Subscribe:

Wednesday, November 30, 2011

ای میل اور تبصرے


السلامُ علیکم ورحمتہ ﷲ و برکاتہ
بعد از سلام ، آپ کی محنت اور کاویشوں کو دیکھا اتنا ہی کہ سکتا ہوں کہ  ﷲ آپ کو اجرِعظیم عطاء کرے۔حضرت چند سوالات ہے ،اگر قران و سنت اور علماٴ کے بیان و فتوات   کی روشنی میں وضاحت کر دے تو آپ کا ممنون  ہو گا۔
میں نے ابھی ایف ایس سی کے امتحانات پاس کیے ھیں ، لیکن اب میرا دل جھاد میں عملی طور پر جانے کا ہے ، ذراہع بھی ھیں اور مواقع بھی ،اﷲ کا کرم ھے کہ والد صاحب کا اپنا کاروبار ھے جو اچھا چل رھا ھے ، لیکن وہ مجھے جھاد سے روک رہے ھیں، ان کا موقف ھے کہ میں تعلیم کو اگے جاری رکھو اور علمی دنیا میں رہ کر مجاہدین کی مدد کرو ،کیونکہ ان کا کہنا ھے کہ جھاد میں بندوق چلانے بھت ھیں، علمی دنیا میں رھوں اور پھر مجاھدین کی مدد کرو ، جب میں نے اس بات سے انکار کیا تو پھر انھوں نے کھا کہ تم کاروبار میں آ جاو اور مجاہدین کی مالی مدد کرو، اُن کو پناہ دو، میرے والد جھاد کے منکر یا اس کی مخالفت نہیں کرتے ، لیکن اُن کا کہنا ھے کہ تعلیم یا کاروبار کرتے ہوے جھاد میں بہتر حصہ لیے سکتے ہو،،، اسی پر محلے کے مولوی  ، میرے چچا اور ماموں سب یہی کہ رہے ہیں کہ تمھارے والد ٹھیک کہ رہے ہیں۔ تم فصول ضد کر رہے ہو اور اس کی شریعت میں اجازت نہیں۔۔۔
براےٴ کرم میرے اس معاملے میں رہنمایٴ کی جاے ، کہ کیا میں گھر بیٹھ کر ان کی ہدیات پر عمل کرو یا اپنے شوقِ جھاد کو مدِ نظر رکھتے ہوےٴ جھاد پر نکل پڑو ؟؟؟؟
والسلام
آپ کا بھایٴ اسد ﷲ
پاکستان
نوٹ ﴿ آپ کو معلوم ہے کہ یہ مسلہ عموماً سب کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے ذرا مفصل جواب دینا
میں دوبارہ اس آیٴڈیٴ کو اوپن نہیں کر سکتا،اس لیے ان کے جواب اپنے بلاگ ًغزوتہ لھند ً میں پوسٹ کر دینا
لکھنے میں کویٰ غلطی ہو تو معافی چاھوں گا ﴾

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ آپ کے اخلاص اور اعمال کو قبول فرمائے ، اور تمام مجاہدین کے کاموں میں برکت ڈالے آمین

آپ کے والد صاحب جہاد کے معاملے میں آپ کو جو بھی نصیحت کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مشورہ اور ان کی رائے تو ہو سکتی ہے لیکن اسے حکم کا درجہ حاصل نہیں ہوگا ۔ اگر آپ کے والد صاحب یہ نصیحت آپ کی اور امت کی  خیر خواہی میں کر رہے ہوں اور اس میں خلوص بھی شامل ہو تو بھی اس کی بہر صورت تعمیل کرنا آپ کے اوپر واجب نہیں ہے ۔

بہترین طریقہ یہ ہے کہ یہ معاملہ آپ کسی جہادی مجموعے کے امیر یا عسکری کمانڈر کے سامنے پیش کریں اور اس میں اپنا مشورہ اور خواہش بھی شامل کریں ۔اپنے امیر کو بتائیں کہ آپ مجاہدین اور امت مسلمہ کی کس کس طرح خدمت کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد امیرمیدان جہاد کی ضروریات اور موجودہ صورتحال کو دیکھ کر آپ کے بارے میں جو فیصلہ کرے آپ پورے اطمنان کے ساتھ اس کے امر کی اطاعت کریں ۔

میرا ذاتی مشورہ یہ ہے کہ آپ کے لیے اگر جہاد میں شرکت کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھنا ممکن ہو تو اس کی ممکنہ حد تک کوشش کریں۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ آپ معرکوں کے لیے گھر سے نکلیں اور چند ماہ گزارنے کے بعد واپس آجائیں ۔ تعلیم کے مکمل ہونے تک یہ سلسلہ جاری رکھیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اپنے مقامی شہر یا بستی میں رہ کر مجاہدین کو دشمن کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کرتے رہیں ، اس طرح آپ براہ راست جہاد میں شریک ہو سکتے ہیں ، اس کے علاوہ بھی جہاد میں شرکت کے دوسرے بہت سے راستے ہیں ۔

اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں
جہاد میں شرکت کے چوالیس طریقے

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

السلا م علیکم ورحمۃاللہ وبرکاۃ۔۔
اللہ تعالی سے امید ہے کہ آپ خیروعافیت کے اعلی درجے پہ ہوں گے،
کافی عرصے سےآپ سے رابطہ کرنے کا سوچ رہاتھالیکن مصروفیت کی وجہ سے رابطہ نہ کرسکا۔
آپ لوگوں کا انٹر نیٹ پر اردو ذبان میں جہاد کے موضوع پر کام کو دیکھ کر دل کو بہت خوشی ہوتی ہے
اللہ تعالی آپ کے کام میں برکت ڈالے اورآپکے اس کام کے زریعے کفار کے سینوں میں لگنے والی آگ کو تیز کرنے کاسبب بنے
 اور کفار کی چالوں کو نست و نبود کرے
آپ کے اس کام میں اگر کہیں میری کسی قسم کی خدمت کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیے گا
والسلام
محمد عطا    


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جزاک اللہ !!! اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں ، نیک اعمال اور کوششوں کو قبول فرمالیں ۔۔۔ آمین ۔
خدمت تو اس پر منحصر ہے کہ آپ کس طرح ہمارے لیے کاررآمد ہوسکتے ہیں۔۔ اگر آپ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی جہادی خدمت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو ۔۔۔

تحاریر لکھنا
اہم معلومات فراہم کرنا
دشمن کی جاسوسی کرنا
کتابیں اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنا
انہیں دوسروں تک پھیلانا
:: بذریعہ ای میل
:: بذریعہ سوشل نیٹ ورک مثلا فیس بک
وغیرہ وغیرہ

یہ سب کام تو انٹرنیٹ سے متعلق ہو سکتے ہیں

اس کے علاوہ بھی اور بہت سے ذریعے ہیں ، مطالعہ کیجیے اسی کتاب کا جس کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے ۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔۔۔۔

5 تبصرے:

Malik Sooper said...

یہاں پر آپ نے فیس بک کا ذکر کیا ہے حالانکہ درویش خراسانی صاحب تو فیس بک کے اچھے خاصے مخالف ہیں اور کیا اگر ہم نے فیس بک اور دیگر سوشل نیٹ ورکس کو بالکل چھوڑ دیا تو عام مسلمان جو فیس بک وغیرہ استعمال کر رہے ہیں وہ ان سائٹس پر پھیلائے گئے پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں گے؟؟؟؟ کیا فیس بک پر مجاہدین کے موقف کو بیان کرنے والے اور ان کے موقف کا دفاع کرنے والے لوگوں کو وہاں سے نکل جانا چاہیے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Anonymous said...

Irfan bhai how are you
mein khud Jasoosi Idaray mein kaam karta hun
hamara kaam masajid, madaris, khanqaho or degar ijtimahat mein honay walay bayanat or dars wagera ko note karna hota hain k kohi hamaray khilaf to nahi bol raha ya kohi deshatgardi ki baat to nahi karraha hain is liye ap bhi khayal karain hum log bohot chan been k bad logo ko uthwatay hain aisa na ho ap billa waja hamaray hatho ka shikar hojaye is liye apko mashwaray deta hun k kohi acha sa business karain yeh faltu kaam chorday apkay qaidi ko kohi nahi poochta dekh lay apnay umra ko wo khud bhaitay huway hain or kuch nahi karsaktay siwaye chand khud kush hamlo k
apka bhai
RASHID KHAKI

Behna Ji said...

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جی بالکل عرفان بھائ 'جہاد کے چوالیس طر یقے'بہت زبردست ہےامام انور اولقی کی۔

رشید خاکی بھائ، آپ کو شائد پتانہیں ہے کہ عرفان بھائ نےبہت بڑی بزنس ڈیل کر لی ہے۔انھوں نے دنیا کے بدلے آخرت خرید لی ہے انشاءاللہ۔مگر آپ۔۔۔۔

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سودوزیاں لا الہ الااللہ لا الہ الااللہ

آپ اپنی فکر کریں کوئ جنت کا راہی جاتے جاتے آپکو آپکی چنی ہوئ منزل پر نہ پہنچا دے۔ جیسے کیرم بورڈ میں کٹ شاٹ ہوتی۔سٹرائیکر باہر اور گوٹی غڑاپ

Malik Sooper said...

خاکی صاحب اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ آپ کو اور آپ جن کی ناجائز اولاد ہیں ان سب کو خاک میں ملا کر حقیقی طور پر خاکی بنا دے اور مومنین کے دلوں کو ٹھنڈک اور سکون عطا کرے ۔آمین
اگر مرد ہوئے تو خود بھی آمین کہہ دینا ۔
smile plzzzzzzzzzzzzzzzzzzz

Anonymous said...

aslam on alikum
dua k zurarat hai

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ