Subscribe:

Saturday, November 5, 2011

مرتدین پر گھات لگا کر حملہ

۵ نومبر ۲۰۱۱ 

میران شاہ سے ۵۰ کلومیٹر دور رزمک کے علاقے میں مجاہدین نے فوجی کانوائے پر گھات لگا کر حملہ کیا ۔ اس حملہ میں مجاہدین نے چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے مرتدین کے قافلے کو شدید نقصانات سے دوچار کر دیا ۔ 

دجالی اخبارات مجاہدین اور مرتدین کے درمیان معرکوں کی خبروں میں جتنا بھی ردو بدل کرلیں اس سے حقیقت کو نہیں چھپایا جا سکتا ۔ عسکری نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو دشمن کو نقصان پہنچانے کے اعتبار سے کسی فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کرنا ایک خوفناک اور تباہ کن حملہ شمار ہوتا ہے ۔ عام طور پر اس نوعیت کے حملوں میں مجاہدین اس وقت تک کارروائی جاری رکھتے ہیں جب تک فوجی قافلے میں شامل تمام گاڑیاں بے کار نہ ہو جائیں یا جب تک ناپاک افواج کو فضائی مدد میسر نہ آجائے ۔ 

ہمارے سامنے اس قسم کے حملوں کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں سے بعض میں پورے کے پورے فوجی قافلے ختم کر دیے گئے ہیں ۔


ہمارا یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ہلاک ہونے والے افسران اور اہلکاروں کی صحیح تعداد چھپا لی گئی ہے ۔ صحیح تعداد دجالی اخبارات میں دی گئی تعداد سے دس گنا تک ہو سکتی ہے ۔ 


وللہ الحمد و المنۃ ۔۔۔۔

آئیں دعا کریں کہ
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارے مجاہد بھائیوں کو منافقین اور کافروں کے گروہوں پر مکمل فتح عطا فرمائیں
اللہ تعالیٰ مجاہدین کی غیبی نصرت فرمائیں اور ان کے ایمان و اخلاص میں اضافہ کریں
اللہ تعالیٰ ان کافر گروہوں کو اپنی جانب سے وہ کچھ دکھا دیں جسے دیکھ کر ہمارے دل خوشی سے بھر جائیں

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون




10 تبصرے:

Malik Sooper said...

آمین

درویش خُراسانی said...

ایفائے عھد تمام انبیاء اور انکے تابعین کا شیوہ ہے۔
سمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں جو کاروائی ہوئی ہے ،تو میں اسکی مذمت کرتا ہوں ۔کیونکہ یہ علاقہ شمالی وزیرستان کے شوریٰ مجاہدین کے ماتحت آتا ہے۔اور انکے اور حکومت پاکستان کے مابین امن معاہدہ ہے ۔ اور یہ بات واضح ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی
اللہ تعالیٰ کی نصرت کاٹنے والی چیز ہے۔

نیز یہ شوریٰ مجاہدین کا یہ اعلان بھی آپکے نظر سے گذرا ہوگا کہ جس میں فوج پر حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کا عندیہ دیا تھا اور ان حملہ آوروں کے قتل کا ذمہ بھی انہوں نے اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔

ابو جمال said...

درویش خراسانی بھائی ہمارے پاس یہ جاننے کا ذریعہ کون سا ہوگا کہ شمالی وزیرستان میں امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ابتدا کس کی طرف سے ہوئی

میرا خیال ہے کہ ہمیں مرتدین کے مقابلے میں مجاہدین سے زیادہ خوش گمان ہونا چاہیے

درویش خُراسانی said...

میرے خیال میں بحث کرنا یہاں مناسب نہیں۔فقط یہ کہونگا کہ اگر شمالی وزیر ستان کے شوریٰ مجاہدین (حکومت کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی کے باوجود)کسی قسم کی کاروائی سے اگر روکتی ہے اور اسکی اجازت نہیں دیتی تو ، بہتری اسی میں ہے کہ انکی بات مان لی جائے ،
نا کہ انکے لئے مشکلات پیدا کی جائیں۔

بعض اوقات معمولی نفع کو ہم دیکھتے ہیں
لیکن اس سے بننے والا نقصان نہیں دیکھتے۔

پہلے بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کے سبب مجبورا شوری مجاہدین کو حملہ آوروں کے قتل کے اعلانات کرنے پڑئے۔
اور انکے قتل کی ذمہ داری کا اعلان بھی کیا۔

Behna Ji said...

Assalamoalykum

آئیں دعا کریں کہ''
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارے مجاہد بھائیوں کو منافقین اور کافروں کے گروہوں پر مکمل فتح عطا فرمائیں
اللہ تعالیٰ مجاہدین کی غیبی نصرت فرمائیں اور ان کے ایمان و اخلاص میں اضافہ کریں
اللہ تعالیٰ ان کافر گروہوں کو اپنی جانب سے وہ کچھ دکھا دیں جسے دیکھ کر ہمارے دل خوشی سے بھر جائیں

''واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون



Ameen suma Ameen!

160 ااگر الله تمہاری مدد کرے گا تو تم پر کوئی غالب نہ ہوسکے گا اور اگر اس نے مدد چھوڑ دی تو پھر ایسا کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مسلمانوں کو الله ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے


سورة آل عمران

Malik Sooper said...

آمین

ابو جہاد said...

بھائی صاحب مرتدین سے کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا
شریعت کی رو سے صرف کافروں سے معاہدہ ہو سکتا ہے مرتدین سے نہیں

اگر شوریٰ اتحاد نے کر ہی لیا تو دوسروں پر اس کا احترام لازمی نہیں رہتا

اور جناب کے علم میں ہوگا کہ معاہدے کی پہلی شق ہی یہ ہے کہ ڈرون حملہ نہیں ہوگا

ابو شامل said...

ابو جہاد صاحب، شوری مجاہدین غالباً ایسے علماء سے خالی نہیں ہو گی جو آپ کے بتائے ہوئے اصولِ شریعت سے واقفیت نہ رکھتے ہوں۔ انہوں نے معاہدہ کیا ہے تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ ارتداد کا حکم نہیں لگاتے جیسا کے آپ کے "دوسرے" لگاتے ہیں۔ اب اس صورت میں آپ کے "دوسروں" کو چاہیئے کہ شوری مجاہدین پر بھی ارتداد کا حکم لگا کر ان سے بھی دو دو ہاتھ کر لیں۔ الا ماشاءاللہ

درویش خُراسانی said...

کون مرتد ہے اور کون صرف واجب القتل ہے۔
یہ ایک الگ بحث ہے۔

بہرحال ان (کارناموں) کے برکات ظاہر ہونے لگے ہیں ۔

عرفان بلوچ said...

محترم ابو شامل بھائی خوش آمدید

غالبا اس بلاگ پر یہ آپ کا پہلا تبصرہ ہے

اہل ایمان کے مقابلے میں کفار کی مدد کرنے والوں کے بارے میں شریعت کا حکم ایک ہی ہے جس میں نہ تو کوئی اختلاف ہے نہ ہی کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے


شوریٰ مجاہدین کو بھی ناپاک آرمی کے ارتداد کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ لیکن ان کے علاقائی مسائل کچھ اس طرح سے ہیں کہ وہ فوج سے ایک خاموش معاہدہ کرنے پر مجبور تھے ۔ خاموش معاہدہ کا مطلب یہ ہے کہ باضابطہ طور پر کسی قسم کا معاہدہ موجود نہیں ہے بلکہ دونوں حریف آمدو رفت جاری رکھنے کے لیے اس بات پر مجبور ہیں کہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے میں پہل نہ کریں


جس شوریٰ مجاہدین کا حوالہ دریش خراسانی صاحب دے رہے ہیں وہ ادھوری معلومات پر مبنی معلوم ہوتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض مقامی مجاہدین ، وہاں موجود دیگر علاقوں کے مجاہدین سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ برائے مہربانی ہمارے علاقے میں فوج پر حملہ نہ کیا جائے ۔ ظاہر ہے یہ گزارش اصولی تو نہیں لیکن اخلاقی اعتبار سے درست ہے ۔ کیوں کہ ایسے کسی حملے کی صورت میں علاقے کے مجاہدین اور مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔


بہر حال میران شاہ ہسپتال اور بازار پر فوج کے حملے کے بعد مجاہدین مجبور ہوگئے تھے کہ اس ظالمانہ کارروائی کا جواب دیا جائے



درویش خراسانی بھائی سے مزید معذرت کے ساتھ ۔۔۔ رزمک کا علاقہ شمالی وزیرستان میں شامل نہیں ہے ۔ بلکہ یہ جنوبی وزیرستان کا حصہ ہے ۔


اس معاملہ کا سب سے دلچسپت پہلو یہ ہے کہ کیا ڈرون حملے جاری رہنے پر بھی کسی قسم کا معاہدہ ہو سکتا ہے

حالانکہ ڈرون حملوں کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ امریکی اور پاکستانی مشترکہ تعاون پر جاری ہے ۔

کیا معاہدہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دشمن مجاہدین پر آگ برسائیں اور مجاہدین جواب میں پیار کے پھول نچھاور کرتے رہیں



سبحان اللہ ۔۔۔

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ