Subscribe:

Friday, September 30, 2011

نوائے افغان جہاد : ستمبر ، اکتوبر

پیش خدمت ہے 

نوائے افغان جہاد کا تازہ شمارہ 

ستمبر ۔  اکتوبر






ڈاؤن لوڈ کیجیے





دعاؤں کے طلب گار 

غزوہ ہند بلاگ ٹیم

Thursday, September 29, 2011

امت اخبار سے گفتگو

جناب عرفان بلوچ صاحب،
امید ہے خیریت سے ہوں گے، ایک صحافی کی حیثیت سے میں طالبان اور القاعدہ کی مختلف ویب سائٹس کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں، یقیننا یہ صرف خبر اور معلومات حاصل کرنے کی حد تک ہوتا ہے،پروفیشنل صحافی، نا تو کسی کی جاسوسی کرتے ہیں اور نا ہی کسی کی حمایت کرتے ہیں، یہ ان کا کام بھی نہیں ہے، یقیننا کچھ جاسوس بھی صحافیوں کے نام پر سرگرم ہیں،مگر میں ان کی بات نہیں کرتا۔ آپ کو یہ ای میل لکھنے کا مقصد دو سوالات ہیں، امید ہے کہ ان کا جواب دیں گے۔
میرا تعلق روزنامہ امت سے ہے، میں میگزین ایڈیٹر ہوں، روزنامہ امت کے بارے میں شاید آپ نے سنا ہو، اردو صحافت میں تحقیقی رپورٹنگ کی داغ بیل ڈالنے میں اس کا بڑا کردار ہے، یہی ادارہ ہفت روزہ تکبیر اور ماہنامہ غازی بھی شائع کرتاہے، انگریزی زبان میں‘‘ امت انگلش’’ کے نام سے آن لائن اخبار چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ ہماری ویب سائٹ پر جانے کے لئے آپ دیکھیں:
www.ummat.com.pk
www.ummat.net
اس طویل تمہید کا مقصد صرف اپنا درست تعارف کرانا ہے تاکہ آپ کے ذہن میں کسی قسم کا کوئی شک پیدا نہ ہو۔ اب میں اپنے سوال کی طرف آتا ہوں، آپ نے اور طالبان کے دیگر کچھ گروپس نے بھی صحافیوں کو امریکی ایجنٹ قرار دے کر انہیں قتل کرنا جائز قرار دیا ہے۔ آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا گیا ہے اور کیا کسی نے اس بارے میں فتوی دیا ہے؟ اگر ہاں تو اس میں کون کون سے ادارے شامل ہیںِ؟ کیا ادارہ امت بھی آپ کے نشانے پر ہے؟ کیا صحافیوں کو مارنا خون ناحق بہانے کے زمرے میں نہیں آئے گا؟
امید ہے کہ آپ جواب دیں گے۔
میگزین ایڈیٹر
روزنامہ امت۔ کراچی

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
آپ کے سوالات دراصل ایک ہی سوال کے علیحدہ جز ہیں اور ان کا درست جواب دینے کے لیے مجھے اپنی ہی ترتیب سے وضاحت کرنی ہوگی ۔
قلوب و اذہان کو تسخیر کرنے کی جنگ جسے جنگی اصطلاح میں پروپگینڈا وار فئری کا نام دیا جاتا ہے ، کسی بھی عسکری جنگ کا اہم ترین محاذسمجھا جاتا ہے ۔اسی طرح حالیہ صلیبی جنگ میں جو کہ امت کے مجاہدین اور کفر کے سرغنہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان جاری ہے اس میں میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی دجالی مہم کی کتنی اہمیت ہے یہ ایک صحافی سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے ۔ آج بدقسمتی سے تقریبا تمام ہی مسلمان ممالک کے حکمران اور ان کے زیر اثر افواج ، مجاہدین کے خلاف امریکہ کے حلیف بن چکے ہیں ۔ جب کہ آپ سے یہ بات ڈھکی چھپی نہ ہوگی کہ شرق و غرب کے تمام قدیم و جدید علماء اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کی مدد کرنا ا ن کفریہ افعال میں سے ہے جسے اختیار کرنے والا دین اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے ۔ جس کے بعد اس کے کلمہ یا دیگر عبادات کا اعتبار باقی نہ رہے گا ۔ اگر آپ اس بارے میں تفصیلی علم چاہتے ہیں تو الولاء البراء کے موضوع پر کتابوں سے استفادہ کر سکتےہیں ۔ ( یہ کتابیں آپ کو مجاہدین کی ویب سائٹس سے مل سکتی ہیں مثلا الموحدین اور رباط میڈیا وغیرہ )

کفر و ارتداد کا یہ حکم آج پاکستان کی حکومت اور افواج پر بھی چسپاں ہوتا ہے ۔چنانچہ مجاہدین جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات کے پابند ہیں وہ پاکستان کی طاغوتی حکومت اور کفریہ افواج کے خلاف بھی مصروف قتال ہیں جو عین شریعت کے مطابق ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے صحافتی حلقوں کی اکثریت اس معاملہ کا صحیح ادراک نہیں کر پائی ہے اور مجاہدین کی طرف سے دی گئی ڈھیل کا ناجائز فائدہ اٹھاتے اٹھاتے معاملہ یہاں تک آپہنچا ہے کہ جو لوگ بظاہر افغانستان میں مجاہدین کے حمایتی نظر آتے ہیں وہ پاکستان میں مجاہدین کے خلاف کھل کر لکھتے اور بات کرتے ہیں ۔ حالانکہ مجاہدین افغانستان میں جس رب کی عبادت کرتے ہیں ، اور جس دین اسلام اور شریعت کے پابند ہیں ، وہی شریعت اور وہی دین پاکستان میں بھی مجاہدین کے اوپر لاگو ہوتی ہے ، یہاں آتے آتے مجاہدین کا رب نہیں بدل جاتا ۔ پھر یہ کیسا ظلم ہے کہ ایک ہی معاملہ پرہمارے صحافتی حلقے یہ علیحدہ علیحدہ حکم لگاتے ہیں ، یہ صریحا ً ناانصافی اور بددیانتی ہے، جس کی شکایت کرنے میں پاکستان کے مجاہدین حق بجانب ہیں ۔

شریعت کی رو سے جنگ میں ہر وہ شخص مقاتل کی حیثیت رکھتا ہے جو لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہےخواہ وہ عملی طور پر جنگ میں شریک ہو یا نہ ہو۔ (اس سے مراد تمام سیکیورٹی فورسز میں شامل افسران و اہلکار ہیں نہ کہ مسلمانان پاکستان ) اسی طرح ہر اس شخص کا قتل جائز ہے جو زبان یا قلم سے جنگ میں مصروف ہو۔ بلکہ ایسے شخص کا قتل بدرجہ اولیٰ غایت کو پورا کرنے والا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں اسلام کی طرح عام جنگی قوانین بھی یہی ہیں ۔اگرچہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں ان جنگی قوانین کی پابندی کی ضرورت بھی نہیں ، کیوں کہ شریعت کی کسی حکم کے سامنے دنیا کے جنگی قوانین کی کوئی حیثیت نہیں ۔

چنانچہ اس معرکہ کفر و اسلام میں ہر وہ فرد اور ادارہ جو مجاہدین اسلام کا مخالف ہے ، اور اپنی زبان یا قلم سے ان کی کردار کشی میں مصروف ہے وہ شریعت مطہرہ کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے خواہ اسے اس کا شعور ہو یا نہ ہو ۔ اور ایسی ہر رکاوٹ کو دور کرنا شریعت اور عقل کے اعتبار سے جائز اور مطلوب ہے ۔ ایسا فرد اگر اپنے آپ کو کلمہ گو کہتا ہو تو بھی اس کے متعلق فتویٰ نہیں بدل جاتا ،کیوں کہ کفریہ فعل کے ارتکاب کے بعد اس کی نماز و حج وغیرہ کا بھی کوئی اعتبار نہیں رہتا ۔

صحافتی حلقوں کو نشانہ بنانے کے متعلق مجاہدین کو جن باتوں میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے وہ درج ذیل ہیں :

بعض صحافی یا دیگر افراد جیسے علماءحضرات بھی در پردہ مجاہدین سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اپنی نجی محفلوں میں اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں لیکن ریاستی جبر کی وجہ سے یا تو خاموش ہیں یا کسی نازک معاملے پر اگر کچھ کہنے کی ضرورت پیش آجائے تو کبھی کبھی مجاہدین کے خلاف بول جاتے ہیں ۔ چنانچہ مجاہدین اس معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اتنی احتیاط ضرور کرتے ہیں کہ کسی بھی فرد مثلا صحافی کی محض چند اقوال یا سطور کی بنیاد پر اس کے متعلق فیصلہ نہ کیا جائے ۔

اسی طرح کسی صحافی ادارے کو براہ راست نشانہ بنانا اس وقت مجاہدین کے اہداف میں نہیں ہے کیوں کہ اس میں یہ اندیشہ ہے کہ ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں بے گناہ افراد بھی مارے جائیں گے ۔ جیسا کہ شیخ ابو یحییٰ ال لیبی حفظہ اللہ کی رائے یہی ہے کہ میڈیا میں کام کرنے والے تمام افراد کے بارے میں کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا لہٰذا کسی بھی صحافتی ادارے کو ہدف یا نشانہ نہ بنایا جائے ۔پھر غور کیا جائے تو یہ حکمت عملی کے اعتبار سے بھی درست نہیں ہے ۔ کیوں کہ اس کے نتائج مجاہدین کے خلاف بھیانک نکل سکتے ہیں ۔ ظاہر ہے ان اداروں میں ملازمت کرنے والے افراد کی اکثریت کا رائے سازی میں کوئی کردار نہیں ہوتا ۔ وہ محض کارندوں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اور میڈیا کو غیر جانب دار سمجھ کر ان اداروں سے وابستہ ہوئے ہیں ۔ چنانچہ مجاہدین کے لیے ہدف ادارے نہیں بلکہ ایسے افراد ہونے چاہییں جن کا رائے سازی میں اہم کردار ہوتا ہے جیسا کہ لکھاری وغیرہ ، یا ٹی وی میزبان یا اینکر پرسن جن کے پروگرامات میں ان کی اپنی پسند اور رائے شامل ہوتی ہے ۔ پھران صحافیوں کے جرائم کی پس پردہ حمایت کرنے والے پبلشرز ، ایڈیٹرز ، یا پروڈیوسرز وغیرہ ۔۔۔

یہاں میں ایک سابقہ تحریر کے کچھ اقتباسات نقل کر رہا ہوں جو مجرمین کی نشاندہی ہمارے پسندیدہ اہداف کے عنوان سےاس بلاگ پر چند ماہ قبل پوسٹ کی گئی تھی ۔ آخر میں اس پوسٹ کا لنک بھی فراہم کیا جا رہا ہے ۔

:::::::::::::::::::: اقتباس شروع ہوا ::::::::::::::::::::

۱۔ میڈیا
معرکہ کفر و اسلام اور موجودہ صلیبی جنگ میں اس دجالی مہم کی کیا اہمیت ہے اس کی تفصیل میں جانے کی ہم کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔دجال بازی کے اداروں کو ضرب لگانا اس وقت ہماری حکمت عملی کے خلاف ہوگا اور ان سے اعراض کرنے کے لیے مرکز سے ہدایات ہیں ، لہٰذا ہم میڈیا کے اداروں کے بجائے افراد کو ہدف بنانا پسند کریں گے ۔

ایسے سیکولر افراد جو اپنے قلم یا دیگر صلاحتیوں سے جہاد اور مجاہدین کے خلاف پروپگینڈے میں مصروف ہیں
ذہن میں مستحضر رہے کہ کچھ صحافی ایسے بھی ہیں جو حکومت اورسیکیورٹی فورسز کے ظلم و جبر کے خوف سے کھل کر مجاہدین کی حمایت نہیں کر سکتے اور بعض اوقات اپنے قلم یا زبان سے ایسی بات کہہ جاتے ہیں ، جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے کہ یہ لوگ مجاہدین یا جہاد کے خلاف ہیں ۔۔۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اس لیے احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ان صحافیوں یا صحافتی حلقوں کو مجرمین سے علیحدہ رکھیں ، جو کسی حد تک مذہبی اور دینی سوچ کے حامل ہیں ۔۔۔ ممکن ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کی طرح وہ بھی محض پراپگینڈا کا شکار ہوں ، بشرطیکہ اس جھوٹ کو پھیلانے میں ان کی مستعدی اس حد تک نہ پہنچی ہوئی ہو ۔

یہ جاننے کے لیے کون اس جرم میں کتنا شریک ہے ، اس کا اندازہ ان کے قلم اور زبان کے زہریلے پن سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے ۔
چنانچہ وہ صحافی یا صحافتی حلقے جو شب و روز نام نہاد دہشت گردی کا راگ الاپتے نہیں تھکتے اور امت مسلمہ کو اپنے محسنین سے بدظن کرکے مزید گمراہیوں کی طرف دھکیلتے ہیں
دین اسلام اور اس کے سچے پیروکاروں سے شدید بغض جن کے گفتار و کردار میں ہمیشہ نمایاں رہتا ہے
جو جہاد اور مجاہدین ہی نہیں، بلکہ شریعت مطہرہ کے خلاف بھی دشمنی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے
اس مبارک جہاد کے متعلق جھوٹے اور بے سروپا الزامات کی بوچھاڑ سے جن کے دہانوں سے ہر وقت جھاگ نکلتا رہتا ہے ، اور جن سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ :::: قل موتو ابغیضکم ::: ان سے کہو!!! اپنے غصے میں آپ ہی جل مرو ۔۔۔

:::::::::::::::::::: اقتباس ختم ہوا ::::::::::::::::::::

آخر میں ایک ضروری وضاحت یہ ہے کہ الحمد للہ مجاہدین شریعت سے رہنمائی لیے بغیرکسی ادارے یا فرد کو ہدف نہیں بناتے ۔ لہٰذا اگر کسی مسلمان کو مجاہدین کے اہداف کے بارے میں اختلاف ہو تو وہ شریعت کی روشنی میں ہونا چاہیے نہ کہ محض عقلی بنیادوں پر ۔ اس پر یہ بھی اضافہ کر لیں کہ بعض اہداف کے بارے میں مجاہدین کے علماء میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن الحمدللہ مجاہدین کی اکثریت ایسے ہی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں جن کے بارے میں علماء کی عام رائے موجود ہو ۔

امت اخبار کے بارے میں

اس سارے جواب کی روشنی میں آپ خود ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ ادارہ امت کس صف میں کھڑا ہے :
کیا امت اخبار میں مجاہدین کو دہشت گرد یا شر پسند کہہ کر ان کی کردار کشی نہیں کی جارہی ؟؟؟
کیا امت اخبار طالبان اور حکومت پاکستان کے درمیان اس جنگ میں خاموش فریق کی حیثیت رکھتا ہےیا کسی ایک فریق کی حمایت کرتا ہے ؟؟؟؟
کیا امت اخبار میں مجاہدین کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹی خبریں شائع نہیں کی جاتیں ؟؟؟
کیا امت کے تجزیہ نگار اور لکھاری حضرات ایسے تجزیے نشر نہیں کرتے جو مجاہدین کے متعلق گمراہ کن پروپگینڈے میں شمار کیا جاسکتا ہے ؟؟؟

اگرچہ ہمارا گمان یہ ہے کہ آپ کے ادارے میں شامل کئی افراد ریاستی جبر کی وجہ سے ایسا رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں ۔۔۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ ایسے معاملات میں وہ کوئی رائے نقل کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیں ، اور مجاہدین کو اس بات پرمجبور نہ کریں کہ وہ ایسے صحافیوں کے خلاف کوئی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں ۔۔۔
اگر آپ یہ کہیں کہ امت اخبار غیر جانب دار ہے تو مجھے افسوس ہے کہ آپ کے اخبار میں شائع ہونے والی خبریں اس کی تردید کرتی ہیں :
جب قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون طیاروں سے حملہ کیا جاتا ہے تو آپ شہید ہونے والے مجاہدین کو شہید لکھتے ہیں۔
لیکن جب یہی مجاہدین ناپاک سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں تو آپ انہیں دہشت گرد اور ہلاک کہہ کر اپنی بات سے پھر جاتے ہیں ، اور مردار ہونے والے مرتد فوجیوں کو شہید کہہ کر عامۃ المسلمین میں گمراہیاں پھیلاتے ہیں ۔ کیا یہ جرم ناقابل معافی ہے ۔ہر گز نہیں ۔۔۔ اللہ کے حکم سے بہت جلد ادارہ امت کو اپنی لکھی ہوئی ان سطور کا حساب دینا ہوگا ۔۔۔
اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔۔۔ ان شاء اللہ ۔۔۔

دور جانے کی کیا ضرورت ہے ، ۲۰ ستمبر ۲۰۱۱ کی خبر ملاحظہ کر لیں جس میں ایس ایس پی کے گھر ہلاک ہونے والے مرتد پولیس اہلکاروں کو شہید لکھ کر امت اخبار نے اپنے جرائم پر مہر ثبت کردی ہے ۔۔۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون


سابقہ تحریروں کے لنک درج ذیل ہیں ۔



Monday, September 26, 2011

ایم کے ایس کے نام

السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ

 نہ بھائی نہ ۔۔۔ میں ہرگز بھی آپ سے ناراض نہیں ہوں ۔ ای میل نہ آنے کی وجہ ناراضگی نہیں بلکہ مصروفیات ہیں ۔ پھر آپ نے بھی تو لگا تار پانچ چھ ای میل کر دیں تھیں ۔ جواب تو ایک ہی مرتبہ دینا تھا ۔
آپ کی فراہم کی ہوئی تفصیلات میں نے بہت عرصہ قبل ہی مجاہدین کو روانہ کر دی تھیں ۔ اگر مجاہدین نے آپ سے رابطہ نہیں کیا تو اس کی وجوہات میرے علم میں نہیں ہیں ۔ اگر آپ کے شہر میں میرا کوئی ذاتی واقف کار مل جائے گا تو امید ہے اسے آپ سے ملنے ضرور بھیجوں گا ۔

آپ نے مرتدین کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں وہ نہایت کارآمد ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ مجاہدین ان معلومات سے ضرور فائدہ اٹھائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اور تمام مجاہدین کی حفاظت فرمائے ۔

آپ جرات مند ضرور ہوں گے لیکن فوجیوں سے اس انداز سے گفتگو کرنے میں نقصان کا اندیشہ بھی ہے لہٰذا میں آپ کو احتیاط کا مشورہ دوں گا ۔ چیک پوسٹ یا چھاؤنی میں فوجیوں سے نہ الجھا کریں اور بالکل عام سے انداز میں اپنا کام مکمل کر کے جلد از جلد گھر واپسی کیا کریں ۔

آپ نے جس جاسوس کا ذکر کیا ہے ، اسے قتل کرنے سے پہلے مجاہدین کو شہادتوں کی ضرورت ہوگی ۔ کیوں کہ الحمداللہ مجاہدین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہر حال میں شریعت کے پابند رہیں ۔ اور بغیر شہادت محض جاسوسی کے الزام میں کسی کو قتل کردینا جائز نہیں ہے ۔ اب یا تو مجاہدین آپ سے رابطہ کریں گے ، یا پھر آپ کو خود آگے بڑھ کر کوئی جرات مند قدم اٹھا لینا چاہیے ، بشرطیکہ آپ کو اپنے دعوے پر علم الیقین حاصل ہو ۔

آپ ذہنی طور پر اس کام کے لیے تیار رہیں لیکن اس وقت تک انتظار کریں جب تک ہم علماء سے اس بارے میں دریافت نہ کر لیں ۔

آپ نے کلاشن کوف مانگی ہے ، اور کہا ہے کہ ان شاء اللہ ایک گولی کے بدلے ایک شکار کریں گے ۔ اگر آپ دس مرتدین بھی شکار کرنے میں کامیاب رہے تو یہ بہت بڑی کارروائی ہوگی ۔۔۔ لیکن ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کے ذہن میں کارروائی کی صورت کیا ہو گی کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ فدائی طرز کی کارروائی چاہتے ہوں ۔ اگر ایسا ہے تو یہ قابل عمل نہیں ہے کیوں کہ اس کے بعد آپ کے اہل خانہ ، اس ناپاک دشمن کے ہاتھوں تعذیب کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔

آپ تفصیلات سے آگاہ کر دیں ان شاء اللہ آپ کو کوئی نہ کوئی ہتھیار فراہم کر دیا جائے گا ۔۔۔۔ یہ بھی بتائیں کہ اگر آپ کو صرف رقم فراہم کر دی جائے تو کیا آپ اپنے لیے ہتھیار کا بندوبست کر سکتے ہیں یا نہیں ؟؟؟
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ

غزوہ ہند میں شریک آپ کا مجاہد بھائی
عرفان بلوچ

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

Thursday, September 22, 2011

سی ڈیز کی تقسیم کے بارے میں

محترم بھائی ! السلام علیکم
 
مجھے ایک سی ڈی ملی ہے جس میں مجاہدین کی تازہ ویڈیوز اور ترانے موجود ہیں ۔ ایک فائل میں مجاہدین کی مختلف  ویب سائٹس کے پتے بھی لکھے تھے ۔ اسی سے دیکھ کر آپ کا بلاگ بھی وزٹ کیا ۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ مجاہدین اب انٹرنیٹ پر بھی کام کر رہے ہیں ۔ الحمد للہ

میں ( ) کی اسٹوڈنٹ ہوں ، میں جاننا چاہتی ہوں کہ بڑی تعداد میں سی ڈیز کاپی کرنی ہوں تو اس کا کیا طریقہ ہوتا ہے ۔ کیوں کہ کمپیوٹر سے کاپی کرنے میں تو بڑا ٹائم لگ جاتا ہے ۔ آپ اس سلسلے میں میری ہیلپ کردیں کیوں کہ ہم کئی دوستیں ہیں اور ہم مل کر کئی سو کی تعداد میں یہ سی ڈیز بنا کر تقسیم کرنا چاہتی ہیں ۔ بازار سے کروانے میں خطرہ ہے اس لیے آپ سے پوچھ رہی ہوں ۔
 
جزاک اللہ
آپ کی بہن
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میری قابل احترام بہن 
سب سے پہلی بات تو یہ کہ مجاہدین کی ویب سائٹس سے رابطہ کرتے ہوئے کئی احتیاطوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس سے متعلق مواد آپ کو ہمارے بلاگ اور دوسری جہادی ویب سائٹس پر مل جائے گا ۔ اس بات کا امکان موجود ہوتا ہے کہ دشمن ہم سے رابطہ کرنے والی ای میلز کی چھان بین کرتا ہو اس لیے  بہتر ہوتا کہ آپ اپنی درسگاہ کا نام نہ لکھتیں کیوں کہ اسے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔

اللہ تعالیٰ آپ کے ارادوں میں کامیابی عطا فرمائے ۔ بلاشبہ سی ڈیز کی تقسیم نہایت اہم کاموں میں سے ایک ہے اور شاید ہماری بہنیں یہ کام بھائیوں کی نسبت بہتر طور پر کر سکتی ہیں ۔۔۔ میری دعائیں آپ سب کے ساتھ ہیں ۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بھائیوں کے کاموں میں برکت ڈال دیں جو یہ کام کر رہے ہیں ۔

میری اس سلسلے میں جو کچھ معلومات ہیں وہ فراہم کر دیتا ہوں ۔۔ یہ معلومات ان کے لیے اہم ہو سکتی ہیں جو مستقل بنیادوں پر سی ڈیز کی تقسیم کرنا چاہتے ہوں ۔ کیوں کہ اس کے استعمال سے بہت سا وقت بچایا جا سکتا ہے ۔

اس کے لیے جو ڈیوائس استعمال ہوتی ہے وہ ڈپلیکیٹر کہلاتی ہے ۔ یہ مختلف تعداد کے پینلز میں دستیاب ہے ۔ مثلا سات ، نو ، یا گیارہ ۔۔۔ جن میں سے ایک سورس یا ماخذ ڈی وی ڈی روم ہوتی ہے ، جب کہ بقیہ سلیو یا کاپئیر روم کہلاتی ہیں ۔ اور ایک پینل میں خود کار منی کمپوٹر ہوتا ہے جہاں سے کاپی کی کمانڈ کنٹرول ہوتی ہے ۔  اس کا استعمال نہایت آسان ہے ۔

تصویر دیکھیے ۔




یہ ڈیوائس پاکستان میں بسہولت دستیاب ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے ، آپ کسی مرد کو بازار بھیج کر منگوا لیجیے ۔  نام ہے اس کا  
CD/DVD/Copier/Duplicator








مندرجہ ذیل لنک دیکھیے حفیظ سینٹر کا ۔ یا مزید معلومات کے لیے سرچ کر لیں ۔۔۔


میں یہ مشورہ بھی دینا چاہوں گا کہ آپ سی ڈیز کے بجائے ڈی وی ڈی ڈپلی کیٹر کا انتظام کریں  ۔ کیوں کہ ایک ڈی وی ڈی میں ، ایک سی ڈی  کی نسبت چھ گنا سے زائد ڈیٹا سما سکتا ہے ۔ جب کہ کاپی کرنے کے وقت اور قیمت میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہے ۔  کئی ویڈیوز ایک ڈی وی ڈی میں فراہم کردیے سے بار بار تقسیم کی زحمت سے بچا جا سکتا ہے ۔


یہ بھی خیال رکھیے گا کہ عام تقسیم کے لیے مجاہدین کے مشہور اور قابل اعتماد  میڈیا سے ریلیز ہونے والی ویڈیوز کے سوا دوسری ویڈیوز ڈالنے سے اجتناب کریں ۔۔۔
آپ کی رہنمائی کے لیے مجاہدین کے قابل اعتماد میڈیا مراکز میں سے چند کے نام پیش کر رہا ہوں :
السحاب میڈیا ، الملاحم میڈیا ، الفرقان میڈیا ، ادارہ حطین ، الکتائب میڈیا ،  عمر میڈیا ، الامارۃ   اور  الاندلس میڈیا  ،وغیرہ  ۔۔۔

والسلام

آپ کا بھائی
عرفان بلوچ

Friday, September 16, 2011

اسکول بس حملہ پر تحریک طالبان کا مذمتی بیان

Dear Journalists Friends AOA:
It is stated for the information of all journalists that yesterday (13.9.2011) attack on school bus in Mattani, Peshawar was terrorist attack which is condemnable on every expects. Tehrik-e-Taliban is not killing innocent children or women. TTP will inshaullah take revenge of this terrorist attack very soon. But unfortunately the media gave news without clarification that TTP owned the claim of this attack. Killing of innocent children and women is not the aim of TTP. TTP once again condemn this attack as it is inhuman and un-Islamic.
With kind regards.


Ihsanullah Ihsan
Spokesperson,TTP
Media Cell
Tehrik-i-Taliban Pakistan

Wednesday, September 14, 2011

اسکول بس پر حملہ


عرفان بھائی السلام علیکم 

خیر تو ہے نا آپ کا فیس بک اکاؤنٹ بند پڑا ہوا ہے اور آپ کافی عرصے بعد دوبارہ بلاگ پر نظر آئے ہیں ۔ اچھا بھائی آپ سے ایک بات پوچھنا تھی یہ جو کل اسکول بس پر حملہ ہوا ہے یہ ٹھیک ہے یا غلط اور کیا واقعی یہ مجاہدین کا کام ہے 


اور یہ بھی بتائیں کہ بھائی آپ مجاہدین پر کس لیے شک کر رہے ہیں کہ نیوی افسر کو انہوں نے نہیں مارا 
ابو عبیدہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نیوی افسر کے قتل کے بارے میں یہ رائے کسی علم واقعہ پر قائم  نہیں ہے ، اور یہ حتمی نہیں ہے ۔ اصل سوالات یا اشکالات اس صورت میں بھی باقی رہتے ہیں جب یہ کام مجاہدین کا ہی ہو ۔ مثلا اس کے ساتھ دوسرے فرد طارق کے قتل کا شرعی جواز کیا ہے ، اور طارق مسلمان تھا یا نہیں اور کیا یہ قتل خطا میں آئے گا یا قتل عمد میں ؟؟؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ میں خود بھی جواب کا انتظار کر رہا ہوں ۔ امید ہے کہ  مجاہدین کے علماء اس سلسلے میں میری اور دوسرے ساتھیوں کی رہنمائی جلد ہی  کر دیں گے ۔۔۔  ان شاء اللہ ۔۔۔

اسکول بس پر حملہ کرکے بچوں کو قتل کرنے کا شرعی جواز فراہم کرنا انتہائی مشکل امر ہے ۔۔۔۔ بہتر ہوگا کہ مجاہدین کے قائدین اس حملہ پر اپنا مذمتی بیان ریکارڈ کروائیں ۔۔۔ نیز اس حملہ کے بارے میں مجاہدین کے علماء کا موقف بھی سامنے آنا ضروری ہے ۔۔۔

میں  اس واقعہ پر مذمت کرنے کی جرات اس لیے نہیں کر پا رہا کیوں کہ غزوہ ہند بلاگ اس طرح کے واقعات پر مذمتیں نشر کر کے پہلے ہی کافی بدنام ہوچکا ہے ۔ اور اس بلاگ کو مجاہدین کے مختلف حلقوں کی طرف سے بھرپور تنقید اور الزامات کا سامنا ہے جن کے جوابات دینے کی علمی سکت ہم میں موجود نہیں ہے ۔یاد رہے کہ مزارات پر ہونے والے حملوں پر اس بلاگ پر ایک تحریر لکھی گئی تھی جس میں ان حملوں پر  ایک صحت مند تنقید کی گئی تھی لیکن اس کے بعد کئی حلقوں نے اس موضوع کو اس طرح اچھالنا شروع کردیا جیسے غزوہ ہند بلاگ مزارات پر ہونے والے شرک وبدعات کے حق میں  ہو۔ بہرحال میں اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ حملہ شریعت کی روشنی میں ٹھیک تھا یا غلط اس کا جواب تو علماء ہی دیں گے لیکن یہ بات سمجھنا آسان ہے کہ اس کے نتائج مجاہدین کے لیے بہت خطرناک اور تباہ کن ہیں۔ اوراگر اس حملہ پر مجاہدین کی جانب سے مذمت نہ آئی تو اس سے پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ تقریبا  ناممکن ہو جائے گا  ۔

میری ناقص رائے میں مذمت نشر کرنا اور اپنی برات کا اظہار کرنا اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے  بھی ضروری ہوتا ہے ۔ اگر یہ مذمت نہ کی جائے تو اس قسم کے حملے کرنے والے آئندہ اس بھی زیادہ سنگین اور نازک واقعات کی ذمہ داری قبول کر رہے ہوں گے ،جس کے نتائج بہت تباہ کن نکلیں گے ۔

مذمت اور اپنی برات نشر کرنے  کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا  کہ  مجاہدین سے تعلق اور ہمدردی رکھنے والوں کی تشویش اور انتشار کو دور کیا جاسکتا ہے  ۔ کیوں کہ اس طرح  کے حملوں سے لوگ مجاہدین سے بدظن ہوجاتے ہیں  اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ تمام مجاہدین اس نوعیت کے حملوں کے حق میں ہیں ۔  مجاہدین کو تکفیری اور خارجی کہنے والوں کا موقف مضبوط ہو جاتا ہے اور ہم اپنی غلطیوں سے خود اپنے خلاف جواز اور دلائل فراہم کردیتے ہیں ۔

ہم جانتے ہیں کہ ہمارے مخالفین کا موقف غلط ہے لیکن مسلمانوں کی اکثریت تو نہیں جانتی ۔۔۔  کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی محبوب امت کا تعاون کھو بیٹھیں ۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

Thursday, September 8, 2011

کراچی میں ناپاک بحریہ کے آفیسر کا قتل


تحریر پر مجاہدین کے بعض حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے اگرچہ تحریر میں اٹھائے گئے شبہات و اعتراضات میں سے اہم ترین شبہ کا اب تک جواب موصول نہیں ہوا لیکن مجاہدین کے مجموعی نفع اور اپنے مجاہد بھائیوں کی تسکین قلب کی خاطر بعض ساتھیوں کی رائے کے مطابق یہ تحریر ہٹائی جارہی ہے


اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہوں