Subscribe:

Thursday, September 29, 2011

امت اخبار سے گفتگو

جناب عرفان بلوچ صاحب،
امید ہے خیریت سے ہوں گے، ایک صحافی کی حیثیت سے میں طالبان اور القاعدہ کی مختلف ویب سائٹس کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں، یقیننا یہ صرف خبر اور معلومات حاصل کرنے کی حد تک ہوتا ہے،پروفیشنل صحافی، نا تو کسی کی جاسوسی کرتے ہیں اور نا ہی کسی کی حمایت کرتے ہیں، یہ ان کا کام بھی نہیں ہے، یقیننا کچھ جاسوس بھی صحافیوں کے نام پر سرگرم ہیں،مگر میں ان کی بات نہیں کرتا۔ آپ کو یہ ای میل لکھنے کا مقصد دو سوالات ہیں، امید ہے کہ ان کا جواب دیں گے۔
میرا تعلق روزنامہ امت سے ہے، میں میگزین ایڈیٹر ہوں، روزنامہ امت کے بارے میں شاید آپ نے سنا ہو، اردو صحافت میں تحقیقی رپورٹنگ کی داغ بیل ڈالنے میں اس کا بڑا کردار ہے، یہی ادارہ ہفت روزہ تکبیر اور ماہنامہ غازی بھی شائع کرتاہے، انگریزی زبان میں‘‘ امت انگلش’’ کے نام سے آن لائن اخبار چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ ہماری ویب سائٹ پر جانے کے لئے آپ دیکھیں:
www.ummat.com.pk
www.ummat.net
اس طویل تمہید کا مقصد صرف اپنا درست تعارف کرانا ہے تاکہ آپ کے ذہن میں کسی قسم کا کوئی شک پیدا نہ ہو۔ اب میں اپنے سوال کی طرف آتا ہوں، آپ نے اور طالبان کے دیگر کچھ گروپس نے بھی صحافیوں کو امریکی ایجنٹ قرار دے کر انہیں قتل کرنا جائز قرار دیا ہے۔ آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا گیا ہے اور کیا کسی نے اس بارے میں فتوی دیا ہے؟ اگر ہاں تو اس میں کون کون سے ادارے شامل ہیںِ؟ کیا ادارہ امت بھی آپ کے نشانے پر ہے؟ کیا صحافیوں کو مارنا خون ناحق بہانے کے زمرے میں نہیں آئے گا؟
امید ہے کہ آپ جواب دیں گے۔
میگزین ایڈیٹر
روزنامہ امت۔ کراچی

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
آپ کے سوالات دراصل ایک ہی سوال کے علیحدہ جز ہیں اور ان کا درست جواب دینے کے لیے مجھے اپنی ہی ترتیب سے وضاحت کرنی ہوگی ۔
قلوب و اذہان کو تسخیر کرنے کی جنگ جسے جنگی اصطلاح میں پروپگینڈا وار فئری کا نام دیا جاتا ہے ، کسی بھی عسکری جنگ کا اہم ترین محاذسمجھا جاتا ہے ۔اسی طرح حالیہ صلیبی جنگ میں جو کہ امت کے مجاہدین اور کفر کے سرغنہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان جاری ہے اس میں میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی دجالی مہم کی کتنی اہمیت ہے یہ ایک صحافی سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے ۔ آج بدقسمتی سے تقریبا تمام ہی مسلمان ممالک کے حکمران اور ان کے زیر اثر افواج ، مجاہدین کے خلاف امریکہ کے حلیف بن چکے ہیں ۔ جب کہ آپ سے یہ بات ڈھکی چھپی نہ ہوگی کہ شرق و غرب کے تمام قدیم و جدید علماء اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کی مدد کرنا ا ن کفریہ افعال میں سے ہے جسے اختیار کرنے والا دین اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے ۔ جس کے بعد اس کے کلمہ یا دیگر عبادات کا اعتبار باقی نہ رہے گا ۔ اگر آپ اس بارے میں تفصیلی علم چاہتے ہیں تو الولاء البراء کے موضوع پر کتابوں سے استفادہ کر سکتےہیں ۔ ( یہ کتابیں آپ کو مجاہدین کی ویب سائٹس سے مل سکتی ہیں مثلا الموحدین اور رباط میڈیا وغیرہ )

کفر و ارتداد کا یہ حکم آج پاکستان کی حکومت اور افواج پر بھی چسپاں ہوتا ہے ۔چنانچہ مجاہدین جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات کے پابند ہیں وہ پاکستان کی طاغوتی حکومت اور کفریہ افواج کے خلاف بھی مصروف قتال ہیں جو عین شریعت کے مطابق ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے صحافتی حلقوں کی اکثریت اس معاملہ کا صحیح ادراک نہیں کر پائی ہے اور مجاہدین کی طرف سے دی گئی ڈھیل کا ناجائز فائدہ اٹھاتے اٹھاتے معاملہ یہاں تک آپہنچا ہے کہ جو لوگ بظاہر افغانستان میں مجاہدین کے حمایتی نظر آتے ہیں وہ پاکستان میں مجاہدین کے خلاف کھل کر لکھتے اور بات کرتے ہیں ۔ حالانکہ مجاہدین افغانستان میں جس رب کی عبادت کرتے ہیں ، اور جس دین اسلام اور شریعت کے پابند ہیں ، وہی شریعت اور وہی دین پاکستان میں بھی مجاہدین کے اوپر لاگو ہوتی ہے ، یہاں آتے آتے مجاہدین کا رب نہیں بدل جاتا ۔ پھر یہ کیسا ظلم ہے کہ ایک ہی معاملہ پرہمارے صحافتی حلقے یہ علیحدہ علیحدہ حکم لگاتے ہیں ، یہ صریحا ً ناانصافی اور بددیانتی ہے، جس کی شکایت کرنے میں پاکستان کے مجاہدین حق بجانب ہیں ۔

شریعت کی رو سے جنگ میں ہر وہ شخص مقاتل کی حیثیت رکھتا ہے جو لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہےخواہ وہ عملی طور پر جنگ میں شریک ہو یا نہ ہو۔ (اس سے مراد تمام سیکیورٹی فورسز میں شامل افسران و اہلکار ہیں نہ کہ مسلمانان پاکستان ) اسی طرح ہر اس شخص کا قتل جائز ہے جو زبان یا قلم سے جنگ میں مصروف ہو۔ بلکہ ایسے شخص کا قتل بدرجہ اولیٰ غایت کو پورا کرنے والا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں اسلام کی طرح عام جنگی قوانین بھی یہی ہیں ۔اگرچہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں ان جنگی قوانین کی پابندی کی ضرورت بھی نہیں ، کیوں کہ شریعت کی کسی حکم کے سامنے دنیا کے جنگی قوانین کی کوئی حیثیت نہیں ۔

چنانچہ اس معرکہ کفر و اسلام میں ہر وہ فرد اور ادارہ جو مجاہدین اسلام کا مخالف ہے ، اور اپنی زبان یا قلم سے ان کی کردار کشی میں مصروف ہے وہ شریعت مطہرہ کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے خواہ اسے اس کا شعور ہو یا نہ ہو ۔ اور ایسی ہر رکاوٹ کو دور کرنا شریعت اور عقل کے اعتبار سے جائز اور مطلوب ہے ۔ ایسا فرد اگر اپنے آپ کو کلمہ گو کہتا ہو تو بھی اس کے متعلق فتویٰ نہیں بدل جاتا ،کیوں کہ کفریہ فعل کے ارتکاب کے بعد اس کی نماز و حج وغیرہ کا بھی کوئی اعتبار نہیں رہتا ۔

صحافتی حلقوں کو نشانہ بنانے کے متعلق مجاہدین کو جن باتوں میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے وہ درج ذیل ہیں :

بعض صحافی یا دیگر افراد جیسے علماءحضرات بھی در پردہ مجاہدین سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اپنی نجی محفلوں میں اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں لیکن ریاستی جبر کی وجہ سے یا تو خاموش ہیں یا کسی نازک معاملے پر اگر کچھ کہنے کی ضرورت پیش آجائے تو کبھی کبھی مجاہدین کے خلاف بول جاتے ہیں ۔ چنانچہ مجاہدین اس معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اتنی احتیاط ضرور کرتے ہیں کہ کسی بھی فرد مثلا صحافی کی محض چند اقوال یا سطور کی بنیاد پر اس کے متعلق فیصلہ نہ کیا جائے ۔

اسی طرح کسی صحافی ادارے کو براہ راست نشانہ بنانا اس وقت مجاہدین کے اہداف میں نہیں ہے کیوں کہ اس میں یہ اندیشہ ہے کہ ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں بے گناہ افراد بھی مارے جائیں گے ۔ جیسا کہ شیخ ابو یحییٰ ال لیبی حفظہ اللہ کی رائے یہی ہے کہ میڈیا میں کام کرنے والے تمام افراد کے بارے میں کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا لہٰذا کسی بھی صحافتی ادارے کو ہدف یا نشانہ نہ بنایا جائے ۔پھر غور کیا جائے تو یہ حکمت عملی کے اعتبار سے بھی درست نہیں ہے ۔ کیوں کہ اس کے نتائج مجاہدین کے خلاف بھیانک نکل سکتے ہیں ۔ ظاہر ہے ان اداروں میں ملازمت کرنے والے افراد کی اکثریت کا رائے سازی میں کوئی کردار نہیں ہوتا ۔ وہ محض کارندوں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اور میڈیا کو غیر جانب دار سمجھ کر ان اداروں سے وابستہ ہوئے ہیں ۔ چنانچہ مجاہدین کے لیے ہدف ادارے نہیں بلکہ ایسے افراد ہونے چاہییں جن کا رائے سازی میں اہم کردار ہوتا ہے جیسا کہ لکھاری وغیرہ ، یا ٹی وی میزبان یا اینکر پرسن جن کے پروگرامات میں ان کی اپنی پسند اور رائے شامل ہوتی ہے ۔ پھران صحافیوں کے جرائم کی پس پردہ حمایت کرنے والے پبلشرز ، ایڈیٹرز ، یا پروڈیوسرز وغیرہ ۔۔۔

یہاں میں ایک سابقہ تحریر کے کچھ اقتباسات نقل کر رہا ہوں جو مجرمین کی نشاندہی ہمارے پسندیدہ اہداف کے عنوان سےاس بلاگ پر چند ماہ قبل پوسٹ کی گئی تھی ۔ آخر میں اس پوسٹ کا لنک بھی فراہم کیا جا رہا ہے ۔

:::::::::::::::::::: اقتباس شروع ہوا ::::::::::::::::::::

۱۔ میڈیا
معرکہ کفر و اسلام اور موجودہ صلیبی جنگ میں اس دجالی مہم کی کیا اہمیت ہے اس کی تفصیل میں جانے کی ہم کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔دجال بازی کے اداروں کو ضرب لگانا اس وقت ہماری حکمت عملی کے خلاف ہوگا اور ان سے اعراض کرنے کے لیے مرکز سے ہدایات ہیں ، لہٰذا ہم میڈیا کے اداروں کے بجائے افراد کو ہدف بنانا پسند کریں گے ۔

ایسے سیکولر افراد جو اپنے قلم یا دیگر صلاحتیوں سے جہاد اور مجاہدین کے خلاف پروپگینڈے میں مصروف ہیں
ذہن میں مستحضر رہے کہ کچھ صحافی ایسے بھی ہیں جو حکومت اورسیکیورٹی فورسز کے ظلم و جبر کے خوف سے کھل کر مجاہدین کی حمایت نہیں کر سکتے اور بعض اوقات اپنے قلم یا زبان سے ایسی بات کہہ جاتے ہیں ، جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے کہ یہ لوگ مجاہدین یا جہاد کے خلاف ہیں ۔۔۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اس لیے احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ان صحافیوں یا صحافتی حلقوں کو مجرمین سے علیحدہ رکھیں ، جو کسی حد تک مذہبی اور دینی سوچ کے حامل ہیں ۔۔۔ ممکن ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کی طرح وہ بھی محض پراپگینڈا کا شکار ہوں ، بشرطیکہ اس جھوٹ کو پھیلانے میں ان کی مستعدی اس حد تک نہ پہنچی ہوئی ہو ۔

یہ جاننے کے لیے کون اس جرم میں کتنا شریک ہے ، اس کا اندازہ ان کے قلم اور زبان کے زہریلے پن سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے ۔
چنانچہ وہ صحافی یا صحافتی حلقے جو شب و روز نام نہاد دہشت گردی کا راگ الاپتے نہیں تھکتے اور امت مسلمہ کو اپنے محسنین سے بدظن کرکے مزید گمراہیوں کی طرف دھکیلتے ہیں
دین اسلام اور اس کے سچے پیروکاروں سے شدید بغض جن کے گفتار و کردار میں ہمیشہ نمایاں رہتا ہے
جو جہاد اور مجاہدین ہی نہیں، بلکہ شریعت مطہرہ کے خلاف بھی دشمنی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے
اس مبارک جہاد کے متعلق جھوٹے اور بے سروپا الزامات کی بوچھاڑ سے جن کے دہانوں سے ہر وقت جھاگ نکلتا رہتا ہے ، اور جن سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ :::: قل موتو ابغیضکم ::: ان سے کہو!!! اپنے غصے میں آپ ہی جل مرو ۔۔۔

:::::::::::::::::::: اقتباس ختم ہوا ::::::::::::::::::::

آخر میں ایک ضروری وضاحت یہ ہے کہ الحمد للہ مجاہدین شریعت سے رہنمائی لیے بغیرکسی ادارے یا فرد کو ہدف نہیں بناتے ۔ لہٰذا اگر کسی مسلمان کو مجاہدین کے اہداف کے بارے میں اختلاف ہو تو وہ شریعت کی روشنی میں ہونا چاہیے نہ کہ محض عقلی بنیادوں پر ۔ اس پر یہ بھی اضافہ کر لیں کہ بعض اہداف کے بارے میں مجاہدین کے علماء میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن الحمدللہ مجاہدین کی اکثریت ایسے ہی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں جن کے بارے میں علماء کی عام رائے موجود ہو ۔

امت اخبار کے بارے میں

اس سارے جواب کی روشنی میں آپ خود ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ ادارہ امت کس صف میں کھڑا ہے :
کیا امت اخبار میں مجاہدین کو دہشت گرد یا شر پسند کہہ کر ان کی کردار کشی نہیں کی جارہی ؟؟؟
کیا امت اخبار طالبان اور حکومت پاکستان کے درمیان اس جنگ میں خاموش فریق کی حیثیت رکھتا ہےیا کسی ایک فریق کی حمایت کرتا ہے ؟؟؟؟
کیا امت اخبار میں مجاہدین کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹی خبریں شائع نہیں کی جاتیں ؟؟؟
کیا امت کے تجزیہ نگار اور لکھاری حضرات ایسے تجزیے نشر نہیں کرتے جو مجاہدین کے متعلق گمراہ کن پروپگینڈے میں شمار کیا جاسکتا ہے ؟؟؟

اگرچہ ہمارا گمان یہ ہے کہ آپ کے ادارے میں شامل کئی افراد ریاستی جبر کی وجہ سے ایسا رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں ۔۔۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ ایسے معاملات میں وہ کوئی رائے نقل کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیں ، اور مجاہدین کو اس بات پرمجبور نہ کریں کہ وہ ایسے صحافیوں کے خلاف کوئی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں ۔۔۔
اگر آپ یہ کہیں کہ امت اخبار غیر جانب دار ہے تو مجھے افسوس ہے کہ آپ کے اخبار میں شائع ہونے والی خبریں اس کی تردید کرتی ہیں :
جب قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون طیاروں سے حملہ کیا جاتا ہے تو آپ شہید ہونے والے مجاہدین کو شہید لکھتے ہیں۔
لیکن جب یہی مجاہدین ناپاک سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں تو آپ انہیں دہشت گرد اور ہلاک کہہ کر اپنی بات سے پھر جاتے ہیں ، اور مردار ہونے والے مرتد فوجیوں کو شہید کہہ کر عامۃ المسلمین میں گمراہیاں پھیلاتے ہیں ۔ کیا یہ جرم ناقابل معافی ہے ۔ہر گز نہیں ۔۔۔ اللہ کے حکم سے بہت جلد ادارہ امت کو اپنی لکھی ہوئی ان سطور کا حساب دینا ہوگا ۔۔۔
اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔۔۔ ان شاء اللہ ۔۔۔

دور جانے کی کیا ضرورت ہے ، ۲۰ ستمبر ۲۰۱۱ کی خبر ملاحظہ کر لیں جس میں ایس ایس پی کے گھر ہلاک ہونے والے مرتد پولیس اہلکاروں کو شہید لکھ کر امت اخبار نے اپنے جرائم پر مہر ثبت کردی ہے ۔۔۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون


سابقہ تحریروں کے لنک درج ذیل ہیں ۔



11 تبصرے:

اسامہ said...

جزاک اللہ بھائی

بڑے عرصے کے بعد ایک بہترین تحریر لکھی ہے

ایسا لگتا ہے آپ فورم میں واپس آرہے ہیں

میں نے جو سوال کیے تھے ان کے جواب آپ نے ابھی تک نہیں دیے

انفرادی جہاد کے متعلق

Anonymous said...
This comment has been removed by a blog administrator.
Anonymous said...

jazakAllah khair

عرفان بلوچ said...

اسامہ بھائی
تحریر پسند کرنے کا شکریہ ، دعا کریں کہ اللہ پاک ہمارے اعمال قبول فرمائیں ۔ خدانخواستہ وہاں سے رد کر دی گئی تو کیا فائدہ ۔ آپ جانتے ہیں کہ انفرادی جہاد کا موضوع ہدف تنفید ہے اس لیے آپ کے سوالات کے جوابات دینے سے جان بوجھ کر اعراض کر رہا ہوں ، ویسے سوالات دوبارہ بھیجیں ، شاید مجھ سے کہیں کھو گئے ہیں ، والسلام ۔

مسٹر نامعلوم :
جو لوگ ہمیں بھارتی ایجنٹ کہتے ہیں ان کے دماغ خراب کرنے میں ان صحافیوں کا بہت بڑا کردار ہے ۔ ان شاء اللہ وقت قریب ہے جب ایسی خرافات ہانکنے والوں کو جان کے لالے پڑے ہوں گے ۔ پھر نہ ہو گی جھوٹٰی صحافت ، نہ ہوگا بدھو پن ، نہ ہی ہوگا بھارت ۔ ان شاء اللہ ۔۔۔

اور ہر گھر میں اللہ کا کلمہ داخل ہوگا ، عزت والوں کو عزت دے کر ، اور ذلت والوں کو رسوا کر کے
آپ کی بھی اپنی چوائس ہے کن لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ عزت والوں میں یا ذلیل لوگوں میں

Shaykh Abu Safan Alsalafi said...

جزاک اللہ عرفان بھائی!۔
اللہ آپ کے اخلاص کو قبول فرمائے۔ آمین

نمرہ said...

عرفان صاحب
السلام علیکم

میں آپ کے بلاگ کے توسط سے مجاہدین کی توجہ بھارت کی طرف مبزول کروانا چاہتی ہوں

آپ نے یہ خبر ضرور پڑھی ہوگی کہ امریکہ سے تعلقات کشیدہ ہوتے ہی بھارت میں پاکستان کے خلاف جنگوں کی تیاریاں ہو رہی ہیں

ایسے میں آپ کو اس بارے میں بھی لکھنا چاہیے تاکہ یہاں کے مسلمانوں کو آگاہی حاصل ہوسکے

جزاک اللہ خیر

Anonymous said...

It is in the interest of Mujahideen that naPak forces are forced to move towards eastern border to match Indian pressure and naPak US collaboration is damaged as deep as possible.

Behna Ji said...

Assalamoalykum
alhumdulillah bohat acha jwab diya aap ny brother irfan. her baat wazih ho gaee.

logon ko chahyay k bjaiy mujahideen owr ulmae haq ko tanqeed ka nishana bnany k, unky faislon,ehkamat ,ehdaf owr mqasid ki roshni main haq ko tlash krain. ke wo to ALLAH kay noor ki roshni main chalty hain,unko to ALLAH ki taa'eed owr nusrat hasil hoti hay. unko to ALLAH wo shrah sadr dayta hay jo un sahaba kram RA ko di thi jinhon ny drakht kaat diyay thay apny ijtihad say owr logon ny shor machaya k inhon ny to jihadi ehkamat ki khilaf warzi kr di,magar ALLAH ny unki taa'eed kr ke bta diya ke wo sahaba RA ghalt nhi thay bulke wo kaam ALLAH ki marzi kay mutabiq hoa.

Anonymous said...

AOA IRFAN BALOCH BAHI,SAEED NOORI BAHI AND ABU JAMAL BAHI MERE AP SE REQUEST BHI HAI AUR DAWAT BHI KE JHUF KO AP JOIN KARIEN,WAHAN PAR BHI LOGO KO KAFI FAIDA PONCHE GA

GOOR KI JUEAY GA

ابو جمال said...

جامعہ حفصہ فورم والے بھائی

آپ کی فراہم کی ہوئی آئی ڈی اور پاسورڈ کام نہیں کر رہا شاید پراکسی کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہو

آپ غزوہ ہند کی تحریریں وہاں بھی پوسٹ کر سکتے ہیں ۔ کوئی پابندی نہیں ہے ان تحریروں پر

Anonymous said...

meri ak guzarish hai taliban hifzullah say kay kaya pakistan kay media kay khilaf karwai kayun nahi hoti khas kar sama tv chanal kay sath ya sab chanal kuffur kay ala e kar han baray maharbani in kay office main in munafiqeen ko warn kiya jay jazzaq allah

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ