئِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاء وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (المائدۃ: 54(
اے ایمان والو! تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پھر جائیں، تو پھر اللہ ایسے لوگوں کو لے کر آئے گا جن سے اللہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہوں گے۔ یہ مومنوں پر بڑے ہی نرم ہوں گے اور کافروں پر بڑے ہی سخت۔ یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ دے گا اُسی کو جسے دینا اُس کی اپنی مشیئت ہو۔ اور اللہ تو ہے ہی وسعت والا، جاننے والا

پس وہ شخص جو جاہلیت کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس ’خوفناک ہتھیار‘ سے ڈر کر نہیں دیتا، بلکہ اپنی بصیرت سے کام لے کر اِس کا سد باب بھی کرتا ہے، وہ جاہلیت کا برپا کیا ہوا یہ تماشا آخری حد تک خراب کر دینے کا باعث بنتا ہے، جس پر جاہلیت یقینا سٹپٹا جائے گی۔ ایک ایسا تماشا جس کو پوری دنیا ’دم نہ کشیدم‘ کی صورت بنی، انتہائی محو ہو کر دیکھتی ہے، وہ تماشا ایک ایسے موحد کے دم سے نہایت بدمزہ ہونے لگتا ہے جو __ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَه  کا مصداق __ اللہ کی تعظیم اور کبریائی کو زمانے کاموضوع بنا دینے کیلئے میدان میں اترتا ہے اور ہر اُس اعتبار، ہر اُس اتفاق اور ہر اُس اصطلاح کی صحت کو ہی چیلنج کر دیتا ہے جس پر اللہ نے اپنے انبیاءکو بھیج کر کوئی سند نہیں اتار رکھی۔
إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى (النجم: 23(
یہ تو محض نام ہیں جو گھڑ رکھے ہیں آپ ہی تم نے اور تمہارے بڑوں نے، اللہ نے تو اِن کے لئے کوئی سند نہیں اتار رکھی۔ یہ لوگ تو پیروی کرتے ہیں محض ظن کی اور اُس چیز کی جو نفسوں میں آجائے۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی جانب سے ہدایت ان تک آچکی ہے
جاہلیت کے ہاتھ میں پکڑا ہوا سانپ ہر کسی کو ’اصلی‘ نظر آتا ہے سوائے اس موحد کے جو جِبت اور طاغوت کے ساتھ کفر کر دینے کا علم بلند کر چکا ہو۔ صرف یہی ہے جس پر جاہلیت کا افسوں نہیں چلتا۔ نہ صرف اِس پر نہیں چلتا بلکہ اِس کے کھڑا ہونے کے باعث بہت سی خلقت جاہلیت کے افسوں سے نکل آتی ہے۔ پس اِس کے کھڑا ہونے کی دیر ہے، اور اِس کے کھڑا رہنے کی شرط ہے، کہ میدان کا نقشہ ہی تبدیل ہونے لگتا ہے اور دنیا نئے حقائق کو وجود میں آتا دیکھنے لگتی ہے۔
ما انزل اللہ“ کی روشنی میں مفہومات کی یہ جنگ war of concepts پس ایک نہایت حقیقی جنگ ہے اور میدان کا نقشہ بدل دینے کیلئے نقطہء اولین۔ حقائق کو صحیح الفاظ دینا اور الفاظ کو صحیح وثابت شرعی حقائق کا ہی عکاس بنا رکھنا۔۔ عین اِس محاذ پر پہرے بٹھا دینا اور یہاں پر جاہلیت کو ہرگز کوئی واردات نہ کرنے دینا ایک نہایت حقیقی محاذ ہے، اور قطعاً کسی غفلت اور کسی ناتوانی کا متحمل نہیں۔
اصطلاحات کی ’سیاسی‘ جہت۔۔
یہ وضاحت اِس لئے ضروری تھی کہ آج اگر ہم اسلام کی اجلی نکھری حقیقت کو اپنے اِن معاشروں میں اور اپنی اِس دنیا کے اندر پھر سے ایک جیتا جاگتا واقعہ بنا دینا چاہتے ہیں، اور بلاشبہ آج کا یہ تحریکی جہادی عمل اِسی مطلوب ومقصودِ مومن کو شرمندہء تعبیر کرنے کے لئے ہی بڑی محنت کے ساتھ روپزیر کرایا جارہا ہے۔۔ تو اِس پہلو سے بھی یہ معاملہ نہ صرف ہمارے غوروفکر بلکہ احتیاط کا بھی متقاضی ہو جاتا ہے۔۔۔۔
نہ حق پر ثبات کے بِنا کوئی چارہ ہے اور نہ بصیرت کے حصول بغیر کوئی راہ۔
نہ علم سے استغنا ممکن ہے اور نہ اہل علم سے وابستہ رہے بغیر کوئی چارہ۔

12 تبصرے:

Behna Ji said...

Assalamoalykum

mashaALLAh bohat informative owr aankhain kholny wala mazmoon hay.ALLAH ham sab ko tawfeeq day k ham sochain, samjhain owr ghor krain Ameen.ALLAH writer ko jazaiy khayer day Ameen.
نہ حق پر ثبات کے بِنا کوئی چارہ ہے اور نہ بصیرت کے حصول بغیر کوئی راہ۔
نہ علم سے استغنا ممکن ہے اور نہ اہل علم سے وابستہ رہے بغیر کوئی چارہ۔

Tausif Hindustani said...

jazakAllah khaira fi dunia w aakhirah, bahut hi behtreen tahreer hai,

دجانہ خراسانی said...

عرفان بھائی اس پورے مضمون میں مرجعہ کسے کہا گیا ہے؟؟

Behna Ji said...

mary khyal main ye hay marji'a:

’میڈیا‘ اور ’پراپیگنڈا‘ اور ’ادب کی طوفانی قوت‘

owr jaahil norms of society, peer pessure. bhaiR chaal etc
yeni aik trend/rujhaan ho sakta hay jisko log pakaR kar aapkay khilaf isti'maal krny lagain.

Anonymous said...

ye marja kesy kahin ga?? aur wo takfiri kisy keh rahy han??

Anonymous said...

ہمارے معاشرے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب تکفیر شریعت کے بتائے گئےاصولوں کے تحت کرنے کا کہا جائے تو ساتھ ہی مرجعہ کا فتوی ٹھونک دیا جاتاہے۔۔۔
موجودہ دور میں جو اس مسئلہ پر افراط و تفریط بہت ذیادہ ہے
وضاحت کیلئے درج زیل مضمون کا مطالعہ مفید رہے گا
http://www.eeqaz.com/ebooks/010nawaqiz/010nawaqiz15_zahir_hukm.htm

Anonymous said...

assalamualaikum
bhai jaan yeh lafz MURJIA hay. yeh aik aqeeda hay jis kay lihaaz say : 'koi chahay baday say bada gunah kar lay magar uasay aap yah nahin keh saaktay keh yah ghalat kaam hay balkeh us ka maamla ALLAH kay supurd kar daytay ho'. idhar musannif nay MURJIA un logon ko kaha hay jo MURTAD ko MURTAD or KAFIR ko KAFIR nahin maantay or kehtay hain keh kisi musalman ko kaafir nahin kehna chahiay.or yeh aqeedah aajkal baday zor o shor say phaylaya ja raha hay.jis main saray fahrist jamaat JAMAt UD DAWA hay yeh log (qayedeen) bhi yeh aqeeda rakhtay hain. mayra chunkay un kay saath raabta rehta hay is liay un ka zikr kia hay.

Anonymous said...

JAMAT UD DAWA hi kay aik aalim MUBASHIR AHMED RABBANI bhi aaj kal is aqeeday ko phaylaanay main sar tod koshish kar rahay hain or jis ka jawab MUWAHIDEEN website ki taraf say shaya karda kitaab main dia gia hay. yahan say download karain:

http://www.4shared.com/document/WAGIrwVB/murjiatulasr_ki_tilbeesat_ka_i.html

Behna Ji said...

Assalamoalykum
jazakallah khayer anonymous bhaee marji'a ki wzahat krny ka!

Anonymous said...

”کیا موجودہ حکمرانوں کو طاغوت کہنے والے
’ تکفیری‘ او ر’خارجی ‘ہیں ؟“

http://www.eeqaz.com/main/articles/208.htm

مسلم گھرانہ said...

مرجئہ ايك گمراہ فرقہ ہے۔ جو اسلامى جذبے كو دبانے اور ہر صريح كفر اور كھلے باطل سے صرف نظر كرتا آيا ہے ۔

Abdul Basit said...

kya mufti taqi usmani saab bhi takfiri hain dekh lay wo bhi Takfeer k qayil hain aisay logo per jinko mujahideen murtad kehtay hain zahir hain jo shairat ki rah mein rukawat hoga wo murtad hain or ya to munafiq.

سوشلزم کی حمایت کرنے والے کا حکم

سوشلزم کی حمایت کرنے والے کا حکم
سوال: سوشلزم کی حمایت کرنے والے(سوشلزم معاشرہ جوکہ اسلام کے خلاف ہیں )کا شریعت کی رو سے کیا مقام ہیں۔
(۲)نظام مصطفٰی پر قربان ہونے والے اور مخالفین ِنظام مصطفٰی کا کیا مقام ہے؟
جواب:(۱)سوشلزم کی حمایت اگر اس بناء پر کی جائےسوشلزم کا معاشی پروگرام(معاذاللہ )اسلام کی معاشی تعلیمات سے افضل ہیں تو یہ صریح کفر ہےاور اگر اس لحاظ سے کی جائے کہ اسلام کے احکام صرف عبادات وغیرہ سے متعلق ہیں اور معیشت میں اسلام کے احکام واجب التعمیل نہیں تو یہ بھی صریح کفر ہےاور اگر اس غلط فہمی کی بناء پر کی جائے کہ اسلام کے معاشی احکام سوشلزم کے معاشی احکام کے (معاذاللہ)موافق ہیں تو یہ شدید گمراہی ہیں یہ تمام عقائد بہر صورت باطل اور واجب الترک ہیں۔اور ان سے توبہ واجب ہے۔
(۲) آنحضرتﷺ کے لائے ہوئے دین اور احکام پر قربان ہونا مواجب صد اجر وفضیلت اور بہت بڑی سعادت ہےاور اس کی مخالفت کفر اور بدترین شقاوت ہے۔
(فتاوٰی عثمانی)
واللہ سبحانہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفااللہ عنہ

مفتی تقی عثمانی کا بھی اس معاملے میں واضح فتوی ہیں کہ اگر شریعت کی مخالفت کوئی کرے تو وہ کافر ہیں لہذا ہم جو مرتدین کی تکفیر کرتے ہیں تو ہمارے پاس دلائل ہیں اور فتاوی ہیں جید علماء کرام کے جبکہ ہمارے دشمنوں کے پاس کچھ بھی نہیں سوائے من گھڑت باتوں کے۔۔۔

yeh meinay facebook per dhoondha tha thanks.

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ