Subscribe:

Friday, December 9, 2011

ہوۓ تم دوست جس کے


ناپاک فوج پر نیٹو کے حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ایک فکر انگیز تحریر

 ایک ایسی قوم جس کی پوری تاریخ عہد شکنی، خیانت، بے وفائی، خود غرضی اور ہوس جیسی صفاتِ رذیلہ سے بھری پڑی ہو_______جس کے اجداد مغرب بھر کے جرائم پیشہ افراد، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملعون ٹھہراۓ گئے یہود اور اندلس کے مسلمانوں کے دین، نفس و مال کوتاراج کرنے والے عیسائی ہوں_______ جس کی ٹپکتی رال میں لاکھ ہا سرخ ہندیوں اور افریقیوں کے خون کی سرخی عیاں ہو_______  صومالیہ ، یمن، افغانستان، عراق جہاں نظر دوڑائی جاۓ کروڑ ہا انسان جس کے ظلم کو آج تک سہہ رہے ہوں______ دنیا بھر کے قحط زدہ علاقے جس کی خود غرضی اور ہوس پرستی پر گواہ ہوں______جس کی معلوم تاریخ میں کوئی ایک بھی واقعہ اسکے خیر پر گواہی نہ دے پا رہا ہو_______اس پر کوئی اعتماد کرے اور اس سے خیر کی توقع رکھے  تو کیونکر؟
اس کے فرنٹ لائن اتحادی بن کر دس سال خدمت کرنے والے اگر آج مہمندمیں اس کے ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ اور اپنے چھبیس فوجیوں کی ہلاکت پر کچھ نالاں ہیں تو انہیں چاہیے کہ چار دہائیاں پیچھے جائیں۔ وہاں انہیں ایک کردار ملے گا، جنوبی ویت نام کا، جس نے اِن ہی کی طرح فرنٹ لائن اتحادی بن کر پورے پندرہ سال اس دیویپر اپنے اڑھائی لاکھ فوجیوں اور اس سے کئی گنا زیادہ عوام کو قربان کیا۔ جنگ تو اپنے اپنے نظام کو دنیا بھرمیں مسلط کرنے کے لیے اِس امریکا اور روس کے درمیان تھی لیکن اس کا ایندھن تیسرا فریق بنا۔ اور نظام بھی ایسے بودے کہ ایک تو بیس سال قبل ہی خاک نشین مجاہدین کے ہاتھوں مٹی میں رُل گیا اور دوسرا بھی انہی بندگانِ خدا کے ہاتھوں ڈوبا ہی چاہتا ہے۔ بہرحال اس پندرہ سال کے عرصے میں جنوبی ویت نام کی حکومت نے امریکا کو رب مانتے ہوۓ اپنی زمین، اپنی فوج، اپنی عوام غرض ہر شے امریکا پر لُٹا دی۔بدلے میں جنوبی ویت نام کے حکمران اور جرنیل کیا چاہتے تھے؟ محض اپنی بقا، اپنے مفادات کا تحفظ_____ کیوں کہ باقی تو ہر چیز اس جنگ نے تباہ کر دی تھی۔عوام کے لیے کچھ تھا تو امریکی امداد، امریکی فوج کی بڑی تعداد میں خطے میں موجودگی کی وجہ سے چند نوکریاں،اور امریکہ کی جنگ لڑنے کے لیے فوج میں ملازمت۔  تیرہ سالہ جنگ کی ہولناکی ایک طرف لیکن عبرت ناک منظر تو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے اپنے اٹھاون ہزار فوجیوں کے تابوت اٹھا لینے کے بعد واپسی کا فیصلہ کر لیااور شمالی ویت نام سے مذاکرات کی راہ تلاشی جانے لگی۔
جنوبی ویت نام کے لیے بہت بڑا سوال پیدا ہوا، کہ امریکہ کے جانے کے بعد ہمارا کیا بنے گا؟ شمالی ویت نام، جو پندرہ سال براہِ راست امریکی قوت کے سامنے کھڑا رہا، وہ امریکہ کے جانے کے بعد ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ ہماری مدد کو کون آۓ گا؟ ہماری معیشت کو کس طرح سہارا ملے گا؟ انفرا سٹرکچر پھر سے کیسے کھڑا کیا جاۓ گا؟ غرض تحفظات کا سیلاب تھا لیکن اس پر بند باندھنے کے لیے امریکی یقین دہانیوں کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ امریکا نے شمالی ویت نام سے معاہدہ کرتے ہوۓ یہ شِق شامل تو کی کہ جنوبی ویت نام پر حملہ نہیں کیا جاۓ گا اور اگر ایسا ہوا تو امریکا پھر سے مداخلت کا حق رکھتا ہے اور ساتھ ہی جنوبی ویت نام کے لیے امدادی پیکج کا اعلان بھی ہوگیا لیکن فوجوں کے انخلا کے کچھ ہی عرصے بعد امریکی ایوان نے ان دونوں پرقدغن لگا دی۔ اب منظر یہ تھا کہ ایک طرف شمالی ویت نام چڑھ دوڑنے کو تھا اور دوسری طرف جنوبی ویت نام میں مہنگائی، بے روزگاری انتہا کو پہنچی ہوئی تھی، حکمران اور جرنیل کرپشن میں مصروف تھے کیونکہ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ یہی تو کرتے آرہے تھے،فوج اور دفاتر میں سرکاری اموال کی لوٹ مار کا بازار گرم تھا اور عوام پٹرول اور خوراک کے لیے سڑکوں پر خوار ہو رہے تھے۔ پھر جیسے ہی شمالی ویت نام کے حملے کا آغاز ہوا، قریب کھڑے امریکی بحری بیڑوں سے کوئی بھی جہاز ان کی مدد کو نہ آیا ____جنوبی ویت نام کی افواج دنوں میں پسپا ہوتی چلی گئیں۔ سمندر کی طرف  بھاگتے ہوۓ ان فوجیوں کو بچانے تک کے لیے کوئی امریکی کشتی نہ پہنچی اور بیشتر تو سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ ان کا صدر مستعفی ہو کر تائیوان بھاگ گیا اور جب جنوبی ویت نام کا صدر مقام سائیگان بھی نگوں ہونے لگا تو امریکا نے اپنے سفارت خانے کے عملے اور امریکی شہریوں کے انخلا کے لیے آپریشن ریسکیو کا اعلان کیا۔ ہیلی کاپٹر سیدھے امریکی ایمبیسی میں اترے جس کے گرد امریکی میرینز کھڑے کر دئیے گئے تاکہ ایمبیسی کے باہر کھڑے ویت نامی، جو پوری جنگ میں امریکا سے بڑھ کر امریکا کے لیے لڑتے رہےاور آج التجا کر رہے تھے کہ امریکی ہیلی کاپٹر انہیں بھی ساتھ لے جائیں،  اندر داخل نہ ہو سکیں۔ وہ چند جنوبی ویت نامی جنہیں امریکی ہیلی کاپٹروں نے اپنے ساتھ اٹھا لیا وہ بھی نہ تو عوام تھے، اور نہ ہی فوج کے عام افسران۔ وہ بڑے جرنیلوں اور وزیروں پر مشتمل وہی مقتدر طبقہ تھا جو جنگ کے دوران بھی صرف اپنی ہوس پوری کر رہا تھا۔
کوئی وحی سے ہدایت نہیں پکڑتا تو تاریخ ہی کو دیکھ لے____ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سینوں میں موجود دل اندھے ہو جاتے ہیں۔حکمران طبقے اور جرنیلوں سے تو اب بھی کوئی امید نہیں لیکن مہمند میں ہونی والی حالیہ شیلنگ سے کم از کم ان فوجیوں کو تو ضرور خبردار ہو جانا چاہیے جو صرف تنخواہ کی خاطر دس سالوں سے غیروں، بلکہ درست کہا جاۓ تو شیطان کی خدمت انجام دے رہے ہیں اور وہ بھی کس کے خلاف؟ ان مہاجرین مجاہدین کے خلاف جو اسلام اور مسلمانوں کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑ کر نبیﷺ کی بشارت کی سرزمین خراسان میں آبسے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اس خدمت سے دست کش ہو کر اللہ کے لشکر میں آشامل ہوں اور اس ملک میں اسلامی شریعت کے لیے جاری جہاد کا دست و بازو بن جائیں۔ صرف پیٹ بھرنے کے لیے اپنے بچوں کو فوج میں بھرتی کروانے اور پھر ان کے لاشے وصول کرنے والے والدین کو چاہیے کہ رزق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ انہیں وہاں سے رزق دے گا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ ہوگا۔ فہم رکھنے والے دین دار حضرات کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی غم خواری کریں اور انہیں آنے والے حالات کے لیے تیار کریں، ان فوجیوں کو سمجھائیں جو اپنی جنگ کے مقصد تک سے ناواقف ہیں، کہ ان کی یہ جنگ انہیں دنیا و آخرت میں گھاٹے کے سِوا کچھ نہیں دے سکتی۔علما ءِامت کو چاہیے کو وہ پستی میں ڈوبی امت پر احسان کرتے ہوۓ ان کی درست جانب رہنمائی کریں اور امت کی قیادت کا منصب پھر سے آ سنبھالیں۔امریکہ اس خطے سے بھی جانے کو ہے___ ان شاء اللہ_____ لیکن جنوبی ویت نام جیسے حالات اور اس فتنہ و فساد سے بچنے کے لیے جو امریکہ جیسا شیطان ہر اس خطے میں پھیلاتاہے جہاں سے اسےمسلمانوں کی بیداری اور شریعت کے نفاذ کا خطرہ ہو، مساجد کی بنیاد پر اپنی صفوں کو منظم کرنا اور شریعت کے نفاذ کو اپنی جدّو جہد کا مقصد بنانا  نہایت ضروری ہے۔

تحریر لکھنے والے کا نام معلوم نہیں ہوسکا 

14 تبصرے:

Anonymous said...

very nice
irfan bhai
in molviyo ko kyun chora huwa hian ap logo nay kya yeh apka naam badnaam nahi karrahain hain

http://www.youtube.com/watch?v=okfsYWPRYPs

عرفان بلوچ said...

گمنام بھائی سمجھ نہیں آئی کہ آپ طنزا کہہ رہے ہیں یا سنجیدہ ہیں

اگر آپ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں مجاہدین کا موقف جاننا چاہتے ہیں تو پرانی تحریر دیکھ لیں

Anonymous said...

بھائ یہ تحریر احمد حسن کی ہے

Anonymous said...

Jee irfan bhai
i am gumnaam bhai

mein Maulana Fazl rehman k baray mein keh raha hun
ap logo nay isay kyun chora huwa hain
or ahmed Maulana Ahmed Bahawal poori jo k Tableeghion k baray hazrat hain unkay baray mein ap kya kahaingay
unhon nay har ijtima mein bayan k 2 mint bad mujahideen per tankeeday ki hain or lakho k majmay k samnay mujahideen k kirdar ko badnaam kiya
to biddati ulama kartain hain to ap log usay martay ho achi baat hain maro magar yeh asteen k samnp kyun zinda or azad ghoom rahain hain
or tableegh walo mein 80% ap logo k mukhalif zehan walay hain chand eik achay hongay to kya kahaingay ap is baray mein
maulna fazl rehman k baray mein apki tehreer kaha hain mujhay nazar nahi ayi?

عرفان بلوچ said...

گمنام بھائی آپ کا سوال کرنے کا انداز طنزیہ ہے

اللہ کرے کہ میرا گمان آپ کے بارے میں درست نہ ہو لیکن ظاہر تو یہی ہو رہا ہے کہ پس پردہ ہدف فتنہ پھیلانا ہے

آپ کہنا کیا چاہتے ہیں کھل کر کہیں

Anonymous said...

salam baloch bhai?????

tehrer waqi bohat shandar ha...

humnaam bhai agar asteen ke saanp waqi itne khatarnaak hain tou apne kia choria pehni hoi han???
har kaam ki topi mujahideen par mat dal diya kare bhai ,,, jab bhawalpuri sahib mujahideen ke kirdaar ke bare main baat kar rahe hote hain tou app jaesy mukhlis loog tookte kiou nhi han!!!

baloch bhai app ko shaheed abu unar moeed abdusalam (admin bab ul islam) ke bare main kuch likhna chahia...
kiou ke allah ne app ko ye fun diya ha ....

Anonymous said...

Irfan brother mera tanz mujahideen per nahi hain
mera tanz in ulama per hain or ap log is baray mein chup kyun hain is per bhi mujh ko tashweesh hai
or ap log is baray mein kya kahaingay.
1: Maulana Fazl rehman nay Mufti Mehmood Conference mein ap logo ko ulama ka qatil qarar diya tha
2: Maualna Ahmed Bahawal poori nay bhi ap logo ko nishana banaya tha balkay wo to kahi bhi jihad ko nahi manta

عرفان بلوچ said...

کیا معید بھائی اردو باب الاسلام بھی چلا رہے تھے

Umar Aqdas said...

Assakamoakaikum,
Ulama k bary mein kisi bhi qism ki tnqeed se pehly un k muamly ki tehqeeq sahib e ilm logon se zroor krwa leni chahye. Aur agar waqae koi esa shkhs mily jo ilm k muqam ko deen ki imarat dhany aur Jihad se ummat ko hatany k lye istimal kr rha ho to bhi nam ly kr tanqeed se behtr hy k un k us rawayye pr tnqeed ki jay. Ye esa wqt hy jis mein ummat kai mahazoon pr kufr ka muqabla kr rhi hy. Esy mein apny andar he esy mahaz khol lena bilkul munasib nhe jin k nuqsan se un afraad ka nam lye bgair bhi nimta ja skta ho. Esy logon ka muamla nya nhe lazman Mujahideen ki qyadat is bary mein agaah hy. Hmein is muamly mein esa he rawyya ikhtiar krna chahye jesa hmari qyadat Ameer ul Momineen Mullah Umar HA,Sh. Aymen Ha, Sh. Aby Yahya HA ne ikhtyar kr rkha hy.

Anonymous said...

bilkul bab ul islam ne tasdeeq ki ha .link mulahizaa ho

http://www.bab-ul-islam.net/showthread.php?p=9531#post9531

mazeed ye ke ajj news ki report main bhi galbaan kha gaya tha ke moeed bhai koi website bhi chla rehe tha.

bab ul islam ke baani aur admin mashoor azz abu abudullah moeed bhai ke ellawa aur koi nahi tha...

aur allah hi behtar janta ha hum nahi

talha abdullah

ابو جمال said...

طلحہ بھائی اور دوسرے بھائیوں سے درخواست ہے کہ اردو میں ٹائیپنگ کر کے جہادی میڈیا کو سنوارنے کی کوشش کریں

Anonymous said...

ابو جمال بھائی انشااللہ کوششں کریں گے

طلحہ عبد اللہ

Anonymous said...

اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

بھائیوں میں آپ سے فراسانی میڈیا کت متعلق پوچھنا چاہتا ہوں یہ کن کامیڈیا ہے اور یا یہ واقعی اللہ کی رضا کے لیے دعوت جہاد دیتا ہے

میں نے یہ سوال ہپہلے بھی پوچھا تھا لیکن تسلی بخش جواب نہیں ملا
جزاک اللہ

آپکا بھائی اسرار احمد

عارف said...

فراسانی میڈیا مجاھدین کا کوئی ذاتی میڈیا نہیں ہے۔یہ ایک ہی لڑکا چلا رہا ہے جو کہ اہل حدیث عرف غیر مقلد ہے باقی واللہ اعلم۔
وسلام۔

تبصرہ کریں

آپ کے مفید مشوروں اور تجاویز کی ضرورت ہے
آپ اپنی شکایات سے بھی آگاہ کر سکتے ہیں
بحثوں میں مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن حدود و قیود کے ساتھ
جزاک اللہ