Subscribe:

Wednesday, September 14, 2011

اسکول بس پر حملہ


عرفان بھائی السلام علیکم 

خیر تو ہے نا آپ کا فیس بک اکاؤنٹ بند پڑا ہوا ہے اور آپ کافی عرصے بعد دوبارہ بلاگ پر نظر آئے ہیں ۔ اچھا بھائی آپ سے ایک بات پوچھنا تھی یہ جو کل اسکول بس پر حملہ ہوا ہے یہ ٹھیک ہے یا غلط اور کیا واقعی یہ مجاہدین کا کام ہے 


اور یہ بھی بتائیں کہ بھائی آپ مجاہدین پر کس لیے شک کر رہے ہیں کہ نیوی افسر کو انہوں نے نہیں مارا 
ابو عبیدہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نیوی افسر کے قتل کے بارے میں یہ رائے کسی علم واقعہ پر قائم  نہیں ہے ، اور یہ حتمی نہیں ہے ۔ اصل سوالات یا اشکالات اس صورت میں بھی باقی رہتے ہیں جب یہ کام مجاہدین کا ہی ہو ۔ مثلا اس کے ساتھ دوسرے فرد طارق کے قتل کا شرعی جواز کیا ہے ، اور طارق مسلمان تھا یا نہیں اور کیا یہ قتل خطا میں آئے گا یا قتل عمد میں ؟؟؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ میں خود بھی جواب کا انتظار کر رہا ہوں ۔ امید ہے کہ  مجاہدین کے علماء اس سلسلے میں میری اور دوسرے ساتھیوں کی رہنمائی جلد ہی  کر دیں گے ۔۔۔  ان شاء اللہ ۔۔۔

اسکول بس پر حملہ کرکے بچوں کو قتل کرنے کا شرعی جواز فراہم کرنا انتہائی مشکل امر ہے ۔۔۔۔ بہتر ہوگا کہ مجاہدین کے قائدین اس حملہ پر اپنا مذمتی بیان ریکارڈ کروائیں ۔۔۔ نیز اس حملہ کے بارے میں مجاہدین کے علماء کا موقف بھی سامنے آنا ضروری ہے ۔۔۔

میں  اس واقعہ پر مذمت کرنے کی جرات اس لیے نہیں کر پا رہا کیوں کہ غزوہ ہند بلاگ اس طرح کے واقعات پر مذمتیں نشر کر کے پہلے ہی کافی بدنام ہوچکا ہے ۔ اور اس بلاگ کو مجاہدین کے مختلف حلقوں کی طرف سے بھرپور تنقید اور الزامات کا سامنا ہے جن کے جوابات دینے کی علمی سکت ہم میں موجود نہیں ہے ۔یاد رہے کہ مزارات پر ہونے والے حملوں پر اس بلاگ پر ایک تحریر لکھی گئی تھی جس میں ان حملوں پر  ایک صحت مند تنقید کی گئی تھی لیکن اس کے بعد کئی حلقوں نے اس موضوع کو اس طرح اچھالنا شروع کردیا جیسے غزوہ ہند بلاگ مزارات پر ہونے والے شرک وبدعات کے حق میں  ہو۔ بہرحال میں اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ حملہ شریعت کی روشنی میں ٹھیک تھا یا غلط اس کا جواب تو علماء ہی دیں گے لیکن یہ بات سمجھنا آسان ہے کہ اس کے نتائج مجاہدین کے لیے بہت خطرناک اور تباہ کن ہیں۔ اوراگر اس حملہ پر مجاہدین کی جانب سے مذمت نہ آئی تو اس سے پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ تقریبا  ناممکن ہو جائے گا  ۔

میری ناقص رائے میں مذمت نشر کرنا اور اپنی برات کا اظہار کرنا اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے  بھی ضروری ہوتا ہے ۔ اگر یہ مذمت نہ کی جائے تو اس قسم کے حملے کرنے والے آئندہ اس بھی زیادہ سنگین اور نازک واقعات کی ذمہ داری قبول کر رہے ہوں گے ،جس کے نتائج بہت تباہ کن نکلیں گے ۔

مذمت اور اپنی برات نشر کرنے  کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا  کہ  مجاہدین سے تعلق اور ہمدردی رکھنے والوں کی تشویش اور انتشار کو دور کیا جاسکتا ہے  ۔ کیوں کہ اس طرح  کے حملوں سے لوگ مجاہدین سے بدظن ہوجاتے ہیں  اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ تمام مجاہدین اس نوعیت کے حملوں کے حق میں ہیں ۔  مجاہدین کو تکفیری اور خارجی کہنے والوں کا موقف مضبوط ہو جاتا ہے اور ہم اپنی غلطیوں سے خود اپنے خلاف جواز اور دلائل فراہم کردیتے ہیں ۔

ہم جانتے ہیں کہ ہمارے مخالفین کا موقف غلط ہے لیکن مسلمانوں کی اکثریت تو نہیں جانتی ۔۔۔  کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی محبوب امت کا تعاون کھو بیٹھیں ۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

6 تبصرے:

Mujahideen-e-Islam Media Centre said...

اسلام علیکم
عرفان بھائی احسان اللہ احسان کا یہ پیغام آپکو نہیں ملا کیا میں نے تو فیس بک پر بھی نشر کیا تھا لیکن آپ فیس بک سے غائب ہیں۔
خیر تو ہیں۔
وسلام۔
Dear Journalists Friends AOA:
It is stated for the information of all journalists that yesterday (13.9.2011) attack on school bus in Mattani, Peshawar was terrorist attack which is condemnable on every expects. Tehrik-e-Taliban is not killing innocent children or women. TTP will inshaullah take revenge of this terrorist attack very soon. But unfortunately the media gave news without clarification that TTP owned the claim of this attack. Killing of innocent children and women is not the aim of TTP. TTP once again condemn this attack as it is inhuman and un-Islamic.
With kind regards.


Ihsanullah Ihsan
Spokesperson,TTP
Media Cell
Tehrik-i-Taliban Pakistan

ابو جمال said...

جی بھائی فیس بک اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے ۔ اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی

آپ مجھے اس نوعیت کی چیزیں ای میل پر بھجوا دیا کریں تو نوازش ہوگی

Mujahideen-e-Islam Media Centre said...

صیح ہیں انشااللہ جب جب میرے پاس آی میل آتی رہے گی تحریک کے حوالے سے میں انشااللہ آپکو فاروڈ کرتا رہوں گا۔
وسلام۔

محمد زیب خان said...

صیح ہیں انشااللہ تحریک کی طرف سے اسی مناسبت کے جو بھی پیغام آئے گا آپکو ای میل کرتا رہوں گا۔
انشااللہ۔
وسلام۔
محمد زیب خان۔

Anonymous said...

بھا ئى ميں ايك عام مسلمان ہوں۔ 11ستمبر كے مبارك حملوں كے بعد جب القاعدہ اور طالبان پس پردہ چلے گئے تو اگرچے انہوں اپنى ظاہرى حكومت تو كھو دى تھى ليكن يہ مسلم امت كى دلوں ميں اپنى حكومت قائم كرنے ميں كامياب ہو گئے۔ حتى كہ افغانستان اور عراق ميں طاغوت اكبر امريكہ كے پاؤں ڈگمگانے لگے۔ عين اسى لمحے ہمارا دشمن مختلف چاليں چلنے لگا اُن ميں سے ايك چال يہ تھى كہ عوام الناس ميں خود ہى دھماكے كرنا اور الزام مجاہديں پر عايد كرنا۔ عراق ميں بھى يہى كچھ ہوا اور پاكستان ميں بھى۔ ميں اپنے طور پر تو يہى گمان كرتا ہوں پاكستان ميں عوام الناس ميں ہونے والى كوئى بھى كاروائى ہمارے مجاہد بھائى نہيں كررہے بلكہ يہ مجاہدين كا اميج خراب كرنے كى كوششيں ہيں۔ اور ميں اس حوالے سے آپ كى ويب سائٹ كو ايك مثالى ويب سائٹ سمجھتا ہوں كيونكہ ميں اور جتنى بھى اردو كى جہادى ويب سائٹس پر گيا ہوں وہاں مجھے يك گونہ شدت سى محسوس ہوئى ۔ اور ايك صحيح اعتدال جس كى بنياد قرآن وسنت ہونى چاہيے وہ ميں نے صرف آپ كى ويب سائٹ پر ديكھا ہے۔
اعتدال سے مراد ميرى ان سيكولر اور روشن خيال لبرلوں كا اعتدال نہيں بلكہ وہ اعتدال جو ہمارے دين كى رو سے ہميں مطلوب ہے جس كى بنا پر ہميں امت وسط كہا گيا ہے۔
آپ كے اسى اعتدال كى ايك جھلك مجھے آپ كى نيوى افسر والى پوسٹ ميں نظر آئى جسے آپ نے بعض جہادى حلقوں كے اعتراض پر ہٹا كر بھى اپنے معتدل ہونے كا ثبوت ديا۔

عرفان بلوچ said...

الحمدللہ ! جزاک اللہ

میرے گم نام بھائی آپ کے حالیہ تبصرے نے مجھے کافی ذہنی سکون پہنچایا ہے

اللہ آپ کو بہترین جزا دے

میں اس پر مزید جو کچھ لکھنا چاہتا ہوں اس کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا

کوشش کروں گا کہ جو گفتگو کروں وہ اعتدال کے راستے کو نہ چھوڑے

والسلام

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ