Subscribe:

Thursday, August 18, 2011

مجاہد قیدی کی خفیہ اہلکاروں کے ہاتھوں شہادت


۱۸ اگست ۲۰۱۱
اڈیالہ جیل سے رہائی پا کر دوبارہ لاپتہ ہوجانے والے محمد عامر کو شہید کر دیا گیا ۔ مرتدین شہید کی لاش پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔ شہید محمد عامر کے ورثاء کی جانب سے بار بار پوسٹ مارٹم کی درخواست کے باوجود ہسپتال کے عملے نے بیرونی دباؤ کے پیش نظر لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کر دیا ۔حالانکہ شہید کی لاش پر جابجا تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں ۔ شہید کے اہل خانہ کے ساتھ پولیس اور ہسپتال کے عملے نے کسی بھی قسم کا  تعاون کرنے سے انکار کر دیا ۔

راول پنڈی سے  تعلق رکھنے والے شہید محمد عامر کو ایک سال قبل ناپاک خفیہ ایجنسیوں نے ان کے گھر سے گرفتار کیا۔ بعد ازاں عدم ثبوت کی بنا پر انہیں عدالت نے بری قرار دے دیا تھا ۔ لیکن اڈیالہ جیل سے رہائی کے ساتھ ہی وہ گیارہ دیگر قیدیوں کے ساتھ دوبارہ لاپتہ ہوگئے تھے ۔شہید کے بھائی محمد بلال کا کہنا ہے کہ دو روز قبل انہیں ایک فون کال موصول ہوئی جس میں انہیں کہا گیا کہ آپ کے بھائی کی حالت بہت تشویش ناک ہے اور وہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور آکر ان سے مل لیں ۔حالانکہ ہسپتال پہنچے پر معلوم ہوا کہ نامعلوم افراد ان کے بھائی کی لاش کو ہسپتال کے پارکنگ ایریا میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے ۔

اللہ تعالیٰ ہمارے مجاہد  قیدی ساتھی کی شہادت قبول فرمالیں
شہید پر ظلم و ستم کرنے والوں کو اپنی سخت پکڑ میں لے لیں
اور ہمیں ناپاک خفیہ اداروں سے اس ظلم کا بدلہ لینے کی طاقت عطا فرمائیں  اور ان کے خلاف ہماری مدد کریں ۔۔۔ آمین۔۔۔

شہید کے اہل خانہ کو شہادت مبارک ہو ۔۔۔۔ کیوں کہ ۔۔
اسی کشاکش پیہم سے زندہ ہیں اقوام
یہی ہے راز تب و تاب ملت عربی ؐ