Subscribe:

Tuesday, December 6, 2011

والدین کی مخالفت اور مرنے کا اندیشہ


السلام علیکم
میری عمر ۱۸ سال ہے اور الحمدللہ حافظ قرآن بھی ہوں میرا جہاد میں نکلنے کا ارادہ تھا اور راستہ بھی تھا لیکن جب میں نے اپنے والدین سے ذکر کیا تو وہ غصے میں آگئے ۔ امی تو دو تین دن تک روتی رہیں اور ابو الگ غصے میں رہے ۔ جس کی وجہ سے میں نہیں جا سکا ۔ اب تقریبا چھ ماہ بعد دوبارہ ارادہ بنا ہے لیکن ایک سوال بار بار آتا ہے کہ والدین کی اجازت کے بغیر نکلا جا سکتا ہے ، اس حال میں کہ والدین کے غم سے فوت یا پاگل ہونے یا بیمار ہونے کا خطرہ ہو اس کے علاوہ یہ بھی کہ آئندہ کوئی اپنا بچہ مدرسے میں نہیں ڈالے گا کہ یہاں تو جہادی پیدا ہوتے ہیں ۔ کیا ان حالات میں جہاد فرض عین ہے ؟؟؟ ۔کبھی کبھی خیال آتا ہے یہ اتنے سارے مولوی دوسرے کام بھی تو کر رہے ہیں تو یہ سارے گناہ گار ہیں کیا ۔ ہمارے خاندان میں دور دور تک کوئی مجاہد نہیں اور میرا ادھر رہنے سے مجھے میرے دین کا بھی خطرہ ہے کیوں کہ اب میں او لیول کا سٹوڈنٹ ہوں ۔ پلیز مجھے بتائیں کہ کیا میں جہاد میں جاؤں یا نہیں  ؟؟؟

السلام علیکم 

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

محترم بھائی

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جہاد کے لیے والدین کی اجازت کی شرط صرف فرض کفایہ کے لیے ہے ۔ موجودہ حالات میں جہاد فرض عین ہے اور اہل اسلام کے جدید و قدیم علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جہاد فرض عین ہونے کی صورت میں والدین کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ۔
اگر آپ اس بارے میں تفصیلات جاننا چاہتے ہیں تو جہاد کے فقہی احکامات جاننے کے لیے اسلامی کتب کا مطالعہ کریں ۔ کم از کم شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ کی کتاب ایمان کے بعد اہم ترین فرض عین کا مطالعہ ضرور کرلیں۔میرے علم میں نہیں ہے کہ علماء نے والدین کی خودکشی  کے امکانات کے سبب  اسے فرض عین کے لیے بھی مشروط قرار دیا ہو ۔ ۔۔ اس بات کا خیال رہے کہ اکثر مرتبہ یہ صرف اندیشوں کی حد تک ہی ہوتا ہے ۔۔۔ واقعات کی دنیا میں ایسا کم ہی ہوتا ہے ۔۔۔ یعنی اکثر اوقات والدین اولاد کو جذباتی کرنے کے لیے ایسے کلمات منہ سے نکالتے ہیں ،  جن کو عمل میں لانے کی سکت خود ان میں بھی نہیں ہوتی ۔۔۔۔

یہاں دعوۃ المقاومۃ الاسلامیہ سے چند اقتباسات  نقل کر رہا ہوں ۔ جن میں والدین کے شدت غم سے نڈھال ہوجانے اور ان کی موت واقع ہونے کے بارے میں بھی ذکر موجود ہے ۔اور یہی آپ کے سوال کا درست جواب بھی ہے ۔۔۔۔

 [ دعوۃ المقاومۃ الاسلامیہ صفحہ نمبر ۱۱۳۳  ]
والدین ، شریک حیات اور قرض دہندہ  کی اجازت کی شرط :
اجازت کا حکم دشمن کی حالت پر منحصر ہے
۱۔   اگر دشمن اپنےعلاقے  میں ہے ، اور اس نے مسلم علاقوں کی طرف چڑھائی نہیں کر رکھی ۔ اور سرحد پر مسلمانوں کا لشکر موجود ہے تو ایسی حالت میں جہاد فرض کفایہ ہے تو ایسے میں اجازت لینا لازمی ہو گا کیوں کہ والدین اور شوہر کی اطاعت فرض عین ہے اور فرض عین فرض کفایہ پر مقدم ہے ۔
۲۔   اگر دشمن مسلمانوں کی بستیوں پر حملہ آور ہو ، یا مسلمانوں کے علاقوں میں گھس آئے تو جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں  کہ ایسی حالت میں جہاد بستی والوں پر فرض عین ہے اور ان کے ارد گرد کے مسلمانوں پر بھی ، تو ایسی حالت میں اجازت کی شرط باقی  نہیں رہتی  ۔ کسی کو کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں  ۔اولاد والدین کی اجازت کے بغیر ، بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر اور مقروض ، قرض دہندہ کی اجازت کے بغیر جہاد میں شریک ہوگا ۔
اور یہ اجازت کی شرط اس وقت تک ساقط رہے گی جب تک دشمن کو مسلمانوں کی سرزمین سے نکال نہ دیا جائے ۔ یا مسلمانوں کے لشکر کی اتنی بڑی تعداد میسر آجائے جو دشمن کو شکست دینے کے لیے کافی ہو ۔

جہاد فرض عین ہونے کی صورت میں وہ  والدین کی اطاعت پر مقدم ہوگا۔ جہاد کو یہ تقدیم اس لیے حاصل ہے کیوں کہ جہاد دین کی حمایت کے لیے ہے جب کہ والدین کی اطاعت نفس کی حمایت کے لیے ہے ۔ اگر والدین کے بارے میں شدت غم سے نڈھال ہوجانے کا اندیشہ ہو تو بھی جہاد مقدم رہے گا کیوں کہ دین کی حفاظت کا کام کسی کے نفس کی حفاظت پر مقدم ہے ۔
اگر اولاد جہاد میں نکلنے اور شہید ہوجائے تو  اس کام میں دین کی حفاظت اور حمایت یقینی ہے جب کہ والدین کا غم سے ہلاک ہوجانا یقینی نہیں بلکہ ظن پر مبنی ہے اور یقین ہمیشہ ظن پر مقدم رہے گا ۔۔۔۔۔

اس کے بعد شیخ ابو مصعب سوری ( اللہ تعالیٰ قید سے رہائی دلائے ) نے اس سے متعلق چند مثالیں پیش کی ہیں ، ملاحظہ فرمائیں :

کچھ لوگ پکنک کی غرض سے ساحل سمندر پر جمع ہوں ، اور ان میں کئی ایک ماہر تیراک بھی موجود ہیں ۔وہ دیکھیں کہ ایک بچہ سمندر میں ڈوب رہا ہے ، اور چلا چلا کر اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے ۔لیکن تیراکوں میں سے کوئی بھی حرکت میں نہیں آتا ۔ ان میں سے ایک تیراک اس بچے کو بچانے کا ارادہ کرتا ہے لیکن اس کا والد اسے روک دے ۔ تو کیا علماء میں سے کوئی ایک بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ ایسی حالت میں بھی  اس تیراک کے لیے اپنے والد کی اطاعت مقدم  ہوگی ۔
یہی مثال ہے افغانستان اور تمام  مقبوضہ مسلمان علاقوں کی جہاں کے مسلمان مدد کے لیے فریاد کر رہے ہیں ، جہاں بے شمار   بچوں کو ذبح کر دیا گیا ،   جن کی  بستیوں کو تاراج کیا گیا  ،جہاں معصوم اور بے گناہوں کا قتل عام کیا گیا ، جہاں جسموں کے چیتھڑے اڑا دیے گئے ۔۔۔۔  یہ دیکھ کر کچھ صالح نوجوان ان کی مددکے لیے حرکت میں آگئے  تو کیا ان کو یہ کہہ کر ملامت کی جاسکتی ہے کہ تم اپنے والدین کی اجازت کے بغیر کیسے آگئے ؟؟؟؟

آگے چل کرشیخ ابو مصعب سوری  ایک اور مثال سے مزید واضح کرتے ہیں کہ یہ صرف جہاد کے لیے خاص نہیں بلکہ کسی بھی فرض عبادت کی ادائیگی  کے لیے والدین کی اجازت لینا  ضروری نہیں ہوتی  :

اگر باپ  اور بیٹا ایک ہی مکان میں سوتے ہیں اور بیٹا  فجر کی نماز پڑھنے کا ارادہ کرے ، لیکن اس کا باپ سو رہا ہے ۔۔۔تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ بیٹے کے لیے باپ سے نماز فجر کی اجازت لینا ضروری ہوگی ؟؟؟ اور فرض کیا کہ اگر باپ اس کو نماز کے لیے اٹھنے سے منع کردے  کسی بھی سبب سے مثلا یہ کہہ کر کہ اوروں کی  نیند خراب ہوتی ہے تو کیا بیٹے کے لیے باپ کا حکم ماننا فرض ہوگا ؟؟؟  جواب تو بالکل واضح ہے ۔۔۔ ۔
اطاعت صرف معروف میں ہے   [متفق علیہ  ]

لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق  رواه أحمد
خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں

:::::::: کتاب کے اقتباسات ختم  ::::::::

اگر والدین کی طرف سے مجاہدین کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو
والدین کی ناراضگی کی سبب جہاد سے رک جانے کی صرف ایک صورت ہے ۔۔۔  ہمارے بعض امراء کا خیال ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اگر کسی کے والدین کی طرف سے ایسے رد عمل کا خدشہ موجود ہو جو جہاد اور مجاہدین کو نقصان پہنچانے کا سبب بن جائے تو ایسے فرد کے لیے جہاد میں نہ نکلنا زیادہ موزوں ہے ۔مثلا ً
اگر آپ کے والدین آپ کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس میں کردیں یا حساس اداروں سے مدد لینا چاہیں توان کا یہ عمل  آپ کے لیے اور آپ سے وابستہ تمام مجاہد بھائیوں کے لیے  انتہائی خطرناک ثابت ہوگا ۔ نہ معلوم اس کے بعد کتنے نوجوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جائیں گے ۔۔۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ والدین گمشدگی کی رپورٹ تو نہ کرائیں لیکن جگہ جگہ  آپ کو تلاش کریں ، آپ کے دوستوں اور ملنے جلنے والے دوسرے افراد کو خواہ مخواہ پریشان کریں ، کسی پر شک کا اظہار کریں ، ان کے خلاف کوئی اقدام اٹھائیں اور چار و ناچار آپ کی عدم دستیابی کی خبر بستی اور خاندان میں مشہور ہو جائے ۔۔۔۔ یہ،  اور اس سی ملتی جلتی کئی صورتیں ہیں جو مجاہدین کے لیے حالات کو مزید تنگ کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں ۔۔۔۔ اگر ایسے حالات پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو بہتر ہے کہ والدین کو سلیقے کے ساتھ سمجھاتے رہیں یہاں تک کہ وہ مان جائیں ۔۔۔ اور جب تک وہ نہ مانیں جہاد میں شرکت کے لیے دوسرے ذرائع  اور مواقع تلاش کریں ۔۔۔۔گھر میں رہتے ہوئے بھی  آپ اپنے آپ کو اس جہاد کا حصہ بنا سکتے ہیں ۔۔۔ مثلا ً ۔۔۔ ہماری نظر میں اس وقت کے چند اہم تر ین کاموں میں سے ایک ۔۔۔ دشمن کے متعلق خفیہ معلومات کا حصول ہے

دین کے مختلف کاموں میں مصروف دین دار حضرات
آپ نے  بہت سے ان مسلمانوں یا مولویوں کے متعلق بھی پوچھا ہے جو دین کے مختلف کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور جہاد میں شریک نہیں ہورہے ۔۔۔۔

بھائی !!! قیامت کے دن ہم سے سوال اپنے اپنے بارے میں ہوگا ۔۔۔۔ کسی اور کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا ۔۔۔۔ اس لیے سب سے پہلی فکر ہمیں اپنی کرنی ہے ، تاکہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حاضر ہوکر شرمندگی نہ اٹھانی پڑ جائے ۔۔۔۔اُن مولویوں سے ان کے اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا ۔۔۔ بلکہ دین کا علم رکھنے والوں کے لیے معاملہ زیادہ سخت ہے کیوں کہ اُن سے علم کے متعلق بھی سوال ہوگا ۔۔۔۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیں ، یہ بھی ہو سکتا ہے ان کی پکڑ ہو جائے ۔۔۔بہر حال   ہم دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ہدایت کی دعا کرتے ہیں ۔۔۔۔  ویسے مسلمان بھائی سے اچھا گمان رکھنا چاہیے ، ہو سکتا ہے بہت سے دین دار حضرات جہاد سے وابستہ ہوں لیکن حالات کی وجہ سے اپنے مجاہد ہونے کا اظہار نہ کر رہے ہوں ۔۔۔

بھائی ۔۔۔ یہ بھی تو سوچیں !!!  جہاد کرنے والے ، اپنے اجر اور مرتبہ میں سب سے اعلیٰ مقام پر ہوں گے ۔۔۔۔ پھر آپ کو ان کی کیا فکر اپنی فکر کریں اور جنت کے اعلیٰ ترین محلات حاصل کرنے کے لیے اپنی نام کی بکنگ کروالیں ۔۔۔۔

میرے لیے بھی اخلاص ،ثبات اور شہادت کی دعا کریں ۔۔۔
آپ کا بھائی
عرفان بلوچ

1 تبصرے:

Behna Ji said...

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جو والدین اپنے بچوں کی محبّت میں انکو الله کی راہ میں فرض جہاد سے روک رہے ہیں ،انکے لئے سوچنے کا مقام

28 اور جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے اور بے شک الله کہ ہاں بڑا اجر ہے
سورة الأنفال

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ