Subscribe:

Thursday, November 3, 2011

سونا چاندی جمع کرنا

احمد حسن کی تحریر بعنوان " ایک واردات جو افشا ہونے کو ہے " میں بھائی ابوطلحہ نے سونا چاندی جمع کرنے کی شرعی حیثیت سے متعلق ایک سوال کیا تھا ۔ مولانا عبداللہ حفظہ اللہ نےاسی موضوع سے متعلق رہنمائی کے لیے یہ تحریر غزوہ ہند بلاگ کو ارسال کی ہے ۔

اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا عطا فرمائے

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::


بسم اللہ الرحمن الرحیم
سونا چاندی
مولانا عبداللہ حفظہ اللہ

آج کل پوری دنیا میں سونا اور چاندی جمع کرنے کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ یہ بحث کئی وجوہات کی بنا پر مسلمانوں اور بالخصوص مجاہدین کے لئے اہم ہے:

1-   اول یہ کہ اللہ تعالی نے انسان کے لئے جو شریعت پسند کی ہے اس میں اصل نقد (یعنی کہ جس چیز کے بدلے خرید وفروخت ہوتی ہے) وہ سونا اور چاندی ہے۔  جبکہ رائج الوقت کاغذی نوٹ کی شرعی حیثیت مشکوک ہے۔ اس کے بارے میں بہت سے علماء کے تحریم کے فتاوی موجود ہیں۔ اگر اس کا کوئی جواز ہے بھی تو وہ بامر مجبوری ہے نہ کہ اصولی اعتبار سے۔
2-    دوم یہ کہ یہود نے دنیا بھر کا سونا جمع کیا ہے اور دنیا کو کاغذی نوٹ اور اب پلاسٹک نوٹ(کریڈٹ کارڈ وغیرہ) پر لگا دیا ہے۔ مستقبل میں اندیشہ ہے کہ یہ محض کمپیوٹر میں کچھ ہندسے رہ جائیں گے جن سے دشمن جب چاہیں کھیلنے لگ جائیں۔ یہ عمل غیر حقیقی اور بے وقعت ہونے کے علاوہ دشمن کی مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی کا جزو بھی ہے۔ اور اس سے بڑھ کر نوٹوں کا یہ کھیل جیسا کہ اوپر ذکر  کیا شریعت مطہرہ کے مقصود سے متصادم ہے۔  اور اب تو چین اور بھارت جیسے الحادی اور مشرک ممالک بھی یہود کی پیروی کر رہے ہیں۔
3-    مجاہدین اس امت بلکہ تمام انسانوں کے لئے رحمت ہیں۔ جہاد کے ذریعے خلافت کے احیا کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ جس کا مقصد دنیا پر اللہ کی شریعت کا بول بالا کرنا ہے۔ اس لئے مجاہدین ، انصار  اور اسلامیان امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے وضع کردہ فطری نظام کی طرف خود بھی لوٹیں اور دشمن کی سازشوں کا بھی سد باب کریں۔
فی الحال ان نقاط کی تفصیل بیان کرنا اور ان کے حق میں دلائل  دینا مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ بعض مخلصین سونا چاندی جمع کرنے کی مطلقاً ممانعت کرتے ہیں اور غلط بتاتے ہیں۔ شریعت میں  ایسی تنگی نہیں۔ صحیح حکم جاننے کے لئے کتب شرعیہ میں ڈھونڈتے وقت مجھے امام ابو بکر جصاص رحمہ اللہ کی کتاب احکام القرآن میں درج بحث نہایت مناسب لگی۔ مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوۓمیں نے اس بحث کا ترجمہ کیا ہے اور طوالت کےڈر سے اسے کچھ مختصر بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ تفسیر ابن کثیر اور دیگر کتب سے بھی استفادہ کیاگیا ہے۔ یہ بحث سورہ  توبہ کی آیت 34، 35 کے تحت کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۗ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٣٤ يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَـٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ ﴿٣٥

مولانا فتح محمد جالندھری رحمہ اللہ نے ان آیات کا یوں ترجمہ فرمایا ہے:
“مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، اور جو لوگ سونا اور چاندی(کنز)  جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انکو اس دن کے عذاب الیم کی خبر سُنا دو۔جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا کہ) یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جمع (کنز) کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔”

اس آیت میں خاص کر اس حصہ کی تفسیر و تشریح  نقل کروں گا جس کا تعلق ہمارے مقصد سے ہے اور وہ حسب ذیل ہے:

وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ 
“اور جو لوگ سونا اور چاندی(کنز)  جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انکو اس دن کے عذاب الیم کی خبر سُنا دو”۔

آیت کے اس حصے کے بارے میں صحابہ کے درمیان اختلاف ہوا ۔ ان میں ایک حضرت ابو ذر ؓ کی رائے تھی اور دوسری دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی رائے۔ امام جصاص رحمہ اللہ نے ان دونوں آراء کا موازنہ کیا ہے۔

حضرت ابو ذرؓ کی رائے

امام جصاص رحمہ اللہ حضرت ابو ذرؓ کی رائے کے تحت مندرجہ ذیل دلائل ذکر کرتے ہیں:
1-   آیت کے ظاہری الفاظ کی دلالت
کہ اس آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہ بات لازم آتی ہے کہ تمام مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دینا چاہئے کیونکہ عذاب کی وعید تمام مال کو خرچ نہ کرنے پر ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ (سونا چاندی “میں سے” نہیں خرچ کرتے) بلکہ یہ فرمایا (سونا چاندی نہیں خرچ کرتے)۔اسی ظاہری معنی کی تائید میں چند روایات بھی موجود ہیں۔
2-    حضرت ابو ذر کا موقف
چناچہ حضرت ابو ذر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
“اونٹ میں (جب اس کی تعداد نصاب کو پہنچ جائے) اس کی زکوٰۃ ہے۔ جس نے درہم و دینار یا سونا اور چاندی جمع کیا ، (اور اس کا مقصد ) نہ تو کسی قرضدار کا قرض اتارنا تھا اور نہ ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا تو قیامت کے دن اسی سونا چاندی سے اسے داغا جائے گا”۔
اس حدیث کے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذرؓ سے فرمایا :دیکھیے کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے کیا روایت کر رہے ہیں کیونکہ  ایسے اموال کا جمع کرنا تو لوگوں کے درمیان عام ہوچکا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: کیا تم قرآن میں پڑھتے نہیں “وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ۔ الآیہ۔
اما م جصاص اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس حدیث کے ظاہری  الفاظ سے لازم آتا ہے کہ اونٹ میں سے کچھ کا صدقہ کرنا واجب ہے نہ کہ تمام اونٹوں کو فی سبیل اللہ دینا ہوگا۔ یہاں صدقہ سے فرض زکوٰۃ  ہی مراد ہے۔ جبکہ سونا چاندی تمام کا تمام اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہوگا۔ یہی حضرت ابو ذرؓ کا مسلک تھا، اللہ ان پر رحم فرمائے، کہ سونا چاندی بالکل نہیں جمع کیا جا سکتا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کتاب الزکوٰۃ میں عنوان باندھتے ہیں کہ (جس مال کی زکوۃ ادا کردی جائے تو وہ کنز نہیں) اور اس کے تحت یہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ : احنف بن قیس کہتے ہیں کہ : میں قریش کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس کے بال سخت، موٹے جھوٹے کپڑے اور سیدھی سادھی شکل تھی۔ اس نے سلام کیا۔ پھر کہنے لگا : (روپیہ پیسہ جمع کرنے والوں کو) خوشخبری سنا دو کہ ایک پتھر دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا وہ ان کی چھاتی پر اور ان کے مونڈھے کی اوپر والی ہڈی پر رکھ دیا جائے گا جو چھاتی سے پار ہو جائے گا اسی طرح وہ پتھر ڈھلکتا رہے گا۔یہ کہہ کر اس نے پیٹھ موڑی اور ایک درخت کے پاس جا بیٹھا۔ میں نے اس سے کہا : میں سمجھتا ہوں تمہاری یہ بات ان لوگوں کو ناگوار گزری ہے۔ وہ کہنے لگا: یہ لوگ تو بے وقوف ہیں۔ مجھ سے تویہ میرے جانی دوست نے کہاہے۔ میں نے پوچھا : تمہارا جانی دوست کون ہے؟۔ کہنے لگا : رسول اللہ اور کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا :
“ابو ذر! تو احد پہاڑ دیکھتا ہے؟”۔  میں نے عرض کیا: جی ہاں۔  فرمایا:
“میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو۔ اگر ہو تو میں تین دینار کے علاوہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالوں”۔
اور یہ لوگ تو بے وقوف ہیں جو روپیہ اکٹھا کرتے ہیں اور میں تو اللہ کی قسم! ان سے نہ تو دنیا کا کوئی سوال کروں گا اور نہ دین کی کوئی بات پوچھوں گا۔ یہاں تک کہ اللہ سے جا ملوں۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: غالباً اسی حدیث کی وجہ سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا یہ مذہب تھا۔ یہی مضمون امام جصاصؒ حضرت ابو ہریرہؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑی جتنا سونا ہوتا اور تین دن گزرنے کے بعد بھی اس میں سے کچھ میرے پاس رہ جائے۔ الا  یہ کہ مجھے صدقہ وصول کرنے والاہی کوئی نہ ملے یا میں اسے اپنے قرض ادا کرنے تک رکھ لوں”۔
اس حدیث کے بارے میں امام جصاصؒ فرماتے ہیں : کہ اس میں یہ ذکر ہوا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا کرنا اپنے لئے منتخب نہیں فرمایا بلکہ اسے خرچ کرنا پسند کیا۔ مگر خرچ نہ کرنے والوں پر کوئی وعید ذکر نہیں کی۔
پھر حضرت ابو امامہؓ سے ایک اور روایت نقل کرتے ہیں کہ اہل صفہ میں سے ایک شخص فوت ہوئے تو ان کے پاس سے ایک دینار نکلا۔ نبی ﷺ نے فرمایا
“ایک داغ آگ کا”۔

اگرچہ امام ابن کثیرؒ اس طرح کے مضمون کی کئی احادیث نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اس کا راوی ضعیف متروک اور کذاب ہے لیکن بفرض صحت امام جصاصؒ نے اس حدیث کی یوں تشریح کی ہے: ہو سکتا ہے کہ نبی ﷺ کو علم ہوا ہو کہ اس نے یہ دینار بغیر حق کے لیا تھا، یا اس کا حق نہیں ادا کیا تھا، یا بھوک کے بہانے کسی سے سوال کیا ہو  حالانکہ اسے اس کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ نبی ﷺ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: “جو مستغنی ہونے کے باوجود سوال کرے گا تو گویا وہ اپنے لئے جہنم کے انگارے جمع کر رہا ہے”۔ صحابہ نے پوچھا مستغنی ہونے سے کیا مراد ہے اے اللہ کے رسول؟۔ فرمایا: “کہ اس کے اہل وعیال کے یہاں اتنا مال ہو جس سے وہ دوپہر اور رات کا کھانا کھا سکتے ہوں”۔ اور یہ واقعہ تو اس وقت کی بات ہے جب مسلمانوں کے حالات تنگ تھے ، فراخی نہ تھی، اور ان پر ایک دوسرے سے ہمدردی کرنا واجب تھا۔

جمہورِ صحابہ کی رائے

گویا امام جصاصؒؒ نے پہلے آیت کے ظاہری الفا ظ سے سمجھ میں آنے والے مفہوم کی وضاحت کی اور اس کی تائید میں حضرت ابو ذر ؓ کی رائے اور دیگر احادیث ذکر کیں۔ پھر اس کے بعد دوسری رائے کے دلائل پیش کیے۔
1-   یہ آیت منسوخ کر دی گئی ہے۔
امام جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : اس آیت کے بارے میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اللہ تعالی کی اس آیت سے منسوخ ہے  (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُهُمْ)یعنی  ان کے مال میں سے زکوۃ قبول کرلو کہ اس سے تم ان کو پاکیزہ کرتے ہو ”۔ اور امام بخاریؒ نے کتاب الزکوٰۃ میں نقل کیا ہے کہ : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ ابھی زکوٰۃ کی فرضیت نازل نہیں ہوئی تھی۔ پھر جب زکوٰۃ فرض ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اموال کو زکوٰۃ کے ذریعے پاک کر دیا۔
 آگے چل کر امام جصاصؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالی کے فرمان (وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’سونا اور چاندی (میں سے) نہیں خرچ کرتے‘‘ مگر (میں سے ) کے الفاظ کو مراد ہونے کے باوجود حذف  کر دیا  اور اپنی مراد کو (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً) کی آیت سے واضح فرما دیا ۔  گویا حکم دیا ہے کہ ان کے مال میں سے کچھ لیں نہ کہ سارا مال لیں۔ اور اس طرح نسخ لازم نہیں آتا کیونکہ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَاسے وَلَا يُنْفِقُوْنَ مِنْهَا مراد لیا جا سکتا ہے۔
2-    لفظ (کنز) سے مراد وہ مال  ہے جس کی زکوٰۃ نہ ادا کی گئی ہو
امام جصاصؒ لغوی بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں: عربی زبان میں (کنز) کسی چیز کو ایک دوسرے پر رکھ کر (زمین میں) گاڑ دینا  ہے۔ مگر حضرات صحابہ میں سے حضرت عمر، حضرت ابن عباس اور  حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم اور حضرات تابعین  میں سے حسن، عامر اور  سدی  رحمہم اللہ سے روایت  کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’جو  اپنے (مال کی) زکوٰۃ نہ ادا کرے تو گویا اس نے اس (مال) کو  گاڑ رکھا ہے”۔ مزید یہ کہ ان میں سے کئی نے فرمایا: ’’اگرچہ یہ مال (در حقیقت) گڑا ہوا نہ ہو۔ اور وہ مال جس کی زکوٰۃ  ادا کی گئی ہو وہ گڑا ہوا نہ ہوگا اگرچہ در حقیقت وہ گاڑ رکھا ہو‘‘۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ شرعی اصطلاحات (توقیفی) مقرر شدہ ہوتی ہیں۔ اس اعتبار سے (کنز) اس مال کا نام ہے جس کی زکوٰۃ نہ ادا کی گئی ہو۔ اب جب یہ بات ثابت ہوئی تو  اللہ کے فرمان: وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَسے مراد وہ لوگ ہیں جو سونے اور چاندی کی زکوۃ نہیں ادا کرتے۔ اسی طرح وَلَا يُنْفِقُوْنَهَاسے مراد زکوٰۃ ادا نہ کرنا ہے۔ اس طرح آیت سے محض زکوٰۃ کی فرضیت ہی ثابت ہوتی ہے نہ کہ اس سے زائد کسی شے کی۔
امام ابن کثیرؒ بھی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ : کنز اصطلاح شرع میں اس مال کو کہتے ہیں جس کی زکوٰۃ نہ ادا کی جاتی ہو۔ اور اس مضمون کی کئی احادیث نقل کرتے ہیں :
حضرت ابن عمرؓ سے یہی مروی ہے بلکہ فرماتے ہیں: جس مال کی زکوٰۃ دے دی گئی ہو وہ اگر ساتویں زمین تلے بھی ہو تو وہ کنز نہیں اور جس کی زکوٰۃ نہ دی گئی ہو وہ گو زمین پر ظاہر پھیلا پڑا ہو کنز ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت جابر، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی موقوفاً اور مرفوعاً یہی مروی ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ کی بھی یہی راۓ ہےمزید فرماتے ہیں: بغیر زکوٰۃ کے مال سے اس مالدار کو داغا جائے گا۔
3-    نبی اکرم ﷺ سے براہِ راست آیت کی تفسیر
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَتو مسلمانوں پر یہ معاملہ بہت گراں گزرا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: میں تم لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرتا ہوں۔ اور نکل کھڑے ہوئے۔ رسول اکرمﷺ کے یہاں حاضر ہوئے اور فرمایا: اے اللہ کے نبی ﷺ آپ کے صحابہ پر یہ آیت گراں گزری ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے تو زکوٰۃ اسی لئے فرض کی ہے کہ اسے ادا کرنے کے بعد رہ جانے والا مال پاک ہوجائے۔ اور تمہارے اموال میں وراثت فرض کی ہے تاکہ  تمہارے بعد رہ جانے والوں کو مل جائے”۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: کہ اس پر حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا۔  پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“کیا میں تمہیں انسان کی بہترین کنز (پونجی) نہ بتلاؤں؟ نیک بیوی جس کی طرف جب دیکھے تو اسے خوشی ہو، اور جب حکم دے تو اسے بجا لائے، اور جب وہ اس سے دور ہو تو اس کی (امانتوں) کی حفاظت کرے”۔ اسی مضمون کی حدیث امام ابن داؤد نے روایت کی ہے اور امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی مسند احمد کے حوالے اسے نقل کیا ہے۔
امام جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مراد بعض مال کا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے نہ کہ تمام مال ۔  اور اللہ تعالی کے قول  وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ سے مراد زکوٰۃ نہ ادا کرنے والے ہیں۔
4-    اموال میں زکوٰۃ ہی فرض ہے
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اگر تو نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی تو تو نے اپنی طرف سے حق ادا کردیا”۔ اسی مضمون کی روایت سنن بیہقی اور طبرانی میں بھی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو بھی صاحب کنز ہو اور اپنے کنز کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو اسے اور اس کے کنز کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اس کے کنز سے اس کا ماتھا اور اس کا پہلو داغا جائے گا یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر لیں”۔
حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “جو شخص اپنی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کے لئے یہ مال گنجے سانپ کی صورت میں آتا ہے جس کے سر پر دو چینیاں ہوں گی۔  یہ سانپ اس کے ساتھ رہے گا اور اس  کے گرد طوق کی شکل میں لپٹ جائے گا۔ اور کہے گا کہ میں تیرا کنز ہوں میں تیرا کنز ہوں”۔
اور صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ “جو شخص اپنے مال کی زکوٰ ۃ ادا نہیں کرتا قیامت والے دن اس کے مال کو آگ کی تختیاں بنا دیا جائے گا، جس سے اس کے دونوں پہلوؤں کو، پیشانی کو اور کمر کو داغا جائے گا۔ یہ دن پچاس ہزار سال کا ہوگا اور لوگوں کے فیصلے ہو جانے تک اس کا یہی حال رہے گا اس کے بعد جنت یا جہنم میں اسے لے جایا جائے گا”۔
امام جصاص رحمہ اللہ ان تمام احادیث سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ مال میں فرض کیا گیا حق زکوٰۃ ہی ہے۔ تمام مال خرچ کرنا فرض نہیں ہے۔ اور یہ کہ کنز وہ مال ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی ۔
5-    صحابہ میں سے بعض کا بڑے مال و دولت  والا ہونا
مزید فرماتے ہیں کہ صحابہ میں حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف جیسے افراد بھی تھے جن پر فراخی ظاہراً نظر آتی تھی اور وہ بڑے مال و دولت والے تھے۔ اور نبی ﷺ نے ان کے حالات کا علم ہونے کے باوجود انہیں تمام مال نکالنے کا حکم نہ دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کا تمام سونا چاندی خرچ کرنا فرض نہیں ہے۔ اس میں سے فرض صرف زکوٰۃ ہے۔ ہاں اگر ایسے حالات ہوں جن میں ایک دوسرے سے ہمدردی کرنا اور صدقہ خیرات کرنا لازم ٹھہرے جیسا کہ مجبور،بھوکے ،لا چار، بے لباس اور ایسی میت پر صدقہ کرنا جس کے پاس کفن دفن کے لئے کچھ نہ ہو۔ کیونکہ حضرت فاطمۃؓ بنت قیس نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: “مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں”۔ اور یہ آیت تلاوت کی:  لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرۃ:177)۔ ’’نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائیں اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (اللہ سے) ڈرنے والے ہیں‘‘۔
6-    زکوٰۃ کے لئے نصاب مقرر ہونا
امام جصاصؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ان گنت روایتوں سے ثابت ہے کہ انہوں نے ہر 200 درہم میں 5 درہم  اور ہر 20 دینار میں آدھا دینارزکوٰۃ  فرض کی۔ اسی طرح مویشیوں میں حسب نصاب کچھ زکوۃ مقرر کی ۔ نہ یہ کہ انہوں نے تمام کا تمام مال بطور زکوٰۃ نکالنا فرض کیا۔ اگر تمام مال کو نکالنا فرض ہو تا تو پھر زکوٰۃ کا اس تناسب سے نصاب مقرر کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔

صحابہ کرام اور حضرت ابو ذرؓ کا معاملہ

یہاں میں تفسیر ابن کثیر سے وہ روایت بھی نقل کرتا ہوں جس سے پتہ لگتا ہے کہ صحابہ کرام نے حضرت ابو ذرؓ کے موقف کو ان کے اخلاص کے باوجود قبول نہ کیا تھا۔  امام ابن کثیرؒ یہ روایت امام بخاریؒ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
زید بن وہب حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ (مقام) میں ملے اور دریافت کیا کہ تم یہاں کیسے آ گئے ہو؟
آپ نے فرمایا: ہم شام میں تھے وہاں میں نےوَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ  ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ کی تلاوت کی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے۔ میں نے کہا: ہمارے اور ان کے سب کے حق میں ہے۔ اس پر میرا اور ان کا اختلاف ہو گیا انہوں نے میری شکایت کا خط دربار عثمانی میں لکھا۔ خلافت کا فرمان میرے نام آیا کہ تم یہاں چلے آؤ ۔جب مدینے پہنچا تو چاروں طرف سے مجھے لوگوں نے گھیر لیا۔ اس طرح بھیڑ لگ گئی کہ گویا انہوں نے اس سے پہلے مجھے دیکھا ہی نہ تھا۔ غرض میں مدینے میں ٹھہرا لیکن لوگوں کی آمد و رفت سے تنگ آ گیا۔ آخر میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو آپ نے مجھے فرمایا کہ: تم مدینے کے قریب ہی کسی صحرا میں چلے جاؤ۔ میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی لیکن یہ کہہ دیا کہ: واللہ جو میں کہتا تھا اسے ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔
امام ابن کثیر اس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: آپ کا خیال یہ تھا کہ بال بچوں کو کھلانے کے بعد جو بچے اسے جمع کر رکھنا بالکلیہ حرام ہے۔ اسی کا آپ فتویٰ دیتے تھے اور اسی کو لوگوں میں پھیلاتے تھے اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کرتے تھے۔ اسی کا حکم دیتے تھے اور اس کے مخالف لوگوں پر بڑا ہی تشدد کرتے تھے۔ حضرت معاویہؓ نے آپ کو روکنا چاہا کہ کہیں لوگوں میں عام ضرر نہ پھیل جائے یہ نہ مانے تو آپ نے خلافت سے شکایت کی امیر المومنین نے انہیں بلا کر ربذہ میں تنہا رہنے کا حکم دیا آپ وہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہی رحلت فرما گئے۔
اس کے بعد امام ابن کثیرؒ یہ روایت نقل کرتے ہیں:
ایک مرتبہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو ان کا حصہ ملا۔ آپ کی لونڈی نے اسی وقت ضروریات فراہم کرنا شروع کر دیں۔ سامان کی خرید کے بعد سات درہم بچ رہے۔ حکم دیا کہ اس کے فلوس لے لو۔ تو حضرت عبداللہ بن صامتؓ نے فرمایا: اسے آپ اپنے پاس رہنے دیجئے تاکہ بوقت ضرور کام نکل جائے یا کوئی مہمان آ جائے تو کام نہ اٹکے۔ آپ نے فرمایا: نہیں مجھ سے میرے خلیل ﷺ نے عہد لیا ہے کہ جو سونا چاندی سربند کر کے رکھی جائے وہ رکھنے والے کے لئے آگ کا انگارا ہے جب تک کہ اسے راہ اللہ نہ دے دے۔

کثرت مال کی مذمت

یہ تو رہا شرعی حکم مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ مال کی کثرت کی مذمت اور کمی کی مدحت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں بطور نمونہ ہم بھی یہاں ان میں سے چند نقل کرتے ہیں:
مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
“سونے چاندی والوں کے لئے ہلاکت ہے”۔
تین مرتبہ آپ کا یہی فرمان سن کر صحابہ پر شاق گزرا اور انہوں نے سوال کیا کہ: پھر ہم کس قسم کا مال رکھیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے یہ حالت بیان کر کے یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ:
“ذکر کرنے والی زبان شکر کرنے والا دل اور دین کے کاموں میں مدد دینے والی بیوی”۔
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے ایک منزل میں اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ: چھری لاؤ کھیلیں۔ مجھے برا معلوم ہوا۔  آپ نے افسوس ظاہر کیا اور فرمایا: میں نے تو اسلام کے بعد سے اب تک ایسی بے احتیاطی کی بات کبھی نہیں کی تھی، اب تم اسے بھول جاؤ، اور ایک حدیث بیان کرتا ہوں اسے یاد رکھ لو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ:
’’ جب لوگ سونا چاندی جمع کرنے لگیں تم ان کلمات کو بکثرت کہا کرو۔ اللهم انی اسئلک الثبات فی الأمر والعزیمة علی الرشد واسئلک شکر نعمتک واسئلک حسن عبادتک واسئلک قلباسلیماواسئلک لساناصادقاواسئلک من خیر ماتعلم وأعوذبک من شرماتعلم واستغفرک لما تعلم إنک أنت علام الغیوب(ترجمہ) یعنی یا اللہ میں تجھ سے کام کی ثابت قدمی اور بھلائیوں کی پختگی اور تیری نعمتوں کا شکر اور تیری عبادتوں کی اچھائی اور سلامتی والا دل اور سچی زبان اور تیرے علم میں جو بھلائی ہے وہ اور تیرے علم میں جو برائی ہے اس کی پناہ اور جن برائیوں کو تو جانتا ہے ان سے استغفار طلب کرتا ہوں۔ میں مانتا ہوں کہ تو تمام غیب جاننے والا ہے‘‘۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایسے مالداروں کے جسم اتنے لمبے چوڑے کر دیئے جائیں گے کہ ایک ایک دینار و درہم اس پر آ جائے پھر کل مال آگ جیسا بنا کر علیحدہ علیحدہ کر کے سارے جسم پر پھیلا دیا جائے گا یہ نہیں کہ ایک کے بعد ایک داغ لگے۔ بلکہ ایک ساتھ سب کے سب”۔
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ: اس کا مال ایک اژدھا بن کر اس کے پیچھے لگے گا اور جو عضو سامنے آجائے گا اسی کو چبا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:“ جو اپنے بعد خزانہ چھوڑ جائے اس کا وہ خزانہ قیامت کے دن زہریلا اژدھا بن کر، جس کی آنکھوں پر نقطے ہوں گے، اس کے پیچھے لگے گا یہ بھاگتا ہوا پوچھے گا کہ: تو کون ہے؟ وہ کہے گا: تیرا جمع کردہ اور مرنے کے بعد چھوڑا ہوا خزانہ۔ آخر اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی‘‘۔

سوال

اس تمام بحث سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ سونا چاندی جمع کرنے کی اجازت ہے بشرط یہ کہ اس کی زکوۃ ادا کر دی جائے وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا یہ مزاج نہیں کہ انسان محض دولت کی لت میں پڑ جائے اور سونے چاندی کی پوجا کرنے لگے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا جو حضرات آج کے دور میں اور موجودہ حالات میں اس کی ممانعت کر رہے ہیں وہ بینک بیلنس نہیں رکھتے۔ اور کیا وہ کاغذی روپے پیسے  کے ذریعے ہی اپنے معاش کا بندوبست نہیں کر رہے۔ ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ یہی جمع پونجی جو کہ بینک میں کاغذی روپوں کی شکل میں رکھی ہےاسے سونے اور چاندی کی شکل  میں محفوظ کیا جائے۔اور کاغذی روپے پیسے کے ذریعے لین دین کیبجائے سونے چاندی کو رواج بخشا جائے۔ یا پھر اجناس کے مقابلے میں اجناس کا تبادلہ کیا جائے۔ چاہے اس عمل میں کچھ دقتیں بھی پیش آئیں مگر ایسا کیوں نہ کیا جائے اگر یہی ہمارے رب کا مقصود ہے۔
اور سوال یہ ہے کہ کیا یہ حضرات تقویٰ کے اس معیار پر زندگی گزار رہے ہیں جس پر حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ گزار رہے تھے۔ یا کہ تمام تر تقویٰ کی کوششوں کے باوجود دن کے آخر میں ان کے پاس اتنا مال ودولت جمع ہو جاتا ہے جو کہ صرف اس دن کے لیےنہیں بلکہ اگلے کئی ہفتوں ، مہینوں اور ہو سکتا ہے  کہ سال تک کے کھانے پینے کے لئے کافی ہو۔
ہمارا مدعی اور مقصود  یہ قطعاً نہیں کہ مسلمانوں کو دولت کمانے کے پیچھے لگایا جائے مگر یہ ہے کہ اس مصنوعی اور غیر فطری نظام کو ترک کیا جائے ۔ اور یہ کہ یہود ، نصاری اور مشرکین کے سرمایہ دارانہ نظام کو مسترد کیا جائے۔ اور یہ کہ شریعت کے احکام کا حتی المقدور اتباع کیا جائے۔  اور یہ کہ دشمن کے مقابلے میں اپنے آپ کو اور امت مسلمہ کے خزانوں کو محفوظ کیا جائے۔



4 تبصرے:

Anonymous said...

جزاک اللہ اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔

بنت اسلام said...

امید ہے ابو طلحہ بھائی کی غلط فہمی دور ہو گئی ہوگی

Anonymous said...

Allah ta'ala mohtrm Molana ki hifazat frmay. Beshak Ulama he deen k bary mein drust rehnumai dy skty hein.
Ahmad

Tausif Hindustani said...

jazakAllah , very good information

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ