Subscribe:

Saturday, October 29, 2011

پولیس آفیسر فدائی حملے میں مارا گیا

مردان روڈ پر واقع برہ بانڈہ کے نزدیک ایک مجاہد بھائی نے مرتدین کی ایک خصوصی گاڑی پر شہیدی حملہ کیا جس کے نتیجے میں رسالپور تھانہ کا ایس ایچ او سید اجمیر شاہ اپنے ڈرائوےر سمیت ہلاک ہوگیا ۔ سید اجمیر شاہ کو اپنے علاقے میں مجاہدین کے خلاف خصوصی سرگرمیاں دکھانے کی شہرت حاصل تھی ۔ مجاہدین کا کہنا ہے کہ اس مرتد نے دوران حراست تفتیش کرتے ہوئے کئی مجاہدین کو شدید اذیتیں دے کر شہید کر ڈالا تھا اور اس کا نام مجاہدین کے سر فہرست اہداف میں شامل تھا ۔ یہ بھی واضح رہے کہ کفریہ نظام کی حفاظت کے لیے مجاہدین کے خلاف خصوصی سرگرمیاں دکھانے پر اللہ کے اس دشمن کو صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کا اعزاز بھی دیا جا چکا ہے ۔



وہ گاڑی جس میں مرتد ایس ایچ او شہیدی حملے میں نشانہ بنا

اللہ تعالیٰ شہیدی بھائی کو قبول فرما لیں 

آمین

Sunday, October 16, 2011

ایک واردات جو افشاں ہونے کو ہے!





احمد حسن
 

فجر کی نماز پڑھتے ہی گھر سے مزدوری کی خاطر نکلنے والےسیدھے سادھے مسلمان کو کیا خبر کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کس طرح اس کی خون پسینے کی کمائی میں سے اپنا حصہ اچک جاتا رہا، اس کے کانوں میں اگر اس نظام سے متعلق کوئی آواز پڑی بھی ہو گی تو وہ ’مزدوروں کے حقوق‘، ’مزدوروں کا عالمی دن‘، ’بنیادی انسانی حقوق‘ جیسے خوشنما نعروں کی آواز ہو گی جو دجاجلہ گھر گھر، گلی گلی نشر کرتے رہے۔ اسے کیا علم کہ وہ اپنے بچوں کے لیے جو روٹی خریدنے جاتا ہے اس کی قیمت میں پانچواں حصہ تو سیلز ٹیکس کی صورت میں حکومتی بھتہ ہے، یعنی سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زندگی گزارنے کا جرمانہ۔۔۔۔۔۔مڈل کلاس کہلانے والے دفاتر کے ملازمین یا تجارت پیشہ افراد جن کی زندگی اپنی سفید پوشی کا بھرم برقرار رکھنے اور اپنے بچوں کی سکول کی فیسیں پوری کرنے ہی میں گذر جاتی ہے، شاید نہیں جانتے کہ ان کو ٹی وی پر جو نت نئے اشتہارات ہر دس منٹ کے وقفے کے بعد دکھاۓ جاتے ہیں اور وہ بڑے بڑے سائن بورڈ جو ان کو ’ترقی یافتہ دور‘ کی مصنوعات سے متعارف کروا رہے ہوتے ہیں، ان کا تمام ترخرچ یہ عالمی تجارتی کمپنیاں مارکیٹ بجٹ کے نام پر اسی کی جیب سے اس وقت وصول کرلیتی ہیں جب وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے لئے وہ مصنوعات خریدنے جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اور وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مال و متاع کثیر دیا گیا، جس کو سنبھالنے کے لئے وہ بینکوں کا سہارا لیتے ہیں، شاید یہ جانتے ہوۓ بھی خود کو مجبور پاتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام ان کے سرماۓ کو کفر کے امام امریکہ تک پہنچاتا ہے اور صلیبی اتحاد کا یہ پیشرو اس میں جتنا اور جس طور چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح امت کے وسائل کو امت پر مسلط خائن حکمرانوں کے تعاون سے مسلسل اس طرح لوٹا جا رہا ہے کہ تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل جو اس دور میں قوت کی چابی سمجھے جاتے ہیں کی قیمتیں تک اہلِ مغرب کی مرضی اور انہی کے طے کردہ معیار ’ڈالر‘کے ذریعے متعین ہوتی ہیں اور امتِ مسلمہ کی طرف سے اس معاملے پر اٹھنے والی ہلکی سی مزاحمت کو دبانے کے لئے بھی آمدورفت کے سمندری راستوں پر عالمی فوجوں کے بحری بیڑے تعینات ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کے پاس اپنے پاور پلانٹ اور ریلوے انجن تک چلانے کے لئے بھی ایندھن میسر نہیں رہا۔۔۔۔۔ اس سب پر اضافہ یہ کہ کاغذی کرنسی کا شیطانی کھیل بڑے غیر محسوس طریقے سے لوگوں کی کمائی ان کی جیبوں سے اچک لیتا ہے۔ نوٹ تو اتنے ہی رہتے ہیں لیکن ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرنے کی وجہ سے جب کوئی شخص اپنی موٹر میں پٹرول بھروانے جاتا ہے تو اسےماضی کی تیس روپے فی لٹر کی قیمت کی بجاۓ سو روپے فی لٹر ادا کرنے پڑتے ہیں۔سونے کی قیمت کا پتہ کرتا ہے تو وہ بھی کچھ عرصہ قبل تیس ہزار فی تولہ کی بجاۓ اب ساٹھ ہزار سے اوپر پہنچی پاتا ہے۔۔۔۔۔۔ایک عام آدمی کے پاس تو اس پورے عمل کو سمجھنے کے لئے صرف ’مہنگائی‘ کا لفظ ہے لیکن اصل میں یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام ہے جو ہر ممکن طریقے سے مسلمانوں کے حلق کے اندرتک پہنچ کر ان کے نوالے چھینتا رہا ہے۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اسی چھینی ہوئی دولت سے یہ نظام اسلام کے خلاف جنگ بھی جاری رکھے ہوۓ ہے۔
الحمد للہ! ارضِ خراسان، عراق ،جزیرۃ العرب، صومال وغیرہ میں جاری مسلسل جنگ کی وجہ سے آج یہ نظام ہچکولے لے رہا ہے اور قریب ہی ہے کہ زمین پر آگرے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیبﷺ سے دشمنی لینے والوں کی معیشت تنگ پڑ چکی۔ ۲۰۰۸ء سے شروع ہونے والے معاشی بحران پر مغرب بیل آؤٹ پلان کے ذریعے پردہ نہ ڈال سکا اور آج یہ بحران پہلے سے بھی بھیانک حالت میں رونما ہو چکا ہے۔غریبوں کے منہ سے روٹی چھیننے والے آج خود سڑکوں پر مصروفِ احتجاج ہیں،دوسروں کے وسائل ہتھیانے کے لئے حملہ آور ہونے والے نہ صرف پسپا ہوۓ چاہتے ہیں بلکہ اپنے ہی ملکوں میں نوکریوں کے لئے قطاریں بناۓ کھڑے ہیں۔آج یہ سطور لکھتے ہوۓ صورتحال یہ ہے کہ میڈیا پر ہر جگہ معاشی بحران کا ذکر ہی نظر آرہا ہے، یونان کے بعد اٹلی اور سپین بھی دیوالیہ ہونے کو ہیں، امریکہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے قلب ’وال سٹریٹ‘ پر قبضے کی مہم چل رہی ہے، ’ترقی یافتہ‘ بیس ممالک اپنے مستقبل کو بچانے کے لئے سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ کہیں سے کچھ امداد فراہم ہو جاۓ۔۔۔۔۔۔
اس سارے معاملے میں جہاں امت کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے وہیں ایک خطرے کی گھنٹی بھی۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی ساخت پرداز سے یہ بات بھی صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ یہ نظام ڈوبتے ہوۓ بھی اپنے ساتھ منسلک لوگوں کوبہت بڑی زِک پہنچاۓ گا اور اس نقصان سے چند سرکردہ ساہوکاروں(جن کی اکثریت یہودی ہے) کے علاوہ بہت ہی کم لوگ بچ پائیں گے۔ آپ غور کریں کہ اگر کاغذی نوٹوں کی قیمت اس قدر گر جاۓ کہ وہ بے وقعت ہو کر رہ جائیں، اصلی زر، سونا، چاندی وغیرہ عام فرد کی قوت خرید سے نکل جائیں تو کیا منظر ہوگا؟؟ تقریباً وہی جو افغانستان میں جنگ کے دوران ہوا۔۔۔۔ نوٹوں بھری بوریاں کسی کام کی نہ رہیں۔۔۔۔ امیر راتوں رات غریب بن گئے۔۔۔۔ بالخصوص پاکستان تو اس صورتحال کے بہت قریب آن پڑا ہے،ریلوے کے تین ڈویژن اور سو سے زائد ٹرینیں بند ہو چکی ہیں، پورے ملک سے بجلی غائب ہے، صنعتیں بہت تیزی سے بند ہو رہی ہیں۔۔۔۔۔ اس تمام صورتحال سے بچنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ ہم جلد از جلد اس نظام سے الگ ہو جائیں۔ بینکوں میں پڑی اپنی تمام تر رقوم کو نکال کر اس سے ایسی چیزیں خرید لیں جو بنیادی انسانی ضرورت سے متعلقہ ہیں اور جن کی قیمت خود ان کے اندر موجود ہے۔ ان میں شروع سے معیار تو سونا، چاندی رہا ہے، لہٰذا جس کے لئے ممکن ہے وہ کاغذی نوٹوں کی جگہ اپنے پاس سونا اور چاندی رکھے یا ایسا کاروبار شروع کرے جس کا تعلق بھی بنیادی انسانی ضرورت سے ہو نہ کہ تعیشات سے (مثلاً زراعت، مویشی فارم اور خوراک و لباس سے متعلقہ دیگر کاروبار) اور جس میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام پر انحصار نہ ہو، ایسا کرنے میں عامۃ المسلمین کا بھی فائدہ ہے کہ انہیں خوراک اور روزگار فراہم ہو گا۔اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرماۓامت کے علماء پر جنہوں نے آغاز ہی میں اس خطرے کا ادراک کر لیا تھا۔ ذیل میں کاغذی نوٹ کے بارے میں مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا فتویٰ نقل کیا جا رہا ہے جو اس پورے معاملے میں آج بھی شرعی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
’’ کاغذوں سے ہندوستان کا بے شمار سونا باہر گیا ہے اور امریکہ کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔۔۔آپ کوسمجھایا جا رہا ہے کہ دھوکے سے بچو۔ بے قیمت کاغذ لے کر اپنی دولت برباد مت کرو۔ نہ انگریزی حکومت کا کچھ اعتبار ہے، نہ ان کے بینکوں کا، نہ نوٹوں کا۔ لہٰذا اگر تم اپنی پونجی محفوظ کرنا چاہتے ہو تو:
1) کوئی نوٹ بالخصوص ایک روپے والا یا پانچ روپے(یعنی بڑا نوٹ، جیسے آج ہزار والا یا پانچ ہزار والا) والا مت لو۔
2) جتےی نوٹ آپ کے پاس ہوں، ان کے بدلے میں روپیہ، سونا یا چاندی فراہم کر لو۔
3) تمہاری جس قدر رقوم بینکوں میں ہیں انہیں واپس لے لو۔
4) نوٹوں کے بدلے میں کوئی چیز فروخت مت کرو۔ گاؤں کے کاشت کار غلہ اس وقت فروخت کریں جب ان کو یقین ہو جاۓ کہ بدلے میں نوٹ نہیں دئیے جائیں گے (بلکہ سونا چاندی یا اشیائے ضرورت میں سے کوئی چیز دی جائے گی)۔
ننگِ اسلاف، حسین احمد غفر اللہ لہٗ(مراد آباد جیل)
(مکتوب۱۴۳، مکتوباتِ شیخ الاسلام، جلد چہارم)‘‘
(کتاب’’اسیرانِ مالٹا‘‘، صفحہ ۱۳۹،۱۴۰)
آج یہ بات نہایت ضروری ہے کہ امت کے اندر اپنی رقوم بینکوں سے نکالنے کی بھرپور مہم چلائی جاۓ۔ علماء جمعہ کے خطبات اور اپنے دروس میں اس خطرے سے آگاہ کریں اورمجاہدین اس امر کو اپنی دعوت کا جزو بنائیں۔ اس میں مسلمانوں کے اموال کی حفاظت بھی ہے اور یہ کام ان شاء اللہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل انہدام کا ذریعہ بھی ہے۔۔۔