Subscribe:

Sunday, December 4, 2011

القاعدہ کے ساتھ اظہار یکجہتی

القاعدہ کے ساتھ اظہار یکجہتی

ترکی کےشہر استنبول کی تاریخی الفاتح مسجد کے باغ میں وزیرستان اور افغانستان میں جام شہادت نوش کرنے والے ترک شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ نماز جنازہ کے شرکاء نے مقامی اور غیر مقامی میڈیا کے نمائندوں کی موجودگی میں مسجد کے باہر مظاہرہ بھی کیا ۔ انوکھی اور خوش آئیند بات یہ تھی کہ مظاہرہ کے شرکاء نے وزیرستان کے ترک شہداء کی تصاویر کے ساتھ ساتھ القاعدہ کے شہید رہنماؤں کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں ۔ ترکی کے غیرت مند مسلمانوں کی جانب سے شیخ اسامہ ؒ ، شیخ عطیہ ؒ اور شیخ انور العولقی ؒ کی تصاویر پر مبنی پلے کارڈ چھاپنا اور انہیں مظاہرہ میں لہرانا مجاہدین ، بالخصوص القاعدہ  کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار ہے ۔

ولله الحمد والمنة  

ترکی جیسے مغرب زدہ ملک میں اس نوعیت کا مظاہرہ اہل ایمان کے لیے مژدہ جاں فزا سے کم نہیں ۔۔۔ ہمارے نزدیک شرکاء کی مختصر تعداد کے باوجود ، اس کے انتہائی اور دور رس گہرے اثرات رونما ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔ ان شاء اللہ اس مظاہرے کے بعد ، صلیبی غباروں سے ہوا نکلنے کا عمل مزید تیز رفتار ہو جائے گا  ۔۔۔ اب اس حقیقت کو نہیں چھپایا جا سکتا کہ  عالمی جہادی تحریک اور اس کے نظریات مسلمان معاشرے کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔۔۔   ترکی کے مسلمانوں کا القاعدہ کے ساتھ اظہار یکجہتی اس بات کا اعلان ہے کہ کفرو اسلام کے عالمگیر معرکوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء اسی امت کا قابل فخر سرمایہ ہیں اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے شہداء  کےنقش قدم پر چلنے کے لیے تیار ہیں ۔۔۔۔  اور اب ۔۔۔ یہ مبارک جہاد ، اللہ کی نصرت اور مدد سے اہل ایمان اور اسلام کی مکمل فتح تک جاری رہے گا۔۔۔۔   وما ذلک علی اللہ بعزیز ۔۔۔


تصاویر ملاحظہ کریں اور رب عرش عظیم کا شکر بجا لائیں ۔۔۔۔

بشکریہ ::  باب الاسلام اردو فورم  ::










11 تبصرے:

سعد said...

راشد خاکی کو چاہیے ترکی پوسٹنگ کروا لے ڈالر بٹورنے کا موقعہ وہاں بھی خوب ملے گا

Malik Sooper said...

اللہ اکبر کبیرا

Behna Ji said...

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
الحمدلللہ بہت خوشی کی خبر ہے یہ بھی . اس ترکی کو یاد رکھنا چاہے کہ خلافت ینہی سے گئی تھی .اب بھی اسکو اپنا مقام یاد رکھنا چآ ہیے .


جی بلکل سعد بھائی بندہ بز نس/جاب کرے تو انٹر نشنل لیول کا تو کرے . بڑا سمندر بڑی مچھلیاں . ترے سامنے آسمان اور بھی ہیں .

Anonymous said...

ابھی دیکھنا جماعۃ الدعوۃ والے ترکی کے مسلمانوں پر شہدائے وزیرستان کے حق میں آواز بلند کرنے کےجرم میں خارجی اور تکفیری ہونے کا فتویٰ ٹھونکنا شروع کردیں گے ۔

Malik Sooper said...

بالکل جی شاید جہنم کا ویزہ بھی اللہ کرے راستے میں ہی مل جائے۔ بلکہ ویزہ تو لے چکے ہیں دعا ہے کہ جلد سے جلد ٹکٹ بھی جلد ہی مل جائے چاہے کسی فدائی حملے میں یا چھری کے نیچے آمین

ہشام سعید said...

الحمد للہ
اللہ کے راستے میں بہنے والا خون بہرحال رنگ لاتا ہے۔
تیونس سے ترکی تک اسی خون کی برکتیں ہیں، الحمد للہ۔

عرفان بلوچ said...

ہشام سعید بھائی ٹھیک کہا آپ نے

دل تو چاہ رہا تھا کہ تیونس کے حالات پر بھی لکھوں لیکن افسوس کہ میں اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتا

ایک بار تلاش کی تھیں لیکن نامکمل رہیں

ویسے تیونس کی فضاؤں میں تبدیلی بھی حیران کن ہے

کیوں کہ وہ تو بالکل سیکولر ملک تھا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شریعت کا نام لینے والے وہاں بھی زندہ ہو جائیں گے

اگرچہ نہضہ پارٹی پر اسلامیت غالب نہیں لیکن تبدیلی تو تبدیلی ہے

Anonymous said...

Mr Saad apka naam to bara pyara hain magar baat theek nahi
meri yahi posting achi hain mein idhar tite kamata hun alhumdulillah halal thankha k ilawa kuch bhi nahi khata or dusray officers rishwat khatay hain magar mein nahi leta wo mera Allah janta hain
bhai Islam,mulk o watan k liye jaan bhi hazir hain

Anonymous said...

or irfan bhai pehlay yeh turkey k log islam ko to apnay uper nafiz karlay jihad karna to door ki baat nabi ki sunnatao ko to poora karlay jihad to door ki baat hain or tasweer chapna yeh kabsay jayiz hogiya or ap k saray Mujahideen pictures or videos letay hain halakain taliban k time mein najayiz thi to ab kesay jayiz huwi.
mujhay jawab cahiye
tum log haram kaam k zarye deen ko buland karna cahtay hain lol
tumharain dimagh kharab hogiya hain aqal k nakhun lo
wsalam
RASHID KHAKHI

Mujahideen-e-Islam Media Centre said...

وعلیکم سلام
بہت خوب خوش آئند ہے بہت۔

Anonymous said...

مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریاہی سے ہے گوہر کی سیرابی

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ