Subscribe:

Thursday, November 10, 2011

شیعہ ایران اور امریکہ کی مخاصمت

ایرانی شیعہ اور حزب اللہ کے متعلق ایک بہن سے گفتگو 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ
قابل احترام بہن
ایک مشہور مقولہ ہے کہ دشمن کا دشمن ، دوست ہو سکتا ہے ۔ لیکن یہ ہر صورت میں درست نہیں ۔۔۔ 

امریکہ یا اسرائیل اگرچہ مسلمانوں کے دشمن ہیں ، اور ان کی اسلام دشمنی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ، لیکن یہ سمجھنا کہ امریکہ یا اسرائیل کا ہر دشمن مسلمانوں کا دوست ہوگا درست نہیں ہے ۔

مسلمانوں کی اکثریت اسلامی تاریخ سے واقف نہیں ہے ، لہٰذا انہیں شیعوں کے متعلق رائے قائم کرنے میں الجھن ہوسکتی ہے ۔ لیکن جو لوگ شیعوں کی تاریخ سے واقف ہیں ان کی نظر میں ان کی اسلام دشمنی بھی امریکہ اور اسرائیل کی طرح واضح ہے ۔

شیعوں کی اسلام دشمنی کو سمجھنے کے لیے ان کے مختلف ادوار پر بھی نظر ہونی چاہیے یہ بات آپ یقینا کے علم میں ہوگی کہ موجودہ شیعہ ، صحابہ کے دور کے ان شیعان علی کی طرح نہیں ہیں جن کا مسئلہ محض سیاسی تھا۔  جنہوں خلافت کے مسئلے کو بنیاد  بنا کرمسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔

جلد ہی یہ شیعان علی گمراہی میں مزید آگے بڑھے اور پھر یہ اپنے مخصوص شرکیہ عقائد کی بنا پر اہل سنت سے الگ کیے جاتے رہے ۔نیز یہ کہ وہ اپنے عقائد میں بھی ایک نہیں تھے بلکہ اسی  زمانے میں بھی ان کے اپنے اندر عقائد کے اعتبار سے ہی کئی کئی فرقے جنم لے چکے تھے ۔

بہر حال تیسرے مرحلے میں یعنی شرکیہ عقائد کے بعد تاریخ کے تمام ادوارمیں شیعہ صرف عقائد کی بنا پر ہی اہل سنت سے الگ نہیں رہے بلکہ انہوں نے شریعت کی براہ راست اور کھلم کھلا مخالفت اختیار کرکے خود ایک ایسی پوزیشن اختیار کر لی جس کے بعد وہ اسلام دشمن اور سازشی فرقے کی بنا پر پہچانے جانے لگے ۔ اگر آپ کچھ بھی تاریخ سے واقفیت رکھتی ہیں تو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ان کی سازشوں سے کتابوں کی کتابیں بھری مل جائیں گی ۔

یوں سمجھ لیں کہ ان کی اسلام دشمنی میں رفتہ رفتہ اضافہ بھی ہوا ہے اور وہ عیاں بھی ہوتی چلی گئی ہے ۔
جہاں تک ان کے عقائد کا معاملہ ہے وہ بھی ایسے ہیں کہ جس کی بنا پر وہ کبھی بھی شریعت کی تایئد کر ہی نہیں سکتے ۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر بہت تفصیل سے لکھا ہے اور ان کے بے شمار سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی اسلام دشمنی کو بے نقاب کر دیا ہے ۔مجھے امام تیمیہ رحمہ اللہ کی کسی تحریر کا ترجمہ مل گیا تو ضرور ارسال کروں گا ۔ان شاء اللہ ۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساتویں یا اٹھویں صدی ہجری سے پہلے تک کسی مسلمان کو ان کے اسلام کے متعلق شبہ ہو سکتا تھا لیکن اس کے بعد اس کی گنجائش نکالنا بہت مشکل ہوگا ۔





امریکہ اور ایران کی دشمنی
آج کل امریکہ اور ایران کے درمیان بظاہر جو مخاصمت پائی جاتی ہے ، وہ ایک سازش بھی ہو سکتی ہے ۔ کیوں کہ اسے دیکھ کر عام مسلمان کے دل میں ایران کے متعلق ہمدردی کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں ۔آپ خود سوچیں کہ کیا کبھی امریکہ نے ایران کو دھمکانے کے سوا کوئی عملی قدم بھی اٹھایا ہے ۔ حالانکہ کتنے ہی سالوں سے بلکہ گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل اس نوعیت کی خبریں ہم سنتے اور دیکھتے چلے آرہے ہیں ۔لیکن آج تک ان کے درمیان بالفعل کوئی لڑائی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ اِکّا دُکّا  واقعات اگر ہیں بھی تو وہ بھی سازش میں جان ڈالنے  کی حد تک ہی معلوم ہوتے ہیں۔

بالفرض اگر یہ کسی سازش کا حصہ نہیں ہے تو بھی یہ کہنا تو ممکن نہیں کہ امریکہ کی مخالفت میں ہمیں ایران کی اسلام دشمنی بھلا کر ان کا ساتھ دینا چاہیے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ  امریکہ کسی بھی ملک کو ایٹمی طاقت کے طور پر دیکھنا نہیں چاہتا ۔ کیوں کہ امریکہ کے ریاستی جنگی جرائم کی بنا پر پوری دنیا میں اس کی نفرت عام ہوچکی ہے اور اسے یہ خطرہ ہے کہ کوئی بھی طاقت اس کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتی ہے  ۔

ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ آپ ایران کے انقلابی رہنما علی خیمنی کی شخصیت کے صرف ایک ہی پہلو سے واقف ہیں ، دوسری طرف اس کے کفریہ عقائد ہیں جن کا ذکر چونکہ عام نہیں اس لیے آپ کے ذہن میں اس کے متعلق یہ تصویر بن رہی ہے ۔ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہم سب کی سیدھے رستے کی طرف رہنمائی فرمائیں آمین ۔ میرے لیے اگر ممکن ہوا تو خیمنی کی کتابوں کے حوالے تلاش کرنے کی کوشش کروں گا ۔
آپ نے احمدی نژاد کی وہ تصویریں نہیں دیکھیں جن میں وہ یہودیوں کے علماء کے ساتھ  معاہدات میں مشغول ہے اور یہودی ربائی اس کو مختلف نوعیت کے اعزازات سے نواز رہے ہیں ۔ آپ کے علم میں یہ بھی ہے یا نہیں کہ ایران نے اصفہان میں یہودیوں کو مستقل آبادکاری کے لیے ایک بہت بڑا علاقہ فراہم کر رکھا ہے جہاں اس وقت بڑی تعداد میں  یہودی موجود ہیں ۔ شاید آپ کے مطالعہ سے وہ حدیث بھی گزری ہوگی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصفہان کے ستر ہزار یہودیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ دجال کے لشکر کا حصہ ہوں گے ۔اور مستدک حاکم کی حدیث میں ہے کہ دجال اصفہان کی یہودیہ نامی بستی سے ظاہر ہوگا ۔

مختصر صحیح مسلم
فتنوں کا بیان
باب : اصفہان شہر کے ستر ہزار یہودی دجال کی پیروی کریں گے۔
حدیث نمبر : ۲۰۵۶
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
 اصفہان کے ستر ہزار یہودی سیاہ چادریں اوڑھے ہوئے دجال کی پیروی کریں گے۔


اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ
اس کے برعکس  اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کی وجوہات کچھ اور ہو سکتی ہیں ۔  مثلا یہ جنگ علاقائی بنیادوں پر لڑی گئی تھی ۔  یعنی اسرائیل میں یہودی آبادکاری کے لیے ، لبنان کی ان بستیوں کو مسلمانوں سے خالی کروا کر اسرائیل کا حصہ بنا لینے کے لیے جو یہودیوں کے نزدیک گریٹر اسرائیل میں شامل ہونی چاہیے۔  اب یہ اتفاقیہ بات ہے کہ ان بستیوں میں اکثریت شیعوں کی ہے ، جو اپنے گھروں اور بستیوں کو مسمار ہونے سے بچانے کے لیے اسرائیل سے جنگ کر رہے تھے ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسرائیل کا قبضہ غاصبانہ ہے اور ان بستیوں میں رہنے والے  شیعہ مظلوموں کی صف میں ہیں ۔ اپنے گھروں اور بستیوں کے دفاع کے لیے اُن کا اسرائیل سے لڑنا  جائز ہے ۔

ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں یا نہیں تو شریعت کی نظر میں ایسے مظلوموں کی مدد بھی کی جاسکتی ہے ۔  یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم بھارت کے خلاف کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرتے آرہے ہیں ۔ حالانکہ کشمیر میں شیعہ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔بلکہ  بعض شیعہ کشمیری مجاہدین کی تنظیموںمیں شامل ہوکر بھارت کے خلاف لڑتے بھی ہیں ۔

لیکن یہ بات یار رہے کہ جہاد کے دو مستقل اہداف ہیں :
ایک حملہ آور کافر کا دفاع
اور دوسرا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حاکمیت کا قیام

حملہ آور کافر کا دفاع ، ذیلی ہدف ہے، اصل ہدف کا ۔۔۔۔ یعنی اللہ کی زمین پر شریعت کے  نفاذ ، اور دین کے  قیام کی خاطر ہی کافر کا دفاع ضروری ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے  جس کی بنا پر اس وقت مجاہدین کی اکثریت کشمیر کے محاذ سے عارضی طور پر علیحدہ ہو کر خراسان میں اللہ کی حاکمیت کے لیے قتال کر رہے ہیں ۔۔۔ تاکہ اصل ہدف بھی حاصل کیا جا سکے ۔۔۔۔ کیوں کہ کشمیر کے محاذ میں اصل ہدف کی طرف پیش رفت فی الحال ممکن نظر نہیں آرہی ۔۔۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ صلیبی جنگ ، صلیبیوں کی طرف سےمجاہدین کے خلاف لڑنے کے لیے شیعہ پوری طرح استعمال ہو رہے ہیں ۔ جب کہ یمن ، خراسان اور عراق میں شیعہ طبقہ،  مجاہدین اور اسلام کے خلاف ایک بہت بڑا محاذ ہے  ۔

چنانچہ ہمارے تعاون اور امداد کے زیادہ مستحق یہ مجاہدین ہیں جو بیک وقت دونوں اہداف کے لیے قتال کر رہے ہیں نہ کہ وہ شیعہ جن سے جہاد کے اصل ہدف کی طرف پیش رفت کی کوئی امید نظر نہیں آتی ۔۔۔۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ


11 تبصرے:

Tausif Hindustani said...

jazakomullah khaira, masha Allah bahut hi sahal tariqe se aapne apni baat samjhai hai, Allah hum sabhi ko apne amaan men rakhen
, Aameen

Behna Ji said...

Assalamoalykum
jazakallah khayer bhaee bohat mufeed owr aham maloomaat deeN aap nay. isko kehty hain doodh ka doodh owr pani ka pani kr dayna :)

Anonymous said...

اس سلسلے میں مولانا محمد منظور نعمانی کی کتاب ’’ایرانی انقلاب‘‘ کا مطالعہ ضرور کریں۔ اس کے علاوہ شیخ عطیۃ اللہ رحمہ کی کتاب رؤیۃ کاشفۃ حزب اللہ اللبنانی، کا مطالعہ بھی بہت مفید ہے۔
احمد

Anonymous said...

Mohtram Irfan Baloach Bhai, Allah Ta'la ap ki koshish ko qubool frmay aur ap ko is kam k lye us ilmi satah se nawazy jo itny ehm kam k lye drkar hy. Ap ki tawajja ek muamly ki trf dilana thi, Shriat mein aurat k lye hukm hy k wo ajnabi mrd se skht lehjy mein bat kry. Lekin forum mein hissa leny wali bibi {Behna jee} Sahiba k trz e kalam mein na sirf boht zyada narmi pai jati hy blky baz dafa mehsoos hota hy k deen k galby k lye fikrmnd khatoon ki esi bat Loose Talk k drjy ko shoo rhi hy. Brah e mehrbani is muamly ko snjidgi se lein aur blog ko ek aam chat room ki bjay Ummat k galby k lye dawat ke ek ehm zrye tk pohnchain. Allah Ta'ala hmari nusrat frmay.........Ameen

Furqan Khan said...

السلام علیکم و جزاک ﷲ۔۔۔ جی محترم بھائی، اھل ایمان پر شیعوں کی روایتی منافقت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔۔۔لیکن پھر بھی ممکن ہے کہ اھل اسلام اور اھل کفر کے درمیان ہونے والی تیسری عالمگیر جنگ کے پہلے مرحلے میں، مسلمانوں اور شیعوں کے درمیان کوئی اسطرح کا معاھدہ ہو جائے جسطرح ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں اور مدینہ میں آباد یہودیوں کے درمیان ہوا تھا۔۔۔اس جنگ کے حتمی مرحلے میں جب بیرونی کفّار پسپا ہونگے،تو مدینہ کے یہودیوں کی طرح شیعوں کو بھی اپنی اسلام دشمنی کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ اپنی آبادیوں سے بے دخل ہونا پڑے۔۔۔وﷲ اعلم

Behna Ji said...

Assalamoalykum
anonymous bhaee tanqeed ka shukriya.main ny apni post ko dobara apki nazar say ghor say pRha. mera mohawra to ghyr akhlaqi nhi hay magar end pr smiley face ghayr zaroori hay.jo ke achi post pr aik acha mohawra yaad any ki khushi ka izhar tha.inshaALLAH main aainda ehtiyat karoongi.

ابو جمال said...

انگریزی کی بورڈ میں اردو ٹائپ کرنے والے بہنوں اور بھائیوں سے میری درخواست ہے کہ اس جہادی اردو بلاگ کو سنوارنے میں اپنی کوششوں کا اضافہ کریں

اور براہ مہربانی کوشش کرکے اپنی بات اردو میں ٹائپ کر لیا کریں

اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو ٹائپنگ کی سہولت موجود نہیں تو بہت سے اردو بلاگ میں تبصروں کے لیے اردو کی بورڈ ڈالا جاتا ہے

وہاں جا کر اپنا تبصرہ ٹائپ کرلیں اور یہاں کاپی پیسٹ کرلیں

جزاک اللہ

کسی بھائی سے درخواست ہے کہ اردو ٹائپنگ کا کوئی ویب پیج معلوم ہو تو لنک یہاں بھیج دیں

Malik Sooper said...

جیسا کہ فرقان بھائی نے کہا ہے کہ
ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں شیعوں کے ساتھ کوئی معاہد ہ ہو جائے؟؟؟؟؟؟؟
کیا ایسا ممکن ہے ؟؟؟؟؟

میرے خیال میں تو اہل کفر کی کچھ اقسام ہیں ۔
صریح واضح کافر
جس کے کفر میں تو کسی قسم کا شک نہیں ہے۔
منافق
جو بظا ہر تو مسلمان ہے مگر دل ہی دل میں اسلامی اصولوں اور شریعت کو برا تصور کر تا ہے۔
مرتد
جو مسلمان ہونے کے بعد اسلام سے پھر جائے۔
زندیق
جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے اندر ہی اندر اسلام کو ختم کرنے، بگاڑنے اور دنیا کے سامنے اسلام کا غلط تصور پیش کرتا ہو۔
اب میری ناقص معلومات کے مطابق تو کافروں کے ساتھ معاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔ منافق کا تو کسی کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں؟
اور رہ گئے آخری دو تو کیا ان کے ساتھ بھی معاہدہ ممکن ہے؟؟؟؟
میرے خیال میں تو شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

Malik Sooper said...

اس لنک سے ایس ایم اردو ایڈیٹر ڈاؤن لوڈ کر لیں اور اس میں لکھ کر کاپی کر کے یہاں پیسٹ کر لیا کریں۔
شاید کچھ مدد مل جائے

http://www.ziddu.com/download/13604632/S-MUrduEditor1.zip.html

Malik Sooper said...

اردو میں کمنٹ کرنے ، ایم ایس ورڈ اور دیگر تمام انگلش پروگراموں میں اردو میں لکھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کر لیں ۔ ان شاء اللہ اگر آپ نے اسے نیک مقاصد کے لیے سیکھنا چاہا تو بہت آسانی سے اپنے کمپیوٹر میں اردو انسٹال کرنا سیکھ جائیں گے۔

http://khadam-e-islam.blogspot.com/2011/11/blog-post_15.html
اس لنک کو کاپی کر کے اپنے انٹرنیٹ ایکسپلورر میں پیسٹ کر لیں۔
والسلام
ملک سوپر

Tausif Hindustani said...

http://www.epicbrowser.com/ is link se ye browser install kar len, bahut sare language men aap type kar sakte hain, bahut hi asaan hai

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ