Subscribe:

Wednesday, November 30, 2011

ای میل اور تبصرے


السلامُ علیکم ورحمتہ ﷲ و برکاتہ
بعد از سلام ، آپ کی محنت اور کاویشوں کو دیکھا اتنا ہی کہ سکتا ہوں کہ  ﷲ آپ کو اجرِعظیم عطاء کرے۔حضرت چند سوالات ہے ،اگر قران و سنت اور علماٴ کے بیان و فتوات   کی روشنی میں وضاحت کر دے تو آپ کا ممنون  ہو گا۔
میں نے ابھی ایف ایس سی کے امتحانات پاس کیے ھیں ، لیکن اب میرا دل جھاد میں عملی طور پر جانے کا ہے ، ذراہع بھی ھیں اور مواقع بھی ،اﷲ کا کرم ھے کہ والد صاحب کا اپنا کاروبار ھے جو اچھا چل رھا ھے ، لیکن وہ مجھے جھاد سے روک رہے ھیں، ان کا موقف ھے کہ میں تعلیم کو اگے جاری رکھو اور علمی دنیا میں رہ کر مجاہدین کی مدد کرو ،کیونکہ ان کا کہنا ھے کہ جھاد میں بندوق چلانے بھت ھیں، علمی دنیا میں رھوں اور پھر مجاھدین کی مدد کرو ، جب میں نے اس بات سے انکار کیا تو پھر انھوں نے کھا کہ تم کاروبار میں آ جاو اور مجاہدین کی مالی مدد کرو، اُن کو پناہ دو، میرے والد جھاد کے منکر یا اس کی مخالفت نہیں کرتے ، لیکن اُن کا کہنا ھے کہ تعلیم یا کاروبار کرتے ہوے جھاد میں بہتر حصہ لیے سکتے ہو،،، اسی پر محلے کے مولوی  ، میرے چچا اور ماموں سب یہی کہ رہے ہیں کہ تمھارے والد ٹھیک کہ رہے ہیں۔ تم فصول ضد کر رہے ہو اور اس کی شریعت میں اجازت نہیں۔۔۔
براےٴ کرم میرے اس معاملے میں رہنمایٴ کی جاے ، کہ کیا میں گھر بیٹھ کر ان کی ہدیات پر عمل کرو یا اپنے شوقِ جھاد کو مدِ نظر رکھتے ہوےٴ جھاد پر نکل پڑو ؟؟؟؟
والسلام
آپ کا بھایٴ اسد ﷲ
پاکستان
نوٹ ﴿ آپ کو معلوم ہے کہ یہ مسلہ عموماً سب کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے ذرا مفصل جواب دینا
میں دوبارہ اس آیٴڈیٴ کو اوپن نہیں کر سکتا،اس لیے ان کے جواب اپنے بلاگ ًغزوتہ لھند ً میں پوسٹ کر دینا
لکھنے میں کویٰ غلطی ہو تو معافی چاھوں گا ﴾

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ آپ کے اخلاص اور اعمال کو قبول فرمائے ، اور تمام مجاہدین کے کاموں میں برکت ڈالے آمین

آپ کے والد صاحب جہاد کے معاملے میں آپ کو جو بھی نصیحت کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مشورہ اور ان کی رائے تو ہو سکتی ہے لیکن اسے حکم کا درجہ حاصل نہیں ہوگا ۔ اگر آپ کے والد صاحب یہ نصیحت آپ کی اور امت کی  خیر خواہی میں کر رہے ہوں اور اس میں خلوص بھی شامل ہو تو بھی اس کی بہر صورت تعمیل کرنا آپ کے اوپر واجب نہیں ہے ۔

بہترین طریقہ یہ ہے کہ یہ معاملہ آپ کسی جہادی مجموعے کے امیر یا عسکری کمانڈر کے سامنے پیش کریں اور اس میں اپنا مشورہ اور خواہش بھی شامل کریں ۔اپنے امیر کو بتائیں کہ آپ مجاہدین اور امت مسلمہ کی کس کس طرح خدمت کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد امیرمیدان جہاد کی ضروریات اور موجودہ صورتحال کو دیکھ کر آپ کے بارے میں جو فیصلہ کرے آپ پورے اطمنان کے ساتھ اس کے امر کی اطاعت کریں ۔

میرا ذاتی مشورہ یہ ہے کہ آپ کے لیے اگر جہاد میں شرکت کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھنا ممکن ہو تو اس کی ممکنہ حد تک کوشش کریں۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ آپ معرکوں کے لیے گھر سے نکلیں اور چند ماہ گزارنے کے بعد واپس آجائیں ۔ تعلیم کے مکمل ہونے تک یہ سلسلہ جاری رکھیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اپنے مقامی شہر یا بستی میں رہ کر مجاہدین کو دشمن کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کرتے رہیں ، اس طرح آپ براہ راست جہاد میں شریک ہو سکتے ہیں ، اس کے علاوہ بھی جہاد میں شرکت کے دوسرے بہت سے راستے ہیں ۔

اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں
جہاد میں شرکت کے چوالیس طریقے

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

السلا م علیکم ورحمۃاللہ وبرکاۃ۔۔
اللہ تعالی سے امید ہے کہ آپ خیروعافیت کے اعلی درجے پہ ہوں گے،
کافی عرصے سےآپ سے رابطہ کرنے کا سوچ رہاتھالیکن مصروفیت کی وجہ سے رابطہ نہ کرسکا۔
آپ لوگوں کا انٹر نیٹ پر اردو ذبان میں جہاد کے موضوع پر کام کو دیکھ کر دل کو بہت خوشی ہوتی ہے
اللہ تعالی آپ کے کام میں برکت ڈالے اورآپکے اس کام کے زریعے کفار کے سینوں میں لگنے والی آگ کو تیز کرنے کاسبب بنے
 اور کفار کی چالوں کو نست و نبود کرے
آپ کے اس کام میں اگر کہیں میری کسی قسم کی خدمت کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیے گا
والسلام
محمد عطا    


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جزاک اللہ !!! اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں ، نیک اعمال اور کوششوں کو قبول فرمالیں ۔۔۔ آمین ۔
خدمت تو اس پر منحصر ہے کہ آپ کس طرح ہمارے لیے کاررآمد ہوسکتے ہیں۔۔ اگر آپ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی جہادی خدمت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو ۔۔۔

تحاریر لکھنا
اہم معلومات فراہم کرنا
دشمن کی جاسوسی کرنا
کتابیں اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنا
انہیں دوسروں تک پھیلانا
:: بذریعہ ای میل
:: بذریعہ سوشل نیٹ ورک مثلا فیس بک
وغیرہ وغیرہ

یہ سب کام تو انٹرنیٹ سے متعلق ہو سکتے ہیں

اس کے علاوہ بھی اور بہت سے ذریعے ہیں ، مطالعہ کیجیے اسی کتاب کا جس کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے ۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔۔۔۔

Saturday, November 12, 2011

چکوال میں خفیہ اداروں کا آپریشن ناکام

۱۳ نومبر 

جہلم کی تحصیل پنڈدادن خان کے علاقے پیر چنبل میں خفیہ اداروں اور پولیس کا مشترکہ آپریشن ناکام ہو گیا ہے ۔

مجاہدین نے چند روز قبل منڈی بہاء الدین سے ایک سیکیورٹی آفیسر میجر(ر) ہارون کو دو اہلکاروں سمیت اغوا کر لیا اور اپنے ساتھ سالٹ رینج کے پہاڑی علاقے میں لے گئے ۔ مجاہدین نے سیکیورٹی اداروں سے ان اہلکاروں کی رہائی کے بدلے بیس مجاہدین کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا تھا ۔

سیکیورٹی اداروں نے رہائی کے معاملہ پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے ایک خفیہ آپریشن ٹیم تشکیل دی جو ملٹری انٹیلی جنس کے پانچ اہلکاروں پر مشتمل تھی ۔ دو روز قبل ایم آئی کے افسر میجر آفاق اور دیگر چار اہلکار جب مجاہدین کی ٹوہ لینے کے لیے پیر چنبل کے پہاڑی علاقے میں پہنچے تو وہاں موجود مجاہدین کو ان کی بھنک مل گئی ۔ مجاہدین اللہ کی نصرت سے ان مرتدین کو بھی گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔

سیکیورٹٰی اداروں کو جب یہ اطلاع ملی تو انہوں نے مقامی پولیس سے مدد لے کر ایم آئی کے پانچوں اہلکاروں کی تلاش شروع کی ۔ جس کے بعد مجاہدین نے ایم آئی کے پانچوں اہلکاروں کو قتل کر کے ان کی لاشیں پہاڑی علاقے میں پھینک دیں ۔ بعد ازاں مردار ہونے والے ان اہلکاروں کی لاشوں کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل کی گئی ۔ جنہوں نے لاشوں کی تلاش کی فضائی مہم جاری رکھی اور بالآخر آٹھ گھنٹے کی مسلسل تلاش کے بعد مرتدین کی لاشیں پیر چنبل کے پہاڑی دروں میں مل گئیں ۔

مجاہدین کے خلاف اس ناکام آپریشن کے بعد سیکیورٹی اداروں نے اپنی خفت و ندامت پر پردے ڈال رکھنے کے لیے دجالی میڈیا کے سہارے جھوٹ کے دہانے اگلنے شروع کر دیے ۔۔۔ جنہیں پڑھ کر ۔۔۔ ذرا بھی عقل رکھنے والا گمراہ نہیں ہوسکتا ۔۔۔


بے شک تمام تعریفوں کے لائق وہ ہستی ہے جس نے یہ فتح اپنے بندوں پر اتاری
تاکہ ان کے قلوب کی جلن مٹے ۔۔۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون



لا دینیت کے داعی

لا دینیت کے داعی____ مسلمان معاشرے کے لیے بڑا خطرہ

احمد حسن
خلافت کے خاتمے اور پھر پے در پے باطل نظاموں-نو آبادیاتی نظام، روسی کمیونزم اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام -کے تسلط نے امتِ مسلمہ میں سے ایک طبقے کےذہن کو باطل نظریات سے اس قدر کثیف کر دیا ہے کہ ان کے یہاں معیارات، اصطلاحات و تشریحات تک بدل کر رہ گئیں۔

وہ امت جس کے لئے چودہ سو سال تک آئین صرف آئینِ پیغمبری ہی تھا جس کے مصادر بالاِجماع قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس ہی رہے،آج یہ طبقہ ہر خطے میں ایسے جدید آئین کی تلاش میں سرگرداں ہے جو ان کو’ترقی‘ کی اوج تک پہنچا دے۔جس امت نےرومیوں، فارسیوں اور مشرکین کے تخلیق کردہ عہدِ جاہلیت کو منزّہ عقائد، منوّر علم،  روشن اقدار اوراخلاق و عبادات میں للٰہیت سے تبدیل کر کے رکھ دیا آج اسی امت میں سے افراد اپنے لیے مغرب سے چراغ ادھار مانگ رہے ہیں۔ جس امت کو اللہ تعالیٰ نے نبیٔ  امیﷺ سے نوازا ،جنہوں نے انسان کو اس کا درست مقام دکھایا، جن کی وجہ سے ایمان لانے والے اس قدر بلند ہو گئے کہ دورِ جاہلیت میں محض ایک حبشی غلام سمجھے جانے والے بلالؓ فتح مکہ کےروز بیت اللہ کی چھت پر کھڑے اذان کہہ رہے تھے،  آج اسی میں سے لوگ نکل نکل کر اہلِ کفر کے در پر جا بیٹھے ہیں۔ حالانکہ اہلِ مغرب کا حال تو یہ ہے کہقد ضلوا من قبل وأضلوا كثيرا وضلوا عن سواء السبيل(وہ گمراہ ہو چکے پہلے اور گمراہ کر گئے بہتوں کو اور بہک گئے سیدھی راہ سے)۔
اہلِ کفر سے براہِ راست متاثر اس طبقے نے امت کی زبوں حالی میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ کفار کے عسکری و فکری منصوبہ جات کی مسلمان خطوں میں درآمد اسی طبقے کی مرہونِ منت ہے۔ جمہوریت پر منعقد ہونے والی کانفرنسیں ہوں، بہبودِ آبادی(دراصل تحدیدِ آبادی) کے پروگرام ہوں، غیر سرکاری تنظیموں(این جی اوز) کا جال ہو، میڈیا پر بے حیائی کی مہم ہو، مدارس و علماء کے خلاف پروپیگنڈا ہو، نفاذِ شریعت کے خلاف ریلیاں ہوں،  تعلیمی نصاب اور تعلیمی اداروں کے ماحول کو سیکولر بنانے کی سازشیں ہوں، بلیک واٹر جیسے دجال کے لشکروں کو ٹھکانے مہیا کرنے کا کام ہو۔۔۔۔ غرض اس طرح کی تمام سرگرمیوں میں یہی طبقہ ملوث ملتا ہے۔ لال مسجد کی تحریک کے دوران اور اس کے بعد تو اس طبقے نے علیالاعلان اپنے بغض کا اظہار شروع کر دیا ہے۔امریکی اور یورپی فنڈز پر پلنے والے اس طبقے نے قرآن پڑھنے والی امت ہی کی سڑکوں پر شریعت سے آزادی کے نعرے لگاۓ، چینلوں پر برملا علماۓ کرام اور حدود اللہ پر کیچڑ اچھالنی شروع کی، شعائرِ اسلامی کی توہین پر مبنی فلمیں بننا شروع ہوئیں، برقعہ، پگڑی، داڑھی کو تضحیک کا نشانہ بنایا۔ جہاد فی سبیل اللہ کو فساد ثابت کرنے اور اس کو باطل ٹھہرانے کے لیے کتنی ہی چرب زبانوں کو اپنے یہاں نوکر کیا ۔
بالاصل تو یہ ٹولہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ ان کی باقاعدہ صف بندی سول سوسائٹی، این جی اوز، میڈیا  وغیرہ میں دیکھنے کو ملتی ہے جبکہ سیاست اور فوج کے افسروں  میں ایک تعداد ہے جو نظریاتی طور پر لا دین ہے لیکن ابلاغ کے ذرائع تک رسائی، بے پناہ وسائل اور عرصہ کی محنت کے باعث اس طبقے کی سرگرمیوں نے آج مسلمان معاشروں میں علماء کا وہ احترام باقی نہیں رہنے دیاجو شریعت میں مطلوب ہے۔وہ علماء جو انبیاء کے وراث ہیں، جنہوں نے امت کو ہر فتنے سے محفوظ رکھا اور ہر مشکل دور میں امت کی رہنمائی کی، آج ایک جدید تعلیم یافتہ نوجوان بڑی آسانی سے ان کو تنقید کا نشانہ بنا دیتا ہے، الّاما شاء اللہ۔ یہ تو ایک امر ہے، ان لوگوں کی سرگرمیوں نے تو عقائد و عبادات، اخلاق و اقدار، عزت و عفت، غیرت و حمیت سب چیزیں ہی متاثر کر دی ہیں۔عفت و حیا کی علامت، عورت کو حقوق نسواں اور آزادی کے نام پر بازار میں لا کھڑا کیا ہے۔  انہی کی وجہ سے مسلمان خطے مغربی تہذیب میں رنگے نظر آتے ہیں۔
آج جب عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے اور اسلام کے غلبے کا آغاز ہوا چاہتا ہے تو عین ممکن بلکہ یقینی بات ہے کہ یہی طبقہ مسلمان خطوں میں سرمایہ دارانہ نظام سے بیزار، سیاستدانوں سے تنگ،  اور اپنے حقوق کی خاطر اٹھنے والی تحریکوں کو اپنے فطری مقام اسلام کی بجاۓ  لادینیت کی کسی اور شکل میں پھنسانے کی کوشش کرے گا۔ جیسا کہ مصر، تیونس، الجزائر وغیرہ میں حالیہ مظاہروں کے درمیان دیکھنے کو ملا کہ ہر مظاہرے میں سول سوسائٹی کے چند افراد شامل ہو کر پورے مظاہرے کو اپنے نام کروا لیتے۔ جاننا چاہیے کہ یہ محض مفادات کی خاطر جمع چند حریص افراد کا ٹولہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی فرقہ ہے جو اپنی اصطلاحات، اپنے مفاہیم اورخاص نظریات رکھتا ہے۔ جن کے ہاں آزادی کا مطلب وہ نہیں جو حضرت ربعی بن عامرؓ نے رستم کو سمجھایا تھا کہ لنخرج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ رب العباد( کہ بندے  بندوں کی بندگی سے نکل کر اللہ کی بندگی میں داخل ہو جائیں)۔ بلکہ یہ تو انسان ہی کی الوہیت کے قائل ہیں اور شرعی ضابطے سے علیحدگی کو آزادی کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوۓ میزان اوراللہ تعالیٰ کے قائم کردہ عدل کے برخلاف مساوات کے نام سے اپنی اصطلاح اور اس کی ایسی تعبیر رکھتے ہیں جس کو با حیا معاشرے سننے سے بھی عار کھائیں۔ ایک مسلمان کی سعی کا محور تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے آگے  کھڑے ہونے کا خوف اور آخرت کی کامیابی کا حصول ہوتا ہے لیکن یہ طبقہ تو اس عقیدے کے ساتھ استہزاء کرتا ہے اور دنیا کی مختصر زندگی ہی کو کل سمجھتا ہے۔ والعیاذ باللہ! لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ اپنے افکار کو واضح طور پر اسلام سے متصادم دین کے طور پر پیش نہیں کرتے۔ ان کے نام ہمارے ہی ناموں جیسے اور نسبت بھی ہمارے ہی علاقوں سے ہے۔ اس لیے یہ بڑی آسانی سے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔اور یہ بات اپنی جگہ پر حقیقت ہے کہ اس گروہ میں روافض اور قادیانیوں کی خاصی تعداد موجود ہے جن کا اول و آخر مقصد ہی اہلِ سنت کے دین حنیف میں نقب لگانا اور اہلِ سنت علماء و عوام کو نقصان پہنچانا ہے۔اس لیےنہایت ضروری ہے کہ لا دینیت کے افکار و نظریات کا ابطال کیا جاۓ، معاشرے میں پھیلی ان کی جڑوں کو کاٹا جاۓ، مہاجر کیمپوں، سیلاب زدہ علاقوں، دور دراز کے پہاڑی علاقوںمیں ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جاۓ، پوش علاقوں میں واقع ان کے دفاتر غرض ہر جگہ ان کا پیچھا کیا جاۓ، ان کی عسکری شاخوں کا کھوج لگایا جاۓاور ان لوگوں کے باطل افکار کا مقابلہ قرآن و احادیث کے دلائل و براہین سے کیا جاۓ یہاں تک کہ اس گروہ کے سامنے واضح ہو جاۓ کہ قل ان ھدی اللہ ھو الھدی(کہہ دیجیے کہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت ہی درحقیقت ہدایت ہے)۔

Thursday, November 10, 2011

شیعہ ایران اور امریکہ کی مخاصمت

ایرانی شیعہ اور حزب اللہ کے متعلق ایک بہن سے گفتگو 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ
قابل احترام بہن
ایک مشہور مقولہ ہے کہ دشمن کا دشمن ، دوست ہو سکتا ہے ۔ لیکن یہ ہر صورت میں درست نہیں ۔۔۔ 

امریکہ یا اسرائیل اگرچہ مسلمانوں کے دشمن ہیں ، اور ان کی اسلام دشمنی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ، لیکن یہ سمجھنا کہ امریکہ یا اسرائیل کا ہر دشمن مسلمانوں کا دوست ہوگا درست نہیں ہے ۔

مسلمانوں کی اکثریت اسلامی تاریخ سے واقف نہیں ہے ، لہٰذا انہیں شیعوں کے متعلق رائے قائم کرنے میں الجھن ہوسکتی ہے ۔ لیکن جو لوگ شیعوں کی تاریخ سے واقف ہیں ان کی نظر میں ان کی اسلام دشمنی بھی امریکہ اور اسرائیل کی طرح واضح ہے ۔

شیعوں کی اسلام دشمنی کو سمجھنے کے لیے ان کے مختلف ادوار پر بھی نظر ہونی چاہیے یہ بات آپ یقینا کے علم میں ہوگی کہ موجودہ شیعہ ، صحابہ کے دور کے ان شیعان علی کی طرح نہیں ہیں جن کا مسئلہ محض سیاسی تھا۔  جنہوں خلافت کے مسئلے کو بنیاد  بنا کرمسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔

جلد ہی یہ شیعان علی گمراہی میں مزید آگے بڑھے اور پھر یہ اپنے مخصوص شرکیہ عقائد کی بنا پر اہل سنت سے الگ کیے جاتے رہے ۔نیز یہ کہ وہ اپنے عقائد میں بھی ایک نہیں تھے بلکہ اسی  زمانے میں بھی ان کے اپنے اندر عقائد کے اعتبار سے ہی کئی کئی فرقے جنم لے چکے تھے ۔

بہر حال تیسرے مرحلے میں یعنی شرکیہ عقائد کے بعد تاریخ کے تمام ادوارمیں شیعہ صرف عقائد کی بنا پر ہی اہل سنت سے الگ نہیں رہے بلکہ انہوں نے شریعت کی براہ راست اور کھلم کھلا مخالفت اختیار کرکے خود ایک ایسی پوزیشن اختیار کر لی جس کے بعد وہ اسلام دشمن اور سازشی فرقے کی بنا پر پہچانے جانے لگے ۔ اگر آپ کچھ بھی تاریخ سے واقفیت رکھتی ہیں تو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ان کی سازشوں سے کتابوں کی کتابیں بھری مل جائیں گی ۔

یوں سمجھ لیں کہ ان کی اسلام دشمنی میں رفتہ رفتہ اضافہ بھی ہوا ہے اور وہ عیاں بھی ہوتی چلی گئی ہے ۔
جہاں تک ان کے عقائد کا معاملہ ہے وہ بھی ایسے ہیں کہ جس کی بنا پر وہ کبھی بھی شریعت کی تایئد کر ہی نہیں سکتے ۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر بہت تفصیل سے لکھا ہے اور ان کے بے شمار سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی اسلام دشمنی کو بے نقاب کر دیا ہے ۔مجھے امام تیمیہ رحمہ اللہ کی کسی تحریر کا ترجمہ مل گیا تو ضرور ارسال کروں گا ۔ان شاء اللہ ۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساتویں یا اٹھویں صدی ہجری سے پہلے تک کسی مسلمان کو ان کے اسلام کے متعلق شبہ ہو سکتا تھا لیکن اس کے بعد اس کی گنجائش نکالنا بہت مشکل ہوگا ۔





امریکہ اور ایران کی دشمنی
آج کل امریکہ اور ایران کے درمیان بظاہر جو مخاصمت پائی جاتی ہے ، وہ ایک سازش بھی ہو سکتی ہے ۔ کیوں کہ اسے دیکھ کر عام مسلمان کے دل میں ایران کے متعلق ہمدردی کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں ۔آپ خود سوچیں کہ کیا کبھی امریکہ نے ایران کو دھمکانے کے سوا کوئی عملی قدم بھی اٹھایا ہے ۔ حالانکہ کتنے ہی سالوں سے بلکہ گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل اس نوعیت کی خبریں ہم سنتے اور دیکھتے چلے آرہے ہیں ۔لیکن آج تک ان کے درمیان بالفعل کوئی لڑائی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ اِکّا دُکّا  واقعات اگر ہیں بھی تو وہ بھی سازش میں جان ڈالنے  کی حد تک ہی معلوم ہوتے ہیں۔

بالفرض اگر یہ کسی سازش کا حصہ نہیں ہے تو بھی یہ کہنا تو ممکن نہیں کہ امریکہ کی مخالفت میں ہمیں ایران کی اسلام دشمنی بھلا کر ان کا ساتھ دینا چاہیے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ  امریکہ کسی بھی ملک کو ایٹمی طاقت کے طور پر دیکھنا نہیں چاہتا ۔ کیوں کہ امریکہ کے ریاستی جنگی جرائم کی بنا پر پوری دنیا میں اس کی نفرت عام ہوچکی ہے اور اسے یہ خطرہ ہے کہ کوئی بھی طاقت اس کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتی ہے  ۔

ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ آپ ایران کے انقلابی رہنما علی خیمنی کی شخصیت کے صرف ایک ہی پہلو سے واقف ہیں ، دوسری طرف اس کے کفریہ عقائد ہیں جن کا ذکر چونکہ عام نہیں اس لیے آپ کے ذہن میں اس کے متعلق یہ تصویر بن رہی ہے ۔ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہم سب کی سیدھے رستے کی طرف رہنمائی فرمائیں آمین ۔ میرے لیے اگر ممکن ہوا تو خیمنی کی کتابوں کے حوالے تلاش کرنے کی کوشش کروں گا ۔
آپ نے احمدی نژاد کی وہ تصویریں نہیں دیکھیں جن میں وہ یہودیوں کے علماء کے ساتھ  معاہدات میں مشغول ہے اور یہودی ربائی اس کو مختلف نوعیت کے اعزازات سے نواز رہے ہیں ۔ آپ کے علم میں یہ بھی ہے یا نہیں کہ ایران نے اصفہان میں یہودیوں کو مستقل آبادکاری کے لیے ایک بہت بڑا علاقہ فراہم کر رکھا ہے جہاں اس وقت بڑی تعداد میں  یہودی موجود ہیں ۔ شاید آپ کے مطالعہ سے وہ حدیث بھی گزری ہوگی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصفہان کے ستر ہزار یہودیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ دجال کے لشکر کا حصہ ہوں گے ۔اور مستدک حاکم کی حدیث میں ہے کہ دجال اصفہان کی یہودیہ نامی بستی سے ظاہر ہوگا ۔

مختصر صحیح مسلم
فتنوں کا بیان
باب : اصفہان شہر کے ستر ہزار یہودی دجال کی پیروی کریں گے۔
حدیث نمبر : ۲۰۵۶
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
 اصفہان کے ستر ہزار یہودی سیاہ چادریں اوڑھے ہوئے دجال کی پیروی کریں گے۔


اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ
اس کے برعکس  اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کی وجوہات کچھ اور ہو سکتی ہیں ۔  مثلا یہ جنگ علاقائی بنیادوں پر لڑی گئی تھی ۔  یعنی اسرائیل میں یہودی آبادکاری کے لیے ، لبنان کی ان بستیوں کو مسلمانوں سے خالی کروا کر اسرائیل کا حصہ بنا لینے کے لیے جو یہودیوں کے نزدیک گریٹر اسرائیل میں شامل ہونی چاہیے۔  اب یہ اتفاقیہ بات ہے کہ ان بستیوں میں اکثریت شیعوں کی ہے ، جو اپنے گھروں اور بستیوں کو مسمار ہونے سے بچانے کے لیے اسرائیل سے جنگ کر رہے تھے ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسرائیل کا قبضہ غاصبانہ ہے اور ان بستیوں میں رہنے والے  شیعہ مظلوموں کی صف میں ہیں ۔ اپنے گھروں اور بستیوں کے دفاع کے لیے اُن کا اسرائیل سے لڑنا  جائز ہے ۔

ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں یا نہیں تو شریعت کی نظر میں ایسے مظلوموں کی مدد بھی کی جاسکتی ہے ۔  یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم بھارت کے خلاف کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرتے آرہے ہیں ۔ حالانکہ کشمیر میں شیعہ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔بلکہ  بعض شیعہ کشمیری مجاہدین کی تنظیموںمیں شامل ہوکر بھارت کے خلاف لڑتے بھی ہیں ۔

لیکن یہ بات یار رہے کہ جہاد کے دو مستقل اہداف ہیں :
ایک حملہ آور کافر کا دفاع
اور دوسرا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حاکمیت کا قیام

حملہ آور کافر کا دفاع ، ذیلی ہدف ہے، اصل ہدف کا ۔۔۔۔ یعنی اللہ کی زمین پر شریعت کے  نفاذ ، اور دین کے  قیام کی خاطر ہی کافر کا دفاع ضروری ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے  جس کی بنا پر اس وقت مجاہدین کی اکثریت کشمیر کے محاذ سے عارضی طور پر علیحدہ ہو کر خراسان میں اللہ کی حاکمیت کے لیے قتال کر رہے ہیں ۔۔۔ تاکہ اصل ہدف بھی حاصل کیا جا سکے ۔۔۔۔ کیوں کہ کشمیر کے محاذ میں اصل ہدف کی طرف پیش رفت فی الحال ممکن نظر نہیں آرہی ۔۔۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ صلیبی جنگ ، صلیبیوں کی طرف سےمجاہدین کے خلاف لڑنے کے لیے شیعہ پوری طرح استعمال ہو رہے ہیں ۔ جب کہ یمن ، خراسان اور عراق میں شیعہ طبقہ،  مجاہدین اور اسلام کے خلاف ایک بہت بڑا محاذ ہے  ۔

چنانچہ ہمارے تعاون اور امداد کے زیادہ مستحق یہ مجاہدین ہیں جو بیک وقت دونوں اہداف کے لیے قتال کر رہے ہیں نہ کہ وہ شیعہ جن سے جہاد کے اصل ہدف کی طرف پیش رفت کی کوئی امید نظر نہیں آتی ۔۔۔۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ


Saturday, November 5, 2011

مرتدین پر گھات لگا کر حملہ

۵ نومبر ۲۰۱۱ 

میران شاہ سے ۵۰ کلومیٹر دور رزمک کے علاقے میں مجاہدین نے فوجی کانوائے پر گھات لگا کر حملہ کیا ۔ اس حملہ میں مجاہدین نے چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے مرتدین کے قافلے کو شدید نقصانات سے دوچار کر دیا ۔ 

دجالی اخبارات مجاہدین اور مرتدین کے درمیان معرکوں کی خبروں میں جتنا بھی ردو بدل کرلیں اس سے حقیقت کو نہیں چھپایا جا سکتا ۔ عسکری نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو دشمن کو نقصان پہنچانے کے اعتبار سے کسی فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کرنا ایک خوفناک اور تباہ کن حملہ شمار ہوتا ہے ۔ عام طور پر اس نوعیت کے حملوں میں مجاہدین اس وقت تک کارروائی جاری رکھتے ہیں جب تک فوجی قافلے میں شامل تمام گاڑیاں بے کار نہ ہو جائیں یا جب تک ناپاک افواج کو فضائی مدد میسر نہ آجائے ۔ 

ہمارے سامنے اس قسم کے حملوں کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں سے بعض میں پورے کے پورے فوجی قافلے ختم کر دیے گئے ہیں ۔


ہمارا یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ہلاک ہونے والے افسران اور اہلکاروں کی صحیح تعداد چھپا لی گئی ہے ۔ صحیح تعداد دجالی اخبارات میں دی گئی تعداد سے دس گنا تک ہو سکتی ہے ۔ 


وللہ الحمد و المنۃ ۔۔۔۔

آئیں دعا کریں کہ
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارے مجاہد بھائیوں کو منافقین اور کافروں کے گروہوں پر مکمل فتح عطا فرمائیں
اللہ تعالیٰ مجاہدین کی غیبی نصرت فرمائیں اور ان کے ایمان و اخلاص میں اضافہ کریں
اللہ تعالیٰ ان کافر گروہوں کو اپنی جانب سے وہ کچھ دکھا دیں جسے دیکھ کر ہمارے دل خوشی سے بھر جائیں

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون